Google

Archive for January, 2008

روغانی صاحب کے? مشورہ درکار ہے? کے جواب میں

Friday, January 25th, 2008

وقار علی روغانی نے “مشورہ درکار ہے” کے عنوان سے لگتا ہے ہم سمیت کچھ بلاگرز کو ای میل بھیجی اور شائع کرنے کی درخواست کی۔ ہم اسے اپنے بلاگ پر شائع کرنے ہی لگے تھے کہ بلاگر نعمان کے بلاگ پر اسے چھپا ہوا دیکھ لیا۔ اس طرح ہم نے اپنا ارادہ ترک کردیا۔ دوسرے وقار علی روغانی نے بھی اپنے بلاگ پر یہ شآئع کردیا۔

ہم لوگ اتنے مصروف ہوچکے ہیں کسی کو وقت ہی نہیں ملا کہ وہ روغانی صاحب کے دوست کو مشورہ دے سکے۔ ہم نے تو روغانی صاحب کے بلاگ پر مشورہ دیا مگر کسی وجہ سے وہ اگلے دن غائب تھا۔ نعمان صاحب کے بلاگ پر ابھی تک صرف ایک مشورہ شائع ہوا ہے۔

اب آئیے اصل بات کی طرف۔ روغانی صاحب کا دوست جو ان کا ہمزاد ہی لگتا ہے اپنے مستقبل کی منصوبہ بندی کیلیے ہم سے مشورہ نہیں بلکہ جو اس نے کرنا ہے اس کی تائید چاہتا ہے۔ یعنی وہ سمجھتا ہے کہ کاروبار اور باہر کی تعلیم کیلیے ڈھیر سارے پیسوں کی ضرورت پڑے گی جو اس کے پاس نہیں ہیں۔ اس طرح اس کے پاس دو ہی راستے بچتے ہیں۔ یعنی جرنلسٹ کے پیشے کو اپنائے اور اسی میں مزید تعلیم حاصل کرکے ترقی پائے۔ دوسرے امارات میں ہی اپنا کیریئر بنانے کی کوشش کرے۔

ہمارے خیال میں روغانی صاحب کو یا ان کے دوست کو جو ایک ہی کشتی کے سوار ہیں اپنے حالات کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنے میں دشواری پیش نہیں آنی چاہیے۔ انہیں چاہیے کہ وہ جلد سے جلد سادگی سے اپنی بہنوں کی شادی کردیں اور خود بھی کرلیں۔ ان کے بھائی کو چاہیے کہ وہ تعلیم کیساتھ ساتھ چھوٹی موٹی نوکری بھی شروع کردے۔ رہی بات روغانی صاحب کی تو یہ ان کی طبیعت پر منحصر ہے کہ وہ کس قسم کے پیشے یا کاروبار میں اپنے آپ کو فٹ سمجھتے ہیں۔ اگر وہ سجمھتے ہیں کہ وہ صحافت میں صرف چل نہیں سکتے بلکہ دوڑ لگاسکتے ہیں تو پھر انہیں اپنی سابقہ تعلیم کا فائدہ اٹھاتے ہوئے صحافت کے پیشے میں ہی ترقی کرنی چاہیے۔ لیکن اگر ان کا مزاج صحافت کے پیشے سے نہیں ملتا تو پھر انہیں نوکری کیساتھ ساتھ ایم بی اے کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں امید ہے ایم بی اے کرنے کے بعد انہیں اچھی نوکری بھی مل جائے گی اور اگر وہ بعد میں کاروبار بھی شروع کرنا چاہیں تو اس میں بھی کامیاب ہو سکتے ہیں۔

ہماری سب سے بڑی خرابی یہ ہے کہ ایک تو ہم جلدی میں ہوتے ہیں اور دوسرے خواب بہت دیکھتے ہیں۔ عقل مندی اسی میں ہوتی ہے کہ آدمی اپنے حالات کو دیکھتے ہوئے آگے بڑھنے کی جستجو کرے ناں کہ شیخ چلی کی طرح سوچتے سوچتے عمر گزار دے۔

ہمارے سامنے کئی مثالیں ہیں یعنی ہم نے بہت لوگ دیکھے ہیں جنہوں نے ترقی کی ہے مگر اس ترقی کیلیے انہوں نے اپنی زندگی کی کئی دھائیاں اپنی کامیابی کی بھینٹ چڑھائی ہیں۔

کامیابی کا سنہری نسخہ ہم نے اپنی ایک پوسٹ“جہدِ مسلسل” میں پہلے ہی بیان کر دیا ہے اور یہی طریقہ کارگر ہے باقی سب وقت کا ضیاع ہے۔

