Archive for February, 2008
ڈومز ڈے
Friday, February 29th, 2008ناروے نے نارتھ پول سے 1000 کلومیٹر کے فاصلے پر ایک آرکٹک والٹ بنایا ہے۔ اس کی لاگت تقریبا ساڑھے 9 ملین ڈالر ہے۔ اس دور دراز سرد مقام پر اس والٹ میں رکھے جانے والی شے نہ تو سونا ہے نہ کوئی جوہری تنصیب اس مقام پر رکھے جائیں گے دانے۔ جی دانے یعنی […]
dont even think
Thursday, February 28th, 2008
Random PostsDecember 18, 2007 — حج مبارک (4)November 28, 2007 — testing (0)November 13, 2006 — Digital Camera (0)January 17, 2007 — آخر کیوں؟ (8)May 20, 2007 — Immigration Deal (0)January 24, 2008 — کریزی (5)March 21, 2007 — amazon credit card (0)June 28, 2007 — Imagine (8)July 16, 2007 — پاکستانی؟ (5)December 29, 2007 […]
ترکی میں احادیث کی ازسر نو تشریح
Thursday, February 28th, 2008بی بی سی اردو کا باقاعدہ مطالعہ کرنے والوں کی نظر سے یقینی طور پر “ترکی احادیث کی ازسر نو تشریح“ کے نام سے نامہ نگار رابرٹ پگوٹ کی یہ خبر ضرور گزری ہوگی۔ اس بلاگ کا مقصد اس موضوع پر خالصتامثبت گفتگو کرنا ہے نا کے اس حساس موضوع کو بنیاد بنا کر مزید […]
دعا
Thursday, February 28th, 2008اس تصویر میں پی پی پی۔ مسلم لیگ ن، اے این پی اور دوسری متوقع حکومتی پارٹیوں کی پہلی شوآف میٹنگ میں شرکاء بینظیر کی مغفرت کی دعا مانگ رہے ہیں۔
اکثرلوگ مدارس کے طلبا کو دعا کیلیے قرآن شریف پڑھانے کیلیے بلانے کی مخالفت کرتے ہیں اور ان کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ ہوسکتا ہے کہ قرآن خواں اپنے ہی وفات کنندگان کو ایصال ثواب پہنچا دیتے ہوں۔ اسی طرح کبھی کبھی جب مرنے پر محلہ کی عورتیں بین کررہی ہوتی ہیں تو لوگ ان پر بھی شک کرتے ہیں اور کہتے ہیں یہ عورتیں میت کو رونے کی بجائے اپنے دکھڑوں کی وجہ سے رو رہی ہیں۔ اسی موقع پر یہ پنجابی محاورہ بولا جاتا ہے “روندی یاراں نوں لے لے ناں بھراواں دا” ![]()
اسی طرح اگر آپ اس تصویر پر غور کریں تو آپ کے ذہن میں بھی کئی طرح کے وسوسے آسکتے ہیں۔ آپ سوچ سکتے ہیں کہ دعا کیلیے ہاتھ اٹھانے والے بینظیر کیلیے نہیں بلکہ اپنے لیے دعا مانگ رہے ہوں گے۔
آئیں ہم بھی تصور کریں کہ ملک کے ان بڑے بڑے لیڈروں نے اس وقت کون کونسی دعائیں مانگی ہوں گی۔
آصف زرداری کے منہ سے تو بے اختیار یہ نکلا ہوگا “خدا بی بی کو جنت میں جگہ دے۔ اچھا ہی ہوا مرگئی وگرنہ آج یہ ٹھاٹھ باٹھ نہ ہوتے”۔ کیونکہ اگر بینظیر زندہ رہتیں تو اب تک زرداری دبئی میں اپنے بچوں کی پرورش ہی کررہے ہوتے۔
