Google

Archive for January, 2008

گو اوبامہ کہ نو اوبامہ

Thursday, January 31st, 2008

تم نے صدر کا سٹیٹ آف دی یونین خطاب سنا؟
میں نے کہا نہیں مجھے وہ ناپسند ہے۔ وہ ہمارے ملک کے لئے اچھا نہیں۔
اس نے فورا منہ بنا لیا۔ اس عورت کی میں اکثر مدد کرتا رہتا تھا۔ وہیل چئیر پر بیٹھی ہوتی ہے۔ سارا دن اس پر ادھر ادھر گھومتی ہے۔ سفید فام […]

خُود کُش بمبار ۔ خبریں اور تصریحات

Thursday, January 31st, 2008

بدتہذیب

Thursday, January 31st, 2008

ہم بے چارے معصوم پاکستانی۔۔۔ جب دنیا بھر کے لعن و طعن کا نشانہ بنتے ہیں تو بھڑکتے ہیں، چینختے ہیں، ہنگامہ کرتے ہیں لیکن حرکتیں وہی بے پڑھے لکھے لوگوں یا بد تہذیبوں جیسی کرتے ہیں۔ ہم سب کو اس بات کا احساس کرنا چاہئے کہ جب تک ہم اپنے اعمال نہیں سدھاریں گے، […]

کیسے کیسے لوگ - طاقت ہی خدا ہے

Thursday, January 31st, 2008

ہمارے ایک دوست جو سکول ٹیچر ہیں نے جب اپنی آپ بیتی سنائی تو ہمیں جاوید چوہدری کے سابق وزیر قانون افتخار گیلانی پر لکھے ہوئے دو تازہ کالم یاد آگئے۔ افتخار گیلانی کو پچھلے ہفتے جب اے ایس پی نے اپلائیڈ فار گاڑی چلاتے ہوئے روکا اور کاغذات مانگے تو افتخار گیلانی نے کاغذات دکھانے کی بجائے اسے چند روز بعد ٹرانسفر کرادیا۔ یعنی افتخار گیلانی قانون پر عملدرآمد کرانے والے کیخلاف جتنی طاقت استعمال کرسکتے تھے انہوں نے کرلی۔

ہمارے دوست کے ایک قریبی دوست کے بھائی کو چند سال قبل قرض کی ضرورت پڑی تو اس نے اپنے بھائی کی سفارش پر دوست کی سرکاری ملازمت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کی ضمانت پر پانچ لاکھ روپے بنک سے قرض اٹھا لیا۔ بڑے ناقرض دہندگان کی طرح وہ بھی قرض لے کر بھول گیا۔ جب مشرف کی حکومت آئی تو اس فوجی حکومت نے بھی اپنے پیشرو حکمران جنرلوں کی طرح دکھاوے کیلیے قرض کی وصولی کی مہم شروع کردی۔ بڑی مچھلیاں تو لوٹے بن کر حکومت میں شامل ہوگئیں اور ان کے قرض معاف ہوگئے مگر چھوٹی مچھلیوں کی شامت آگئی۔

جب بنک والوں کے ہاتھ قرض لینے والا نہ آيا تو انہوں نے پولیس کی مدد سے ہمارے دوست کو پکڑا اور تھانے لے گئے۔ تھانیدار شریف آدمی تھا اس نے جب دیکھا کہ ماسٹر قرض نہیں دے پائے گا تو اس نے اسے اس شرط پر چھوڑ دیا کہ وہ اصل مقروض کو پولیس کے حوالے کرے گا۔ تھانیدار نے اسے تین دن کا وقت دیا۔

 دو دن تو مقروض کو ڈھونڈتے اور اسے مناتے گزر گئے کہ وہ قرض ادا کردے یا پھر تھانے چلے تاکہ دوست کی جان چھوٹ جائے۔ جب اس نے دیکھا کہ مقروض تو پروں پر پانی نہیں پڑنے دے رہا تو تیسرے دن اس نے تنگ آ کر شہر کے ایک بدمعاش طاہری شاہ سے رابطہ کیا۔ یہ بدمعاش شہر کے بڑے بدمعاش سابق ایم این اے منظور شاہ کا بھتیجا تھا۔ دراصل اس واقعے سے کچھ عرصہ قبل ہمارا دوست ان بدمعاشوں کے گھر ٹیوشن پڑھایا کرتا تھا اور طاہری شاہ بھی اس کا شاگرد تھا۔ طاہری شاہ نے اسے کہا ماسٹر جی آپ جاکر مقروض کو تلاش کریں اور پھر ہمیں اطلاع کردیں۔