صدقہ

Thursday, January 24th, 2008

دنیا بڑی ظالم ہے۔ کوئی بھائی کا کیک میرے سر کر دیتا ہے تو کوئی باگڑ بلا پروں پر پانی نہیں پڑنے دیتا تو کوئی اس باگڑ بلے کو بنیاد بنا کر گفٹ نہ دینے کا کہتا ہے۔ کوئی کہہ دیتا ہے گفٹ بھیجنے کا خرچہ خود اٹھاؤ۔ اب ایسے تھوڑی ہوتا ہے؟ خیر میں […]

کریزی

Wednesday, January 23rd, 2008

وارننگ بچے مت پڑھیں۔

Random PostsJanuary 15, 2008 — عشق دی مستی (3)December 27, 2007 — تارے زمیں پر (3)June 3, 2007 — حور (9)December 23, 2006 — "Lips Of An Angel" (0)June 16, 2007 — حیران میں بھی ہوں (4)May 27, 2007 — youtube (4)September 11, 2007 — جوہڑ (2)July 10, 2007 — video […]

مشورہ درکار ہے !

Wednesday, January 23rd, 2008

ویبلاگز اب صرف ذاتی ڈائری نہیں رہے بلکہ اب یہ رابطے کا ذریعہ ہیں ۔ اسی کے توسط سے ہم ایک دوسرے سے آشنا ہوئے اور ایک دوسرے کی آرا سے باخبر بھی ہوتے ہیں ۔ آج میں اپنے تمام بلاگرز دوستوں کے سامنے اپنے ایک دوست کا کیس رکھ رہا ہوں جسے رہنمائی کی […]

امید کا فسانہ

Wednesday, January 23rd, 2008

امید آزادی ایک ایرانی بلاگر ہیں جو فارسی اور انگریزی میں لکھتے ہیں۔ ان دنوں یہ امریکی شہر اٹلانٹا کے ایک ہائی اسکول کے طالبعلم ہیں۔ انہوں نے شہید جمہوریت محترمہ کے بیٹے بلاول کے بارے میں ایک افسانہ لکھا ہے۔ یہ افسانہ جس کا عنوان بلاول کا جنون ہے امید نے اپنی ورلڈ لٹریچر […]

ذمہ دار

Wednesday, January 23rd, 2008

Protected: تماشہ

Wednesday, January 23rd, 2008

There is no excerpt because this is a protected post.

مشورہ درکار ہے !

Wednesday, January 23rd, 2008

یہ تحریر وقار علی روغانی نے لکھی ہے۔ اسے یہاں اس لئے شائع کیا جارہا ہے تاکہ آپ وقار کے دوست کو مشورہ دے سکیں۔ )
ویبلاگز اب صرف ذاتی ڈائری نہیں رہے بلکہ اب یہ رابطے کا ذریعہ ہیں ۔ اسی کے توسط سے ہم ایک دوسرے سے آشنا ہوئے اور ایک دوسرے کی آرا […]

کینیڈین امریکن جیوری نظام - آخری قسط

Wednesday, January 23rd, 2008

پہلے دن کی روداد آپ اس لنک “کینیڈین امریکن جیوری نظام - قسط اول” پر پڑھ سکتے ہیں۔

اس جیوری کی قسمت اچھی تھی کہ ایک ہی دن میں مقدمہ نمٹ گیا وگرنہ شروع میں تو جج نے یہ کہ کر ڈرا دیا تھا کہ یہ مقدمہ دو ہفتے تک چلے گا۔

آج جب جیوررز کو پورے دس بجے ان کے مخصوص کمرے میں بٹھایا گیا تو کورٹ آفیسر نے بتایا کہ جج مقدمے کے کچھ نقاط کو واضح کرنے میں لگے ہوئے ہیں اسلیے جیوررز کو تھوڑی دیر بعد بلایا جائے گا۔ جیوررز کو گیارہ بجے کمرے میں بلایا گیا۔ جج نےپہلے اس تاخیر پر معذرت کی۔ اس کے بعد بارہ جیوررز سےپوچھا کہ اگر آج بھی کسی کو جیوری میں بیٹھنے کے متعلق کوئی پرابلم ہے تو وہ بتائے۔ جب سب خاموش رہے تو جج نے متبادل دو جیوررز کو گھر جانے کی اجازت دے دی۔

