Google

Archive for the 'اسلام' Category

قرآن اور ہمارے دل ۔١

Saturday, December 1st, 2007

نوٹ۔ یہ تحریر مجھے تصویری اردو کی صورت میں ایک میل کے ذریعے سے موصول ہوئی ہے، جسے میں یونیکوڈ اردو میں لکھ کر آپ کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔

اللہ تعالٰی نے قرآن میں دلوں کی مختلف اقسام بیاں کی ہیں۔ آیئے ہم جائزہ لیں کہ ان میں سے ہمارا دل کون سا […]

موبائیل اسلامک سافٹویئر

Friday, November 30th, 2007

guidedways موبائیل سافٹ کے حوالے سے ایک بہترین سائٹ ہے، guidedways  پلیٹ فارم سے ان کی ٹیم نے لاجواب اسلامک سافٹ ویئر تخلیق کئے ہیں۔ یوں تو کمپیوٹر کے حوالے سے بہت کچھ یہاں موجود ہیں مگر اس سائٹ کی پہچان موبائیل سافٹویئر ہی ہیں جو ایک یوزر کو یہاں کھینچ لاتے ہیں۔
چند مشہور سافٹ […]

مڈل ایسٹ امن کانفرنس

Tuesday, November 27th, 2007

امریکہ کے کہنے پر امریکی شہر اناپولس میں مڈل ایسٹ کانفرنس آج منعقد ہو رہی ہے جس میں چالیس سے زائد ممالک اور مختلف تنظیمیں حصہ لے رہی ہیں اور ان میں پاکستان کے خارجہ سیکریٹری بھی شامل ہیں۔

عرب تجزیہ نگار اس کانفرنس سے کوئی زیادہ امیدیں نہیں رکھتے۔  بقول ان کے اس کانفرنس کا انعقاد ایک شو سے زیادہ کچھ نہیں اور اگر اسرائیل اور امریکہ فلسطینی مسئلے کے حل میں اتنے ہی سنجیدہ ہیں تو پھر صرف تین پارٹیوں یعنی اسرائیل، فلسطین اور امریکہ کے علاوہ کسی اور کی شرکت کی ضرورت نہیں تھی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بہت سارے عرب ممالک جانتے ہیں کہ یہ امن کانفرنس پہلے کی طرح بےسود ہی رہے گی مگر وہ صدر بش کی فون کال پر “نو” کہنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اسی لیے انہوں نے کانفرنس میں شرکت کی حامی بھر لی۔

اب یہ کانفرنس ہوگی، لمبی چوڑی تقریریں ہوں گی اور پھر بعد میں ایک جنرل سی قرارداد پاس ہوگی جس میں اسرائیل اور فلسطین مزاکرات جاری رکھنے کی حامی بھریں گے اور بس۔

اگر امریکہ یا اسرائیل فلسطینیوں کو آزادی دینے کے حق میں ہیں تو پھر پتہ نہیں کونسی رکاوٹ ایسی ہے جو ان سے عبور نہیں ہو پا رہی۔ اس وقت امریکہ کی سو سے زیادہ ممالک میں افواج تعینات ہیں اور حیرانی اسی بات پر ہے کہ سپرپاور ہونے کے باوجود وہ دنیا کی دو چھوٹی سی ریاستوں کو صلح پر مجبور نہیں کرسکتا۔ امریکہ آج اگر اسرائیل کی امداد بند کرنے کی دھمکی دے ڈالے تو اسرائیل کا وجود خطرے ميں پڑ جائے گا اور وہ فلسطین کو آزاد کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں اسرائیلی لابی امریکہ میں مضبوط ہے اور یہودی امریکی معیشت پر بھی چھائے ہوئے ہیں مگر امریکہ جیسی سپرپاور کو اب کسی بھی دھمکی سے ڈرانا آسان نہیں ہے۔ اگر یہودی امریکہ سے دولت نکالنے کی دھمکی دیں گے تو امریکہ ان کساتھ وہی سلوک کرسکتا ہے جو ہٹلر نے کیا تھا۔ عرب ممالک تو امریکہ کی بات ٹال ہی نہیں سکتے کیونکہ عربی حکمرانوں کی ساری کی ساری دولت امریکی بینکوں میں پڑی ہے اور وہ انکار کرکے کنگلے نہیں ہونا چاہتے۔

 بات سیدھی سی ہے کہ ابھی ہم اس مسئلے کو حل کرنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اس مسئلے کے حل ہونے سے دنیا کی دوبڑی طاقتوں کے درمیان صلح ہوجائے گی جو دنیا کے بڑے بڑے اسلحہ ساز ملکوں کو منظور نہیں ہے۔ ہم نے یہودیوں اور مسلمانوں کو دوبڑی طاقتیں اس لیے کہا ہے کہ یہودی اس وقت مالی لحاظ سے سپر پاور ہیں اور مسلمان عددی لحاظ سے۔