نواز شریف صاحب دعا کرہے ہوں گے “اے خدا جس طرح مشرف نے مجھے کالے پانی بھیجا تو اسے بھی کالے پانی بھیج دے”۔
یوسف رضا گیلانی نے دعا کی ہوگی “یااللہ مجھے ایک بار وزیراعظم بنا دے میں ہرسال تیرے گھر پر سرکاری خرچ پر حاضری دیا کروں گا”۔
مخدوم امین فہیم ہاتھ اٹھا کر سوچ رہے ہوں گے “میں اچھا بھلا وزیراعظم بن رہا تھا یہ دوسرے مخدوم کا نام بیچ میں کیوں لیا جانے لگا”۔
اسفندیارولی خان دعا کررہے ہوں گے ” ایک دفعہ میں صوبہ سرحد کا وزیراعلٰی بن گیا تو صوبے کا نام ضرور بدل دوں گا” ان کے نزدیک صوبے کی ترقی کا راز صرف نام کی تبدلی میں ہی چھپا ہوا ہے۔
شہبازشریف سوچ رہے ہوں گے “بھائی کو حکومت ملے نہ ملے وہ تو پنجاب کے تخت پر بیٹھ ہی جائیں گے”۔
دونوں پارٹیوں کے شرکاء نے اجتماعی دعا بھی مانگی ہوگی۔ مسلم لیگ ن والوں کی خواہش ہوگی کہ پیپلز پارٹی کو مرکز میں حکومت سونپ کر اس کی مشکلات سے محظوظ ہوں یا پھر مرکز میں وزارتیں نہ لے کر وہ صوبے میں انہیں وزارتیں نہیں دیں۔ پی پی پی والے مسلم لیگ ن کو کوس رہے ہوں گے کہ یہ لوگ عدلیہ کی بحالی کے پیچھے ہاتھ دھو کر پڑ چکے ہیں۔ اس شرط کے ہوتے ہوئے وہ صدر مشرف کا کس طرح ساتھ دے پائیں گے۔
کلنٹن اوبامہ اوہائیو ڈیبیٹ
Thursday, February 28th, 2008سنیٹر کلنٹن اور سینیٹر اوبامہ کی اوہائیو میں ہونے والی ایک ڈیبیٹ اس کے یہ دو دلچسپ ہیں۔
Random PostsDecember 3, 2007 — autumn (0)August 12, 2007 — Setting up a Wireless Network (0)April 13, 2007 — web 2.0 ویب ۲ (1)February 2, 2007 — Harry Potter and the deathy hallows (0)November 7, 2007 — پتھر […]
52-بی کا کھیل
Thursday, February 28th, 2008حامد میر پر پابندی اٹھائے جانے کے بعد ان کے پہلے پروگرام میں مسلم لیگ ق کے سیکریٹری جنرل مشاہد حسین نے کہا اگر حکومتی پارٹیوں نے 52- بی کی ترمیم آئین سے ختم کرنے کی کوشش کی تو وہ ان کا ساتھ دیں گے۔ اب پتہ نہیں یہ ان کا ذاتی بیان تھا یا پارٹی بیان۔ لیکن اس کے فوراً بعد پارٹی کے صدر چوہدری شجاعت کا بیان آگیا۔ انہوں نے کہا اگر 52- بی کو چھیڑا گیا تو ملک میں بحران پیدا ہوجائے گا۔ اب جس پارٹی کے سربراہان کی رائے 180 درجے مختلف ہو اس پارٹی کا اللہ ہی حافظ ہے۔
