Google

Archive for the 'میری نثر' Category

میں ایک خود کش حملہ آور ہوں

Thursday, July 19th, 2007
میں ایک خود کش حملہ آور ہوں
جی ہاں میں ایک خود کش حملہ کرنے جا رہا ہوں ، مجھے نہیں پتہ کہ میرے ساتھ اور کتنے لوگ میرے جسم پر بندھے بارود کا نشانہ بنیں گے ، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں شہید ہونگا یا جاں بحق یا ہلاک  ۔۔ ۔  موت  ۔۔ ۔ جو ایک اٹل حقیقت ہے ۔  ۔ آج میں اس حقیقت کا سامنا کروں گا  ۔ ۔ ۔ ۔ میں نہیں جانتا کہ خدا مجھے جنت دے گا یا دوزخ کی آگ ۔ ۔ ۔  مگر شاید میں خدا کو بھی قائل نہ کر سکوں  ۔۔  ۔ جیسا کہ میں خود کو قائل نہیں کر پایا  ۔۔ ۔  ۔
مجھے آج اپنی ساری زندگی یاد آ رہی ہے  ۔ ۔ ۔۔ میری ماں نے چھوٹی عمر میں ہی مجھے مدرسے میں بھیج دیا تھا ۔ ۔ ۔ ہم سات بہن بھائی تھے  ۔۔ ۔ میرے والد ایک چھوٹی سی دوکان چلاتے تھے  ۔ ۔ ۔مگر اس سے گھر کا گذارا بہت مشکل تھا  ۔۔ ۔  سو مجھے اور بھائی کو مدرسے میں بھیج دیا گیا  ۔ ۔ ۔پھر ہم نے یہاں ہم نے تعلیم کا آغاز کیا  ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے بتایا گیا کہ ہمارا مذہب بہت آسان ہے  ۔ ۔ ۔ یہ دنیا کا واحد مذہب ہے جسکی بنیاد انسانیت ہے  ۔  ۔ ۔پھر مجھے پتہ چلا کہ ہمارے مذہب میں بہت سارے فرقے ہیں  ۔ ۔ ۔۔  مگر حق پر صرف ہمارا ہی فرقہ ہے  ۔ ۔ ۔ دوسرے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں وہ کافروں سے بھی بدتر ہیں  ۔ ۔ ۔ اور ہمارا مشن انکا حاتمہ ہونا چاہیے  ،۔  ۔  ،
میرے بڑے بھائی کو ایک دن کچھ لوگ لے گئے ۔۔ ۔ ۔ وہ کہتے تھے کہ وہ مخبر ہے  ، ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں وہ کیسا مخبر تھا  ۔  ۔  جسکی خبر آج تک ہمیں نہیں ملی  ۔۔ ۔ ۔ میری دو بہنوں کی شادیاں ہو چکی ہیں  ۔ ۔ ۔ اور وہ بھی زندگی کو کاٹ رہیں ہیں  ۔ ۔ ۔۔  ایک کا شوہر شرابی اور جواری ہے دوسری کا شوہر  ۔ ۔ ۔ ایک مسجد میں پیش امام ہے  ،  ۔ ۔ ۔ جسکی کل کائنات مسجد ہے  ۔، ۔ ۔ ۔ ۔میں نے آج دن تک ان دونوں کو کبھی ہنستے نہیں دیکھا  ۔ ۔ ۔ ۔۔ جانے کیوں  ۔ ۔ ۔
ماں تو بچپن میں ہی چھوڑ گئی تھی    ۔ ۔۔   ابا کی چھوٹی سی دوکان ہے جسمیں  وہ پرچون کی چیزیں رکھتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا گھرانہ بہت مذہبی مانا جاتا ہے  ۔ ۔۔ ۔ مگر میرے گھر میں ہر طرح کے لوگ ملتے ہیں  ۔۔ ۔۔ دو بھائی ہیں  ۔ ۔ ۔ ایک کا کام ہے سڑکوں کی خاک چھاننا اور دوسرے کا کام ہے  ۔ ۔ ۔ٹھگنا  ۔۔۔ ۔  دو بہنیں ابھی تک کنوری ہیں  ۔ ۔۔  رشتے ملتے ہی نہیں  ۔ ۔ ۔
آج مجھے میرے دوست بہت یاد آ رہے ہیں  ۔   ، ، ،  ، ایک شرف الدین ہے جو  ،،، ،  میرے ساتھ ہی جوان ہوا  ۔   ۔۔ اب خلیجی ریاست میں رہتا ہے کبھی فون کرتا ہے کبھی خط بھی ڈال دیتا ہے جس میں باہر کے ملکوں کی قصیدہ گوئی ہی ہوتی ہے اور جب وہ وطن واپس آتا ہے تو  ۔ ۔ ۔  اسے اپنی مٹی بہت بری لگتئ  ہے  ۔ ۔ ۔