فلسطینی ریاست کے قیام میں دو تین بڑے بڑے ایشو حائل ہیں۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ فلسطین کے علاوہ تمام عرب ممالک اسے تسلیم کرلیں۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ فلسطینی ریاست میں یروشلم کا وہ حصہ شامل کیا جائے جس میں بیت المقدس ہے، فلسطینی مہاجرین کو واپس فلسطین آنے کی اجازت دی جائے اور مغربی کنارے سے یہودی بستیاں ہٹا دی جائیں۔ اسرائیل پتہ نہیں کیوں ان تین جائز مطالبات کو ماننے کیلیے تیار نہیں ہے۔ حالانکہ فلسطین اس کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلیے بھی تیار ہے۔ اسی طرح عرب ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلیے تیار ہیں اگر اسرائیل 1967 سے پہلے کی پوزیشنوں پر واپس چلا جائے اور فلسطینیوں کو آزاد کردے۔ اب کوئی عقل کا اندھا ہی ان جائز مطالبات کو ناجائز قرار دے گا۔ دراصل اسرائیل چاہتا ہے کہ عرب ممالک اسرائیل کیساتھ نہ صرف سفارتی تعلقات قائم کریں بلکہ اس کیساتھ تجارت بھی کریں۔ اب اسرائیل کو کون سمجھائے کہ یہ سب کچھ ہوجائے گا جب فلسطینی آزاد ہوں گے اور عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے۔

دراصل ہماری نظر میں آزاد فلسطین اسرائیلیوں کے حق میں بھی ہے کیونکہ اس طرح اس کو عرب ممالک کی پسماندہ ٹیکنالوجی والی منڈی تک رسائی حاصل ہوجائے گی اور وہ ان ممالک کو اپنی مصنوعات برآمد کرکے اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کرلے گا۔ اسرائیلی بھی شاید یہ بات جانتے ہیں مگر کوئی ایسا خفیہ ہاتھ ایسا ہے جو اسرائیل کو ان جائز مطالبات کو ماننے سے روک رہا ہے۔

پاکستان نہ جانے کیوں اس کانفرنس میں شرکت کررہا ہے۔  نہ تو پاکستان کی وہاں کوئی بات سنے گا اور نہ کوئی مرعوب ہوگا۔ پاکستان کی شرکت صرف اور صرف اسرائیل کیساتھ ملاقات کا بہانہ ہے اور کچھ نہیں۔

خدا کرے ہمارے سمیت عرب تجزیہ نگاروں کے خدشات اس دفعہ غلط ثابت ہوں اور فلسطینی ریاست کے قیام پر اسرائیل نہ صرف راضی ہو جائے بلکہ فلسطینی ریاست کی آزادی کی تاریخ بھی مقرر کردے۔ وہ شام کے مقبوضہ علاقے خالی کرکے اس کے ساتھ بھی مصر کی طرح کا امن معاہدہ کرلے تاکہ دنیا چین کی نیند سوسکے۔ اسی میں اسرائیل کی بھلائی ہے مگر عالمی طاقتوں کی نہیں جنہوں نے اپنا اسلحہ ابھی مزید بیچنا ہے۔

ظاہروباطن

Thursday, November 22nd, 2007

جنرل مشرف اور صدر بش

 

جنرل مشرف اور ہجر اسود آمنے سامنے

علامہ اقبال کی نظم جواب شکوہ کے چند اشعار۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاتہ بے زور ہیں، الحاد سے دل خوگر  ہیں

