Archive for February, 2008
سرگرمیاں
Friday, February 22nd, 2008افففف۔۔۔۔ کام کا زور آخرکار ٹوٹ گیا۔ بس اب تھوڑا بہت جو کچھ ہے، وہ سنیچر یعنی آنے والی کل تک ہے پھر اس کے بعد سکون۔۔۔ وہی روز مرہ کی طرف لوٹ جانا ہے۔ لیکن تب گھر میں سرگرمیاں شروع ہوجانی ہیں۔ دو مارچ کو رشتہ طے ہونے کی باقاعدہ رسم کا فیصلہ ہوا […]
عرض خدمت
Friday, February 22nd, 2008اورنگ زیب عالمگیر کی بیٹی زیب النسا مخفی ایک دن اپنے محل کے باغ میں ٹہلتے ہوئے یہ شعر پڑھ رہی تھی ۔
چہار چیزر دل برو کدام چہار
شراب و سبزہ وآبِ رواں اوروئے نگار
یعنی چار چیزیں دستیاب ہو جائیں تو دل سے غم کے سارے کانٹے نکل جاتے ہیں۔ شراب ، سبزہ ، […]
پاکستان کے قاتل قتل ہو گئے
Friday, February 22nd, 2008پاکستان کی تقسیم میں جو لیڈر شریک تھے وہ سب قتل ہو کر مرے۔
تقسیم پاکستان کے تناظر میں لکھی گئی حقیقت پر مبنی ایک تحریر ۔۔۔۔۔ لنک
Share This
انتخابات کے بعد
Friday, February 22nd, 2008روزنامہ جنگ کی تحقیق کے مطابق پاکستان میں بالغ رائے دہی کی بنیاد پر 1970ء میں پہلے عام انتخابات ہوئے 18 فروری 2008ء کو 9 ویں انتخابات تھے ۔ انتخابات کے بعد نئی جمہوری حکومتوں کے قیام میں سب سے زیادہ عرصہ 1970ء میں لگا جب 2سال 8ماہ 18 دن بعد مرکز میں حکومت قائم […]
اکیلے بھی نہیں نکلتے
Thursday, February 21st, 2008میرا لکھنے کا تو بالکل موڈ نہیں تھا لیکن عطاالحق قاسمی کے کالم میں نوازشریف کے حوالے سے ایک بات لکھی گئی اور میں بےاختیار ہنس پڑا دماغ پر ایسا اثر ہوا جیسے کیفین کا ہوتا ہے۔
نواز شریف کو کسی نے کہا سر انتخابات کی وجہ سے دہشت گردی عروج پر ہے آپ سے […]
کیا ہم غیر ملکی مفادات ہی پالتے رہیں گے؟
Thursday, February 21st, 2008امریکہ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے اسے مسلمان ملکوں میں پزیرائی نہیں مل رہی۔ خاص طور پر اسرائیل کی طرف امریکی جھکاؤ کی وجہ سے مسلمان امریکہ پر ابھی تک مکمل اعتماد نہیں کرتے۔ جس ملک میں آزادنہ انتخابات ہوتے ہیں اس ملک میں امریکہ مخالف سیاسی جماعتیں فتح حاصل کرلیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے اکثر ممالک میں ڈکٹیٹرشپ رائج ہے ۔
امریکی پالیسیوں سے نفرت کی موجودہ مثال پاکستان کے انتخابات میں صدر مشرف کی پارٹی مسلم لیگ ق کی شکست ہے۔ مگر یہ الگ بات ہے جیتنے والی پارٹی دوبارہ امریکی حمایت کیلیے کوششیں شروع کردیتی ہے اور وہ انہیں جتوانے والے عوام کو وقتی طور پر بھول جاتی ہے۔ یہی روایت آصف زرداری نے امریکی سفارت خانے میں امریکی سفیر اور صدارتی کیمپ کے عہدیداروں سے ملاقات کرکے قائم رکھی ہے۔ دوسری طرف نواز شریف بھی پیچھے نہیں رہے اور انہوں نے بھی لاہور میں متعین امریکی کونسلر برائن ڈی ہنٹ سے ملاقات کرکے زرداری کو باور کرایا ہے کہ وہ بھی امریکہ کی گڈ بک میں ہیں۔