جب ذوالفقارعلی بھٹو نے 1973 کا آئین پارلیمنٹ سے پاس کروایا تو وہ پارلیمانی نظام تھا۔ اس کے بعد جنرل ضیا نے 52- بی کی ترمیم سے اسے صدارتی نظام بنا دیا۔ بعد میں نواز شریف نے 52- بی ختم کرکے اسے دوبارہ پارلیمانی بنا دیا۔ جب جنرل مشرف نے حکومت پر قبضہ کیا تو مسلم لیگ ق، ایم کیو ایم اور ایم ایم اے کے خودغرض سیاستدانوں کی وجہ سے جنرل مشرف نے 52- بی بحال کرکے اپنے پیش رو جنرل ضیا کا صدارتی نظام بحال کردیا۔
اب ایک دفعہ پھر نواز شریف نے 52 - بی ختم کرنے کی بات کی ہے۔ اس دفعہ پیپلزپارٹی بھی مسلم لیگ ن کیساتھ ہے۔ حیرانی تو مسلم لیگ ق کے سیکریٹری جنرل کے بیان پر ہوئی جنہوں نے اپنے لیڈر جنرل مشرف کے ہی اخیتارات پر کلہاڑا چلانے والوں کا ساتھ دینے کا وعدہ کرلیا۔ لیکن ساتھ ہی چوہدری شجاعت نے الٹا بیان دے کر ایک بار پھر مسلم لیگ ق کی پوزیشن کو مبہم بنا دیا ہے۔
پی پی پی اس دفعہ ہر حال میں نواز شریف کا ساتھ دے گی کیونکہ وہی مرکز میں حکومت بنانے جارہی ہے۔ اب یہ آصف زرداری کی سوجھ بوجھ پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح 52 - بی بھی ختم کرتےہیں اور صدر مشرف کسیاتھ ساتھ امریکہ کو بھی ناراض نہیں کرتے۔ یہ مسئلہ آسان ہوجائے گا اگر صدرمشرف اگلے چند ماہ میں صدارت سے استعفٰی دے کر گھر چلے جاتے ہیں جس کے امکانات اب بڑھتے جارہے ہیں۔ صدر مشرف سے چوہدریوں کی ایک ہفتے میں دو ملاقاتیں، امریکی سینیٹروں کے بیانات سے تو یہی لگتا ہے کہ صدرمشرف کوئی بہت بڑا قدم اٹھانے والے ہیں۔ اللہ کرے اس دفعہ ملک کی دو بہت بڑی پارٹیاں انقلابی اقدامات اٹھا کر 1973 کے آئین کا چہرہ درست کردیں اور اسے پھر سے پارلیمانی بنا دیں تاکہ جمہوری اداروں کے سروں پر اپنے ہی منتخب کردہ صدر کے خوف کی تلوار نہ لٹکتی رہے۔۔
مفت ٹکٹ
Thursday, February 28th, 2008سفر۔ آخری
ٹکٹ۔ مفت
سیٹ۔ محفوظ
مسافر کا نام۔ عبداللہ ابن آدم
عرفیت۔ انسان
شناخت۔ مٹی
پتہ۔ روئے زمین
سفر کی تفصیلات
روانگی۔ از دنیا
منزل۔ آخرت
مدت سفر۔ چند ثانیے، جس میں چند لمحوں کے لئے دو میٹر زیرزمین پرواز
پرواز کا وقت۔ وقت اجل
ریزرویشن۔ یقینی
ضروری ہدایات
تمام مسافران سے درخواست کی جاتی ہے کہ وہ ان لوگوں کو اپنی نظر میں رکھیں جو ان سے […]
کھویا کھویا سا
Thursday, February 28th, 2008واقعی۔۔۔ آج کل میرا دماغ کام نہیں کررہا ہے۔ نہ یہ سمجھ آتی ہے کہ کس سے کیا بات کرنی ہے اور نہ ہی کچھ پلے پڑتا ہے۔ بس م۔س۔ن پر یا تو بدتمیز کا دماغ کھارہا ہوتا ہوں یا زینب کا۔ اور تو اور، اتنے دن سے نہ تو بیاض پر کچھ لکھ سکا […]
امریکی پرچم
