Google

Archive for the 'حالات حاضرہ' Category

ایمر جنسی سے حکومت نے حاصل کیا کیا؟

Sunday, November 11th, 2007
 
میری نظر میں حکومت نے اس ایمرجنسی سے درج ذیل اہداف حاصل کئے ہیں ، اور اگر آپ پچھلے ہفتے پر نظر ڈالیں تو یہ سب کچھ ایک  کڑوی حقیقت کی طرح نظر آ جائے گا ۔
١ ۔ سب سے بڑا ہدف جو حکومت نے حاصل کیا وہ عوام کی اور میڈیا کی توجہ بنیادی مسائل سے ہٹا دی ، یعنی مہنگائی اور بجلی کے بحران سے
٢- دوسرا بڑا ہدف جو حکومت نے حاصل کیا ، میڈیا کو اسکی حیثیت یاد دلائی ، جو سر پھرے میڈیا کو بہت جلد سمجھ آ گئی ہے اور مزید سمجھ آ جائے گی جلد ہی
٣ - ملکی اور غیر ملکی سطح پر اس تاثر کو بھی ذائل کیا گیا ہے ، کہ پاکستان میں فوج حاکمیت سے الگ ہونا چاہتی ہے
٤ - سیاست دانوں میں انتشار پیدا کیا گیا ہے ، جس سے عوام مزید ان سے متنفر ہو چکے ہیں
٥ - اعلیٰ عدالتوں کو بھی بتا دیا گیا کہ انصاف وہ ہی ہوتا ہے جو حکومت چاہے
٦ - پولیس کو ایک بار پھر اسکی طاقت اور قوت سونپی گئی  ۔ ۔ ۔ ۔
٧ - مغربی طاقتوں کو یقین دلا دیا گیا ہے کہ کچھ بھی ہو جائے ، پاکستان کا ریموٹ کنٹرول انکے پاس ہی رہے گا
٨ - مغرب کو باور کروا دیا گیا کہ اصل دھشت گرد پاکستانی ہیں ، انکو قابو کر لو سارا عالم اسلام قابو میں آ جائے گا
 
اور سب سے بڑی بات یہ کہ مغرب کو پتہ چل گیا ہے کہ وہ پاکستان سے صرف ایک آدمی کو قابو کر لیں باقی لوگ خود بخود قابو آ جاتے ہیں ، اور انکے بیک اپ بھی تیار ہو جاتے ہیں  ۔ ۔ ۔
اللہ ہم پر اپنا رحم کرے (آمین)

کھلا خط ، مشرف کی والدہ کے نام

Thursday, November 8th, 2007
اسلام علیکم
آپ کی صحت کے لئے دعا گو ہوں ، آپ ہمارے دیس کے حاکم کی ماں ہیں ، اس حوالے سے جیسے مسز مشرف حاتون اول ہیں تو آپ اس وقت مادر اول جیسی ہیں ، جیسے کسی شرارتی بچے کی شکایت اسکی ماں سے کی جاتی ہے ایسے ہی میری شکایت آپ کے لائق اور شرارتی بچے کے بارے میں ہے ، ہم اس بچے کو پچھلے دس سال سے جانتے ہیں ، یہ ہمیں کھیلنے نہیں دے رہا ہے آنٹی ، ہمارے سارے کھلونے اسنے یا تو توڑ ڈالے ہیں یا پھر انکو اپنے قبضے میں لے لیا ہے ، وہ بہت بہادر نڈر تھا سب کے ساتھ کھیلتا تھا مگر پتہ نہیں اسے کیا ہوا ہے ، اب وہ سب کچھ اپنے ہی قبضے میں رکھنا چاہتا ہے
آنٹی جی ، آپ کو پتہ ہے نا جب کوئ بھی بچہ بدتمیز دکھاتا ہے تو لوگ یہ ہی کہتے ہیں کہ یہ اسکے ماں باپ کی تربیت ہے ، مگر مجھے نہیں لگتا کہ آپ نے اس گندے بچے کو ایسی تربیت دی ہو گی ، آپ خود محنتی خاتون تھیں ، آفسوں میں کام کیا ہے آپ نے ، آپ تو اتنی اچھی ہیں کہ لوگ آپ کو ماں جیسا سمجھتے ہیں  ۔ ۔  مگر آنٹی جی ، کیا آپ اپنے شرارتی بچے سے ہمارے کھلونے واپس دلوا سکتیں ہیں ؟
آپ کو پتہ ہے آنٹی جی ، میں جب روتا ہوں تو بہت برا لگتا ہوں ، اور اوپر سے بھاں بھاں کر کہ روتا ہوں ، غصہ آتا ہے تو جو سامنے نظر آئے اسے مارتا ہوں توڑ پھوڑ کرتا ہے ، آپ کا بیٹا بہت طاقت والا ہے اسلئے اس سے کوئی لڑ نہیں سکتا  ۔ ۔ ۔ مگر آپ تو اسکی ماں ہو ، ماں تو بیٹے کے کان کھنچ سکتی ہے  ۔ ۔ ۔ کاش انکل زندہ ہوتے تو شاید وہ ہی اسے کچھ مت دیتے ، چھوٹے بھائ تو خود ہی گم سم ہیں  ۔ ۔ ۔
آنٹی جی  ۔ ۔ ۔ پلیز  ۔ ۔ ۔ اپنے شرارتی بچے کو بولیں نا کہ وہ ہمارے کھلونے واپس کر دے ، اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گا تو پھر ، ہم سب دوست روئیں گے ، چلائیں گے ، اور اگر غصہ آ گیا تو  ۔ ۔  توڑ پھوڑ کریں گے ، ایسا نہ ہو کہ آپ کے بچے کو بھی “توڑنا“ پڑے  ۔ ۔۔
پلیز آنٹی جی ۔ ۔ ۔ ۔پلیز ۔۔۔۔
آپ کے بیٹے کا کمزور دوست اور اسکے بے بس ساتھی آپ کو بہت “تھنکس“ کہیں گے  ۔ ۔ ۔
وسلام  ۔ ۔ 
منجانب ؛ تمام بے بس پاکستانی انسان ، جنپر آپ کا بیٹا حاکم ہے !!!

تحفظ لوٹ مار بل

Saturday, October 6th, 2007

لکھنے کو بہت کچھ ہے مگر دل آج اداس ہے گو دل کو یہ خبر متوقع تھی مگر ایک انہونی ہونے کا انتظار تھا مگر وہ انہونی نہیں ہوئی کیونکہ ہونی جو ہونی تھی۔ آج پھر ایک افسوسناک دن رہا ، جنرل مشرف اپنی ق لیگ کے سر پر پھر سے صدر منتخب ہو گئے […]