جج نے ایک بار پھر جیوری کو مخاطب کرکے مقدمے میں جیوری کے رول کی تفصیل بتائی اور یہ بھی بتایا کہ مقدمے میں جیوری نے کن باتوں پر دھیان دینا ہے اور کن باتوں کو درگزر کرنا ہے۔ جج نے کہا کہ جیوری دونوں وکیلوں کی باتوں کو ثبوت تصور نہیں کرے گی۔ مقدمے کی خاص بات گواہوں کی گواہیاں اور پیش کردہ ثبوت ہوں گے۔ جج نے دوبارہ باور کرایا کہ جیوری کا کام ملزم کو گناہ گار یا بیگناہ ثابت کرنا ہے اور جج کا کام اس کیلیے سزا تجویز کرنا۔ جیوری نہ تو مقدمے کے بارے میں ادھر ادھر سے معلومات حاصل کرے گی اور نہ قانون کے لاگو ہونے یا نہ ہونے کی تحقیق کرے گی۔ جیوری صرف کامن سینس استعمال کرتے ہوئے یہ دیکھے گی کہ گواہوں کی گواہی قابل اعتبار ہے کہ نہیں اور جو ثبوت فراہم کئے گئے ہیں وہ کافی ہیں کہ نہیں۔

 اس کے بعد جج نے جیوری کو یہ کہ کر واپس بھیج دیا کہ انہیں ایک مسئلہ دونوں فریقین کے وکلاء سے ڈسکس کرنا ہے اور جیوری روم میں انتظار کرنے کو کہا۔ ساڑھے گیار بجے جیوری کو دوبارہ بلایا گیا اور بناں زیر بحث مسئلے کی بابت بات کئے جج نے جیوری سے ایک دفعہ پھر معذرت کی اور مدعی کے وکیل کو مقدمے کی اوپننگ سٹیٹمنٹ دینے کی اجازت دی۔

وکیل نے بتایا کہ اس کا موکل ایک ساٹھ سالہ اٹالین بوڑھا ہے جو چھ سال قبل کیوبا کروزشپ  پر سیر کرنے گیا۔ اس سیر کے دوران اس کی ملاقات اپنے سے تیس سال کم عمر ایک کیوبن لڑکی سے ہوئے اور وہ اسے شادی کرکے ساتھ لے آیا۔{ دراصل کیوبن لوگ امریکہ اور کینیڈا آنے کیلیے ہروقت بیتاب رہتےہیں اور وہ ہم پاکستانیوں کی طرح کوئی بھی حربہ استعمال کرنے سے نہیں ڈرتے۔ ہوسکتا ہے کیوبن لڑکی نے بھی اسی لیے بوڑھے سے شادی کی ہو} شادی کے ایک سال بعد ہی ان کے ہاں ایک لڑکی پیدا ہوئی۔ لیکن چونکہ ان کے ازدواجی تعلقات شروع سے ہی خراب رہے اسلیے دوسال بعد طلاق ہوگئی۔ دوسال قبل بوڑھے نے نئے سال کی پارٹی پر اپنی سابقہ بیوی کو اپنے گھر بلایا۔ دونوں نے پارٹی میں شراب پی مگر دھت نہیں ہوئے۔ شروع میں ہی ان کے درمیان تکرار شروع ہوگئی۔ بعد میں لڑکی صوفے پر سوگئی اور بوڑھے نے اسے اٹھا کر بیڈ روم میں ڈال دیا۔ بوڑھا لانڈری روم میں گیا اور پھر واپس اپنے بیڈ روم میں آگیا۔ اس دوران لڑکی اٹھی اور اس نے کچن سے چاقو پکڑا اور بوڑھے کے بیڈروم کی طرف چل پڑی۔ بوڑھے کے دوست نے لڑکی کے آنے کی اطلاع اسے دے دی۔ بوڑھے اور لڑکی کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی اور لڑکی نے بوڑھے کے سینے میں چاقو گھونپ دیا۔ بوڑھے کی قسمت اچھی تھی وہ بچ گیا۔

 وکیل نے اپنے گواہوں کی بابت بھی بتایا اور کہا کہ اس کا سب سے بڑا گواہ ڈاکٹر ہے جس نے اس کا علاج کیا۔ اس کے بعد پولیس آفیسر ہیں جنہوں نے کرائم سین کا معائنہ کیا۔

 وکیل نے جیوری سے درخواست کی کہ وہ صرف لڑکی کے بوڑھے کو حملہ کرکے زخمی کرنے کے عمل کا جائزہ لے اور بتائے کہ لڑکی نے جرم کیا یا نہیں۔

 جب وکیل اپنا بیان ختم کرچکا تو اس وقت کھانے کے وقفے میں پندرہ منٹ رہتے تھے۔ جج نے دونوں وکیلوں سے مشورے کے بعد ڈیڑھ گھنٹے کا کھانے کا وقفہ کردیا۔