Wednesday, February 27th, 2008ابھی چند دنوں قبل کوسوو نے اعلان کیا تھا کہ وہ سربیا سے الگ ہو گیا ہے۔ کبھی ایک یوگوسلاویہ ہوا کرتا تھا جس کے ٹکڑے ہوئے اب 7 ملک بن چکے ہیں۔ سربیا ولن کا کردار نبھا رہا ہے۔ کوسوو کی آزادی پر جو بات میں نے بہت نوٹ کی کہ سبھی ادارئیوں میں […]
ہارا ہوا ہیرو
Wednesday, February 27th, 2008اس تصویر میں لگتا ہی نہیں کہ چوہدری شجاعت موجودہ انتخابات ہارگئے ہیں۔ وہ تو نازنینوں کے جمگھٹ میں بیٹھے کنگ شاہ رخ کو بھی مات دے رہے ہیں۔ تصویر کی خوبصورتی کو چار چاند لگانے کیلیے چوہدری شجاعت نے عمر رسیدہ کی بجائے دو جوان پارلیمنٹیرینز کو اپنے دائیں بائیں بٹھایا ہوا ہے۔ بڑھاپے کو مات دینے کیلیے چوہدری صاحب نے چشمہ پہن کر ہیرو بننے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ کہیں اب چوہدری صاحب فارغ وقت میں فلموں میں کام کرنے کا پلان تو نہیں بنا رہے۔
پرویز مشرف کے وردی اتارنے کے بعد چوہدری شجاعت کی بات میں وزن باقی رہے نہ رہے لیکن ان کے نخروں میں فرق نہیں آیا۔ لگتا ہے پچھلے سات سال میں لوٹي ہوئی دولت ان کیلیے کافی ہے اور وہ اسی پر قناعت کر بیٹھے ہیں۔
انگریزی کے شیدائی
Wednesday, February 27th, 2008پاکستان میں حکومت کیا چاہتی ہے ، یہ ایک علیحدہ بات ہے۔ پاکستانی عوام یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے انگریزی بولنے کے قابل ہو جائیں۔ یہ صرف اس لیے نہیں کہ انگریزی ایک بین الاقوامی زبان ہے اور اعلا تعلیم کے لیے باہر جانے والوں کے لیے انگریزی جاننا ناگزیر ہے بلکہ یہ […]
یہ ڈنمارک والے کون ہیں؟
Wednesday, February 27th, 2008روزنامہ جنگ کے معروف کالم نگار عظیم سرور اپنے کالم ‘یہ ڈنمارک والے کون ہیں؟‘ میں لکھتے ہیں کہ لندن میں 10دن قیام کے بعد شکاگو کے لئے روانہ ہوا تو ایک بار پھر کوپن ہیگن آنا ہوا۔ اس مرتبہ ایئرلائن نے ایک دن کے لئے ہوٹل میں ٹھہرایا یہ ہوٹل سچا فائیو اسٹار ہوٹل […]
جہیز
Wednesday, February 27th, 2008جہیز پاکستانی معاشرے میں ایک مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اور کوئی چھوٹا موٹا مسئلہ نہیں ہے۔ ماشااللہ ہم لوگ ہر کام کا بتنگڑ بنانے میں ماہر ہیں لہذا اس کو بھی بتنگڑ بنا رکھا ہے۔ ذاتی طور پر مجھے جہیز لینے والے سخت برے لگتے ہیں میں نے خود لسٹس دی جاتی دیکھی ہیں۔ […]
مِٹا سکے تو مِٹا لے دنیا
Tuesday, February 26th, 2008بازار لگ چکا ہے