معلوم لوگ

Saturday, September 29th, 2007
 
یہ وہ لوگ ہیں جنہیں سب جانتے ہیں ، انکی رگ رگ سے واقف ہیں ، بچہ بچہ انکے نام اور کام سے واقف ہے ، کچھ لوگ اچھے ہیں کچھ برے کچھ بڑے ہیں کچھ چھوٹے مگر سب لوگ انہیں جانتے ہیں  ۔ ۔ انکو کچھ ایسے تقسیم کر سکتے ہیں
سیاسی لوگ ۔ یہ لوگ عوام کے بل پر رہنما بنتے ہیں ، اور پھر اپنے ہمراہیوں کو چھوڑ کر کسی اور سمت چلے جاتے ہیں ، مگر عوام کبھی بھی انہیں نہیں بھولتے ، عوام کو یہ ننگا بھوکا بھی کر دیں تو بھی عوام انکا ساتھ دیتی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ سیاسی لوگ زندہ اگر ایک لاکھ کے ہوتے ہیں تو مرنے کے بعد ایک کروڑ کے بھی ہو سکتے ہیں  ۔ ۔ ۔ زندگی انکی عید اور راتیں شب برات ہوتیں ہیں ۔
سماجی لوگ ۔ ان میں دو مزید قسمیں ہو سکتیں ہیں ، ایک پرخلوص سماج سیوا کرنے والے اور دوسرے این جی اوز والے ، یہ لوگ اکثر ائیر کنڈیشن فائیو سٹار ہوٹلوں میں بیٹھ کر غریبیوں کی زندگیوں کو بدلنے کے پروگرام بناتے ہیں اور اتنے محب وطن ہوتے ہیں کہ وطن میں کم ہی ٹھہرتے ہیں
فنکار لوگ ۔ یہ لوگ معاشرے کو تفریح فراہم کرتے ہیں ، معاشرے میں بول چال ، رہن سہن اور پہناوے انہیں لوگوں سے حاصل کئیے جاتے ہیں یہ لوگ عام لوگوں کے دلوں میں رہتے ہیں ۔ ۔ ۔۔  اور خود کو عام لوگوں سے دور رکھتے ہیں تا کہ وہ عام نہ لگ سکیں
شاعر و ادیب لوگ  ۔ ۔  یہ لوگ جزبات کی تجارت کرتے ہیں ، اپنے قلم سے ایسے الفاظ و جملے تراشتے ہیں کہ عام آدمی متاثر ہوئے بنا نہیں رہتا ، مگر اکثر یہ لوگ دوہری زندتی گزارتے ہیں ، جو لکھتے ہیں وہ خود پر لاگو نہیں کرتے  ۔ ۔ ۔ اسی لئے ایسے کچھ لوگ مشہور رہ کر بھی گمنام ہی رہتے ہیں
کھلاڑی لوگ ۔ یہ کھیلنے کودنے کے ماہر ہوتے ہیں ، عوام کو جب دل چاہے خوش کر دیتے اور جب چاہے غم دیتے ہیں ، پیسے کی خاطر کھیلتے ہیں اور نام وطن کا لیتے ہیں  ۔۔ ۔  ۔ مگر اپنی رئٹائرمنٹ کے بعد وطن کو پہلی فرصت میں چھوڑ بھی دیتے ہیں  ۔ ۔ ۔ یا پھر کسی دوسرے وطن کے لوگوں کو اپنی قابلیت سے سکھاتے ہیں
ایسے بہت سارے لوگ ہیں جنہیں ہم جانتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور وہ ہماری زندگی پر اثر انداز بھی ہوتے ہیں  ۔ ۔ ۔۔  مگر عام لوگ کبھی بھی ان خاص لوگوں کی زندگی میں اثر انداز نہیں ہوتے

نامعلوم افراد

Saturday, September 15th, 2007
 ہمارے دیس میں آج کل نامعلوم افراد کا بہت زیادہ چرچا ہے ، اس دیس میں جو بھی ہوتا ہے اسے نامعلوم افراد کرتے ہیں ، وہ کامیابی ہو یا ناکامی ، قتل ہو یا فساد ، حادثہ ہو یا سانحہ  ۔ ۔ ۔ سب کے پیچھے ہاتھ ہوتا ہے نامعلوم افراد کا ۔ یہ نامعلوم افراد کون ہیں کہاں سے آتے ہیں اور کہاں چلے جاتے ہیں اسکے بارے میں کسی کو کچھ معلوم نہیں ، مگر سب جانتے ہیں کہ یہ سڑکوں پر دندناتے پھرتے ہیں ، ہر ادارے میں انکا حکم چلتا ہے ، ہماری حکومتیں انکے ایک اشارے کی منتظر رہتی ہیں ۔
یہ نامعلوم افراد اتنے معروف ہیں کہ ہر کوئی انہیں جانتا ہے ، انکا کوئی نام نہیں انکی کوئی شکل نہیں ، مگر اتنا ضرور ہے کہ اگر ہم آئینہ دیکھیں تو ہمیں اس میں کسی اجنبی کا چہرہ ہی نظر آئے گا  ۔ ۔ ۔ ہم خود کو جو ظاہر کرتے ہیں وہ ہے ہی نہیں  ۔ ۔ہمارا شمار ہوتا ہے نامعلوم افراد میں  ۔۔  ہم ہی قاتل ہیں ہم ہی مقتول  ۔ ۔ ۔ ہم ہی فریادی ہیں اور ہم ہی منصف   ۔ ۔ ۔ مگر ہم کون ہیں  ۔ ۔ ۔ ہم ہی تو ہیں وہ نامعلوم افراد  ۔ ۔ ۔ جو ہر حادثے کے پیچھے ہوتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ہر واقعے کے پیچھے ہوتے ہیں  ۔۔ ۔ ۔

لال آنسو!!

Tuesday, July 10th, 2007
باخبر ہونا بھی ایک عذاب سے کم نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ شخص کیا کرے جو سب جانے اور بے بس بھی ہو  ۔۔ ۔ جذباتی بھی ہو اور حساس بھی ۔ ۔ ۔ شاعر بھی ہو اور لکھاری بھی  ۔ ۔ ۔
کبھی کبھی مستقبل آپکے سامنے کھڑا ہوتا ہے ، کبھی کسی حسین دوشیزہ کی شکل میں اور کبھی ایک بھیانک حقیقت کی شکل میں  ۔ ۔ ۔ ۔ مستقبل جو ایک فرد کا نہیں ہوتا سب کا ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ مگر یہ کیا ہوا کہ ہم سب کے سامنے ہمارا مستقبل اپنی بھیانک شکل لے کر کھڑا ہو گیا  ۔ ۔ ۔۔
میں کبھی اچھا مسلمان نہیں رہا  ۔۔ ۔۔ اللہ کے احکام کو مانتا ضرور ہوں مگر بے عمل بہت ہوں  ۔ ۔ ۔ ۔ ایک چیز جو مجھ میں بہت ہی غلط ہے وہ جھوٹ سے بچنے کی عادت  ۔ ۔ ۔مگر اب  ۔ ۔ ۔ کیا سچ ہے کیا جھوٹ ۔ ۔ ۔  اسکا کوئی مطلب نہیں ۔ ۔۔ ۔
آج جو کچھ ہوا ، وہ اسلام کے نام پر ہوا  ۔ ۔ ۔  ۔ مسلمان مارے گئے  ۔۔  ۔ اسلام کے نام پر  ۔ ۔۔  مسلمانوں نے مارا  ۔ ۔ ۔ اسلام کے نام پر  ۔ ۔ ۔  ۔۔ اس ملک میں مارا جو اسلام کے نام پر بنا  ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس شہر میں جسکا نام ہی اسلام کے نام پر رکھا گیا  ۔ ۔ ۔ اور اس جگہ پر مارا گیا جہاں اسلام کی تعلیم دی جاتی تھی جہاں اسلام  ۔ ۔ ۔ کی “پریکٹس“ کی جا رہی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔
جو مارے گئے  ۔۔ ۔ تاریک راہوں میں  ۔۔ ۔تاریک گوشوں میں  ۔ ۔ ۔ ۔ اور شاید تاریکی ۔ ۔ ۔۔ ۔ میں ۔ ۔ ۔  وہ کوئی اور نہیں ہم تھے  ۔  ۔ مجھے اسلام کی کوئی فکر نہیں ۔ ۔۔  ۔ ۔ کیونکہ اسکی حفاظت اور تبلیغ کا “ٹھیکہ“ اس کو پسند کرنے والے رب نے لے رکھا ہے  ۔۔  ۔ مجھے فکر ہے  ۔ ۔ ۔ اپنے مسلمانوں کی  ۔۔  ۔ یہ وطن کہیں  ۔۔  ۔ ۔ سربیا یا چیچینیا نہ بن جائے  ۔۔۔  ۔ جہاں لوگوں کے نام تو مسلمانوں جیسے ہوں اور  ۔ ۔۔۔  “کرتوت“  ۔۔ ۔ ۔ ملحدوں جیسے  ۔ ۔  ۔ ۔
آج روشن خیال بہت خوش ہونگے  ۔ ۔ ۔ ۔ اب کُھل کر کھیلیں گے  ۔۔۔ ۔ ۔ نہ کوئی پابندی  ۔ ۔ ۔ ۔ نہ کسی ملا کا ڈر  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب تو عورتیں برقعہ نہیں پہنیں گیں  ۔۔ ۔ ۔کہ وہ اب مسلمان علماء کا “کیمو فلاج“ ہے  ۔ ۔۔  ۔اب کوئی بچہ  ۔ ۔ ۔۔ ۔ بچپن میں مسجد نہیں جائے گا  ۔۔ ۔ ۔۔ کہ کہیں اسے “طالب“  نہ بنا دیا جائے  ۔۔  ۔ ۔
آج رات  ۔ ۔ ۔ ۔ ہم سب سکون سے سوئیں گے  ۔ ۔ ۔ ۔ کہ اب کوئی ملا نہیں  ۔ ۔۔ کچھ دن تک شاید کچھ سرپھرے  ۔ ۔ ۔ ۔ “اوچھی“ حرکتیں کریں  ۔۔ ۔  ۔ اور کچھ مزید مسلمانوں کو “شہید“ کے رتبے پر فائز کریں   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر  ۔ ۔ ۔  یہ یقین ضرور ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ کہ مستقبل کی جو بھیانک شکل سامنے کھڑی ہے  ۔ ۔ ۔  اسکے پیچھے شاید ایک امن کی دوشیزہ بھی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر  ۔ ۔ ۔ ۔ میں جانتا ہوں کہ امید کا سورج اگر کبھی ڈھل بھی جائے تو  ۔ ۔ ۔ ۔ بھی اسکی کرنیں اگلی صبح تک  ۔ ۔ ۔ ایک ننھے سے چراغ کی شکل میں روشن رہتیں ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر  ۔ ۔  ۔
مگر یہ باخبر ہونا بھی عذاب ہے  ۔۔۔  ۔۔شاید بہت بڑا عذاب  ۔ ۔ ۔ ۔ جو حقیقت کی شکل میں ہم پر نازل ہو رہا ہے  ۔ ۔۔ ۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
یارب  ۔۔ ۔۔
یہ خوں کی بارش میں ۔ ۔ ۔ ۔
ہمارے سفید کپڑے  ۔۔ ۔  ۔
ہمارے سنہرے جسم ۔ ۔ ۔ ۔
داغدار ہو گئے ہیں  ۔ ۔   ۔
اے رب  ۔ ۔ ۔
اب برسا ۔ ۔  ۔ ۔
وہ پانی  ۔ ۔ ۔ ۔ آنکھوں سے  ۔ ۔ ۔
جس سے دھل جائیں  ۔۔  ۔ ۔
جسم ہمارے  ۔  ۔ ۔
تاکہ یہ کفن  ۔ ۔ ۔ ۔ صاف ہوں  ۔ ۔ ۔ ۔
اور ہم  ۔۔ ۔  مٹی میں جا بسیں  ۔ ۔ ۔
———————————————————————————————————
درد کے لمحوں میں ، جو آنکھیں بھیگ جاتیں ہیں
ان آنسوؤں کا رنگ  ۔ ۔  نہ جانے کیوں لال ہوتا ہے