 مقروض ہمارے دوست کو ایک دکان پر مل گیا اور اس نے اپنے شاگرد کو اطلاع کردی۔ طاہری شاہ اپنے چند دوستوں کیساتھ گاڑی میں وہاں پہنچ گیا۔ انہوں نے مقروض کو ہاتھوں اور ٹانگوں سے پکڑا اور مردے کی طرح گاڑی میں پھینک دیا۔ مقروض نے بہت منتیں کیں مگر طاہری شاہ نے کہا کہ اب بات تھانے جاکر ہی ہوگی۔ تھانے جاکر طاہری شاہ نے اپنا تعارف کرایا اور تھایندار سے کہا کہ آپ کا ملزم حاضر ہے اور اسے تب چھوڑنا جب یہ قرض کی ساری رقم واپس کردے۔ مقروض چند روز تھانے رہا اور رقم دے کر رہا ہوا۔

دوست کہنے لگا کہ میرے لیے تو بدمعاش طاہری شاہ ہی اچھا تھا جس نے بروقت میری مدد کی۔ اگر وہ نہ ہوتا تو میں ساری عمر کورٹ کچہری کے چکر لگاتا رہتا اور جان پھر بھی نہ چھوٹتی۔ دوست کی بدقسمتی کہ طاہری شاہ اپنے کرتوتوں کی وجہ سے جلد ہی قتل ہوگیا۔ وہ کیسے قتل ہوا یہ پھر سہی۔

آخ کل پاکستان میں یہی مانا جاتا ہے کہ خدا وہی ہے جس کے پاس طاقت ہے۔ بغیر طاقت کے غریب کی کوئی نہیں سنتا۔ لوگ بدمعاشوں کو اس لیے اچھا کہتے ہیں کہ وہ بروقت ان کے کام آجاتے ہیں۔ کوئی بھی موجودہ سسٹم پر اعتبار نہیں کرتا کیونکہ پاکستان میں انصاف نام کی چیز ہے ہی نہیں۔ 

انصاف حاصل کرنے کیلیے جس طرح طاقت ناگزیر ہوچکی ہے اسی طرح موجودہ سسٹم کو بدلنے کیلیے بھی عوامی طاقت کی طاقت کی ضرورت ہے۔ جب تک لوگ خود سسٹم کو بدلنے کیلیے باہر نہیں نکلیں گے طاقت ہی خدا بنی رہے گی۔

دوہرے معیار

Thursday, January 31st, 2008

چوبرجی لاہور سے مینار پاکستان جاتے ہوئے جہاں سے ملتان روڈ دو حصوں میں بٹتی ہے ایک حصہ مینار پاکستان کو چلا جاتا ہے دوسرا ریلوے اسٹیشن کی طرف نکل جاتا ہے۔ اس جگہ سیکنڈ ہینڈ دروازے کھڑکیاں فروخت ہوتی ہیں۔ 1990 کے آس پاس اس جگہ ایک بورڈ تھا۔ لکھا ہوتا تھا
رشوت […]

گلوبل سائنس بند ہونے کے دہانے پر

Wednesday, January 30th, 2008

محسن حجازی کی یہ دردمندانہ اپیل ابھی ابھی نظر سے گزری ہے اور سخت تشویش لاحق ہو گئی ہے۔ اس لیے جو محسن نے لکھا ہے وہ من و عن ہی شائع کر رہا ہوں اور سب اردو سے محبت کرنے والوں سے درخواست ہے کہ وہ بڑھ چڑھ کر گلوبل سائنس کی مدد کریں۔ […]

احسان تمہارا

Wednesday, January 30th, 2008

جون/ جولائی میں انٹرمیڈیٹ کے امتحانات ہوئے تھے، میں نے سال اول کے پرچے دیے۔ نتائج کا انتظار کرتے کرتے دسمبر آگیا اور تب اعلان ہوا۔ ابتداء میں ویب سائٹ پر صرف یہ بتایا گیا کہ کسی رول نمبر والا کتنے پرچوں میں کامیاب ہوا ہے۔ میں نے بے تابی سے اپنا نتیجہ دیکھا تو […]