ہاں تو آپ کہیں گے کہ میں خود کش حملہ کیوں کر رہا ہون  ۔ ۔ ۔۔ رٹا ہوا جواب ہے کہ ہمارے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اسلئے کر رہا ہوں  ۔ ۔ ۔اور دل کی آواز ہے کہ بس بھائی سے ایک دفعہ مل لوں  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر شاید اب اسکا موقعہ نہ ملے  ۔۔ ۔۔  میں نے اپنے آپ کو مرنے کے لئے تیار تو کر لیا ہے مگر میں خود نہیں جانتا کہ اس سے ہو گا کیا ؟ کیا میرے بعد زندہ رہنے والوں کو انصاف ملے گا ؟ میرے خیال میں تو کبھی نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ جیسے مجھے خود پر اعتبار نہیں کہ میری موت رائگاں جائے گی  ۔ ۔ ۔ اسی طرح مجھے اپنے ساتھیوں پر یقین ہے کہ وہ کسی دن ضرور مارے جائیں گے یا مار دئیے جائیں گے  ۔ ۔ ۔ ۔۔
میری خواہش ہے کہ مجھے اس حملے پر معاف کر دیا جائے   ۔۔ ۔ ۔ میں شاید بہت ہی مجبور تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ میرے ساتھ مرنے والے تو شاید روز جنت میں جائیں مگر  ۔ ۔ ۔ میں  ۔۔ ۔ ۔  مرنے والوں کو لاکھوں روپے ملیں گے  ۔۔۔ ۔ عینی شاہدوں کا مار دیا جائے گا  ۔ ۔ ۔ مگر پتہ نہیں میرے دل میں یہ خیال کیوں آتا ہے کہ اگر یہ ہی پیسہ انہیں لوگوں پر خرچ کیا جاتا تو شیاد اس تصادم کی نوبت ہی نہ آتی  ۔ ۔ ۔
میں اپنا وجود ختم کر رہا ہوں ۔۔ ۔ ۔۔  میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے دنیا کو دینے کے لئے  ۔۔ ۔ سوائے موت کے  ۔ ۔  سو وہ دے رہا ہوں  ۔ ۔ ۔ میں نے رب کو یاد نہیں کیا اس وقت کیونکہ  ۔۔ ۔ میرا رب میرے ساتھ ہی رہتا ہے  ۔ ۔ ۔ اور اب میں اسی کے پاس مستقل جا رہا ہوں  ۔ ۔ ۔ بے بسی مجبوری ہی اس حملے کی وجہ ہیں  ،   ، ، ، شاید کوئی یہ مجبوری سمجھے  ۔۔ ۔۔  مگر  ، ، ،،  اب ایسا نہیں ہو سکتا  ۔۔۔ ۔ ۔، ،،  مرنا تو ہے نا ایک دن  ۔۔۔  تو آج ہی کیوں نہیں ؟؟؟

ہائے بجلی ،ہائے ہائے بجلی ۔ ۔ ۔

Friday, April 20th, 2007
رات ایک طویل قوالی والا خواب دیکھا  ۔۔ ۔ جسکی کچھ جھلک ادھر پیش خدمت ہے
ہمارے کراچی کے بہت سارے لوگ بجلی آنے جانے پر کیا گا رہے ہیں ملاحذہ فرمائیے
آئے بجلی اور جائے بجلی
پاگل سب کو بنائے بجلی
روشنیوں کا شہر کراچی
اندھیروں سے سجائے بجلی
بولیں سارے مل جُل کے
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی
دیکھا تو اپنے مًنا پہلوان جی صرف لنگوٹ کًس کر بھنگڑا ڈال رہے تھے
او باری برسی کھٹن گیا تے
کھٹ کے لیاندا اے سی
اے سی کیا چل سی
جدوں بجلی نہ ہو سی
میں کوئی جھوٹ بولیا  ۔  ۔
(سب ملکر) کوئی ناں
میں کوئی کفر تولیا
(سب ملکر) کوئی نا
کوئی ناں بھئی کوئ ناں