جب جیوری کھانا کھا کر واپس آئی تو پھر اسے کمرے میں بٹھا دیا گیا۔ پونے گھنٹے بعد کورٹ آفیسر آیا اور اس نے جج کا پیغام دیا۔ کہنے لگا کہ جج ایک خاص مسئلے پر وکلاء سے بات کررہا ہے اور اگر جیوری چاہے تو گھر چلی جائے۔ جیوری نے فیصلہ کیا کہ وہ گھر نہیں جائے گی بلکہ ادھر ہی انتظار کرے گی تاکہ جو بھی کام نپٹ سکے نپٹا دیا جائے۔

 آدھے گھنٹے بعد جج نے جیوری کو دوبارہ عدالت میں بلایا اور افسردگی کیساتھ اعلان کی کہ لڑکی کے وکیل نے اس شک کا اظہار کیا ہے کہ لڑکی کو ان حالات میںفیئرٹرائیل ملنے کی امید نہیں ہے اور جج نے اس کی بات مان لی ہے۔ اسلیے جیوری کو برخواست کی جاتا ہے۔ جج نے بتایا کہ اس مقدمے کے بارے میں اب بعد میں فیصلہ ہوگا کہ یہ کب اور کہاں سنا جائے گا اور تب دوبارہ جیوری منتخب کی جائے گی۔

اس طرح جیوری جسے دوہفتے تک مقدمہ چلنے کی بات سنا کر ڈرا دیا گیا تھا آج ہی چھٹی ہونے پر خوش ہوگئی۔

بعد میں کورٹ کلرک نے جو لوگ چالیس کلومیڑ دور سے آئے تھے انہیں سفری الاؤنس دیا اور باقی جیوررز کو ملازمت کا خط دیا تاکہ ملازم لوگ یہ خط دکھا کر اپنی فرم سے ان دنوں کی پوری تنخواہ وصول کرسکیں۔

کیبل ٹی۔وی اور میں۔۔۔!

Wednesday, January 23rd, 2008

میں نے گھر میں یکم جنوری سے کیبل ٹی۔وی لگوایا ہے۔ سرکاری ٹی۔وی دیکھ دیکھ کر تنگ آگیا تھا۔ تھک ہار کر گھر لوٹتا تو اس پر وہی بوسیدہ پروگرام دیکھنے کو ملتے۔ اب ظاہر ہے کہ کیبل لگوانے کا کام میں نے کیا ہے تو اس کا خرچہ بھی میرے سر پر پڑا ہے۔ […]

خبراں تے تبصرے

Wednesday, January 23rd, 2008

Piece of Me

Wednesday, January 23rd, 2008

I’m Miss American Dream since I was 17
Don’t matter if I step on the scene
Or sneak away to the Philippines
They still gon put pictures of my derrière in the magazine
You want a piece of me?
You want a piece of me…I’m Miss bad media karma
Another day another drama
Guess I can’t see the […]

یہ دھواں دھواں سا رہنے دو

Tuesday, January 22nd, 2008

آج آپ اس گیت سے لطف اندوز ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گیت: یہ دھواں دھواں سا
فلم: تم سا نہیں دیکھا
آواز: روپ کمار راتھوڑ، شریا گوشال
ستارے: عمران ہاشمی، دیا مرزا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دھواں دھواں سا رہنے دو
مجھے دل کی بات کہنے دو
میں پاگل دیوانہ تیرا
مجھے عشق کی آگ میں جلنے دو
ہے ہے ہے۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔ ہے ہے ہے ہے۔۔۔۔!
مجھے چھوگئی […]

یہ دھواں دھواں سا رہنے دو

Tuesday, January 22nd, 2008

آج آپ اس گیت سے لطف اندوز ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گیت: یہ دھواں دھواں سا
فلم: تم سا نہیں دیکھا
آواز: روپ کمار راتھوڑ، شریا گوشال
ستارے: عمران ہاشمی، دیا مرزا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ دھواں دھواں سا رہنے دو
مجھے دل کی بات کہنے دو
میں پاگل دیوانہ تیرا
مجھے عشق کی آگ میں جلنے دو
ہے ہے ہے۔۔۔ ہا ہا ہا۔۔۔ ہے ہے ہے ہے۔۔۔۔!
مجھے چھوگئی […]