آج آصف زرداری نے برطانوی سفیر سے بھی ملاقات کی ہے۔ پہلے صرف ہم پر امریکی دباؤ ہوا کرتا تھا لیکن نو گیارہ کے بعد جب سے افغانستان پر اتحادیوں نے قبضہ کیا ہے برطانیہ دوبار سے متحرک ہوچکا ہے۔ اسی طرح یورپی یونین کے ممالک بھی پاکستانی پالیسیوں پر اثرانداز ہو رہے ہیں۔
ان ملاقاتوں سے ہمارے مستقبل کے حکمران کیا یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ فوج اور اسٹیبلشمنٹ ان کیساتھ پنگا لینے سے پہلے جان لے کہ ان کی پیٹھ پر بھی غیرملکی ہاتھ ہے۔ پاکستانی حکومتوں کے بننے اور ٹوٹنے میں پہلے بھی غیرملکی ہاتھ رہا ہو گا مگر اب تو یہ راز نہیں رہا۔ ہمارے سیاستدان پہلے سفیروں سے خفیہ ملاقاتیں کیا کرتے تھے کیونکہ ان سے ڈکٹیٹشن لینا قومی غیرت کے منافی سمجھا جاتا تھا۔ اب ناں سیاستدان غیرملکی سفیروں سے ملتے ہوئے کتراتے ہیں اور ناں عوام اس بات کا برا مناتے ہیں۔ بلکہ سیاستدان تو اب غیرملکی سفیروں کیساتھ ملاقاتوں کے ڈھٹائی سے فوٹو بنوا کر اخباروں میں چھپواتے ہیں۔
نواز شریف اور آصف زرداری کی امریکی، برطانوی اور دوسرے سفارتکاروں سے ملاقاتوں سے اب یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ہم آئندہ بھی غلام ہی رہیں گے۔ ہماری مستقبل کی حکومتیں غیرملکی پالیسیوں کی حمایت کرتی رہیں گی چاہے اس کے بدلے میں اپنا ملک افغانستان بن جائے۔ ہم لوگ قومی مفادات کو اپنے ذاتی مفادات پر قربان کرتے رہیں گے چاہے ہمارا ملک دیوالیہ ہوجائے۔ ہمارے بنک اکاؤنٹس بھر جائیں، ہمارے قرضے معاف ہو جائیں چاہے اس کے بدلے جتنی مرضی مہنگائی ہوجائے۔ ہم توغیروں کے مفادات کی رکھوالی کرتے رہیں گے۔
مستقبل کے لیڈرو، خدا کیلیے اپنے ملکی مفادات کو اولیت دینا اور مخلوقِ خدا کی بھلائی کیلیے اپنے ذاتی مفادات کو قربان کردینا۔ خدا کا دیا تمہارے پاس سب کچھ ہے، تمہیں مزید دولٹ اکٹھی کرکے کیا مل جائے گا۔ آج بینظیر نہیں رہی تو کل تم بھی نہیں رہو گے۔ تمہاری کرپشن اور لوٹ کھسوٹ تمہارے کسی کام نہیں آئے گی۔
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرشِ بریں پر
بجلی کی ضرورت، مستقل مسئلہ
Thursday, February 21st, 2008توانائی کی حصول بارے ایک پاکستانی انجینئر کے خیالات پڑھنے کے لئے اس لنک سے TIF فائل لوڈ کیجیئے۔
Share This
مادری زبانوں کا عالمی دن
Thursday, February 21st, 2008آج پوری دنیا میں مادری زبانوں کا عالمی دن منایا جا رہا ہے۔ انسانی معاشرے میں نقل مکانی، مختلف تہذیبوں کی جانب ہجرت اور آبادکاری ایک طرف تہذیبوں کے ملاپ کا باعث بنی تودوسری جانب اس ادغام سے رفتہ رفتہ کئی تہذیبوں کا خاتمہ بھی ہوا جس کا اثر وہاں بولی جانے والی زبانوں پر […]
Thursday, February 21st, 2008
پیپلز پارٹی کے امیدوار ڈاکٹر مرزا اختیار بیگ نے سندھ ہائیکورٹ میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے دو سو پچاس کے انتخابی نتائج کا سرکاری اعلان روکنے اور حلقے میں دوبارہ انتخابات کرانے کی درخواست دائر کی ہے۔