Tuesday, February 26th, 2008انتخابات میں جب کوئی ایک پارٹی واضح اکثریت حاصل کرکے حکومت بنانے کی پوزیشن میں نہ ہو تو پھر آزاد امیدواروں کیساتھ ساتھ باغی ارکان اسمبلی کی بھی موج ہو جاتی ہے۔
موجودہ انتخابات میں ریکارڈ تعداد میں آزاد ارکان منتخب ہوئے ہیں اور اب وہ جوق درجوق متوقع حکمران پارٹي میں داخل ہو رہے ہیں۔ اسی طرح اپنی پارٹی سے ناراض ارکان کو بھی اپنے غصے کے اظہار کا موقع مل رہا ہے اور وہ اپنا غصہ اپنی پارٹی کے اجلاس میں نکالنے کی بجائے بغاوت کرکے نکال رہے ہیں۔ کسی نے فارورڈ بلاک بنا لیا ہے، کسی نے مستقبل کی حکمران جماعتوں کے سربراہوں سے رابطے قائم کرلیے ہیں اور کسی نے اپنی وفاداریاں بدلنے کیلیے اپنی قیمت بھی لگا دی ہے۔
جب سے پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کو اکثریت حاصل ہوئی ہے کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب کوئی نہ کوئی آزاد ارکان یا مسلم لیگ ق کا رکن اسمبلی ان پارٹیوں سے تعاون کا اعلان نہیں کرتا یا ان کے سربراہوں سے ملاقات نہیں کرتا۔ جو لوگ پہلے لوٹوں کو لعن طعن کرتے رہے اور انہیں بیوفائی کے طعنے دیتے رہے اب وہی حرکات کررہے ہیں جو ان کے مخالفین نے کیں۔
بینظیر اور نوازشریف کے ادوار میں جب جب اسمبلی میں تحریک عدم اعتماد پیش ہوتی تو دونوں سربراہان اپنے اپنے ارکان کو لے کر مری کے مضافات میں روپوش ہو جایا کرتے تھے۔ اس کے بعد جب ریٹائرڈ جنرل مشرف نے نواز شریف حکومت کا تختہ الٹا تو پھر نواز شریف کی مسلم لیگ کے ارکان نے چوہدریوں کی سربراہی میں بغاوت کی اور مسلم لیگ ق بنا لی۔ ریٹائرڈجنرل اور ادیب احتشام ضمیر جو ضمیر جعفری کے بیٹے ہیں نے اب مسلم لیگ ق کو جتوانے کیلیے دھاندلی کا اعتراف بھی کیا ہے۔ مسلم لیگ ق نے پانچ سال حکومت کی اور نواز شریف کی بھرپور مخالفت کی۔
اب مسلم لیگ ق کے یہی ارکان حالات بدلنے پر چوہدریوں کو چھوڑ کر مسلم لیگ ن میں واپس آنے کیلیے پر تول رہے ہیں۔ حیرانی اس بات پر ہے کہ نواز شریف جنہوں نے اپنے دور میں فلورکراسنگ کا بل پاس کرکے ہارس ٹریڈنگ کو روکا تھا اب خود اس میں ملوث ہوچکے ہیں۔ ہوسکتا ہے اس وقت نواز شریف کے پاس لوٹوں کو ملا کر حکومت بنانے کے سوا کوئی چارہ نہ ہو مگر اس طرح تو وہ اپنی مردانگی کو داؤ پر لگا رہےہیں۔ مزہ تو تبھی آتا اگر مشکل وقت میں وہ اپنے اصولوں پر قائم رہتے۔ لیکن کیا کیا جائے پاپی پیٹ کا جو انسان کو بعض اوقات مردارکھانے پر بھی مجبور کردیتا ہے۔
لگا ڈیموکریسی میں داغ!!!