ایک دم سے بجلی آ گئی جیسے سبکو چُپ لگ گئی صرف سانسوں کی اور پنکھوں کے چلنے کی آوازیں آ رہیں تھیں کہ پھر بجلی چلی گئی اور ایک شور سا اٹھا
بھوکے ننگوں کو نچائے بجلی
آئے بجلی جائے بجلی
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی
اپنے واجہ بھائی کو بہت غصہ آیا
اڑے اس بجلی کمپنی کو بم سے اڑا دو ڑے ، ہماڑا تو اب دم ختم ہو گیا ہے  ۔ ۔ پھر خود ہی گانا شروع کر دیا، اور سب انکے ساتھ ناچ رہے تھے
بجلی ہم کو دیو ڑے  ۔ ۔۔ وشملے
بجلی سے یہ کہو ڑے  ۔ ۔ ۔ وشملے
گرمی سے مر گیا ، سارا شہر ڈر گیا
گرمی سے مرو ڑے  ۔ ۔ ۔ وشملے  ۔ ۔
اب کیا تھا وشملے وشملے  ۔  ۔۔ ۔  پھر ایک دم سے جیسے بجلی کو ہچکہ لگی  ۔ ۔  بلب آن ہوئے  ۔ ۔ پنکھوں نے کھٹ کھٹ کی اور بجلی پھر غائب  ۔ ۔ ۔  ۔ مولوی صاحب جو آج گرمی کی وجہ سے اپنی جناح کیپ کے بغیر ہی تھے اٹھے اور کہنے لگے
اب اللہ سے ہی کہو برسائے بجلی
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی  ۔ ۔ ۔
سب کے چہرے پر جیسے اداسی چھا گئی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اپنے سائیں مہربان علی  ۔ ۔ ۔ کھڑے ہوئے جو اپنی اجرک کو کندھوں پر ڈالا اور زور کا نعرہ لگا  ۔ ۔ ۔ ہے جمالو   ۔۔  ۔۔ اور بجلی آ گئی  ۔ ۔۔ سب خوشی سے جھوم اٹھے
بجلی آگئی ہے شہر میں   ۔ ۔  ہے جمالو
بجلی چھا گئی ہے شہر میں  ۔ ۔ ہے جمالو
ہے جمالو  ۔ ۔ واہ واہ جمالو ۔ ۔جمالو
بجلی آ گئی ہے شہر میں   ۔ ۔ ہے جمالو ۔  ۔
اور پھر بجلی چلی گئی  ۔ ۔ ۔۔  سائیں مہربان علی کو بہت غصہ آیا  ۔ ۔
گھوڑا ڑے  ۔ ۔ کیوں ہم کو تڑپائے بجلی
(سب لوگ سینے پر ہاتھ مار مار کر کہنے لگے)
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی  ۔ ۔ ۔
ایک شور سا تھا  ۔ ۔ اور پھر بجلی آ گئی  ۔ ۔ ۔اور پھر خاموشی چھا گئی ایسے جیسے کسی نے کچھ بولا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا  ۔ ۔ ۔ فاروق بھائی کے گھر سے دادی اماں کی آواز آئی  ۔ ۔ ۔ ارے او مُنے  ۔ ۔ (وہ ابھی تک فاروق بھائی کو مُنا کہتیں ہیں ، جبکہ فاروق بھائی کے ماشااللہ سے اپنے پانچ مُنے اور مُنیاں ہو چکے ہیں ) ارے او مُنے  ۔ ۔ میرا سروتا کہاں ہے  ۔ ۔ ۔بجلی آئی ہے جلدی سے تلاش کر ۔ ۔ اور مسز فاروق کی آواز سنائی دی  ۔ ۔ ۔
سروتا کہاں بھول آئیں  ۔ ۔ ۔ مُنے کی اماں
سروتا کہاں بھول آئیں  ۔ ۔ مُنے کی اماں
اور پھر بجلی چلی گئ  ۔ ۔ ۔ دادی اماں کی آواز سنائی دی  ۔ ۔
چھالیا ہوتو ہر کوئی چبائے بجلی
ہائے بجلی  ۔ ۔۔ ہائے ہائے بجلی  ۔ ۔ ۔
اتنے میں گُل خان اپنی سائکل پر گلی میں داخل ہوا  ۔ ۔  اوے خوچہ بچو بچو  ۔ ۔  بچو بچو  ۔ ۔ اوے خانہ خراب امارا بریک نہیں ہ  ۔ ۔ فاروق بھائی کے مُنے نے کہا ۔۔ جسکا کل پیپر تھا اور وہ بجلی کی وجہ سے کچھ نہ پڑھ پا رہا تھا  ۔  ۔ ۔  گُل چاچا  ۔ ۔ آپ کا بریک نہیں تو سائیکل کا بریک لگاؤ    ۔ ۔ ۔ ۔ مگر گُل خان کی سائکل نہ رکی  ۔ ۔ اور حسب معمول کھمبے سے جا ٹکرائی اور بجلی آ گئی  ۔ ۔ ۔ اور گُل خان سب بھول کر کھڑا ہوا اور آواز لگائی  ۔ ۔