روزنامہ امت میں ڈاکٹر اختیار بیگ کا انٹرویو۔ (شکریہ می)
پیپلز پارٹی نے کراچی کے چار حلقوں […]
منصوبہ بندی کامیاب بھی اور ناکام بھی
Thursday, February 21st, 2008ایک پرچی کی مار
Wednesday, February 20th, 2008جو کام ایک طاقتور فوجی حکومت درجنوں الٹے سیدھے قوانین بنا کر اور کروڑوں روپے خرچ کر کے آٹھ سال میں نہ کر سکی، وہ کام پاکستان کے غریب اور بےبس عوام نے صرف ایک پرچی کی مدد سے ایک دن میں کر دکھایا۔
پاکستان کی حالیہ تاریخ میں سیاسی احتساب کی ایسی مثال شاید ہی […]
پاکستانی سروے
Wednesday, February 20th, 2008پاکستانی بلاگ پر کئے گئے سروے اور ان کی تفصیل
پاکستانی بلاگ پر کیا گیا پہلا سروے
سانحہِ لال مسجد، ذمہ دار کون؟
پہلے سروے کے حصے میں کل ٢١ ووٹ آئے جس کے مطابق
٨ افراد نے اس سانحہ کا ذمہ دار مشرف حکومت کو قرار دیا ہے۔
٩ افراد نے لال مسجد انتظامیہ کو۔
٣ افراد نے دونوں کو۔
١ […]
کیا اب حالات بدل جائیں گے؟
Wednesday, February 20th, 2008موجودہ انتخابات میں عوام کو اتنی خوشی پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کے جیتنے کی نہیں ہوئی جتنی خوشی ریٹائرڈ جنرل صدر مشرف کی پارٹی مسلم لیگ ق کے ہارنے کی ہوئی ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ لوگوں نے جیتنے کی بجائے ہارنے والوں کی خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کی ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ ہماری طرح پسِ پردہ تنقید کرنا بہت آسان ہوتا ہے۔ اس سے مشکل کام کسی کے سامنے اس پر تنقید کرنا اور اس بھی مشکل کام کسی جابر کے سامنے کلمہء حق کہنا ہوتا ہے۔ لیکن ان سب کاموں پر بھاری طاقت ور کو اپنی طاقت کو غلط استمال کرنے سے روکنا ہوتا ہے۔ یہ بھاری ذمہ داری اب مستقبل کی حکومت پر آ پڑی ہے۔ ایک تو اس نے اپنے وعدوں کے مطابق عدلیہ کی آزادی بحال کرنی ہے، دوسرے ریٹائرڈ جنرل صدر مشرف سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے اور تیسرے شوکت عزیز کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے گرتی ہوئی معیشت کو سہارا دینا ہے۔
یہ تینوں کام اتنے آسان نہیں جتنے نظر آرہے ہیں۔ ججز کو بحال کرنے میں جہاں ریٹائرڈ جنرل صدر مشرف بہت بڑی رکاوٹ ہیں وہیں بحال شدہ ججز کی طاقت کا ڈر رکاوٹ بنے گا۔ اس طرح یہ بھاری پتھر شاید آنے والی حکومت سے نہ اٹھایا جاسکے۔
ریٹائرڈ جنرل صدر مشرف کی عوامی غیرمقبولیت کے باوجود امریکی حمایت جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس طرح اگر اگلی حکومت اپنی حکومت سازی کی ابتدا امریکی سفارتخانے کے اندر امریکیوں اور صدارتی ذرائع سے ملاقات کرکے کرتی ہے جس طرح آج آصف زرداری نے کیا ہے تو پھر سمجھ جانا چاہیے کہ مشرف صاحب وقتی طور محفوظ ہیں اور نئی حکومت کو ان کیساتھ ملکر کام کرنا پڑے گا۔