شفاف انتخابات

Tuesday, January 22nd, 2008

یورپین عدالتی جیوری نظام

Tuesday, January 22nd, 2008

امریکہ کینیڈا سمیت یورپ میں عدالتوں میں جیوری کا نظام بہت پہلے سے نافذ ہے۔ اس نظام کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جج کی بجائے مقدمے کا فیصلہ عام پبلک سے چنے ہوئے چھ سے بارہ افراد کرتے ہیں اور جج صرف سزا سناتا ہے۔ اس طرح کرپشن ہونے کے چانسز کم ہو جاتے ہیں۔ یعنی نہ تو ایک آدمی فیصلے کرنے کا مجاز ہوتا ہے جسے آسانی سے خریدا جاسکے اور دوسرے ہرمقدمے میں جیوری مختلف ہوتی ہے اور جیوری کے ممبران شہر کے ہر کونے سے بلائے ہوئے افراد میں سے منتخب کئے جاتے ہیں۔ اس طرح مقدمے کےفریق نہ تو اس قابل ہوتے ہیں کہ وہ جیوری کے سارے ممبران کی سفارش ڈھونڈ سکیں اور نہ ہی رشوت کیلیے انہیں اپروچ کرسکیں۔

 جیوری ڈیوٹی کیلیے حاضر سروس لوگوں کو ان کی کمپنیاں چھٹی دیتی ہیں۔ اگر اس ملک کا شہری جیوری ڈیوٹی کیلیے بلائے جانے پر کورٹ میں حاضر نہ ہو تو اسکیلیے بھی قانون میں سزا رکھی گئی ہے۔

آئیں ہم آپ کو اس ہفتے ایک عدالتی مقدمے کی کاروائی سنانے ایک عدالت میں لیے چلتے ہیں۔ آپ اس مقدمے کے فیصلہ سنائے جانے تک ہمارے ساتھ رہیں گے اور آپ کو نقدنے کی کاروائی کا آنکھوں دیکھا حال ساتھ ساتھ سنایا جاتا رہے گا۔

آج جیوری کا انتخاب ہونا تھا۔ لوگ صبح سے ہی سخت ٹھٹرتی سردی میں کورٹ کے دروازے پر لائن میں لگے ہوئے تھے۔ پہلے سب لوگوں کی سکیورٹی کلیئرنس ہوئی اور سو سے زیادہ لوگوں کو ایک کورٹ روم میں بٹھا دیا گیا۔ اس دوران ٹی وی پر ایک وڈیو کے ذریعے جیوری ڈیوٹی کے فوائد گنوائے گئے اور جیوری سلیکٹ کرنے کا طریقہ بتایا گیا۔ سب سے بڑا فائدہ یہی بتایا گیا کہ جیوری کی ڈیوٹی دے کر جیورر کورٹ سسٹم کو سمجھتا ہے اور انصاف میں مدد کرتا ہے۔

 اپنے وقت پر جج کمرے میں داخل ہوا تو تمام حاضرین ادب سے کھڑے ہوگئے۔ جج نے تعارف کے بعد تین مقدمات کے سلسلے میں جیوری چننے کی اطلاع دی۔ دومقدے کریمینل تھے اور ایک سول لا سوٹ تھا۔ کریمینل کیلیے بارہ بارہ جیوری ممبر کا چناؤ ہونا تھا اور سول لا سوٹ کیلیے چھ کا۔

کورٹ میں بیٹھے تمام امیدواروں کو باور کرایا گیا کہ ایک آدمی کی زندگی اور اس کے مستقبل کا فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا اور آپ ایک جج کی طرح ہی اس مقدمے کو سنیں گے۔ یہ آپ پر منحصر ہوگا کہ آپ کتنے خلوص اور لگن سے اس مقدمے کو سنتے اور پھر اس کا فیصلہ سناتے ہیں۔ متوقع جیورر کو بھی بتایا گیا کہ مقدمہ سننے اور فیصلہ دینے کیلیے آپ کو قانون جاننے کی ضرورت نہیں، آپ صرف اپنا کامن سینس استعمال کرتے ہوئے فیصلہ دیں گے اور جج قانون کے مطابق سزا سنائے گا۔

جج نے بتایا کہ اگر منتخب ہونے والا جیورر مقدمے میں شامل فریق یا ان کے گواہوں کا جاننے والا نکلے تو جج کو بتا دے۔ اسی طرح اگر جیورر کا مذہب اسے جیوری میں بیٹھنے سے روکتا ہے تو وہ بھی بتا دے۔ اگر منتخب شدہ جیورر کسی پولیس آفیسر، عدالتی آفیسر یا سرکاری ملازم کا رشتہ دار ہے تو وہ اطلاع کرے تاکہ اسے منتخب نہ کیا جائے۔

جج کے حکم پر عدالت میں حاضر تمام افراد میں سے پہلے مقدمے کیلئے بیس افراد کے نام پرچی سسٹم سے پکارے گئے۔ جس جس کو کوئی مجبوری تھی جج نے اسے ایکسکیوز کردیا اور اس طرح پہلے مرحلے میں آٹھ جیورر منتخب ہوئے۔ ہر جیورر کے بارے میں پہلے دونوں پارٹیوں کے وکلاء سے پوچھا گیا اور پھر جس جس کو کلیئرنس ملی اس سے بائبل پر حلف لیا گیا۔ جس پر وکلاء نے اعتراض کیا انہیں اگلے مقدمے میں چننے کیلئے دوبارہ کورٹ میں بیٹھنے کا حکم میں ملا۔