ڈاکٹر زواگو ۔ ۔ انقلاب کی کہانی

Wednesday, June 6th, 2007
دنیا کی تاریخ انقلابات سے بھری پڑی ہے ، وہ ہزاروں سال پہلے کے یونانی ، ایرانی یا پھر ہندوستانی انقلاب ہوں ، یا مذہبی انقلاب ، یا پھر جدید دور میں ، فرانسیسی، جرمن ، امریکن یا روسی انقلاب ۔ ۔۔ ہر انقلاب ایک نیا نظام لاتا ہے ، اور ہر نئے نظام کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ انسانیت کی بقا اور سلامتی کے لئے بنا ہے ، مگر کچھ ہی عرصے کے بعد اس نظام میں درڑاڑیں پڑ جاتی ہیں ۔ ۔۔  ۔ یا پھر ڈال دی جاتیں ہیں ، اگر انسانی نظام ہو تو اسکا متبادل ڈھونڈ لیا جاتا ہے اور اگر آسمانی نظام ہو تو اسے تبدیل کیا جاتا ہے  ۔ ۔ ۔غرض ہر دور میں نظام انقلاب سے بدلا جاتا ہے ، اور ہر تبدیلی میں مزاحمت ہوتی ہے ، اور ہر مزاحمت میں خون بہتا ہے اور ہر بہتے خون سے ایک کہانی جنم لیتی ہے جسے دنیا یاد رکھتی ہے  ۔
 
ایسی ہی کچھ کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے ڈاکٹر زاواگو کی ، جسے ایک روسی ادب کا شاہکار بھی کہا جاتا ہے ، مجھے روسی ادب میں دستووہسکی کا شاہکار ناول “ایڈیٹ“ بہت پسند ہے وجہ ہے اسکا کردار پرنس میشکن ، جو ایک سیدھا سادا سا جوان ہے اور سینٹ پیٹسبرگ میں جب آتا ہے تو اپنی سادہ لوحی سے نستاسیا فلی پوانا سے لیکر ایدلایا تک کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے ، دستو وسکی کا یہ ناول زار کے دور کے اواخر کا بتاتا ہے مگر اس کی انتہا ہمیں “بورس پاسٹر نیک“ کے ناول ڈاکٹر زاواگو میں نظر آتی ہے  ۔ ۔ ۔ میں دونوں ناولوں کو سامنے رکھوں تو پرنس میشکن ڈاکٹر زواگو سے زیادہ خوش قسمت نظر آتا ہے  ۔ ۔ ۔ بے شک پرنس میشکن سب کچھ بھول جاتا ہے مگر اسکے پاس ادلایا رہتی ہے ، مگر زواگو ، سڑک پر بے بسی سے مر جاتا ہے  ۔ ۔ ۔
 
بورس پاسٹرنیک نے یہ کہانی روسی میں لینن کے انقلاب کے زمانے میں بیان کی ہے ،  اور انقلاب کو پنپتے ہوئے بھی بتایا ہے ، اس ناول پر جو شاہکار فلم بنائی گئی اسے ڈیوڈ لین نے ڈائریکٹ کیا تھا ، عمر شریف نے لازوال کردار کو اپنی اداکاری سے لازوال بنا دیا ۔ ۔ ۔  مجھے آج یہ فلم اپنے ملک کے حالات دیکھ کر یاد آئی اور اسکے کچھ ڈائلاگ بھی  ۔  ۔ ۔ یہ فلم ١٩٩٤ تک روس میں دکھائی نہیں جا سکی تھی ، اور اس ناول پر بھی پابندی تھی ، ١٩٥٨ میں بورس پاسٹرنیک کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا تھا اس ناول پر مگر روسی حکومت کے دباؤ پر اسنے یہ ایوارڈ قبول نہیں کیا تھا ، اور شاید وہ اسٹالن کی شان میں کچھ نظمیں نہ لکھتا تو شاید وہ زندہ بھی نہ رہتا  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر اب ڈاکٹر زواگو کی شکل میں وہ رہتی دنیا تک زندہ رہے گا  ۔۔ ۔
 
ایک لکھنے والا جب قلم اٹھاتا ہے تو وہ بہت کرب سے گذرتا ہے ، پہلے وہ یہ کرب کتاب میں بیان کرتا تھا پھر موسیقی اور شاعری میں اور اب فلم کی شکل میں بھی یہ کرب بیان کیا جاتا ہے ، اور خاصکر جب کوئی قوم کسی انقلاب کی طرف پیش قدمی کر رہی ہو یا اسے دھکیلا جا رہا ہو ، تو اس قوم کے ادیب و شاعر اس قوم کی بہتری کا سوچتے ہیں لکھتے ہیں  ۔ ۔  اور گاتے ہیں ، اور تماثیلیں بیان کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ جس سے قوم کی رہنمائی ہوتی ہے  ۔ ۔ ۔ ہم سب اس دور سے گذر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں میں فلم ڈاکٹر زواگو کے کچھ ڈائلاگ لکھ رہا ہوں  ۔ ۔ اب آپ کا کام ہے کہ انہیں آپ کن معنیٰ میں لیتے ہیں  ۔ ۔  مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ الفاظ کسی کے بھی ہوں  ۔ ۔ حالات ہمارے ہی بیان کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
—————————————-