صدرمشرف کا دورۂ یورپ - قومی سرمائے کا ضیاع

Wednesday, January 30th, 2008

ہم صدرمشرف کے یورپی دورے کو قومی سرمائے کا ضیاع ہی کہیں گےکیونکہ انہوں نے اس دورے میں نہ تو کوئی تجارتی معاہدہ کیا اور نہ ہی پاکستانیوں کیلیے کوئی رعایت حاصل کی۔ اگر دیکھا جائے تو صدر مشرف نے اپنا دورِ حکمرانی اپنے آقا صدربش کی طرح صرف دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑتے ہوئے گزارا ہے اور ابھی تک گزار رہے ہیں۔

 صدر مشرف کو یورپی دورے کی تمام پریس کانفرنسوں میں اپنے سابقہ اقدامات کا دفاع کرنا پڑا لیکن وہ اس میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ جب ان پر چبھتا ہوا سوال داغا جاتا تو وہ سول صدر کی بجائے فوجی صدر کی شکل میں دفاع کرتے ہوئے نظر آتے۔ انہوں نے بہت سارے سوالات کے جوابات غلط دیے یعنی انہوں نے دھڑلے سے جھوٹ بولا۔

جب صحافی ضياالدین نے پاکستانی راشد رؤف کے جیل سے بھاگ جانے کے متعلق سوال کیا تو صدر مشرف اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور صحافی پر برس پڑے۔ اسی طرح ان سے جب انسانی حقوق، قانونی عملداری اور شفاف انتخابات کے متعلق پوچھا گیا تو وہ کوئی واضح جواب دینے کی بجائے الٹے نامہ نگاروں سے پوچھتے نظر آئے کہ بتاؤ میں کیا کروں۔ انہوں نے ایسے صحافیوں کی ٹھکائی کا بھی مطالبہ کیا جو ان کی نظر میں ملکی مفادات کیخلاف لکھتے ہیں۔

قانون کی دھجیاں جس طرح صدر مشرف نے اڑائی ہیں ان کا دفاع کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کا دفاع کرپائے۔ کالم نگار جاوید چوہدری نے سچ لکھا ہے کہ ہرکوئی پاکستان میں قانون توڑنے پرفخر کرتا ہے اور جتنا زیادہ کسی کے اختیار میں ہے وہ اتنی بڑی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ سابق وزیر قانون افتخار گیلانی سے جب اے ایس پی نے اپلائیڈ فار گاڑی کے کاغذات مانگے تو اگلے دن اس کی ٹرانسفر کرادی گئی کیونکہ ان کے اختیار میں اتنا ہی تھا۔ صدر مشرف کیونکہ زیادہ بااختیار تھے اسلیے انہوں نے ججوں کو ہی برطرف کردیا۔

صدرمشرف کو ہرجگہ ایٹمی اثاثوں کے بارے میں چبھتا ہوا سوال سننا پڑا۔ اچھا ہوتا اگر وہ اس سوال کا جواب اس طرح دیتے کہ پاکستان ایک ملک ہے کوئی چھوٹا سا جزیرہ نہیں جہاں پر ڈاکوؤں کے راج کی بجائے ایک حکومت قائم ہے اور جس کے پاس لاکھوں کی تعداد میں فوج ہے۔ کبھی کبھی تو ہمیں خود حیرانی ہوتی ہے کہ یورپ نے ایٹمی اثاثوں کو اتنا بڑا ایشو کیوں بنایا ہوا ہے۔

صدرمشرف نے اسرائیلی وزیردفاع سے خفیہ ملاقات کی اور اس کی تفصیل بتانے سے بھی گریز کیا۔ پھر انہوں نے اپنے ہم منصب کی بجائے ایک وزیر سے غیرطے شدہ ملاقات کرکے پاکستان کیلیے شرمندگی کا باعث بنے۔

صدر مشرف نے الطاف بھائی، برگیڈیئر نیاز اور اپنے سابق وزیراعظم شوکت عزیز سے بھی فضول میں ملاقات کی۔ الطاف بھائی سے ملاقات کرکے انہوں نے اپنی غیرجانبداری مشکوک بنا دی۔ برگیڈیئر نیاز سے ملاقات کرکے انہوں نے اس شک پر مہر لگا دی کہ ان کے پس پردہ نوازشریف سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔

صدر صاحب نے اپنے دورے کے دوران مہنگائی کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بھی جھوٹ بولا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب بھی اشیائے ضرورت دوسرے ممالک سے کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ اس جھوٹ کا پول روزنامہ ایکسپریس نے دوسرے ممالک سے پاکستانی قیمتوں کا موازنہ کرکے کھول دیا۔

صدر مشرف نے اپنی غیرمقبولیت کو بھی ماننے سے انکار کردیا اور سرویز کو ماننے کی بجائے خود سے اپنی مقبولیت کو جاننے کا انوکھا خیال پیش کیا۔ 

اچھا ہوتا اگر صدر مشرف اس دورے کے دوران فرانس کے صدر اور انگلینڈ کے وزیراعظم سے پاکستانیوں کے لیے مراعات حاصل کرتے اور کچھ معاہدوں پر دستخط کرتے۔ مگر چونکہ ان کا یہ دورہ پاکستان کیلیے نہیں بلکہ اپنی ساکھ بحال کرنے کیلیے تھا اسلیے انہوں نے ساری توجہ صرف اپنے اوپر ہی دی جوکہ خودغرضی کے زمرے میں آتی ہے۔ صدر صاحب کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حکمرانوں کی خودغرضی ان کے اپنے ملک کیلیے انتہائی نقصاندہ ہوتی ہے۔  خدا صدر صاحب کو عقل سلیم دے تاکہ وہ “سب سے پہلے میں” کی بجائے “سب سے پہلے پاکستان” کے نعرے پر عمل درآمد کرسکیں۔

صدرمشرف کا دورۂ یورپ - قومی سرمائے کا ضیاع

Wednesday, January 30th, 2008

ہم صدرمشرف کے یورپی دورے کو قومی سرمائے کا ضیاع ہی کہیں گےکیونکہ انہوں نے اس دورے میں نہ تو کوئی تجارتی معاہدہ کیا اور نہ ہی پاکستانیوں کیلیے کوئی رعایت حاصل کی۔ اگر دیکھا جائے تو صدر مشرف نے اپنا دورِ حکمرانی اپنے آقا صدربش کی طرح صرف دہشت گردی کیخلاف جنگ لڑتے ہوئے گزارا ہے اور ابھی تک گزار رہے ہیں۔

 صدر مشرف کو یورپی دورے کی تمام پریس کانفرنسوں میں اپنے سابقہ اقدامات کا دفاع کرنا پڑا لیکن وہ اس میں بھی کامیاب نہیں ہوئے۔ جب ان پر چبھتا ہوا سوال داغا جاتا تو وہ سول صدر کی بجائے فوجی صدر کی شکل میں دفاع کرتے ہوئے نظر آتے۔ انہوں نے بہت سارے سوالات کے جوابات غلط دیے یعنی انہوں نے دھڑلے سے جھوٹ بولا۔

جب صحافی ضياالدین نے پاکستانی راشد رؤف کے جیل سے بھاگ جانے کے متعلق سوال کیا تو صدر مشرف اپنے آپ پر قابو نہ رکھ سکے اور صحافی پر برس پڑے۔ اسی طرح ان سے جب انسانی حقوق، قانونی عملداری اور شفاف انتخابات کے متعلق پوچھا گیا تو وہ کوئی واضح جواب دینے کی بجائے الٹے نامہ نگاروں سے پوچھتے نظر آئے کہ بتاؤ میں کیا کروں۔ انہوں نے ایسے صحافیوں کی ٹھکائی کا بھی مطالبہ کیا جو ان کی نظر میں ملکی مفادات کیخلاف لکھتے ہیں۔

قانون کی دھجیاں جس طرح صدر مشرف نے اڑائی ہیں ان کا دفاع کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس کا دفاع کرپائے۔ کالم نگار جاوید چوہدری نے سچ لکھا ہے کہ ہرکوئی پاکستان میں قانون توڑنے پرفخر کرتا ہے اور جتنا زیادہ کسی کے اختیار میں ہے وہ اتنی بڑی قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ سابق وزیر قانون افتخار گیلانی سے جب اے ایس پی نے اپلائیڈ فار گاڑی کے کاغذات مانگے تو اگلے دن اس کی ٹرانسفر کرادی گئی کیونکہ ان کے اختیار میں اتنا ہی تھا۔ صدر مشرف کیونکہ زیادہ بااختیار تھے اسلیے انہوں نے ججوں کو ہی برطرف کردیا۔