 ایک چائنیز نے انگریزی کو مادری زبان نہ ہونے کی مجبوری گنوائی اور جج نے اسے چھوڑ دیا۔ اسی طرح کسی نے بیوی کی بیماری کا بتایا، کسی نے خاندان کا واحد کفیل ہونے کی بات کی اور کسی نے طالبعلم  بتایا اور جج نے انہیں جانے کی اجازت دے دی۔ اس طرح دو تین مرحلوں میں پہلے مقدمے کیلیے بارہ جیورر اور دو متبادل منتخب کیے گیے۔ متبادل جیورر کو کل بتا دیا جائے گا کہ پہلے بارہ جیورر میں سے کوئی غیرحاضر تو نہیں۔ اگر کوئی بھی غیرحاضر نہ ہوا تو پھر انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی جائے گی۔

جج کے پوچھنے پر دونوں طرف کے وکیلوں نے بتایا کہ یہ مقدمہ زیادہ سے زیادہ چار دن تک چلے گا۔ اس مقدمے میں ایک آدمی نے ایک عورت کیخلاف مقدمہ درج کرایا ہوا ہے کہ عورت نے اسے پیٹا۔ آج یہ پتہ نہ چل سکا کہ کالی عورت کا مدعی کیساتھ کیا رشتہ ہے۔

پھر جیورر کو دوسرے کمرے میں بٹھادیا گیا تاکہ ان کے فون نمبر نوٹ کئے جاسکیں۔ وہ اسلیے کہ اگر جج مقدمے کی کاروائی موخر کرتا ہے تو جیورر کو بروقت اطلاع دی جاسکے۔ آخر میں جیورر کو کل دس بجے حاضر ہونے کا وعدہ لے کر کورٹ آفیسر کورٹ سے باہر چھوڑ گیا۔

باہر چھوڑنے سے پہلے کورٹ آفیسر نے سب کو بتایا کہ جیورر کو اس عوامی خدمت کے بدلے میں کچھ نہیں ملے گا۔ جیورر کھانا بھی اپنا کھائیں گے البتہ ان کی گاڑیوں کی پارکنگ کیلے پاس انہیں کل دیے جائیں گے۔

سالگرہ

Monday, January 21st, 2008

بہت سے لوگوں کو میری سالگرہ یاد نہیں ہوتی۔ میں نے اس کی کبھی پرواہ بھی نہیں کی۔ وجہ اس کی صرف اتنی ہے کہ مجھے لوگوں کی سالگرہ یاد نہیں رہتی۔ میرے کچھ دوست تو بہت شدید ناراض ہوئے تھے کہ مجھے یاد نہیں رہا تھا۔ لطیفہ تو ایک دفعہ ایسے ہوا کہ میں […]

سالگرہیں۔

Monday, January 21st, 2008

جیسا کہ سب جانتے ہیں پچھلے کچھ دنوں سے بدتمیز کا دماغ پھرا ہوا ہے۔ اور پاگل پن کی نشانیاں سب کو ہی دکھائی دے رہی ہوں گی۔ قدیر نے بدتمیز کا اخیر کرنے کا سوچا تو میں نے اس سلسلے کو پھر سے شروع کرنے کا سوچ لیا۔ نہیں نہیں۔۔ایسی حماقت میں کبھی نہیں […]

اللّہ میاں تھلے آ !

Monday, January 21st, 2008

اللّہ میاں تھلے آ
اپنی دنیا ویہندا جا
یا آسمانوں رزق وِرھا
یا فِر کر جامُک مُکا
تینوں دھی ویاہنی پیندی
نانکی چھک بنانی پیندی
رُسی بھین منانی پیندی
لتھ جاندے سب تیرے چاء
اللّہ میاں تھلے آ
دھیاں نوں توں جمنے دیندوں
کُڑماں دے تُوں طعنے سہندوں
نال شریکاں کدی نا بہندوں
مٹی جاندی کپڑے کھا
اللّہ میاں تھلے آ
تیرے گھر نہ دانے ہُندے
پاٹے لیف پرانے ہندے
کملے […]

کیا سندھ میں ہنگامہ آرائی لسانی بنیادوں پر ہوئی؟

Monday, January 21st, 2008

(ایک دفعہ پھر بی بی سی کو تکلیف دینی پڑی ہے جانے ہمارا قومی میڈیا ان احساسات کو اجاگر کیوں نہیں کرتا)
ستائیس دسمبر کو جب بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد صوبہ سندھ شدید ہنگامہ آرائی کی لپیٹ میں تھا، اس وقت کراچی سے پشاور جانے والی پاکستان ایکسپریس کے ڈرائیور نے ٹرین کو محرابپور […]