- ایک شخص کا ایندھن کے لئیے ترسنا ، دکھ دیتا ہے ، مگر کچھ لاکھ افراد کی ضرورت شہر کو آگ لگا دیتی ہے

 

-جب ایندھن ختم ہو گیا تو اسنے وسائل کی تقسیم کرنے والوں سے پوچھا
کیا اب ہم اسی طرح سے سردیوں میں رہا کریں گے ؟
 
-اور جب کوئی امن کا سبق دیتا ہے تو انقلابی کہتا ہے
انہوں نے بچوں اور عورتوں کو جانوروں کی طرح بٹھا دیا جو روٹی مانگ رہے تھے ، اب کوئی بھی پُر امن احتجاج نہیں کرے گا
-
 
 اور ایک نیک دل دشمن یوں کہتا ہے  ۔ ۔
یہ جو لوگ آج میرے ساتھ میرے ساتھی بن کر آئے ہیں ، کل یہ ہی لوگ فائرنگ اسکواڈ کے ساتھ آئیں گے تمہارے اور تہمارے گھر والوں کے لئے ، بولو کیا میں تمہارا دشمن ہوں جو تم میرے ساتھ نہیں چلتے
 
(یہ مجھے بہت پسند ہے)
- اور جب زواگو کو زبردستی اپنے ساتھ لے جایا جاتا ہے ، تو وہ پوچھتا ہے
مجھے کہاں لے جا رہے ہو
سرحد پر
مگر سرحد تو بہت دور ہے
جہاں سے ہمارا حکم نہیں مانا جاتا ، وہیں سے سرحد شروع ہو جاتی ہے
-
 
اور جب وہ اپنے قدموں پر کھڑے رہنے کے قابل نہیں رہتے تو وہ وہ ہی کرتے ہیں جسکا خواب کوئی فوج سوچا کرتی ہے
یعنی وہ اپنے گھر واپس جاتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور وہی انقلاب کی شروعات ہوتی ہے
 
اور ان الفاظ کا مزہ شاید انگلش میں زیادہ ہی ہے
In bourgeois terms, it was a war between the Allies and Germany. In Bolshevik terms, it was a war between the Allied and German upper classes - and which of them won was of total indifference. My task was to organize defeat, so as to hasten the onset of revolution. I enlisted under the name of Petrov. The party looked to the peasant conscript soldiers - many of whom were wearing their first real pair of boots. When the boots had worn out, they’d be ready to listen. When the time came, I was able to take three whole battalions out of the front lines with me - the best day’s work I ever did. But for now, there was nothing to be done. There were too many volunteers. Most of it was mere hysteria.
 
- مجھے تہماری شاعری بہت پسند ہے
شکریہ
کیا تم یہ نہیں سمجھتے کہ یہ جذباتیت وغیرہ فضول ہیں اب ، کیونکہ روس میں نجی زندگی مر چکی ہے ، تاریخ نے اسے مار دیا ہے ،  اور شاید اسی لئے تم ہم سے (اشتراکیت سے) نفرت کرتے ہو
میں اس سب سے نفرت کرتا ہوں جو تم نے کہا مگر اتنی نہیں کہ تمہیں قتل کر دوں
 
- اور جب ایک شخص کہتا ہے ، کہ ایک بری خبر ہے ، 
کیا ہمارے کھیت جلا دئیے
نہیں اس سے بھی بری ہے
کیا اب چائے پر بھی پابندی ہے
انہوں نے زار (روسی بادشاہ ) کو خاندان سمیت قتل کر دیا ہے
یہ تو ہونا تھا  ۔ ۔ ۔ مگر ایسے ؟؟؟؟
 
 
اور شاید یہ پنچ لائین ہے  ۔ ۔۔ 
In the hour of victory, the military will have served its purpose - and all men will be judged POLITICALLY - regardless of their military record! Meanwhile, there are still White units in this area - the Doctor stays
 