Tuesday, February 26th, 2008
HERO :
President Bush & Musharaf
HEROINE :
Banzeer
VILLAIN:
Sharif, Qazi, Imran
SCRIPTED IN :
USA
SHOOTED IN :
Pakistan
CHARACTER ACTOR :
Amin Fahim
FRIENDLY APPEARANCE :
Saudi King
FRAUDY :
Asif Ali Zardari
COMEDIAN :
Shaikh Rasheed
SUPPORTING ACTOR :
Fazal ur Rahman
CHARACTERLESS ACTORS :
Chaudharies
DANCERS :
Sherry Rehman, Kashmala Tariq
MUSIC BY :
MQM
ACTION BY :
Pak Army
SUSPENSE BY :
Chief Justice
Share This
:D
Tuesday, February 26th, 2008Random PostsFebruary 17, 2007 — Pipes (0)February 9, 2008 — محبت (4)December 8, 2006 — Network Monitor 3.0 has released to web! (0)November 21, 2007 — hahaha (2)February 22, 2008 — aitzaz ahsan interview (0)December 9, 2007 — مینڈک (4)September 4, 2007 — Finally (3)September 18, 2007 — ووٹ ڈالیں اپنے لئے قوم کے لئے […]
The Kite Runner
Monday, February 25th, 2008نیکی
Monday, February 25th, 2008کچھ لوگ ہیں جو اس ملک کو برا کہہ کر ہی سکون پاتے ہیں ۔ ایسے لوگ صرف پاکستان میں ہی پائے جاتے ہیں۔ دنیا کی کوئی قوم بھی ایسی نہیں ہے جو ایسے لوگوں کو اپنے درمیان پائے اور انہیں برداشت کرتی رہے۔ جنہیں اس قوم پر غصہ آتا ہے ، ان کا احترام […]
تم اور کتنی دیر ہو، ہم اور کتنی دیر؟
Monday, February 25th, 2008شام آ گئی ہے، ڈوبتا سورج بتائے گا
جاہ و جلال دَام و دِرَم اَور کتنی دیر؟
ریگ رواں پر نقش قَدَم اَور کتنی دیر؟
اَب اور کتنی دیر یہ وَحشت، یہ ڈر، یہ خوف؟
گرد و غبارِ عہد ستم اور کتنی دیر؟
دَامن کے سارے چاک، گریباں کے سارے چاک
ہو بھی گئے بہم، تو بہم، اَور کتنی دیر؟
شام آ […]
میں چُپ رہوں گا
Monday, February 25th, 2008٢- ایمان کو ہم نے ایک فلسفہ بنا دیا ہے ، جسکی گھتھیاں سلجھانے کے لئے بہت بڑا “مدبر“ ہونا پڑتا ہے
٣- دولت دنیا کو ضرورت کی جگہ ہم نے خواہش بنا لیا ہے ، جو کبھی بھی ختم نہیں ہوتی ، اور ہم ڈر کے مارے اس سے چپکے بیٹھے ہیں
٤- اسلام نے جو فرق ختم کئے تھے ہم نے انہیں افراق کو اسلام کا نام دیا ہے ، ایک خدا ایک رسول اور ایک کتاب پر ہم سب متفق ہیں مگر عمل کے مقام پر ہم سے زیادہ انتشار کسی میں بھی نہیں
٥۔ اسلام نے انسانی نفس کو سمجھ کر بہت کچھ آسان کیا مگر ہم مشکل میں خود کو پھنسانا پسند کرتے ہیں ، عورت کا حصول ہم نے عورت کو ایک “اَن ریچ ایبل“ چیز بنا کہ رکھ دیا ہے ، انسان کو ہم فرشتہ بنانے پر تُل گئے ہیں اور فرشتے کا معیار عورت سے دوری پر ہے
٦- ایک مسلمان عورت نے خود کو آزادی کی چکی میں ایسا پیسا ہے ، کہ اب وہ اپنی کسی ہیت میں اسلام کی نمائیدگی نہیں کر پا رہی ، اسلام نے عورت کو اتنی آزادی دی مگر ہماری مسلمان عورت کے لئے آزادی کا معیار مغربی لباس اور رہن سہن ہی رہا