شوکت عزیز کی پالیسیوں نے پاکستان کی معیشت کو تباہی کے دھانے پر لاکھڑا کیا ہے۔ ریٹائرڈ جنرل مشرف اور ان کی عبوری حکومت نے یوٹیلٹی کی قیمتوں کے تعین کو آنے والی حکومت پر چھوڑ کر اسے بہت بڑے امتحان میں ڈال دیا ہے۔ اب آنےوالی حکومت اگر بجلی، گیس اور پٹرول کی قیمتیں بڑھائے گی تو مہنگائی کا سیلاب اسے کہیں کا نہ چھوڑے گا۔ جو مہنگائی موجودہ نگران حکومت کے عرصے میں بڑھی ہے وہ مزید بڑھ جائے گی اور اس دفعہ ہوسکتا ہے مزید مہنگائی عوام کے بس سے باہر ہوجائے۔ تجارتی خسارہ، زرمبادلہ کی بیرون ملک ترسیل کی ابتدا، مہنگائی، اور مقامی صنعت کی زبوں حالی آنے والی حکومت کیلیے بہت بڑے امتحان ہوں گے۔
اگر آنے والی حکومت دوبڑی پارٹیوں کی بجائے ایک بڑی پارٹی نے دوسری چھوٹی چھوٹی پارٹیوں سے ملکر بنائی تو پھر وہ زیادہ مسائل سے دوچار ہوگی۔ بہتری اسی میں ہوگی اگر دوبڑي اکثریتی پارٹیاں ملکر حکومت بنا لیں۔ اس طرح وہ قوم پر پڑنے والے مہنگائی کے بوجھ کو شاید برداشت کراسکیں یعنی عوام کی اشکوئی کرسکیں وگرنہ عوام اب مہنگائی کی وجہ سے نئی حکومت کا چلنا دشوار بنا دیں گے۔
ہماری نظر میں آنے والا وقت موجودہ وقت سے سخت ہوگا اور ہوسکتا ہے نئی حکومت دوسری پارٹیوں کے تعاون نہ ملنے کی وجہ سے زیادہ دیر نہ چل سکے۔ ویسے بہتری اسی میں ہوگی کہ حکومت کی ناکامی کی صورت ميں اتنخابات دوبارہ کرائے جائیں تاکہ کوئی ایک پارٹی حکومت سازی کرسکے۔ ویسے بھی موجودہ اتنخابات میں نگران حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سیاسی جماعتوں کو کھل کر کینویسنگ کا موقع نہیں مل سکا جس کی کسر وہ اگلے انتخابات میں نکال سکتی ہیں۔
جبر اور جمہور
Wednesday, February 20th, 2008جبر اور جمہور
Wednesday, February 20th, 2008مشرف آخر جائے گا
Wednesday, February 20th, 2008آگ نئی لگائے گا
کرسی سے چپکائے گا
مشرف یوں نہ جائے گا
ایکشن ہو یا ری ایکشن ہو
پبلک چیخے یا چُپ ہو جائے
ٹوٹا چاہے ہر اک کنکشن ہو
مشرف یوں نہ جائے گا
پاجیوں سے بڑا پاجی ہے یہ
شرم و احساس سے عاری
سفید چٹا ہاتھی ہے یہ
مشرف یوں نہ جائے گا
کچھ بھی کرو پر اسکو بھگاؤ
مل کر سب اب آگے آؤ
ساتھیو قدم آگے بڑھاؤ
آج نہیں تو کل یہ جائے گا
مشرف آخر جائے گا
مشرف آخر جائے گا

انتخابات 2008
Tuesday, February 19th, 2008پاکستان کے انتخابات نے اکثریت کو حیران کر دیا ہے، اور جو پچھلے آٹھ سال سے نہ تین میں تھے نہ تیرہ میں، وہی پاکستانیوں کی اکثریت کی آواز بن کر ایوانوں میں پہنچ چکے ہیں۔ عوام نے اپنا فرض ووٹ دے کر پورا کر دیا ہے اب گیند سیاسی قائدین کے ہاتھ میں ہے […]
الیکشن 2008
Tuesday, February 19th, 2008
ا٨ فروری پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم دن۔ الیکشن ٢٠٠٨ میں دہشت گردی اوردھاندلی کے واضح امکانات تھے۔ اس تذبذب اور خوف کی فضا میں الیکشن نہ صرف خیریت سے ہو گئے بلکہ بِنا کسی دھاندلی کے بھی انجام پا گئے۔ انکل مشرف کا اس پر شکریہ ہی ادا کیا جا سکتا ہے۔ پولنگ […]