اس موقعے کو ضائع نہ کریں

Monday, May 21st, 2007
 
پچھلے ہفتے سے جو کچھ لال مسجد اور حکومت کی طرف سے ہو رہا ہے اس سے تو یہ لگتا ہے کہ یہ سب کچھ صرف توجہ بٹانے کے لئے ہے اور عوام کو اصل مسائل سے گمراہ کیا جا رہا ہے ، ایک حدیث کے مطابق مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا مگر لال مسجد والے روز  لوگوں کو پکڑ کر چھوڑ دیتے ہیں اور دوسری طرف بار بار طلبہ کو پکڑا جا رہا ہے  ۔  ۔   ۔  اب عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ یہ چوہے بلی کا کھیل ہے  ۔ ۔ ۔ جیسا کہ اپوزیشن اور حکومت کھیل رہی ہے ، اور جیسے وکیل اور حکومت مل کر  صرف وقت زیاں کر رہے ہیں  ۔ ۔  اور عوام ہے کہ مہنگائی اور دھشت گردی کی شکار ہو کر مجسم ہو چکی ہے  ۔ ۔ ۔ زبانیں کنگ ہیں اور جسم لاغر  ۔ ۔ ۔ کچھ امید تھی کہ چلو کوئی بولا ہے اسلام لانے کے لئے مگر انکا خود کا عمل اتنا غیر مبہم ہوتا جا رہا ہے کہ بہت جلد لوگ اس سے متنفر ہو جائیں گے  ۔ ۔ 
اب ان سب باتوں کا حل کیا ہے ، حل وہ ہی ہے جو ہماری آقا و مولا نے ریاست مدینہ میں دیا تھا اور جو خلفہ راشدین نے اپنایا تھا  ۔ ۔  کاش جامعہ حفصہ اور لال مسجد والے صرف اتنا ہی سوچ لیں کہ وہ مثال بنیں  ۔ ۔ ۔  مولانا رشید صاحب یہ تو کہتے ہیں کہ ہمیں مظلوم بننا پسند ہے مگر  ۔ ۔ ۔ عملی طور وہ جانے کیوں خود کو ظالم ثابت کرنے پر تُلے ہیں  ۔ ۔ ۔ 
ایک ہماری فوج ہے جو اپنے ہی ملک کو بار بار فتح کر رہی ہے ، دوسری طرف ہمارے سیاست دان ہیں جو اپنی جیبیں بھر رہے ہیں ، تیسری طرف ہمارا مذہبی طبقہ ہے  ۔ ۔  جو زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کرتا  ۔ ۔ ۔ عملی طور پر کوئی بھی ہمیں ایسا نظر نہیں آتا جسکی ہم تقلید کریں  ۔ ۔ ۔ اور چوتھی جانب عوام ہیں جو بے بسی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ جہاں کہیں امید کی کرن نظر آتی ہے عوام اسکا ساتھ دیتی ہے مگر تھوڑے ہی وقت میں وہ امید کی کرن اپنی قیمت وصول کر کہ بجھ جاتی ہے اور پھر وہ ہی گھٹا ٹوپ اندھیرا  ۔ ۔ ۔
لال مسجد والے کہتے ہیں ، ہم زمینی حقائق نہیں بلکہ آسمانی احکام مانتے ہیں  ۔ ۔ ۔ آج آسمانی احکام ہی مان لیں لال مسجد والے  ۔ ۔ ۔اور مظلوم بن جائیں  ۔ ۔ ۔ میری نظر میں اس وقت لال مسجد اور جامعہ حفصہ اگر یہ کام کر لیں  ۔ ۔ تو نہ صرف یہ ملک بلکہ ہم سب کی دنیا بدل جائے اور آخرت بھی  ۔ ۔
١ - پنڈی اور اسلام آباد میں صفائی کریں  ۔ ۔  جی ہاں خاکروب بنیں  ۔ ۔  شہر کا کوڑا اٹھائیں  ۔ ۔ اور اسے ٹھکانے لگا دیں ، کوڑا جو ہر گھر سے نکلتا ہے  ۔ ۔ ۔  یعنی پنڈی اور اسلام آباد کی کوئی نالی بند نہ ہو  ۔۔ ۔ اور بو نہ آئے  ۔ ۔ یقین کریں  ۔ ۔  جب آپ خود کو سب سے کمتر ثابت کریں گے ۔ ۔ ۔ تبھی آپ بڑی صفائی کر سکتے ہیں  ۔ ۔
٢- جامعہ حفصہ کی حواتین  ۔ ۔ صرف پنڈی اور اسلام آباد میں ، عورتوں کے مسائل حل کریں گھر گھر جائیں  ۔ ۔  پہلے انکے مسائل سنیں  ۔ ۔ خالی نماز روزے کی تلقین کرنے سے کوئی مسلہ حل نہیں ہوتا  ۔ ۔  کسی درد بھرے دل کی داستاں سننے سے بھی کچھ اثر ہوتا ہے  ۔ ۔ پنڈی اور اسلام آباد میں بہت سارے گھرانے ایسے ہیں جو اپنی بچیوں کے رشتوں کے لئے بیٹھے ہیں  ۔ ۔ آپ ان کے یہ مسلے حل کریں  ۔ ۔ ۔ اگر آپ خود کو پانی کا کنواں سمجھتیں ہیں تو پیاسوں کی پیاس بھجھائیں یاد رکھیں اس وقت ہم پیاس سے اتنے نڈھال ہیں کہ ہمیں کنویں کے آنے کا انتظار ہے  ۔ ۔ ہم خود کبھی کنوایں کے پاس نہیں جا سکیں گے  ۔ ۔ ۔
٣- جدید دور کا ساتھ دیں  ۔ ۔  جس طرح ایک سادہ صفحے پر مغلظات یا پھر آیات لکھی جا سکتیں ہیں اسی طرح فلموں اور ڈراموں سے بھی یہ کام لیا جا سکتا ہے  ۔ ۔ ۔ ہم اس وقت برائی کو اپنی زندگی کا حصہ مان چکے ہیں  ۔ ۔ ۔  ہمیں اس وقت سیدھا کرنے کے لئے نرم کرنا ہو گا  ۔  ۔ اور نرمی ، سختی برتنے سے نہیں آتی  ۔ ۔۔  نرم خوئی ہی اسکا سبب بنتی ہے  ۔ ۔ ۔  آپ کو احساس دلانا ہو گا کہ غلط کیا ہے اور صحیح کیا ہے  ۔ ۔ ۔  اس وقت آپ فلموں اور ڈراموں کو عہد نبوی (ص) کے وقت میں کعبے میں رکھے بُت سمجھ لیں  ۔ ۔  جنہیں توڑنے کے لئے  ۔ ۔  مکہ بنا خون بہائے فتح کرنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ اور اسی کعبے کو اپنے انداز کے نت نئے ڈائزائنوں سے سجانا ہو گا کہ وہ بھلا بھی لگے  ۔ ۔۔  اگر اللہ قرآن میں قصے بیان کرتا ہے ہمیں سمجھانے کے لئے تو ہمیں بھی میڈیا کا ہر میڈیم استعمال کرنا ہو گا ، چاہے وہ موسیقی ہو ، شاعری ہو یا پھر تمثیل  ۔ ۔ ۔ ۔ 
٤ - ہمارے علماء کرام سارا وقت عوام کو عبادات سکھاتے ہیں  ۔ ۔ ۔ معملات سکھاتے ہیں ، مگر زندگی کے سکھ نہیں سکھاتے ، ہم اس وقت فرقوں میں اتنے بٹ چکے ہیں  ۔ ۔  کہ ہر آدمی اپنا فرقہ رکھتا ہے  ۔۔ ۔  ۔  بات اب مذاکرات کی نہیں ، بلکہ عمل کی ہے  ۔ ۔ ۔ ہم جو کہ رہے ہیں ہمیں کرنا بھی ہے  ۔  ۔ اختلاف کو ایک بنیادی حق تسلیم کرنا ہے  ۔ ۔۔ اور خود کو اس معاشرے میں ایلین نہیں بنانا بلکے اسی کا حصہ بنانا ہے  ۔ ۔  ۔ کیا ہم اس وقت اس گاؤں کی طرح نہیں ہو رہے جس کے چوہدری کے گھر میں تو کتوں کو بھی تازہ کھانا ملتا ہے اور اسی حویلی سے نیچے  غریب کسان بھوکا سوتا ہے   ۔۔  ۔ کام کرنے والوں کو گالیاں اور نام والوں کی قوالیاں  ۔  ۔۔
کہنے اور بہت کچھ ہے  ۔ ۔ مختصر یہ کہ  ۔۔۔  ۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے لوگ  ۔ ۔ ۔ قلعہ بند ہو کر نہ بیٹھیں عوام میں نکلیں  ۔۔ ۔ یقین کریں  ۔ ۔ ۔ پاکستان کی عوام اسلام سے بہت پیار کرتی ہے  ۔ ۔  اور اسکے لئے سب کچھ لٹا دے گی  ۔ ۔ ۔ آپ اگر اب سامنے آ ہی گئے ہیں  ۔ ۔۔  تو خداراہ باہر نکلیے  ۔۔ ۔  اس عوام میں آئیے  ۔ ۔ ۔ ہاں قربانی دینی پڑے گی  ۔  ۔ ۔ اسکے لئے آپکو  ۔ ۔ ۔ اپنے اوپر سے خود کو بہترین مسلمان کا خول اتارنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ آپ کو بتانا ہو گا کہ آپ بھی عوام جیسے ہیں  ۔ ۔ ۔ ایک بے نمازی مسلمان کو نمازی بنانے کے لئے اسکی زندگی کو بدلنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ اسکے دکھ سن کر اسکی مدد کر کے  ۔۔ ۔ ۔ اللہ نے آپکو موقع دیا ہے اسے ضائع نہ کریں  ۔ ۔ ۔ ورنہ آپ اور حکومت تا قیامت چوہے بلی کا کھیل کھیلیں گے اور عوام اس میں پستی رہے گی  ۔   ۔ اور دین سے مزید متنفر ہوتی رہے گی  ۔ ۔
اللہ ہم سبکو نیک ہدایت دے (آمین)

دیوتا بن کہ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس

Saturday, May 12th, 2007
کل جو وطن میں ہوا ، اس پر بہت کچھ کہا جائے گا اور کہتے رہے گے ہم  ۔ ۔ ۔ مگر اس وقت صرف یہ ہی ذہن میں گونج رہا ہے
 
بن ٹھگ بازی اس دنیا میں بنا ہے کون رئیس
دیوتا بن کہ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس
 
انسانوں کا خون بہا کر رقص کریں فرعون
لمبے ہاتھ ستمگاروں کے ، مجبوروں کا کون
راتوں کے پردے میں کھیلیں کیا کیا کھیل خبیث
دیوتا بن کہ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس
 
سارے شہروں پر چھائی ہے اک دھشت بن رین
کس سے پوچھیں اس دھرتی کا لوٹا کس نے چین
حال وطن کا دیکھ کہ دل میں میرے اٹھے اک ٹیس
دیوتا بن کہ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس
 