امتی     باعث     رسوائی     پیغمبر     ہیں

بت شکن اٹھ گئے باقی جو رہے بت گر ہیں

تھا  ابراہیم     پدر    تو    پسر   آزر    ہیں

بادہ  آشام  نئے،  بادہ  نیا، خم  بھی  نئے

حرم کعبہ نیا، بت بھی نئے، تم بھی نئے

کون  ہے   تارک   آئین     رسول     مختار

مصلحت وقت کی ہے کس کے عمل کا معیار

کس کی آنکھوں  میں  سمایا ہے اشعار اغیار

ہو گئ کس کی  نگاہ  طرز سلف سے  بیزار

قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں

کچھ بھی  پیغام محمد  کا  تمہیں  پاس نہیں

شور  ہے  ہو  گئے   دنیا   سے   مسلماں  نابود

ہم یہ کہتے ہیں کہ تھے بھی کہیں  مسلم  موجود

وضع میں تم  ہو  نصاری  تو  تمدن  میں  ہنود

یہ مسلماں ہیں جنہیں دیکھ کے  شرمائیں  یہود

یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو

تم سبھی  کچھ  ہو  بتاؤ   تو   مسلمان   بھی   ہو

ایمر جنسی پر ایک ہندوستانی مسلمان کا نقطہ نظر

Saturday, November 10th, 2007

ایک ہندوستانی مسلمان نے چاہے اپنے کاروبای کی مشہوری کیلیے ہی سہی مگر پاکستان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کر کے ثابت کیا ہے کہ اب بھی  ہندوستانی مسلمان پاکستان کیلیے ہمدردی رکھتے ہیں۔ آئیں پہلے خط پڑھیں پھر اس پر تبصرہ کریں گے۔

بقلم تنویر عالم قاسمی
پاکستان میں ایمرجنسی کے اسباب . . . . . کیا یہ صحیح ہیں ؟ ؟ ؟

دنیا جانتی ہے کہ پاکستان کی بنیاد اسلام اور مسلمانوں کے نام پر رکھی گئی ہے، اس کا اصلی نام “ اسلامی جمہویہ پاکستان ،،ہے اس کی بنیاد میں ان بے گناہ لاکھوں مسلمانوں کا خون شامل ہے جو تقسیم ہند کے وقت فرقہ وارانہ فسادات کا شکار ہوے تھے۔ ہماری گذشتہ نسل نے اپنے جگر کے ٹکڑوں ، گھر اور اپنے اثاثوں کے درمیان ایک لکیر کھینچتے ہوے خاموشی سے دیکھی تھی ، اپنے ہی جسم کو بوٹیوں میں بٹنے کی تکلیف برداشت کی سرحد کے آر پار تقسیم کا خونی منظر اسلئے دیکھا کیوں کہ وہ سمجھتے کہ پاکستان کی شکل میں ایک ایسا ملک وجود میں آنے والا ہے جو اسلامی قوانین ، شریعت محمدی ، اور آئین خدا وندی کا نفاذ کرکے دنیا کے سامنے ایک ایسی مملکت کا خاکہ پیش کریگاجس میں صرف اور صرف اسلام ہوگا، اسلام کی جھلک ہوگی ، ساری دنیا میں ایک انمول نمونہ بنے گا اور اسلام کی ایک نئی اور خوشنما تاریخ مرتب ہوگی۔ انہیں امیدوں کے سہارے اپنی بسی بسائی دنیا اپنے ہی ہاتھوں سے اجاڑ کر اپنے خوابیدہ وطن پاکستان پہنچ گئے، وہ یہ سوچ رہے تھے کہ اب ہمیشہ کی فرقہ وارانہ کشیدگی ،آپسی اختلافات اور خون خرابے سے نجات مل جائے گی لیکن پا کستا ن کی 60 سالہ تاریخ شاہد ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔
پا کستان پہنچنے پر معاملہ اس کے برعکس تھا اب وہ ایک مسلمان ہی نہیں تھے بلکہ کہیں وہ بنگالی مسلم تھے ،کہیں سندھی ،کہیں پنجابی ،کہیں پختون ،اور کہیں مہاجر۔
ہندوستان سے زخم کھاکرجانے والوں کا زخم مندمل ہونے کی بجائے اور زیادہ تازہ ہوگیا اسی زخم کو ناسور بنایا پاکستان کی مطلق العنان فوج اور وہاں کی کرسی کے بھوکے سیاسی آمروں نے، جس کی وجہ سے آج تک وہاں کی عوام نے نہ تو اسلامی نظام ہی دیکھا اور نہ ہی اصلی جمہوریت کا کھل کر مزہ لیا، فوجی جرنلوں اور سیاسی آمروں نے پاکستان کی عوام کو ہمیشہ اسلام اور اسلامی جمہوریت کے نام پرگمراہ کیا،فوج ہو یا عوامی رہنما سب نے ہی پاکستان کو اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لئے استعمال کیا اور بعد میں چبائی ہوی ہڈی کی طرح پھینک دیا،اسی کی ایک جھلک گذشتہ چند دنوں سے جنرل پرویز مشرف کی طرف سے لگائی گئی ایمرجنسی کا اعلان ہے۔
بہر حال یہ تو پاکستان کا داخلی معاملہ ہے جس پر ہمیں کچھ کہنے کی زیادہ گنجائش نہیں ، لیکن سردست پرویزمشرف کے اس فیصلہ سے مسلمانوں کو جو تکلیف پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ مشرف نے اپنے حکم اورفیصلہ میں نفاذ ایمرجنسی کے اسباب میں سے ایک اہم اور خاص سبب“ اسلامی دہشت گردی “بتایا ہے، اس طرح مشرف نے اسلام مخالف قوتوں اور خصوصا امریکہ اور ہندوستان کی بدنام زمانہ گروہوں R.S.S، بجرنگ دل اور شیوسینکوں جیسی مکروہ ذہن رکھنے والی گروہوں کو جو پہلے ہی سے اسلام اور مسلمانوں کے خلاف بر سر پیکار ہیں ایک قوی سند اور دلیل پیش فراہم کردیا۔
اس وقت جو تشویش ناک امر ہے وہ یہ ہے کہ اسلام مخالف قوتیں جو ہمیشہ سے دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑنے کی ناپاک کوششیں کررہی ہیں ، ایک مضبوط مسلم ملک کے سر براہ کے ذریعہ دہشت گردی کے خلاف لئے گئے فیصلہ میں “ اسلامی دہشت گردی “ کے الفاظ استعمال کرانے میں یہ اسلام مخالف طاقتیں کامیاب ہوگئیں اور گویا ان طاقتوں نے ایک طرح سے مسلم ملک کے حکمراں کی باضابطہ اپنے نظریہ کی حمایت قانونی اور دستوری طورپرحاصل کرلی ، پاکستان کے صدر کیزبان و عمل اس بات کی نشاندہی کرتا ھے کہ جنرل پرویز مشرف نظریاتی اورعملی طورپرامریکہ کے دام فریب میں گرفتار ہوگیا ہے۔
پرویز مشرف نے اپنے فیصلہ میں دہشت گردی کو اسلام کے ساتھ جوڑ کر ایک تاریخی غلطی کی ہے جس کے لئے پرویزمشرف کو مسلمانان عالم سے معافی مانگنی چاہئے ، دہشت گردی کے ساتھ “ اسلام“ کے لفظ کا استعمال استعمال کرکے پرویز مشرف نے مسلمانان عالم کو سخت ایذا پہنچائی ہے اگر وہ ایسا نہیں کرتے ہیں تو ان کا یہ عمل مسلمانان عالم کے نزدیک ہمیشہ اسلام مخالف تصور کیا جاتا رہیگا اور ان کی تاریخ حیات میں یہ فیصلہ ایسے سیاہ فیصلہ کی شکل میں درج ہوگا جس کی تلافی ممکن نہیں ہوگی۔
tanveeralamqasmi@yahoo.co.in
Address: www.inikah.com
Address:# 42 , Nandi Durga Road ,Bangalore-46 India
Mob:919945631954