سوالات
Tuesday, February 19th, 2008کیا نواز شریف بے نظیر کے قتل کی اقوام متحدہ سے تحقیقات کی حمایت کریں گے؟
کیا زرداری ججوں کی بحالی کے نواز شریف کے مطالبے پر عمل درآمد میں ساتھ دیں گے؟ یا وہ عدلیہ کی بحالی کے بجائے عدلیہ کی آزادی کی گردان جاری رکھیں گے؟
صدر پرویز مشرف کا مستقبل میں کیا کردار ہوگا؟
کیا […]
ریٹائرڈ جنرل صدر مشرف اب تو ہار مان لو
Tuesday, February 19th, 2008ریٹائرڈ جنرل صدر مشرف کی قائم کردہ جماعت مسلم لیگ ق کو عبرت ناک شکست کے بعد جنرل صاحب کو اپنی شکست تسلیم کرلینی چاہیے اور اگر ان میں ذرہ برابر فوجی انا باقی ہے تو صدارت سے استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ لیکن کیا جائے ہم ذاتی مفاد اور خودغرضی میں اس حد تک آگے نکل چکے ہیں جہاں پر غیرت اور حمیت کی کوئی وقعت نہیں رہتی۔
ایک وقت تھا فوجی کو یہ تربیت دی جاتی تھی کہ اس نے دشمن کے سامنے زندہ ہتھیار نہیں ڈالنے۔ بلکہ فوجیوں کے ناخنوں کے نیچے سایانائٹ کا ذہر چھپا دیا جاتا تھا تاکہ جب فوجی دشمن کے قبضے میں چلا جائے اور دشمن کے تشدد کے آگے ہارنے لگے تو ذہر کھالے تاکہ دشمن اس سے قومی راز نہ اگلوا سکے۔ ہوسکتا ہے کچھ لوگ فوج کی اعلٰی ترین پوزیشن پر رہنے کے باوجود اپنی اس تربیت کا مطلب غلط سمجھ رہےہوں اور ہار ماننے سے گریز کررہےہوں۔ لیکن وہ یہ بات یاد رکھیں سادگی سے ہار مان کر گھر چلے جانا ذلیل ہو کر کرسی سے اترنے سے سو درجے بہتر ہوتا ہے۔
لگتا یہی ہے جنرل مشرف صاحب تب تک کرسی سے چمٹے رہیں گے جب انہیں گھسیٹ کر نیچے نہیں اتارا جائے گا۔ اگر یہی صدارتی کرسی ان کے آقاؤں کے ملک میں کسی کے پاس ہوتی تو وہ کشادہ دلی سے اپنی شکست تسلیم کرتا اور اگلے دن ہی قصر صدارت چھوڑ کر گھر منتقل ہوجاتا۔ مگر کیا کریں ہم دیسی گوروں کا جو اپنے آقاؤں کی روشن خیالی کو تو اپناتے ہیں مگر ان کے اچھے اصولوں کو نہیں اپناتے۔ ان کے آقا بھی ایسے مواقع پر ان کو ذلیل کرنے کیلیے ڈٹے رہنے کا مشورہ دیتے ہیں تاکہ وہ اپنے آقاؤں کے ہاتھوں ذلیل ہونے کی بجائے اپنے ہی عوام کے ہاتھوں رسوا ہوں اور دوسروں کیلیے عبرت کا نشان بن جائیں۔
انتخابات کی شفافیت پر جنرل مشرف مبارک کے مستحق ہیں یہ الگ بات ہے کہ ان کے آقاؤں اور نئے چیف نے انہیں دھاندلی سے باز رکھا ہوگا۔ جنرل صاحب کی اب تک تو ہم کمانڈو صلاحیتیں دیکھتے آئے ہیں اور اب ان کی سیاسی چالیں دیکھنے کا موقع ملے گا۔ آنے والا وقت بتائے گا کہ جنرل مشرف صاحب اپنے آٹھ سالہ تجربے سے کس طرح فائدہ اٹھاتے ہیں اور سیاست کے بڑے بڑے کھلاڑیوں سے کس طرح سیاست کا کھیل کھیلتے ہیں۔ لیکن ان کی بہتری اسی میں ہے کہ شوکت عزیز کی طرح اپنی عزت بچائیں اور خاموشی سے گھر چلے جائیں۔