آپریشن ب حجاب

Friday, April 27th, 2007
کل مدیحہ گوہر نے اپنے “آپریشن ب حجاب“ والے سٹیج کے ڈرامے پر پابندی کے خلاف کہا کہ اس ڈرامے میں کچھ ایسا نہیں کہ جس پر اسلام پسندوں کو گلہ اور گلہ تو انہیں ہے روشن خیال حکومت سے ، کہ جو ایک طرف تو روشن خیالی کے نعرہ لگا رہی ہے اور دوسری طرف روشن خیالی پر پابندی بھی  ۔ ۔ ۔مدیحہ کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی  ۔ ۔۔
ویسے اس ڈرامے کے کچھ کلپس بی بی سی کی مہربانی سے دیکھے ، تو پتہ چلا کہ واقعٰی ہی یہ کھیل کھیل میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے ، ذرا سوچیے کہ اگر پردہ داری ہو گئی وطن عزیز میں تو کیا ہو گا ، برقعے میں سب کچھ  ۔۔ ۔ ہماری فیشن انڈسٹری تو تباہ ہو جائے گی ، اور پھر فلموں کا کیا ہو گا ؟ میرا ، ریما اور مدیحہ کدھر جائیں گیں ؟ ہماری یونیورسٹیوں میں جو محبت کی داستانیں رقم ہوتیں ہیں انکا کیا ہوگا ، اور ذرا سوچیں کہ من چلے دل والوں کا کیا ہو گا کہ انہیں کسی کو چھیڑنے کے لئے کتنی مشکل ہو گی ، ڈر یہ ہو گا کہ برقعے میں کہیں اپنا ہی خونی رشتہ نہ ہو جو خونی تصادم تک جا پہنچے  ۔ ۔ ۔
مدیحہ گوہر ، ایک گوہر نایاب ہیں ، اور بچپن سے ہی انہیں ایسے کام کرنے کا بہت شوق ہے ، جو روشن خیالی کو فروغ دیں ، جب گیارہ سال کی طویل ضیاء آمریت کے بعد دختر نیک اختر ، یعنی محترمہ بے نظیر نے تاج پاکستان پہنا تو ہمارے اکلوتے چینل نے گیارہ سالہ طویل ڈوپٹہ پالیسی کے خاتمے پر جشن منایا ، جس میں میوزک ٨٩ شاید بہت سارے دوستوں کو یاد ہو مگر جو بات اس وقت کے ڈراموں کی ہے وہ شاید کہیں نہ ملے انہیں ڈراموں میں ایک تھا “نیلے ہاتھ“  ÷ ÷  ÷ ÷ مدیحہ گوہر نے اس میں اپنے نیلے ہاتھ دکھائے تھے  ۔ ۔ ۔آج وہ ہی نیلے ہاتھ  ۔ ۔  سامنے آ گئے ہیں  ۔ ۔ ۔ شاید لوگوں کو اندازہ نہ ہو یہ نیلے ہاتھ اب زہریلے ہاتھ بن چکے ہیں  ۔ ۔ روشن خیالی کے یہ علمبردار اب ان زہریلے ہاتھوں سے سامنے آ گئے ہیں اب انکی پہچان آسان ہے  ۔ ۔ ۔
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ہم ایلیٹ کلاس کے لوگوں کی باتوں کو کیوں نہیں سمجھتے ، مدیحہ ٹھیک کہتیں ہیں ، یہ ڈرامے عام لوگوں کے لیے نہیں ، کیونکہ انکے ٹھیٹر کے ٹکٹ ایک عام آدمی افورڈ نہیں کر سکتا  ۔ ۔ ۔ دس ہزار پانچ ہزار اور ڈھائی ہزار کے ٹکٹ کون لوگ لے سکتے ہیں اور کون لوگ رات کے دو تین بجے تک ڈرامہ دیکھ سکتے ہیں ، جنہیں صبح کام پر نہ جانا ہو جنہیں اسکول میں کوئی نہ پوچھتا ہو  ۔ ۔ ۔
مسلہ پردہ ہی ہے  ۔ ۔ ۔ جو ہماری عقلوں پر پڑ چکا ہے ، اب ہم کھل کر اسلام کے خلاف نہیں بول سکتے اسلئے ایسی باتیں کرتے ہیں ، مجھے یہ بتائیں کہ اسلام کے احکام کی خلاف ورزی کھلے عام کی جاتی ہے تو ہم اصل بات کیوں نہیں کہتے کیوں نہیں کہتے کہ ہمیں اسلام نہیں چاہیے  ۔۔ ۔ کم سے کم اس معاملے میں تو ہم سچ بولیں  ۔ ۔  کہ بھائی ہمیں اسلام نہیں چاہیے ۔۔ ۔ ۔  ہماری ترقی کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہی اسلام ہے  ۔ ۔ ۔  ہم نیلے ہاتھوں والوں کو کیوں نہیں پہچانتے  ۔ ۔ ۔   ۔ ۔ ۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہے ، کہ ہمیں کیا چاہیے اسلام یا روشن خیالی ، یہاں روشن خیالی سے مراد وہ مادر پدر آزادی ہے جو نیلے ہاتھ ہم سے چاہتے ہیں  ۔ ۔ ۔۔ اور اسلام سے مراد وہ اسلام ہے جو ریاست مدینہ کا اسلام تھا   ۔ ۔ نہ کہ وہ اسلام جو  ۔ ۔ ۔ طالبان جیسا ہو  ۔ ۔ یا مدرسہ حفصہ جیسا  ۔ ۔ ۔ جنکے دلوں اور دماغوں پر مہریں لگا دی گئیں ہیں ۔۔ ۔ ۔ اور صرف از صرف اپنی ڈفلی بجائی جا رہی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی کسی کی نہیں سنتا  ۔ ۔ ۔  مدرسہ حفصہ والیوں میں بھی ہمت نہیں کہ روز میڈیا کے سامنے مثالیں پیش کریں کیونکہ وہ خود جانتیں ہیں کہ انکے اپنے قول و فعل میں کتنا تضاد ہے  ۔ ۔ ۔میں کم سے کم روشن خیالوں کی اس بات کی داد ضرور دوں گا کہ وہ مصلحت سے کام نہیں لے رہے اور ڈنکے کی چوٹ پر چوٹ لگا رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور بنیاد پرست اس پر بلبلا رہے ہیں  ۔ ۔  اور کیونکہ وہ خود بے عمل ہیں (چاہے وہ مجلس کی شکل میں ہی کیوں نہ ہوں) اسلئے انکے پاس سوائے تلملانے کے کوئی جواب نہیں  ۔ ۔ ۔عوام خاموش تماشائی ہے اور جو جیتے گا اسی کے پیچھے چل پڑے گی  ۔ ۔ ۔ اسے غرض ہے روٹی کپڑا اور مکان سے  ۔۔ ۔ ۔ بنیاد پرستی اور روشن خیالی  ۔ ۔ ۔ ان مشکلات سے آزاد لوگوں کا کام ہے  ۔ ۔ ۔