ایک بات تو طے ہے کہ ہم پاکستانی مسلمان جیسے بھی ہیں ہندوستانی مسلمانوں سے بہتر زندگی گزار کر ثابت کررہے ہیں کہ ایک علیحدہ وطن کی تحریک غلط نہیں تھی۔ یہ الگ بات ہے کہ پاکستانی مسلمان بھی دوسرے مسلمان ملکوں کی طرح اپنے ہی حکمرانوں کے ستائے ہوئے ہیں جو غیروں کے مفادات کی خاطر اپنے عوام کا عرصہء حیات تنگ کیے ہوئے ہیں۔ لیکن جس کمپرسی میں ہندوستانی مسلمان زندگی گزار رہے ہیں اور جس طرح ہندو معاشرے میں ان کے حقوق غصب ہو رہے ہیں ایسا مسلمان ملکوں میں نہیں ہے۔ ہمیں ایک مشہور ہندوستانی مسلمان شاعر نے بتایا تھا کہ ہندوستانی مسلمان اس وقت ہندوؤں کے گلی محلوں کی صفائی اور کوڑا کرکٹ اٹھانے کے علاوہ کچھ نہیں کرپارہے۔ انہیں اعليٰ ملازمتوں کے حصول میں ڈسکریمینیشن کا سامنا ہے۔ وہ اپنے تناسب کے حساب سے بہت کم فوج، پولیس اور سرکاری محکموں میں ملازم ہیں۔ دوسری طرف ہندوستانی مسلمان تعلیم کی طرف توجہ نہ دینے کی وجہ سے بھی پسماندہ ہیں۔

 ابھی حال ہی میں گجرات کے وزیر اعلیٰ نریندر مودی کو جس طرح مسلمانوں کے قتل عام کا ذمہ دار ٹھرایا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ہندو مسلمانوں کیساتھ ملکر رہنا ہی نہیں چاہتے۔ وہ چاہتے ہیں کہ یا تو مسلمان ہندو مذہب اختیار کرلیں یا ہندوستان چھوڑ کر چلے جائیں۔

