Google

Archive for the 'میری یادیں' Category

کراچی - کچھ یادیں کچھ باتیں ۔ ۔ ۔

Saturday, April 14th, 2007
میرا بچپن بیماری میں گذرا اور پھر نوجوانی اس بیماری کی ریکوری میں ، اور جوانی اپنا کئریئر بنانے میں  ۔ ۔ اس دوران مجھے بہت سخت قسم کی محنت کرنی پڑی ، جسمانی کمزوری اور معزوری کو روند کر آگے بڑھا ، مجھے یاد ہے جب لیاقت ہسپتال کے ڈاکٹروں نے میری فیملی کو کہا تھا کہ اب میں ہمیشہ کے لئے معذور ہو سکتا ہوں تو میری ماں ساری رات میرے سرہانے بیٹھی روتی رہیں  ۔ ۔ میں نے بے بسی کی انتہا دیکھی ہے ، میں اپنی انگلی تک خود نہیں ہلا سکتا تھا اور اب اللہ کے فضل و کرم سے اپنے ہی ہاتھوں یہ لکھ رہا ہوں  ۔۔ ۔ میرے کچھ دوست خاصکر ویب والے مجھے “بے وقوف“ اور “بچکانہ“ اور بعض اوقات تو بہت ہی نازیبا الفاظ سے یاد کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ تو میرے سامنے میرا ماضی گھوم جاتا ہے ، جب میں نے ایک بار پھر نئی زندگی شروع کی تھی ، میں کالج جاتے ہوئے اکثر اوقات گر جاتا تھا ، کیونکہ ہر بار دیوار کا یا کسی دوست کا سہارا نہیں ہوتا تھا اور میں لاٹھی کا سہارا لینا نہیں چاہتا تھا ، مجھے ریل کی پٹریاں کراس کر کے کالج جانا ہوتا تھا ، اور کئی بار انہیں پٹریوں پر گرا ، اور ریل کو آتے دیکھا اور  موت کو اتنا قریب دیکھا کہ کیا کہوں  ۔۔ ۔ پھر  شاہ فیصل کالونی میں ائیرپورٹ ریلوے اسٹیشن پر ایم کیو ایم والوں کے ہاتھوں مرتے مرتے بچا کہ میرے دوست کا بھائی یونٹ انچارج تھا  ۔ ۔ ۔  اور مجھے اچھی طرح جانتا تھا  ۔ ۔ ۔پھر جب مجھے پتہ چلا کہ میں بہت زیادہ مختلف ہوں دوسروں سے کہ میں تو چل بھی نہیں سکتا اور لوگ تو بھاگتے ہیں ، تو میں نے بھی اس ریس میں شامل ہونے کی ٹھانی ، میں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنی تعلیم کے لئے منتخب کیا ، لکھنا میرا شوق تھا ، موسیقی سیکھنا شروع کی  ۔۔۔  ۔ میں نے ان آوازوں پر جو مجھے “لنگڑا“ ، “ڈانسر“ ، “بلڈوزر“ اور “بریک فیل“ جیسے خطابات سے نوازتی تھیں میں نے سننا ہی چھوڑ دیا ، اپنے کان بند کر لئے  ۔ ۔  اور دن سے لے کر رات تک اپنے آپ کو اتنا مصروف کیا کہ مجھے ان سب باتوں کی پرواہ ہی نہ رہی  ۔ ۔ ۔  اور پھر قدرت نے مجھے ایسے لوگوں سے ملوانا شروع کیا جنہیں لوگ وی آئی پیز کہتے ہیں ، جن سے ملنے کے لئے وقت لینا پڑتا ہے ، شاید میری محنت تھی ، آواز اخبار سے وابستگی ہوئی ، پاکستان قومی موومنٹ کے آفس میں آنا جانا ہوا ، آزاد صاحب سے سلام دعا ہوئی تو سیاست دانوں سے بھی لنک بنے ، اور پھر میں نے جب گلبرگ میں پڑھانا شروع کیا تو کتنے ہی لوگ ملتے چلے گئے ، اردو سپینکنگ ، سندھی ، بلوچی ، براھوی ، پٹھان اور پھر جب کچھ کام گلبرگ کے پولیس اسٹیشن میں کیا تو کتنے ہی راز کھل کہ سامنے آئے ، یہ وہ زمانہ تھا جب عزیز آباد نو گو ایریا میں آتا تھا ، جب لانڈھی کورنگی میں جانا موت کے منہ میں جانے کے برابر تھا ، مجھے یاد ہے جب میں اور موبین لانڈھی میں ایک کارخانے کے پروگرام کی ابتدائی سٹڈی کے لئے پہنچے تو ہمیں بندوقوں برداروں کے سائے میں کارخانے تک لایا گیا  ۔ ۔  ۔ اور پھر انہیں دنوں جب لانڈھی کے کمیونٹی سنٹر میں ہم نے ایک ڈرامہ اسٹیج کیا (اس وقت تک میں ایک اسٹیج فنکار بن چکا تھا ) تو  ۔ ۔  آزاد کے کردار نے مجھے بہت پہچان دی  ۔  ۔ ۔ بلکے کتنے ہی عرصے تک لوگ مجھے آزاد کے نام سے ہی جانتے رہے  ۔ ۔ ۔ پھر ائیر وار کالج میں ایک لیکچرار کے ساتھ ملکر کچھ کام کیا تو پتہ چلا کہ ہماری آرمی نے کتنا اچھا نیٹ ورک ڈائزائن کیا تھا ، تینوں فورسز کو ملانے کا  ۔  ۔ پی این ایس رہبر پر اے ایس فور ہنڈرڈ پر جب سی لینگویج کے بارے میں (یونکس ورژن) کچھ کہنے کا موقعہ بھی ملا  ۔ ۔ ۔اور پھر اسی طرح اپنے دیس کے بارے میں پتہ چلتا چلا گیا  ۔ ۔ ۔ وہ اظہر جو اخبارات میں اے ہاشمی تھا اور دوستوں اور طالب علموں میں سر اظہر اور میڈیا میں اظہر بھائی تھا ایک جانے جانے والا انسان بن گیا  ۔ ۔  اب کوئی مجھے دوسرے ناموں سے نہیں بلاتا تھا  ۔۔  ۔ میں بس میں آتا جاتا تھا ، مگر ایک عام انسان جیسا ہی تھا  ۔ ۔ ۔ اسلئے عام انسان کی بات ہی سمجھتا تھا ، مجھے بڑے لوگوں کی باتیں سمجھ نہیں آتیں تھیں ، وہ فائیو اسٹار ہوٹل میں بھاشن دیتے تھے مگر عملی طور پر صفر تھے اور جو انسان کو انسان سمجھتے تھے انہیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا تھا  ۔ ۔ ۔ایسے ہی انسانوں میں ایک ایدھی تھا ، انصار برنی تھا جن سے ملکر ایسا لگا کہ نہیں ابھی انسانیت باقی ہے  ۔ ۔ ۔۔  ایک اور انسان کا ذکر نہ کروں تو زیادتی ہو گی ، وہ بلوچی تھے ، مگر سب لوگ انہیں اردو سپیکنگ سمجھتے تھے ، کہ وہ کالا بورڈ ملیر میں زندگی گزارتے تھے ، شاید بہت سارے لوگوں کو معلوم ہو کہ ملیر میں بھی ایک لال مسجد ہے  ۔  ۔ اسی کے پاس وہ رہتے تھے ، وہ میرے کیمبرج انسٹیوٹ کی بلڈنگ کے مالک تھے ، پیتے بہت تھے ، مگر پابند صلوات بھی تھے  ۔ ۔ ۔ ذرا کسی کی تکلیف دیکھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کی مدد کو پہنچے  ۔ ۔ ۔ جب ملیر کے حالات بہت خراب ہوئے ، اور گلی گلی میں جوان ٹی ٹی پستول لے کر گھوم رہے ہوتے تو  ۔ ۔ ۔ وہ کالا بورڈ سے عورتوں اور بچیوں کو اپنی حفاظت میں اندر لاتے  ۔ ۔ ۔  مجھے یاد ہے اس دن میں کلاس لے رہا تھا جب ایک گولی ہماری کھڑی کا شیشہ توڑتی ہوئی دیوار میں پیوست ہو گئی  ۔۔  اور لڑکوں میں سے ایک نے پستول نکال کر کھڑکی کے پاس پوزیشن لی اور  ۔ ۔ ۔ ہم نے لڑکیوں کو ان کے حوالے کیا اور وہ اپنے گھر تک پہنچ گئیں  ۔ ۔ ۔مجھے شاہ فیصل کالونی جانا تھا  ۔ ۔۔ مگر جب تک میرا ایک اسٹوڈنٹ بھی وہاں موجود تھا میرے لئے ممکن نہیں تھا  ۔ ۔  