٧۔ تعلیم کو ہم نے صرف جاننے کا عمل سمجھا ، اعلٰی سے اعلی تعلیم ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکی ، ہم نے اپنی سوچ کو بدلنا اپنی بے عزتی سمجھی ، ایک آزاد معاشرے میں مسلمان ترقی کی منزلیں طے کرتا ہے جبکہ ایک پابند معاشرے میں وہ باؤلا ہو جاتا ہے ۔ ۔ سعودی عرب کی مثال سامنے ہے ۔ ۔ جہاں معاشرہ ایک ذہنی انتشار کا شکار ہے ۔ ۔ ۔ اور یہ انتشار انہیں کسی اچھی سمت نہیں لے جا رہا ۔ ۔ ہم نے غور کرنا چھوڑ دیا ہے ، علم کو عمل سے الگ کر دیا ہے ۔ ۔
٨- مسلمانوں کی کاروباری بددیاتنی اب ایک مثال بن چکی ہے ، یہاں یو اے ای میں اب جب کسی کام کے لئے “انشااللہ“ کہا جاتا ہے تو اسکا مطلب ہوتا ہے کہ یہ کام نہیں ہو گا یا بدیر ہو گا ۔ ۔
٩- حکمرانوں کا بدعنوان ہونا اور امراء کا عیاش ہونا سمجھ آتا ہے ، ہم مسلمانوں کا غریب سے غریب آدمی بھی جو یہ جانتا ہے کہ سب اچھائیاں یا برائیاں اللہ کی طرف سے آتییں ہیں اور ہم پر ہر حالت میں شکر و صبر واجب ہے ۔ ۔ مگر ہم اپنا “اسٹیٹس“ چینج کرنے کے چکر میں صبر و شکر دونوں سے اجتناب کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
١٠۔ اللہ ہمیں بار بار مواقعے دیتا ہے سنبھلنے کے سدھرنے کے مگر ہم نے قسم کھائی ہے کہ ہم نہیں سدھریں گے ، بڑی بڑی مباحث کریں گے ، تصویر کے جائز ناجائز ہونے پر ، مکھی کو چائے میں ڈبونے سے لیکر ہم باتھ روم کے کموڈ کے حلال یا حرام ہونے پر سوالات کر لیں گے بحث کر لیں گے ۔ ۔ مگر کبھی بھی اپنے آپ کو بدلنے پر غور نہیں کریں گے ۔ ۔ ۔


زمین جنبد
Monday, February 25th, 2008ناسا ایک ایسا نام ہے جس کی خبر شائد بہت سے لوگ ضرور پڑھتے ہوں۔ اس کی شٹل اٹلانٹس ابھی چند دنوں پہلے انٹرنیشنل سپیس سینٹر سے ہو کر واپس لوٹی ہے۔ اس سینٹر کی تعمیر میں ترقی یافتہ قومیں حصہ لے رہی ہیں اور اس دفعہ یورپ کی لیب لے جائی گئی ہے۔ انٹرنیشل […]
فرق
Sunday, February 24th, 2008ہمارے ساتھ ہی چیسٹر فیلڈ کاوئنٹی اور سٹی ہیں۔ یعنی ایک شہر ہے دوسرا اس کے گردو نواح۔ 12 مارچ کو یہاں ڈیموکریٹک پرائمری میں بیلٹ ختم ہو گئیں۔ جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو انتظار کرنا پڑا اور بہت سے لوگ ووٹ ڈالے بغیر ہی لوٹ گئے۔ بالآخر لوگوں کو اجازت دی […]
ہاں دھاندلی کرائی تھی!
Sunday, February 24th, 2008Share This
اندھا بانٹے ریوڑیا بھر بھر اپنوں کو
Sunday, February 24th, 2008ایک دن پہلے کی جنگ کی خبر کی شہ سرخی “وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کو چئیرمین نیپرا بنانے کیلیے صدارتی آرڈیننس میں ترمیم” اور آج کی جنگ کی خبر کی شہ سرخی “نگران وزیراعظم سومرو کا سینٹ کے سابق چئیرمینوں کیلیے قیمتی مراعات کا تحفہ” کو پڑھ کرہمیں پنجابی کی ضرب المثل” انہا ونڈے ریوڑیاں تے بھر بھر اپنیاں نوں” یاد آگئی ہے۔
خود غرضی کی اس سے بڑی انتہا کوئی نہیں ہوسکتی کہ صدر صرف ایک آدمی کیلیے آئین میں ترمیم کردے اور ایک عارضی کرسی پر بیٹھا شخص اپنی موجودہ سیٹ کیلیے مراعات کا اعلان کردے ۔