 ہندوستانی فلموں میں بھی مسلمانوں کی خوب تذلیل کی جارہی ہے۔ ان کے کردار زیادہ تر بدمعاشوں، ڈرگ مافیا اور چور اچکوں والے ہوتے ہیں۔ جتنی بھی طوائفوں اور کلب گرلز کے کردار فلموں میں ہوتے ہیں وہ ب مسلمان ہوتی ہیں۔ فلموں میں ہمیشہ ہندو لڑکے کو مسلمان لڑکی سے عشق کرتے ہوئے دکھایا جاتا ہے اور اس طرح ہر لحاظ سے مسلمانوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ تو خدا کا احسان ہے جس نے اسلام کو ہندوستان میں ابھی تک زندہ رکھا ہوا ہے۔  ہندوؤں کے بس میں ہوتا تو اب تک سارے مسلمان ہندو بن چکے ہوتے۔

 ہماری دعا ہے کہ خدا ایک دن تمام مسلمانوں کو آزادی نصیب فرمائے اور انہیں غیرمسلموں کے مظالم سے محفوظ رکھے۔

تعزیت

Tuesday, November 6th, 2007

تعزیت تعظیم سے ہوتی ہے، تعسُر (دشوار ہونا) ضرور ہوتا ہے، یہ معاملہء تعقید(پوشیدہ بات کہنا) بڑا ہی تحریم ہوتا ہے، یہ معاملہ ہر بات کہنے والے کے ضمیر (دِل) سے ہوتا ہے۔ جسکا ایک اثر بھی ہوتا ہے جو تاثر کی تاثیر سے ہوتا ہے۔
تعزیت ایک عمل ہے، نیک عمل۔ کسی کےدُکھ میں اُسکا […]

جاوید احمد غامدی

Friday, October 19th, 2007

میں یہ جانتا تھا کہ یہاں یہ سوال ضرور اُٹھے گا۔ تبھی میں نے ( ) میں اسکا جواب بھی دیا کہ اللہ کرے یہ سلسلہ گمنام ہاتھوں کے جاری رہے۔ میرا اختلاف غامدی کے رویہ اور نقطہ نظر سے  ہے۔ غامدی کی ذات اور علم سے نہیں۔ میں خود بھی ذاتی طور پر غامدی، […]

ووٹ لینے کیلیے مذہبی ہتھیار کا استعمال

Thursday, October 18th, 2007

جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے کم از کم پاکستان میں کوئی ایسی سیاسی پارٹی یا سیاستدان نہیں دیکھا جس نے سرعام کہا ہو کہ وہ باعمل مسلمان نہیں ہے۔ ہرکسی نے مذہب کو ڈھال بنا کر سادہ دل عوام پر حملہ کیا ہے اور فتح بھی حاصل کی ہے۔ چاہے ایم ایم اے […]

مربوط سلسلہِ ربط

Monday, October 15th, 2007

خدا کی کائنات حُسن کائنات ہے۔ آپ غور کرتے چلے جائیں آپکو جواب ملتے ہی چلے جائیں گے۔ آپ تھک جائیں گے مگرسوال آپکی نگاہوں کے سامنے خود بخود حل ہو رہے ہوں گے۔ یہ خدا کا ایسا مربوط ربط ہے کہ جس میں رابطے ہی رابطےنظر آتے ہیں۔
انسان کےجسم سے لےکر پانی کے بہاؤ […]

رقت آمیز مگر بےاثر دعائیں

Sunday, October 14th, 2007

پچھلے دنوں امام مکہ نے دنیا بھر کے اماموں کو نماز تراویح میں لمبی لمبی رقت آمیز دعائیں مانگنے سے منع فرمایا اور کہا کہ دعا کو لمبا نہ کیا کریں اور نہ ہی دعا میں دنیا جہان کے مسائل کا اپنی دعاؤن میں ذکر کیا کریں۔ ہمارے اندازے کے مطابق جب دشمنان اسلام نے دیکھا کہ مسلمان […]

صدقہ فطر (فطرانہ)

Thursday, October 11th, 2007

آج کل ہر طرف سے ایک ہی سوال پوچھا جا رہا کہ صدقہ فطر (فطرانہ) کتنا ہے، کب اور کس کس کو ادا کرنا چاہیے، اور کسے دینا چاہیے۔ آپ کی سہولت کے لئے ان سب سوالوں کے جواب یہاں دیئے جا رہے ہیں۔
صدقہ فطر فرض ہے۔ صدقہ فطر نمازِ عید سے قبل ادا کرنا […]