بدعائیں
Monday, February 18th, 2008یہ تو بعد کی بات ہے کہ حکومت کس کی بنتی ہے اور حکومت سازی کیلیے کیسے کیسے جوڑ توڑ ہوتے ہیں۔ وقتی طور پر تو ہم کچھ لوگوں کے ہارنے کا جشن منارہے ہیں۔
ہم پچھلے پانچ سال سےچند غدار اور غیرمحب وطن سیاستدانوں کو بدعائیں دیتے رہے ہیں جو آخرکار ان کو لگ ہی گئیں۔ شیخ رشید کو تو لال مسجد کے شہدا کی آہیں لے ڈوبیں۔ وصی ظفر کو نظر بند جج صاحبان کیساتھ ہونے والی ناانصافی نے ڈبو دیا۔ چوہدری شجاعت کو ان کی لال مسجد کے معاملے میں دوغلی پالیسی نے تباہ کردیا۔ ڈاکٹر شیر افگن کو بھی ان کا لوٹا پن اور منہ پھٹ اندازآخرکار لے ڈوبا۔ خورشید محمود قصوری کے کئی قومی سطح کے گناہ ان کی ہار کا سبب بنے۔
مولانا فضل الرحمان کی ان کی آبائی نشست سے شکست کی وجہ ان کی ایم ایم اے سے غداری قرار پائے گی۔ ایسے موقع پرست مولانا نے نہ صرف اپنی سیٹ ہاری ہے بلکہ صوبہ سرحد سے ان کی جماعت کا صفایا ہوگیا ہے۔
ہماری بدعاؤں سے اگر بچے ہیں تو متحدہ قومی موومنٹ والے اور چند مسلم لیگ ق والے۔ مسلم لیگ ق والوں میں آفتاب شیرپاؤ اور فیصل صالح حیات کی جیت نے تو ہمیں واقعی غمگین کردیا۔ ابھی ہمیں ہمایوں اختر اور مونس الٰہی کے نتائج کا انتطار ہے جن کے بعد ہمیں معلوم ہوگا کہ ہماری بدعاؤں نے ان کا کچھ بگاڑا کہ نہیں۔
جن لوگوں کی ہار کا ہمیں افسوس ہے ان میں ایک مرزا مختار بیگ ہیں جو اگر قومی اسمبلی میں پہنچ جاتے تو اپنی تعلیم اور لیاقت کی بنا پر خوش بخت شجاعت سے اچھی کارکردگی دکھاتے۔
ہمیں چکوال سے ایک صحافی اور تجزیہ نگار ایاز میر کی کامیابی پر خوشی ہوئی ہے امید ہے ان کا فلسفہ اور پاکستان سے محبت پاکستانی سیاست میں اچھے نقوش چھوڑیں گے۔
سابق وزیراعظم اپنی ہوشیاری اور اپنے آقاؤں کی عقل مندی کی وجہ سے اپنے اصلی ملک واپس بھاگ گئے اور ہماری بدعاؤں سے بچ گئے۔
حیرانی والی بات یہ ہے کہ ابھی تک مسلم لیگ نواز کو سوائے صوبہ پنجاب کے کسی اور صوبے سے ایک بھی سیٹ نہیں ملی۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق ابھی تک دو پارٹیاں ایسی ہیں جنہیں تمام صوبوں سے نمائندگی حاصل ہو رہی ہے۔
نتیجہ: NA-250
Monday, February 18th, 2008خوش بخت شجاعت تریپن ہزار ووٹ لے کر ڈاکٹر صاحب کے تینتالیس ہزار ووٹوں پر سبقت لے گئی ہیں۔ وہ بغیر دھاندلی کے بھی جیت جاتیں مگر تب شاید دس ہزار ووٹوںکا فرق نہ ہوتا۔ بہر حال خوش بخت کے حامیوں مبارکبار امید ہے وہ ایک اچھی پارلیمینٹیرین ثابت ہونگی اور حلقے کے لوگوں کی […]
کیا خیال ہے ابھی بھی عوام بے شعور ہیں؟؟؟؟
Monday, February 18th, 2008آج کا ہر ووٹ ایک تازیانہ تھااپنی عوام کو غیر تہزیب یافتہ کہنے والوں کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔
! وردی کو سو دفعہ منتخب کرنے والوں کے لیے
بگلا بھگت مولویوں اور کلاشنکوفوں سے سلامتی کا پرچار کرنے والوں کے لیے
!!!