اگر آنے والی قومی اسمبلی ذرا برابر بھی پاکستان کیساتھ مخلص ہوئی اور اسے اپنی جان کی پرواہ نہ ہوئی تو وہ سب سے پہلے 1973 کے آئین سے تمام آرڈیننسز منسوخ کردے گی اور اسے اپنی اصل حالت میں بحال کردے گی۔ اگر قومی اسمبلی یہ کام نہ کرسکی تو پھر ہم سمجھیں گے کہ موجودہ سیٹ اپ بھی مشرف دور کا ایک تسلسل ہے اور اگلے پانچ سال پاکستان ترقی کی بجائے تنزلی کی طرف ہی بڑھے گا۔
کیا خیال ہے اگلی قومی اسمبلی میں اتنی طاقت ہوگی کہ وہ اپنے پہلے سیشن میں ہی ججوں کو بحال کرنے کا حکتم دوتہائی اکثریت سے جاری کردے؟ آئین میں ایسی ترمیم کرے جس سے ملکی مفادات کے فیصلے صرف اور صرف اسمبلیوں میں ہی ہو سکیں؟ فوج کی حکومت میں مداخلت پر ھمیشہ کیلیے پابندی لگا دے اور حکومت پر قبضہ کرنے والے فوجی ڈکٹیٹر کیلئے سزائے موت کی سزا مقرر کردے؟
اگر اگلی حکومت یہ ٹیسٹ پاس کرگئی تو ہم سمجھیں گے کہ وہ انقلابی حکومت ہے اور پاکستان کیلیے کچھ کرنا چاہتی ہے۔ اگر نئی حکومت نے بھی خاموشی اختیار کرلی اور آصف زرداری کے موجودہ مبہم بیانات کی طرح مبہم اقدامات کرتی رہی تو پھر ہم سمجھیں گے کہ ملک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور ریٹائرڈ جنرل صدر مشرف کی حکمت عملی کامیاب ہوگئی ہے اور بقول ان کے آخری مکا انہی کا ہوگا اور ہے۔
سابقہ روایات سے تو یہی پتہ چلتا ہے کہ نئی حکومت انقلابی اقدامات نہیں اٹھا پائے گی اور ہرکوئی سابقہ کنگز پارٹی کی طرح صرف اور صرف اپنے پیٹ پر ہی ہاتھ پھیرتا رہے گا۔ یعنی نگران وزیراعظم سومرو سینٹ کے چئیرمین سومرو کیلیے مراعات دینے کے اعلانات کا تسلسل جاری رہے گا۔ ان حالات میں دیکھنا یہ ہوگا کہ نواز شریف اور آصف زرداری ملک کو اس دفعہ ملکر کس طرح لوٹتے ہیں یا پھر چند دنوں بعد ہی کھیر جوتیوں میں بٹنا شروع ہوجاتی ہے۔
پٹرول مہنگا ہو تو ؟ ؟ ؟
Saturday, February 23rd, 2008ڈنمارک کا بائیکاٹ کریں
Saturday, February 23rd, 2008ڈنمارک نے جس طرح مسلمانوں کے جذبات سے کھلواڑ کیا ہوا ہے اس کے جواب تمام مسلم ممالک کو چاہیے کہ وہ احتجاجاََ وہاں سے اپنے سفیر واپس بلا لیں، مسلم امہ کو بھی چاہیے کہ وہ ڈنمارک کی پروڈکٹ کا بائیکاٹ کریں۔
یاد رہے کہ ڈنمارک کا پروڈکٹ کنٹری بارکوڈ (barcode) ٥٧٠ سے ٥٧٩ تک […]
آپے شاھ
Saturday, February 23rd, 2008aitzaz ahsan interview
Friday, February 22nd, 2008part 1
part 2
special thanks to pkpolitics
Random PostsNovember 10, 2006 — Xdrive (1)December 22, 2006 — Fast Video Download (1)October 25, 2007 — توجہ فرمائیں نہیں تو نہ فرمائیں (8)December 15, 2006 — New Presidential Coins (0)November 8, 2007 — صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف کی تقریر کا مکمل متن (4)December 18, 2006 — […]