انقلاب کا بیج بویا جا چکا ہے

Sunday, April 22nd, 2007
آج ٹی وی ون پر جامعہ حفصہ کے مولانا عبدالرشید کی گفتگو سنی تو لگا کہ کہ معاملہ کچھ بگڑتا جا رہا ہے ، اور کچھ حکومتی خبریں بھی اچھی نہیں ہیں ، اور دوسری طرف آج کے جنگ میں ڈاکٹر اسرار کا کالم بھی بہت اچھا ہے مگر کیا اس سے کچھ اثر پڑ سکتا ہے ؟ میں نے بھی جامعہ حفصہ کو ای میل کی مگر میں سمجھ سکتا ہوں کہ وہ اس بات کا جواب کیوں نہیں دے رہے کہ انکا اگلا قدم کیا ہے ہو گا، کیونکہ ڈاکٹر اسرار کی یہ بات کسی حد تک صحیح ہے کہ تین چار ہزار لوگ اس طرح کے اقدام سے بدامنی تو پھیلا سکتے ہیں انقلاب نہیں لا سکتے ۔
اصل میں معاشرہ اتنا ڈوب چکا ہے برائیوں میں کہ اسے پاک کرنے کے لئے شاید ایک اور تحریک پاکستان کی ضرورت ہو، مجھے قائد اعظم کا یہ فرمان اکثر یاد آتا ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایک اسلامی نظام کی مثال دکھانے کے لئے بنایا تھا ، پاکستان تھیو کریسی کے لئے نہیں بنا تھا ، قائد کے ذھن میں بلکہ اس وقت کے عوام کے ذھن میں جو پاکستان تھا وہ اسلامی سلطنت تھا ، جو فلاحی ریاست تھی ، جہاں ہر قانون اسلامی ہونا تھا  ۔۔ ۔ میری نظر میں پاکستان کی تحریک کے آخری سترہ سال یعنی ١٩٣٠ سے لیکر ١٩٤٧ تک ہندوستان کی مسلمان قوم کا ایک نظریہ بن چکا تھا کہ نیا ملک اسلامی ہو گا اور مدینہ ثانی بنے گا ، اور ١٩٤٧ تک عوام اور رہنما ایک ہی تھے ، اسلئے عوام کو اپنے رہنماؤں پر یقین تھا اور ، عوام نے یہ یقین ١٩٦٥ کی جنگ تک رکھا  ۔ ۔ ۔  مگر ١٩٦٥ کی جنگ کے بعد عوام اور رہنماؤں کے نظریات الگ ہوتے چلے گئے ، رہنما اقتدار کے لئے عوام کو نچاتے رہے اور عوام رہنماؤں کو غلطیوں کے باوجود چڑھاتے اور اتارتے رہے ، عوام اور رہنماؤں کے اسی تضاد کی وجہ سے ہم نے آدھا پاکستان کھو دیا  ۔۔ ۔
جب حکمران اور عوام میں دوری ہو جائے تو انقلاب کے لئے دانش ور اور ادیب شعراء آگے آتے ہیں ، جیسا کہ تحریک پاکستان کا آغاز کرنے والے  حالی ، سرسید ، اقبال  نہ صرف سیاستدان تھے بلکہ دانش ور اور رہبر و رہنما تھے جنہوں نہ صرف اپنی تقریروں سے بلکہ اپنی تحریروں سے بھی عوام کی تربیت کی  ۔ ۔ ۔ عوام کو انکی باتوں کا یقین ہوتا ، کیونکہ وہ جو کہتے وہ کرتے ، آج حکمرانوں اور عوام میں دوری کا بنیادی سبب انکے قول و فعل کا تضاد ہے  ۔ ۔ ۔ حکمران جو عوام سے نہیں آ رہے بلکے خواص سے آ رہے ہیں ، بے شک ہمارے ہاں بادشاہت نہیں مگر ، ایک مخصوص طبقہ ہی حکمرانی کا حق جتاتا ہے اور رکھتا بھی ہے  ۔ ۔ ۔ عوام ہمیشہ ہی ایسے لوگوں کو نجات دہندہ سمجھتی ہے  ، اور انہیں بار بار لانے میں عوام کا بھی ہاتھ ہے  ۔ ۔ ۔ یہ عوام بھول جاتی ہے کہ پاکستان کیوں بنایا تھا ؟
اب ان سب کا علاج کیا ہے ؟ ہمیں ایک اور اقبال اور جناح کی ضرورت ہے  ۔ ۔ ۔ جو ہم میں سے ہی اٹھیں گے ، مگر یہ ہم عوام کو سمجھنا چاہیے کہ خونی انقلاب زیادہ پائیدار نہیں ہوتا  ۔ ۔  ۔ ۔ جبکہ مثال اسلامی انقلاب کی ہے ، جس میں پہلے تبلیغ اور ہجرت اور اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا سبق دیا گیا اور پھر جب تک طاقت حاصل نہیں کی گئی ، خود حملہ نہیں کیا ،اور جب طاقت مل گئی تو بنا خون خرابے کے مکہ کو فتح کر لیا  ۔ ۔ ۔ ۔
یہاں میں ڈاکٹر اسرار کی ایک بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ جنگ بدر میں فرق صرف تعداد کا تھا ، جبکہ فرق اسلحہ کا بھی تھا اور جذبوں کا بھی  ۔ ۔ ۔ اور ایمان کی طاقت بھی تھی  ۔ ۔ ۔ خیر یہ ایک طویل بحث ہے  ۔ ۔  مگر اس وقت میں جو دیکھ رہا ہوں کہ انقلاب کا آغاز ہے مگر یہ کیسا انقلاب ہو گا ، خاموش یا خونی  ۔ ۔  یہ ہمیں اسی وقت طے کرنا ہو گا  ۔ ۔  ورنہ بہت سارے دوسرے مسلمان ملک بھی اس عمل سے گذر رہے ہیں اور اس وقت جو بھی فہم و فراست کا مظاہرہ کرے گا وہ ہی اس انقلاب کا بانی بنے گا  ۔۔۔۔۔۔ میری نظر میں اس وقت انڈونیشیا اور ملائشیا کے مسلمان بہت فہم و فراست سے اسلام کی ترویج و ترقی میں معاون بن رہے ہیں ، جیسے اسلامی بینکنگ اور تبلیغی نیٹ ورکس وغیرہ اسکی مثالیں ہیں ، دوسری طرف ہمارے یورپ کے رہنے والے مسلمان ہیں جو اپنی بقا اور اپنے نظریے کو اچھی طرح پیش کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ جس سے بہت زیادہ ایفکٹ آ رہا ہے ، جسکی مثال پچھلے دنوں کنیڈا ٹی وی کا نیا سوپ سیریل ، لٹل موسک آن پریری ہے  ۔ ۔  اسکے علاوہ انٹرنیٹ پر جہاں شدت پسند موجود ہیں وہیں اعتدال پسند اور دلائل سے بات کرنے والے بھی موجود ہیں  ۔ ۔ ۔جو بہت ساروں کو مکالمے سے زچ کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔اور زیر کرتے ہیں
میری نظر میں انقلاب کا بیج بویا جا چکا ہے ، اور اب اسے سیرابی کی ضرورت ہے ، اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے زندگی میں ہی انقلاب دکھائے (آمین) ۔ ۔ ۔  جنرل حمید گُل کی ایک بات بار بار یاد آتی ہے کہ آج ہم نبی کریم (ص) کے زمانے کے بعد پہلی دفعہ ویسے ہی حالات سے دوچار ہیں ، اور ہمارے سامنے حق کی مشکلیں ہیں اور باطل کی طاقت اور رنگینی بھی  ۔۔  اب ہمیں اختیار ہے  ۔ ۔  کہ ہم کونسا راستہ چُنتے ہیں  ۔ ۔ ۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناکامی کی اصل وجہ

Saturday, April 7th, 2007
کرکٹ ٹیم کے میڈیا منیجر کا فرمانا ہے کہ پاکستان کی ٹیم اسلئے ورلڈ کپ میں ہاری کہ اس میں اسلامی شدت پسندی ہے ، اور تبلیغی عنصر زیادہ ہے ، آسان لفظوں میں ، اسلام پر عمل آپ کو دنیا میں رسوا کر سکتا ہے  ۔ ۔ ۔  اسلئے ذرا سنبھل کہ ، اکبر الہ آبادی نے شاید اسی موقعے کے لئے کہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔
 
 
رقیبوں نے جا کر لکھائی ہے رپٹ تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں 
 