!!
!
عوام اپنے رہنماؤں سے زیادہ چالاک ثابت ہوئے ہیں
آج پھر مبارک ہو جاوید ہاشمی کو شیخ رشید پر اور احمد […]
the impossible quiz
Monday, February 18th, 2008mawra linked to this one, I am stuck at 56 what about u?
givin it a try n stuck somewhere tell me I think I can help u below 56
Random PostsJanuary 13, 2007 — افریقن امریکن (17)December 8, 2007 — افتخار اجمل بھوپال (0)November 3, 2007 — Life as an American Female […]
Monday, February 18th, 2008
چوہدری شجاعت حسین اپنے گڑھ گجرات میں پیپلز پارٹی کے چوہدری مختار کے ہاتھوں شکست فاش سے دوچار ہوگئے ہیں۔
کراچی کے بلاگرز اور متحدہ قومی موومنٹ کی دھاندلیاں
Monday, February 18th, 2008میٹرو بلاگنگ کراچی پر جناب امیر حمزہ جعلی ووٹ ڈالنے کے اپنے ایڈونچر کی کہانی بمعہ تصاویر بیان کرتے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ کراچی کے بلاگرز جس دھاندلی کی اطلاعات تواتر سے دے رہے ہیں ہمارا میڈیا اس دھاندلی پر قطعا آنکھیں بند کرے بیٹھا رہا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کی دھاندلی کے ذکر پر […]
کراچی کے بلاگرز اور متحدہ قومی موومنٹ کی دھاندلیاں
Monday, February 18th, 2008میٹرو بلاگنگ کراچی پر جناب امیر حمزہ جعلی ووٹ ڈالنے کے اپنے ایڈونچر کی کہانی بمعہ تصاویر بیان کرتے ہیں۔
عجیب بات یہ ہے کہ کراچی کے بلاگرز جس دھاندلی کی اطلاعات تواتر سے دے رہے ہیں ہمارا میڈیا اس دھاندلی پر قطعا آنکھیں بند کرے بیٹھا رہا ہے۔
متحدہ قومی موومنٹ کی دھاندلی کے ذکر پر […]
انتخابات 2008 نتائج
Monday, February 18th, 2008انتخابات 2008 کے تازہ ترین نتائج انٹرنیٹ پر دکھانے کیلیے القم آن لائن اور چینل 5 ٹی وی نے عمدہ انتظام کیا ہے۔ آپ مندرجہ ذیل لنکس پر انتخابات کے نتائج کی تازہ ترین صورتحال جان سکتے ہیں۔
نتائج قومی اسمبلی
http://www.channel-5.tv/elecform.php
نتائج صوبائی اسمبلی
http://www.channel-5.tv/pa_elecform.php
ہمیں اب تک یاد ہے ہم نے 1971 کے انتخابات کے نتائج ساری رات ریڈیو پر کان لگا کر سنے۔ اس کے بعد 1977 کے اتنخابات کے نتائج ہم نے ریڈیو اور پی ٹی وی پر ایک ساتھ ساری رات سنے اور دیکھے۔ پھر وقت بدلا اور 1988 اور 1990 کے انتخابات کے نتائج ہم نے پی ٹی وی پرساری ساری رات جاگ کر دیکھے۔ اس وقت پی ٹی وی نے انتخابات کے نتائج کیساتھ ساتھ اپنی نشریات کو دلچسپ بنانے کیلیے بہت سے نئے آئٹم اور پروگرام بھی ساتھ ساتھ دکھائے تھے۔ اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اب تقریبا تمام نیوز چینلز نے انتخابات 2008 کے پروگرام تشکیل دیے ہیں جن میں مذاکرے، تجزیے اور نتائج ساتھ ساتھ دکھائے جارہے ہیں۔