جوتی چرانے کی رسم

Monday, January 21st, 2008

اس موقع پر دولہا کی سالیاں اپنے برادر ان لاء کو جوتیاں اتار کر بیٹھنے پر زور دیتی ہیں، چنانچہ جب وہ جوتیاں اتارتا ہے تو موقع پا کر یہ سالیاں جوتیاں غائب کر دیتی ہیں۔ بعد میں اس جوتی کی واپسی کیلیے دولہا کو منہ مانگی رقم ادا کرنا پڑتی ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ جوتی چرانے کی یہ رسم  شادی بیاہ کے علاوہ ہر جمعے کو مسجدوں کے باہر بھی ادا کی جاتی ہے۔ اور یہ رسم سالیاں ادا نہیں کرتیں۔ ممکن ہے یہ رسم سالے اد کرتے ہوں۔ تاہم میں نے اس ضمن میں کوئی تحقیق نہیں کی۔

[عطاالحق قاسمی کی قند مکرر سے اقتباس]

Geo Musharraf

Monday, January 21st, 2008

A man goes for fishing, catches a big fish, comes home and asks his wife to cook the fish. Wife says she can’t as there is no gas, no electricity, no floor & no cooking oil to fry it in. Man goes and puts the fish back in the river. Fish comes up to the […]

دلچسپ ملک

Monday, January 21st, 2008

اس ملک میں حمود الرحمان کمیشن نام لے لے کر ذمہ دار ٹھہراتا ہے کہ فلاں کا مشرقی پاکستان میں یہ کردار تھا، فلاں نے یہ کیا اور فلاں نے کس کس موقع پر انتہائی غیر ذمہ داری کا ثبوت دیا۔لیکن ہوا کیا۔کچھ ملزم خاموشی سے ریٹائر ہوگئے۔کچھ وزیر یا سفارتکار بن گئے اور کچھ […]

میرا تعارف

Sunday, January 20th, 2008

میں ایک عرصہ سے زمین پر اپنے اہل و اقارب کے لئے درد سری بنا ہوا ہوں۔ ہر سال میری عمر، شیطانی اور زدگان یعنی عزیزوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اب ایک سال اور تمام ہوا لہذا سوچا جو لوگ مجھے نہیں جانتے ان کی سہولت کے لئے اپنا تعارف کروا دوں۔ بجائے اپنے […]

مصروفیت

Sunday, January 20th, 2008

آجکل میں معصوم بہت مصروف ہوں۔ اس لیے نیٹ سے واسطہ کم ہی پڑ رہا ہے۔ اور مسنیجر پر بھی آنا کم ہو رہا ہے کہ وقت کم ہوتا ہے، اگر میں باتیں کرنا شروع کرتی ہوں تو پھر بس شروع ہی ہو جاتی ہوں۔
شب نے مجھے اتنے عرصے سے ہینڈ رائٹنگ کا کہا ہوا ہے۔ […]

بریانی

Sunday, January 20th, 2008

:D ان کے لیے ۔۔جن کو ابھی تک بریانی بنانی نہیں آتی۔
 
- گوشت (مرغی، گائے، بکرا) : - ایک کلو
- باسمتی چاول : - 500 گرام (30 منٹ تک پانی میں بھگو دیں۔)
- پیاز باریک کتری ہوئی : - 4 عدد
- کوکنگ آئل : - ڈیڑھ کپ (250 گرام)
- ٹماٹر کٹے ہوئے : - تین سے […]

Sunday, January 20th, 2008

شاکر کے ورڈپریس کا ترجمہ مکمل کردینے کے اعلان کے بعد، اب نعمان کی ڈائری کے پس پردہ اردو ورڈپریس چل رہا ہے۔ اور بہت مزہ آرہا ہے۔

تصویری جهلکیاں

Sunday, January 20th, 2008

اصلی بمقابلہ نقلی کربلا

Sunday, January 20th, 2008

حضرت امام حسین نے یزید کے ہاتھ پر بیت نہ کرکے ظالم کے آگے نہ جھکنے کی جو روایت قائم کی اسے بعد میں بہت کم لوگوں نے اپنایا۔ آجکل تو مسلمانوں کی اکثریت دن تو حضرت امام حسین کی شہادت کا مناتی ہے مگر عملی طور پر یزید کی پیروکار ہے۔ یزید نے حق کو دبایا اور ہم لوگ بھی حق کو دباتے ہیں۔ غریب کو اس کا حق نہیں دیتے، سرکاری کام رشوت کے بغیر نہیں کرتے، اپنی باری کا انتظار نہیں کرتے اور مرغي خانوں اور سبزیاں کاشت کرنے کے بہانے سرکاری زمینوں پر قبضہ کئے بیٹھے ہیں۔ ہماری حکومتیں بھی یزیدی حکومتیں ہیں اور ہم لوگ بھی یزید کے ماننے والے۔