او یا قربان  ۔ ۔  ۔۔ بجلی خان   ۔ ۔۔امارا جانان
او تو آیا تو جانا ناں  ۔ ۔ وئی  ۔ ۔
مگر بجلی کس کی سنتی ہے  ۔ ۔ ۔ پھر چلی گئی  ۔ ۔
اور اس بار سب نے ملکر یہ گایا  ۔ ۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کہ تمنا میری
ایک بار آئے تو نہ جاے کبھی بجلی
ہو مرا کام کے ایس سی سے شکایت کرنا
بجلی کے آنے جانے کی خرابی کی مرمت کرنا
میرا اللہ ہر گدائی سے بچانا مجھکو
بجلی جاتی نہ ہو جہاں دینا وہ ٹھکانہ مجھکو
پچھلے ایک گھنٹے سے بجلی موجود ہے   ۔۔ ۔   مگر پھر بھی سب جاگ رہے ہیں  ۔۔  کہ کب کس وقت چلی جائے  ۔ ۔۔ دادی اماں بھی دعا کر رہی ہیں  ۔ ۔
سوہنی بجلی ، اللہ رکھے ، قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے  ۔ ۔
قدم قدم آباد  ۔ ۔ ۔ ۔۔
اور منا پہلوان بھی لنگوٹ کو ڈھیلا کر کہ سوچ رہا ہے  ۔ ۔ ۔کہ شاعر نے سچ ہی کہا تھا
چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن  ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ چاند پر تو بجلی نہیں ہے نا ، اور پھول کو بھی بجلی کی ضرورت نہیں ہوتی
ادھر سائیں مہرباں مچھروں سے بچنے کے لئے اپنی رلی پر سونے کی کوشش کر رہا تھا اور پنے بچوں پر پڑی اجرک دیکھ رہا تھا جسکا نیلا اور سرخ رنگ جیسے  ۔ ۔  مکس ہو کر کہ رہا تھا
رنگ برنگے پھولوں کا گل دستہ  ۔ ۔  پاکستان  ۔ ۔ ۔ یہ گلدستہ  ۔ ۔ ۔ کتنا مرجھا جاتا ہے جب بجلی نہیں ہوتی  ۔ ۔ ۔
واجہ بھائی  ۔۔ ۔  کو دو دن بعد نیند آئی تھی  ۔ ۔ ۔ مگر خواب وہ بھی دیکھ رہے تھے  ۔ ۔۔۔
آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی  ۔ ۔ ۔
بجلی کی ویرانی ہے حکومت فو جستان کی  ۔ ۔
بجلی آئے زندہ باد ، بجلی جائے زندہ باد   ۔ ۔ ۔
گُل خان نےدروازہ کھول کر چارپائی بچھائی تھی اور سوچ رہا تھا کہ کل وہ سائیکل کا بریک ضرور ٹھیک کروائے گا  ۔ ۔ کیونکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ کئی بار کھلے گٹروں سے ٹکرا چکا تھا  ۔ ۔ ۔ اسے اپنا گاؤں بہت یاد آ رہا تھا جہاں وہ آنکھیں بند کر کہ بھی چل سکتا تھا  ۔  ۔ مگر وہ سوچ رہا تھا
وہ  بھی پاکستان ہے ، یہ بھی پاکستان ہے
وہ بھی میری جان ہے ، یہ بھی میری جان ہے
مگر فرق صرف بجلی کا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟
اور دور کہیں  ۔ ۔ ۔ بجلی کی تلخیوں سے آزاد اظہر یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ اور دل سے دعا کر رہا تھا ، اپنے روشن روشن پاکستان کے لئے  ۔ ۔
جیوے جیوے ، جیوے پاکستان
پاکستان ، پاکستان  ۔ ۔ ۔ جیوے پاکستان  ۔ ۔ ۔
اور میری آنکھ  ۔ ۔ ۔ کُھل گئی  ۔۔  ۔۔