انتخابات 2008
Monday, February 18th, 2008
خدا خدا کرکے ووٹنگ کا وقت ختم ہوا اور امید کے برخلاف انتخابات زیادہ تر پرامن ہی رہے۔ ہمارے اعلان کے مطابق انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والوں کو اندازہ ہوگیا ہوگا کہ انہوں نے بائیکاٹ کرکے غلطی کی۔ ہاں اگر اصولوں کی بنیاد پر دیکھا جائے تو انتخابات کا بائیکاٹ بنتا تھا مگر بائیکاٹ کا عمل محدود پیمانے پر ہونے کی وجہ سے اپنی اصل روح سے محروم رہا۔ وکلاء بھی اگر انتخابات کے بائیکاٹ کی بجائے حکومت مخالف کیمپ سے مہم چلاتے تو ان کی تحریک زیادہ کامیاب ہوتی۔ اسی طرح عمران خان اور جماعت اسلامی بائیکاٹ کی وجہ سے وقتی طور پرایوانوں کی سیاست سے باہر ہو گئے ہیں۔ ہاں یہ الگ بات ہے کہ انتخابات کے بعد احتجاجی تحریک چلے اور صدر مشرف کو ہٹا کر دوبارہ انتخابات ہوں یا پھر آنے والی حکومت وکلاء کی ڈیمانڈ پر عدلیہ کو بحال کردے تو بائیکاٹ کرنے والوں کو کامیابی ملے لیکن اس کا امکان کم ہی نظر آتا ہے۔
حالانکہ اکثر بلاگرز نے انتخابات میں دھاندلی کی نشاندہی کی ہے اور ان کی شفافیت پر شک کا اظہار کیا ہے لیکن لگتا یہی ہے کہ ہر پارٹی کو اگر برابر کا حصہ مل گیا تو وہ انتخابات کے نتائج من و عن مان لے گی کیونکہ اسے ایوانوں میں جانے کی جلدی ہوگی۔ نتائج کے اعلان کے بعد سیاسی جوڑ توڑ کیا رنگ اختیار کرتا ہے یہ دیکھنے کے قابل ہوگا۔ اگر شیر اور تیر کو دھاندلی کی صورت میں بدترین شکست ہوئی تو پھر احتجاجی تحریک چلے گی اور صدر مشرف کو کرسی چھوڑنی پڑے گی لیکن اس کے بعد کوئی نہیں جانتا کہ مارشل لاء آئے گا یا جمہوریت بحال ہو گی۔
ان انتخابات پر ملک کے بیسیوں ٹی وی چینلز اور ریڈیوز کو بھی اپنی تاریخ کے سب سے بڑے پروگرام نشر کرنے کا موقع ملا۔ اس دفعہ ہر نیوز ٹی وی پر دوتین نہیں چھ سات تجزیہ نگار اور اینکر مین انتخابات پر بات کرتے اور ان کے نتائج سناتے نظر آئے۔ ٹی وی والوں نے ان پروگرامز کو دلچسپ بنانے کیلیے رنگا رنگ پروگرام بھی پیش کئے۔ ان پروگراموں نے پچھلے انتخابات میں سرکاری ٹی وی کی چوبیس چوبیس گھنٹے کی نشریات کی یاد تازہ کردی۔
کہتے ہیں ووٹ ڈالنے کیلیے لوگوں کی بہت بڑی تعدار گھروں سے باہر نکلی حالانکہ ہمارے عزیز و رشتہ داروں نے دہشت گردی کے خوف کی وجہ سے بہت کم ووٹ ڈالے۔ زیادہ تر اپنے گھروں میں ہی دبکے بیٹھے رہے اور سلامتی کی دعائیں کرتے رہے۔