اگر آج کے دور کا یزیدی دور سے موازنہ کیا جائے توہمارا نقطہء نظر بالکل واضح ہوجائے گا۔ حضرت امام حسین کی یاد میں ہم محرم کے مہینے میں سوگ مناتے ہیں اور حسینی بن جاتے ہیں مگر سال کے باقی گیارہ مہینے ہم حضرت امام حسین کے اقوال کو پاؤں میں روندتے رہتے ہیں۔ حصرت امام حسین کا ارشاد ہے کہ ظالم کے ہاتھ پر بیت نہ کرو اور ہم قانون توڑنے اور غیرملکی آقاؤں کے مفادات کا خیال رکھنے والی حکومت کے ہاتھ پر بیت کیے بیٹھے ہیں۔ حضرت امام حسین نے کبھی کسی پر ظلم نہیں کیا اور ہم ہر اس لاغر پر ظلم کرتے ہیں جو مزاحمت کی طاقت نہیں رکھتا۔ حضرت امام حسین نے ظالم کے ظلم کو للکارا اور ہم حکومت کے ہرستم کوخاموشی سے برداشت کررہےہیں۔ آٹا ختم کوئی بات نہیں، گھی ختم کوئی بات نہیں، گیس ختم کوئی بات نہیں، بجلی ختم کوئی بات نہیں۔ اتنے بحرانوں میں چپ رہ کر ہوسکتا ہے ہم حضرت امام حسین کے اس قول کا دفاع کررہے ہوں جس میں ان کا پانی بند کردیا گیا اور انہوں نے بھی مزاحمت نہ کی۔ لیکن یاد رکھیں یزید کا ظلم پانی بند کرنے کی حد تک نہیں ہوتا وہ آپ کو آخری حد تک لے جاتا ہے جہاں سوائے شہادت کے کوئی چارہ نہیں رہتا۔ اسلیے خوراک اور بنیادی ضرورتوں کے بحران تک ظالم رکنے والا نہیں۔ ابھی یزید نے آپ کو قتل کرنا ہے اور چین کا سانس لینا ہے۔

جھوٹ فریب لالچ دھوکہ فراڈ یہ سب حضرت امام حسین کے نہیں یزید کے اقوال ہیں اور یہی ہم آجکل اپنائے ہوئے ہیں۔ ہاں محرم کے مہینےمیں ہم حضرت امام حسین جیسی شکل بنانے کی کوشش کرکے سوگ منا کر سمجھتے ہیں کہ ہمارا فرض پورا ہوگیا اور ہم جنتی ہوگئے مگر باقی سال یزیدی شکل میں یزید ہی کے اقوال اپنا کر ہم دوزخ کماتے رہتے ہیں۔

اب زمانہ بدل چکا ہے اور زبانی کلامی سوگ سے یزید کی حکومت ختم ہونے والی نہیں۔ ہمیں حضرت امام حسین کے پیغام کے ایک ایک لفظ کو غور سے سمجھنا ہوگا او یزیدیت کی پیروی چھوڑنی ہوگی۔ لیکن یہ کام کل بھی مشکل تھا اور آج بھی مشکل ہے۔ حلال کمانا پہلے بھی آسان نہیں تھا اور آج بھی آسان نہیں ہے۔ حضرت امام حسین کی پیروی کیلیے دکھ جھیلنے پڑیں گے اور یزید کی پیروی ترک کرنے کیلیے بہت سی جسمانی اور مالی قربانیاں دینی پڑیں گی جو آج کے مسلمان کے لیے اتنا ہی مشکل بلکہ ناممکن ہے جتنی پانی کے بغیر زندگی۔

ونڈوز جینوئن ایڈوانٹیج(WGA) کی سردردی سے نجات

Sunday, January 20th, 2008

آپ پاکستانی ہیں؟ میں 99 فیصد یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ اگر آپ اس وقت ونڈوز خدمتگار نظام(Operating System) استعمال کر رہے، تو یہ چوری شدہ نسخہ ہو گا۔اگر آپ ونڈوز اپ ڈیٹس یا دوسرے مائیکروسافٹ کے سافٹ وئیرز ڈاؤن لوڈ کر کے انسٹال کرتے رہتے ہیں تو عین ممکن ہے کہ آپ کا […]