پھر ہمارے انسٹیوٹ کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی گئی  ۔ ۔ ۔  رات کے دس بجے تک جب تک ہمارے ایک اسٹوڈنٹ نے اپنے کسی جاننے والے کے توسط سے ہمیں سیف پیسج نہیں دیا ہم باہر نہیں نکل پائے  ۔ ۔ ۔  اور جب ہم لوگ باہر جا رہے تھے تو ایک جوان نے آ کر کہا کہ آپ جئے الطاف کا نعرہ لگائیں  ۔  ۔ تو میں نے انکار کیا اور کہا میں ایک استاد ہوں ، میں کوئی ایسی بات نہیں کر سکتا  ۔ ۔ ۔ تو میری کنپٹی پر اسنے ٹی ٹی رکھ دی  ۔ ۔  اور پھر مطالبہ کیا  ۔ ۔  مجھ سے میرے ساتھیوں نے کہا کہ کہ دو کہنے میں کیا حرج ہے مگر میں نے کہا نہیں  ۔ ۔  یہ روز کا معاملہ ہے  ۔ ۔ ۔ اسنے بہت دھمکایا مگر میں نہیں مانا  ۔ ۔ ۔ اسنے کہا کہ تم پھر کبھی ملیر میں قدم نہیں رکھ سکو گے  ۔۔ ۔  میں نے کہا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہی ہو گا اگر نہیں تو میں اللہ سے نہیں لڑ سکتا  ۔ ۔ ۔  اتنے میں لال مسجد والے  ۔ ۔ ۔ آ گئے اور مجھے سر کہ کہ مخاطب کیا تو انہیں پتہ چلا کہ میں واقعٰی پڑھاتا ہوں  ۔ ۔  تو اسنے معذرت کی  ۔ ۔   میں نے کہا اللہ  تمہیں معاف کرے  ۔ ۔ ۔  آج یہ سارے واقعیات میری آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل رہے ہیں  ۔ ۔ ۔۔ میں نے اسکے بعد بھی وہاں پڑھایا  ۔ ۔ ہمارا انسٹیٹیوٹ ملیر کا پہلا سندھ بورڈ کا امتحان دینے والا انسٹیٹیوٹ بنا  ۔ ۔ ۔  جاوید ، ثروت ، فرح ، اقبال اور بہت سارے میرے اسٹوڈنٹ جنہوں نے بورڈ کے لوگوں کو حیران کیا ، کیونکہ ملیر کو کمپیوٹر کے حوالے سے بہت پسماندہ گردانا جاتا تھا  ۔ ۔ ۔ مگر ملیر  کے بچوں نے اسے غلظ ثابت کیا  ۔۔ ۔ اور آج ملیر میں بہت کچھ ہو رہا ہے دوکانیں ہیں انسٹیٹوٹ ہیں  ۔ ۔ ۔ مگر وہ پندرہ سولہ سال پہلے والی چیز شاید بہت کم لوگوں کو یاد ہو  ۔ ۔ ۔ کہ ٹوکن کے اسٹاپ پر ایک انسٹیٹیوٹ ہوتا تھا میرے خیال میں اب وہاں ایک اسکول ہے  ۔ ۔ ۔  پھر مدینہ میڈیکل کالا بورڈ کا پروگرام جب بنایا تو  ۔ ۔  اتنے اچھے انسان سے ملا جو بہت کم لوگ ہوتے ہیں ایسے  ۔ ۔  جو لوگ کچھ جاننا چاہیں کہ کیا زندگی ہوتی ہے ان سے ملیں  ۔ ۔ ۔  یادوں کی کتاب بہت بڑی ہے  ۔ ۔ ۔ میں نے بتایا نا کہ وہ دس سال میں نے بھاگتے ہوئے گذارے  ۔ ۔ ۔ ہر طرح کے لوگوں سے ملا  ۔ ۔ ۔ ہر طرح کے لوگوں نے مجھے عزت دی ، کیا میں گلبرگ کے رضوان کو بھول جاؤں ؟ جس نے مجھے بھائیوں جیسا پیار دیا ، کیا میں آئی سی ٹی گلشن اور کیمبرج ملیر کے اسٹوڈنٹس کو بھلا دوں جو مجھے اتنی عزت دیتے تھے کہ بعض دفعہ مجھے خود شرمندگی ہوتی تھی  ۔ ۔ ۔کہ شاید میں خود کو اتنا قابل نہیں سمجھتا  ۔ ۔ ۔ مگر اللہ نے مجھے بہت عزت دی  ۔ ۔ ۔اور شہرت بھی  ۔ ۔  کہ ایک وقت میں گلبرگ میں اسٹوڈنٹ سر اظہر کے لئے آیا کرتے تھے  ۔ ۔ اور وہ علاقہ سارے کا سارا اردو اسپیکنگ کا ہے  ۔ ۔ ۔  اور سب کو معلوم تھا کہ سر اظہر اردو اسپیکنگ نہیں ہیں  ۔ ۔ ۔ مگر پھر بھی کبھی کسی نے یہ احساس نہیں دلایا  ۔ ۔ تو میں کسی اردو اسپیکنگ کو کیسے برا کہ دوں  ۔ ۔  میرے آج بھی جو بہترین دوست ہیں وہ کراچی سے ہیں  ۔ ۔ ۔ کیوں  ۔ ۔ اسلئے کہ یہ شہر محبتوں کا شہر ہے ، ہر ایک کے لئے بازو کھولے رکھتا ہے  ۔۔  ۔ میں نے اس شہر کو سجتے دیکھا ہے ،  میں نے جب پہلی بار دبئی دیکھا تھا تو مجھے کراچی اور دبئی میں کوئی فرق نظر نہیں آیا تھا اور ابھی تک نہیں آتا سوائے ان نعروں کے جو دیواروں پر لکھے ہوتے ہیں  ۔ ۔ ۔ جیسے دبئی میں آپکو ہر نسل ہر قوم کے لوگ نظر آتے ہیں اور ملکر رہتے ہیں کراچی بھی ایسا ہی شہر ہے  ۔ ۔ ۔ کبھی کبھی جب آنکھیں موند کر میں ستر کی دہائی میں جاتا ہوں جب میرے والد مرحوم کراچی میں آئ سی پی میں ملازمت کرتے تھے ، تو میں ڈبل ڈیکر بس میں جایا کرتا تھا اور ضد کر کہ اوپر والے حصے میں بیٹھتا تھا  ۔ ۔  کیونکہ اس سے گاڑیاں چلتی اچھی لگتیں تھیں ، بلڈنگ اچھی لگتی تھی اور خاصکر فرئیر ہال اور سٹی کورٹ کی بلڈنگ خالق دینا ہال  ۔ ۔  اور کیا کیا  ۔۔  ۔ لکھوں  ۔ ۔ ۔ اور جب آج سے سات سال پہلے میں کراچی ائیر پورٹ پر لینڈ کر رہا تھا تو دبئی اور کراچی کی لائٹس ایک جیسی لگیں  ۔۔ ۔  اور بے اختیار احمد رشدی کا یہ گیت زباں پر آ گیا
شہر کا نام ہے کراچی
شہر کا نام ہے کراچی
بابو جی ذرا ہٹ کہ بچ کہ
ہم کراچی والے ، گورے ہوں یا کالے
بچ کہ رہنا مسٹر ، ہیں بڑے متوالے
کہ ذرا ہٹ کہ بچ کہ  ۔۔ ۔
کبھی سنیے گا مزہ آئے گا  ۔ ۔
یادیں تو بہت ہیں  ۔ ۔ جو وقتاً فوقتاً لکھتا رہوں گا  ۔۔  مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ میری آنکھوں سے اس رکشہ ڈرائیور کی موت نہیں ہٹتی جسے شاہراہ پاکستان پر روکا گیا اور کہا گیا کہ جئے الطاف بولو اور جب وہ اکڑ گیا تو اسے کتنے ہی لوگوں کی موجودگی میں گولی مار دی گئیں  ۔ ۔  اور مجھے یاد ہے کہ میرے منہ سے دو دن تک صحیح طرح سے الفاظ نہیں نکلتے تھے  ۔ ۔ ۔ مگر شاید اب وقت بدل گیا ہے  ۔ ۔ ۔ کاش بدل جائے  ۔۔  اور بندر روڈ سے کیماڑی تک چلنے والی گھوڑا گاڑی  ۔ ۔ ۔ ویسے ہی گاتی جائے جیسے آج سے کچھ سال پہلے جاتی تھی  ۔ ۔  اور واجہ بھائی  ۔ ۔  پتھروں والے ڈبے سے گدھے کو دوڑاتے تھے  ۔ ۔ ۔ جب ریڈیو پاکستان کراچی سے مجھے ارشاد حسین کاظمی کی آواز آتی تھی تو ریڈیو بند کرنے کا دل نہیں کرتا تھا   ۔۔  ۔ ۔۔  مگر شاید اب سب کچھ بدل گیا ہے ، کل ہی ارشاد حسین بھی چلے گئے  ۔ ۔ ۔ رئیس امروہی تو کب کے گئے  ۔ ۔ ۔ اب عالی جی ہیں  ۔  ۔ اور فرمان فتح پوری ، جمیل جالبی جیسے لوگ ہیں  ۔ ۔  جو ہمارے استاد ہی نہیں رہبر بھی رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ اللہ کراچی کو وہ بیتے دن لوٹا دے ، جس سے یہ شہر عروس البلاد کہلاتا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔(آمین)