ہم آخر چاہتے کیا ہیں ؟

Friday, April 6th, 2007
ہم آخر چاہتے کیا ہیں ؟ پہلے ہم ڈرتے تھے غیروں سے اب اپنوں سے ہی ڈر رہے ہیں کیوں ؟ پچھلے کچھ دنوں سے جب جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے اعلانات و محرکات سامنے آ رہے ہیں اور اسکے جواب میں جیسے ایک زلزلہ سا آیا ہوا ہے ، صدر وزیر اعظم سے لے کر ایک عام آدمی تک انہیں کوس رہا ہے ، کچھ لوگ اسے سیاسی چال قرار دے رہے ہیں ، کچھ لوگ اسے امریکا کی سازش قرار دیتے ہیں اور کچھ لوگ اسے صرف مذہبی انتہاپسندی ۔ ۔ ۔ مگر ہم اصل بات سے جانے کیوں نظریں پھیر رہے ہیں ، اگر ذرا سا غور کریں تو جامعہ حفصہ والے کیا کہ رہے ہیں جس سے ہم ڈر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ اسلام کے نفاذ کی بات کر رہے ہیں ، ایک طرف ہم اسلام کے گُن گاتے ہیں کہ ہمارا مذہب ہر مسلئے کا حل ہے اور جب ہمیں اس کے کہنے پر عمل کرنے کو کہا جائے تو ہم ہزار بہانے سے اس عمل سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔ اس وقت اگر ہم ذرا غور کریں تو ایسا لگتا ہے کہ اگر پاکستان میں اسلامی شریعیت نافظ ہو گئی تو جیسے ہم ختم ہو جائیں گے  ۔ ۔ ۔ ہماری زندگیاں تباہ ہو جائیں گیں  ۔ ۔ ۔ یعنی دوسرے الفاظ میں ہم اسلام کے پیغام کی خود ہی نفی کر رہے ہیں کہ اسلام زندگی گزارنے کا بہترین راستہ ہے  ۔ ۔ ۔
آئیے ذرا غور کرتے ہیں کہ ہم کن چیزوں سے خائف ہیں
١۔ زنا کاری ، ہم اس بات کی مخالفت کر رہے ہیں کہ ہمیں زناکاری سے روکا جائے ، چلیں ہم اس کام میں شامل نہیں مگر جو دوسرے ہیں ہم انہیں تحفظ دینے کا عزم ضرور رکھتے ہیں  ۔ ۔ ۔ کیوں ؟ شاید اسلئے کہ یہ آزادی ہی ہمیں ترقی یافتہ بننے میں مدد دے گی
٢۔ آزاد خیال فلموں کا پرچار ، یہ بھی ہماری ضرورت بن گئی ہے ، ہماری نئی نسل میں جس تہذیب و تمدن کا زہر گھولا جا رہا ہے ، اسکی چکا چوند تو بہت ہے مگر یہ میٹھا زہر ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہا ہے ، پورنو گرافی کو تو چھوڑیں ، ہندو تہذیب ہمارے گھر گھر میں گھس چکی ہے کہ بچے مرنے پر اپنے دادا کو جلانے کی سوچتے ہیں اور شادی پر پھیرے لینے کی بات کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ہمارے گھروں میں اللہ کا اتنا نام نہیں لیا جاتا جتنا رام رام ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔  میں نے اردو محفل میں ایک پوسٹ کی تھی ، گون ود دا ونڈ فلم کے ڈائلاگ پر ، مگر میرے ذھین دوست اسے شاید سمجھ نہیں پائے ، کہ ایک تہذیب جو ہوا کے جھونکوں کے ساتھ ختم ہوئی  ۔۔ ۔۔  مگر شاید ابھی وقت ہے ، مگر کیا ان چیزوں کے خلاف بولنے والوں کو ہم کیا دے رہے ہیں ، گالیاں ، کوسنے ، مگر کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہم کس چیز کی مخالفت اتنے شد و مد سے کر رہے ہیں ۔ اور اب تو یہ آگ ہمارے گھروں تک پہنچ چکی ہے  ۔۔ ۔ ۔
٣- ایک اور چیز جو بار بار ہم کہتے ہیں کہ مذہب میرا ذاتی مسلہ ہے ۔ مگر یہ ذاتی مسلہ کتنوں کے لئے مسائل پیدا کر رہا ہے کیا کبھی ہم نے سوچا ، چلیں جو انتہا پسند ہیں وہ تو ظالم ٹہرے مگر ہم جو خود کو ہر چیز سے لاتعلق کر لیتے ہیں مذہب کو ذاتی مسلہ کہ کر ہم کتنے ظالم ہے کبھی سوچا ہم نے ؟ ہمارے پڑوس میں بھوک ننگ افلاس پرورش پا رہے ہوتے ہیں اور ہم عیش و نشاط کی محفلیں سجا رہے ہوتے ہیں ۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی کیوں خود کُشی کر رہا ہے ، ہمارے لئے صرف ہماری ذات آخر کیوں مقدم ہے کیوں کیوں کیوں  ۔ ۔ ۔
اور بھی بہت کچھ ہے کہنے کو مگر کیا کروں ، سمجھتا ہی کوئی نہیں  ۔۔ ۔ مگر شاید سب سمجھتے ہیں ، ہمیں اسلام کے نفاذ سے اسلئے نفرت ہے کہ ہم اپنی آزادی کو نہیں چھوڑنا چاہتے ، اسلام کی اچھائیاں ہمارے لئے برائیاں بن کہ سامنے آ جاتیں ہیں  ۔ ۔ ۔ ذرا سوچیں تو سہی  ۔ ۔ ۔ کہ اسلام کیا کہتا ہے اور ہم کیا چاہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
٠ ۔ عورتوں کو پردہ پسند نہیں ، کہ اس سے وہ دکھاوا ختم ہو جائے گا جو ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکا ہے
۔ مردوں کو زکات میں کمائی کا نقصان نظر آتا ہے
- جھوٹ نہ بولنے سے ہمیں ہمارا مستقبل تاریک نظر آتا ہے
- خود غرضی ، اور دکھاوے کی زندگی ، ہم کھونا نہیں چاہتے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور بھی بہت کچھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر کیا لکھوں ۔ شاید میں خود بھی اسلام کا نفاذ نہیں چاہتا ، اور اسلام کے نفاذ کی باتیں کرنے والے مجھے بھی زہر لگتے ہیں  ۔ ۔۔  ۔ کیونکہ وہ لوگ دقیانوسی ہیں ، ترقی پسند نہیں  ۔۔ ۔ اپنی جانوں پر ایک فضول مقصد میں کھپا رہے ہیں کوئی کری ایٹیو کام نہیں کر رہے  ۔۔ ۔   میں اب جب بھی اپنے رب کے سامنے جھکتا ہوں تو خود کو سب سے بڑا منافق سمجھتا ہوں ، کیا کوئی ایسا سوچتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ جب  نماز میں اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں ؟ ہم اسکے سامنے اسکی برتری کا اظہار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ مگر کیا واقعٰی ہی ہم اللہ کو اکبر مانتے ہیں ؟ اور پھر الحمد شریف میں کیا پڑھتے ہیں ، شکر ادا کرتے ہیں ۔ کہ ہماری تمام برائیوں کے باوجود اس نے ہمیں اتنا کچھ دیا  ۔ ۔ ۔ اسکی رحمانیت کا اقرار کرتے ہیں ، اور پھر اسے مالک مانتے ہیں یوم الدین کا  ۔ ۔ ۔ اور کہتے ہیں کہ ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں ۔ ۔ ۔  اور اسی سے مدد مانگتے ہیں یعنی ہمارا بھروسہ صرف اللہ ہی ہے  ۔ ۔ ۔ مگر اصل میں کیا کر رہے ہیں کیا سمجھ رہے ہیں  ۔  ۔ ۔۔ ہم صراط مستقیم کا کہتے ہیں مگر جو صراط مستقیم اللہ بتاتا ہے اس پر نہیں چلے  ۔۔ ۔  نہ چلنا چاہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور پھر اسی کے آگے جھک کر مزید منافقت کا ثبوت دیتے ہیں اصل سجدہ تو ہمارا کسی اور کے آگے ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ میں نہیں کہتا کہ ہم میں کوئی بھی سچا مسلمان نہیں ، ہو گا ضرور ہوگا ، مگر شاید آپکو یاد ہو کہ اللہ نے ایک بستی باوجود ایک سچے عبادت گذار کے الٹ دی تھی  ۔ ۔ ۔ کہ اسکی عبادت کا کوئی اثر نہ تھا  ۔۔ ۔ شاید یہ جواب ہے کہ جو مذہب کو صرف ذاتی معاملہ کہتے ہیں  ۔۔ ۔
میں اسلام کو ٹھونسنے کے خلاف ہوں ، مگر کیا ہم صرف کسی کو یوں نہیں کہ سکتے کہ ہم کچھ با عمل مسلمان بنیں گے ، یا اسکی کوشش ضرور کریں گے  ۔۔ ۔  بلکے ہم تو الٹا انہیں برا کہتے جو ہمیں اللہ کا پیغام سناتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے جنرل حمید گل کی ایک بات بہت اچھی لگی کہ ہم دور نبوی (ص) کے بعد پہلی دفع ایسے دور میں ہیں جس میں ہمارے لئے چوائس ہے حق و باطل کی ۔ اور باطل کو سیلکٹ کرنا بہت آسان ہے اور حق کو اپنانا اتنا ہی مشکل  ۔ ۔ ۔ اب ہمارے لئے موقعہ ہے کہ ہم حق کا ساتھ دیں  ۔ ۔ ۔ اور اس وقت کا غلط فیصلہ ہو سکتا ہے ہمیں دنیاوی فائدہ تو دے دے مگر ، شاید آخرت میں اللہ کے سامنے سرخرو نہ کرا سکے  ۔ ۔ ۔ اللہ ہمیں ہدایت دے (آمین)