Google

Archive for the 'میری شاعری' Category

ایمر جنسی میں بھی جیو

Saturday, November 10th, 2007
غلامی کا زہر ہے ، پھونک پھونک کہ پیو
عزت تو کب کی گئی ، اب بے غیرت بنو
زندگی ہے کیا ، کھانا پینا اور پڑ کہ سونا
جینا ہی ہے تو ایمر جنسی میں بھی جیو

کبھی بجلی یہ گرتی ہے ، کبھی پانی برستا ہے

Monday, June 25th, 2007
کبھی بجلی یہ گرتی ہے ، کبھی پانی برستا ہے
میرے شہر کا ہر باسی ، جلتا ہے تڑپتا ہے
 
کوئی مارا جاتا ہے ، کوئی آفت سے مرتا ہے
ہر دن کا سورج نئے دکھ دے کہ ڈھلتا ہے
 
آنسو آنکھوں سے نہیں عرش سے برستے ہیں
زمیں خوں سے رنگتی ہے ، جو لمحہ بدلتا ہے
 
پکے گھروں والے ، گھی کے دیپ جلاتے ہیں
کچی اینٹوں کا مکیں ،  اینٹوں میں ہی دبتا ہے
 
آباد اب ہیں قبریں ، برباد ہوا ہے شہر مرا
زندہ رہ جانے والا زندگی سے اب ڈرتا ہے
 
میں مجرم ، تم مجرم ، مجرم ہیں سارے ہم
گناہ اپنے بڑھتے ہیں جو معصوم کوئی مرتا ہے
 
اظہر کاش کوئی سمجھے ، کوئی جانے ، کوئی مانے
مٹ جاتا ہے ظلم سارا ، جب حد سے گذرتا ہے
 

دعا

Saturday, May 26th, 2007
اس دنیا کے خداؤں کو بہت زعم ہے خود پر
اے خدا تیرے ماننے والے کدھر جائیں  ۔ ۔
نہ تو آتا ہے زمیں پر
نہ یہ لوگ اترتے ہیں آسماں سے
انکی ہی حکومت ہے
جدھر سوچیں جدھر جائیں  ۔ ۔
اس قحط کے موسم میں بارش کی امید
سچ تو یہ ہے کہ اب امید بھی نہ رہی
حلق خشک ہیں ، اور بدن لاغر
شب کو کیسے گزاریں
کیسے ہم سحر لائیں  ۔ ۔ ۔
قانون زمیں پہ آسمانوں کا چلتا ہے
انسان پہ زور تو انسانوں کا چلتا ہے
ظلم تو اک چھوٹا سا لفظ ہے
جو خود رو سا بڑھتا ہے
ماتم کدے ہیں ، گھر اب سارے
جس راہ سے ہم گذر جائیں ۔ ۔ ۔
اے رب ۔ ۔
رحمت کا اپنی نزول کر
آج اس شب کو سحر کا حصول کر
جو مرجھانے لگی ہے کلی اسے پھول کر
ظلم کا یہ دور اب بھول کر
تو ہی سہارا ہے دکھتے دلوں کا
تو ہی مداوا ہے ٹوٹے حوصلوں کا
آ  ۔ ۔ ۔ اب گرتوں کو سنبھال
زمیں پہ اتر کر ۔ ۔ ۔
سرخ آندھیوں سے کہیں
دعائیں نہ ہی بکھر جائیں  ۔ ۔ ۔
دنیا کے خداؤں کے ہاتھوں  ۔ ۔ ۔
اے خدا تیرے ماننے والے  ۔ ۔
کہیں مر نہ جائیں  ۔ ۔ ۔

آج میں اپنے آپ میں خود مر گیا ۔ ۔ ۔

Sunday, May 13th, 2007
آج پھر شہر میں آگ لگی
آج پھر شہر میں قتل ہوئے
آج پھر سیاست جیت گئی
آج پھر انسانیت رسوا ہوئی
آج جب انساں مر رہے تھے یہاں
تو دور کہیں ڈھول کی تھاپ پر
شیطاں رقصاں تھے ، ظالم ہنستے تھے
اک ہجوم انساں تھا، جو زندہ نہ تھا
آج پھر شور جیت گیا ، خاموشی سے
آج پھر طرب جیت گیا ، حزن سے
آج میں نے جانا کہ زندگی کچھ اور ہے
آج میں نے جانا کہ سیاست بھی کچھ اور ہے
آج میں نے طاقت کو سچ بناتے دیکھا
آج میں نے جھوٹ کو سجاتے دیکھا
آج میں نے جو دیکھا وہ اندھوں نے بھی دیکھا
نہ دیکھا تو طاقت والوں نے نہ دیکھا
آج میرے شہر میں کوئی نہیں مرا
آج میں اپنے آپ میں خود مر گیا  ۔ ۔ ۔

انقلاب میرے یار یوں آیا نہیں کرتے!!!

Saturday, April 7th, 2007
تنہا پرندے سفر پہ جایا نہیں کرتے
سیر شکم  درندے تو ستایا نہیں کرتے

حاکموں کا قصیدہ کوئی تو پڑھے گا
جُھک جائے جو سر وہ ، کٹایا نہیں کرتے

 

خود سر ہو رہبر اور بے راہ  ہو کارواں
ہر اک لگا  رہا ہو بس اپنی ہی دوکاں
بکھرے ہوئے تنکوں سا جب ہو آشیاں
ایسے میں گیت طرب کے گایا نہیں کرتے
 
ایماں میں حرارت نہیں ، عقائد میں ہے جنوں
دل درد سے خالی ہے اور آنکھوں میں ہے خوں
اپنے ہی دشمن ہیں ، غیروں سے کیا  کہوں
گرد اپنے ہی سروں میں یوں اڑایا نہیں کرتے
 
میں تیری نہیں مانوں ، تو میری نہیں مانے
میں تجھے نہیں جانوں ، نہ تو مجھے جانے
پھر بھی ہم اک دوسرے پے تلوار ہیں تانے
انقلاب میرے یار یوں  آیا نہیں کرتے!!!