Google

Archive for the 'میری باتیں' Category

دبئی میں ڈاکا ۔ ۔ ۔

Sunday, April 15th, 2007
عام طور پر امارات کو پُر امن ملک سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ یہاں جرائم کی شرح دوسرے ممالک کی بنسبت کم ہے ، مگر پچھلے کچھ سالوں سے یہاں جرائم تیزی سے پنپ رہے ہیں ، اور اس سال تو یہ شرح بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ، چوری ، عصمت دری، ٹھگنا اور قتل روز کا معمول ہو گئے ہیں ، مگر ابھی بھی حکومت کا اتنا کنٹرول ہے کہ میڈیا پر یہ خبریں نہیں آنے دیں جاتیں ، مگر کل رات کو یہاں کے ایک پرتعیش شاپنگ مال وافی سنٹر میں جو ڈاکا پڑا اسنے سب کو سہما دیا ہے ، اصل میں یہ سب بڑھنے کی کچھ وجوہات ہیں
١۔ پہلے یہاں تنخواہ اور معمولات زندگی میں توازن تھا ، اب مہنگائی تو بڑھ رہی ہے مگر تنخواہیں اتنی ہی ہیں ، اور چونکہ یہاں احتجاج کا جواب صرف ایک ہے اور وہ ہے ڈی پورٹ کرنا ، جو اب بہت ہو رہا ہے
٢- عربوں میں پہلے کچھ روایات ہوتیں تھیں ، اب وہ ختم ہو رہیں ہیں ، عربوں میں زمانہ جاہلیت والی باتیں آ رہیں ہیں ، وہ اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھ رہے ہیں
٣- ہر کونے میں مسجد تو موجود ہے مگر ، یہاں بھی لوکل (یعنی عربی) کوشش کرتا ہے کہ اسکے ملازمین میں مسلمان کم سے کم ہوں کیونکہ مسلمان پھر مسلمان ہوتا ہے ، اور غیر مسلم جتنا کھلا ڈھلا ہوتا ہے وہ ایک مسلمان نہیں ہو سکتا
٤- جب سے امارات اپنی زمین بیچ رہا ہے ، تو اسے خریدنے والے کون ہیں اسکی کسی کو پرواہ نہیں ، ایک کمرے کا فلیٹ بھی ملین ڈالرز کا ملتا ہے ، اور ظاہر ہے ایسی پراپرٹی میں جو لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں وہ اپنے کالے دھن کو سفید کر رہے ہیں اور اس وقت دبئی دنیا کے بڑے بڑے گنگسٹر کا حب بن چکا ہے ، جہاں سے بیٹھ کر دنیا کا نظام کنٹرول کیا جاتا ہے ، ایک چھوٹی سی مثال بھارتی بھائی لوگ اور ہمارے سیاستدان ہیں
٥- آزادی ، مادر پدر آزادی ، دبئی اور ابوظہبی میں جس طرح کی آزادی ہے ایسی دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں نہیں ، اور اسلام اور ایسی آزادی کا تضاد ہی جرائم کو جنم دے رہا ہے  ۔ ۔ ۔
میرے محلے کی ایک عرب خاتون کہتی ہیں ، کہ ہم پر بہت جلد اللہ کا عذاب آنے والا ہے کیونکہ ہم اب برائیوں کی دلدل میں ایسے دھنس چکے ہیں کہ ہمیں اب عذاب کے سوا کچھ اور نہیں ملنے والا
اللہ ہم پر رحم کرے (آمین)

جب ، ہم بھی پاکستانی تھے ۔ ۔

Monday, April 9th, 2007
اسلام پاکستان میں اس وقت تھا
جب ، پاکستان کا مطلب ،لاالہ الااللہ تھا
جب ، شاہنامہ اسلام لکھا گیا
جب ، شکوہ ، جواب شکوہ لکھا گیا
جب ، غازی علم دین تھا
جب ، بی اماں تھیں
جب ، اقبال تھا ، جناح تھا
جب ، محرم کے جلوسوں میں سب لوگ سبیلیں لگاتے تھے
جب ، عید میلاد نبی(ص) سب مل کہ مناتے تھے
جب، مسلمان جھوٹ نہیں بولتا تھا
جب ، مسلماں کم نہیں تولتا تھا
جب ، فلسطین پر ہم بے قرار رہتے تھے
جب ، کشمیر کے لئے ہم تیار رہتے تھے
جب ، ہمیں خدا کے سوا کسی کا ڈر نہ تھا
جب ، ہمارا نعرا صرف اللہ اکبر تھا
جب ، توحید کا پرچم لہرایا ، جیسے ترانے فلموں میں تھے
جب ، شاہ مدینہ (ص) جیسی نعتیں ، دلوں میں محبت جگاتیں تھیں
جب ، زمیں یہ بھی مقدس تھی
جب ، آسماں بھی بھر پور تھا  ۔ ۔۔
جب ، ہمیں آزادی کی قدر تھی
جب ، ہم بھی پاکستانی تھے  ۔ ۔

وفا کا کعبہ

Friday, April 6th, 2007


یہ کتاب میں نے تین سال پہلے پڑھی تھی ، اور میرے پاس ہے اور اب بھی پڑھتا ہوں، تو بہت اطمنان ہوتا ہے ،  اسے حسن محمود نے بہت تحقیق سے لکھا ہے، اسکے تین حصے ہیں
١۔ پاکستان کی روحانی نمود
٢- پاکستان کی جسمانی نمود
٣- مثالی اسلامی ریاست

اس وقت میں اسکا ایک باب ہی اسکین کر پایا ہوں ، امید ہے آج کے حالات کے مطابق آپ اسے ضرور دیکھ پائیں گے  ۔ ۔ ۔ کوشش کروں گا کہ مستقبل میں اسکی اور تفصیل دے سکوں