صدرمشرف کو ہرجگہ ایٹمی اثاثوں کے بارے میں چبھتا ہوا سوال سننا پڑا۔ اچھا ہوتا اگر وہ اس سوال کا جواب اس طرح دیتے کہ پاکستان ایک ملک ہے کوئی چھوٹا سا جزیرہ نہیں جہاں پر ڈاکوؤں کے راج کی بجائے ایک حکومت قائم ہے اور جس کے پاس لاکھوں کی تعداد میں فوج ہے۔ کبھی کبھی تو ہمیں خود حیرانی ہوتی ہے کہ یورپ نے ایٹمی اثاثوں کو اتنا بڑا ایشو کیوں بنایا ہوا ہے۔

صدرمشرف نے اسرائیلی وزیردفاع سے خفیہ ملاقات کی اور اس کی تفصیل بتانے سے بھی گریز کیا۔ پھر انہوں نے اپنے ہم منصب کی بجائے ایک وزیر سے غیرطے شدہ ملاقات کرکے پاکستان کیلیے شرمندگی کا باعث بنے۔

صدر مشرف نے الطاف بھائی، برگیڈیئر نیاز اور اپنے سابق وزیراعظم شوکت عزیز سے بھی فضول میں ملاقات کی۔ الطاف بھائی سے ملاقات کرکے انہوں نے اپنی غیرجانبداری مشکوک بنا دی۔ برگیڈیئر نیاز سے ملاقات کرکے انہوں نے اس شک پر مہر لگا دی کہ ان کے پس پردہ نوازشریف سے مذاکرات ہو رہے ہیں۔

صدر صاحب نے اپنے دورے کے دوران مہنگائی کے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں بھی جھوٹ بولا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اب بھی اشیائے ضرورت دوسرے ممالک سے کم قیمت پر دستیاب ہیں۔ اس جھوٹ کا پول روزنامہ ایکسپریس نے دوسرے ممالک سے پاکستانی قیمتوں کا موازنہ کرکے کھول دیا۔

صدر مشرف نے اپنی غیرمقبولیت کو بھی ماننے سے انکار کردیا اور سرویز کو ماننے کی بجائے خود سے اپنی مقبولیت کو جاننے کا انوکھا خیال پیش کیا۔ 

اچھا ہوتا اگر صدر مشرف اس دورے کے دوران فرانس کے صدر اور انگلینڈ کے وزیراعظم سے پاکستانیوں کے لیے مراعات حاصل کرتے اور کچھ معاہدوں پر دستخط کرتے۔ مگر چونکہ ان کا یہ دورہ پاکستان کیلیے نہیں بلکہ اپنی ساکھ بحال کرنے کیلیے تھا اسلیے انہوں نے ساری توجہ صرف اپنے اوپر ہی دی جوکہ خودغرضی کے زمرے میں آتی ہے۔ صدر صاحب کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ حکمرانوں کی خودغرضی ان کے اپنے ملک کیلیے انتہائی نقصاندہ ہوتی ہے۔  خدا صدر صاحب کو عقل سلیم دے تاکہ وہ “سب سے پہلے میں” کی بجائے “سب سے پہلے پاکستان” کے نعرے پر عمل درآمد کرسکیں۔

شرم تم کو مگر نہیں آتی

Tuesday, January 29th, 2008

جب عرب ترک ہوا کھڑا کیا گیا تو کیپٹین لارنس کو بھیجا گیا۔ جو کہ لارنس آف عریبیہ کے نام سے مشہور ہوا۔ عرب بےحد بےوقوف قوم ہیں۔ ان کی بےوقوفیوں کی ایک لائن لگی ہوئی ہے۔ خیر خلافت سے جان چھڑانی تھی اور پتہ نہیں کیا کیا تو عرب بےوقوف جو جدید دنیا میں […]

زندگی کی بنیاد

Tuesday, January 29th, 2008

عبدالستارایدھی کیساتھ ناروا امریکی سلوک شرم کی بات ہے

Tuesday, January 29th, 2008

بقول عبدالستارایدھی کے پہلے انہیں لندن سے ہی جہاز میں بیٹھنے سے روک دیا گیا اور بعد میں امریکی ایمبیسی سے خط لے کر وہ نیویارک آئے جہاں پہلے انہیں آٹھ گھنٹے تک روکا گیا اور پھر انہیں اٹھارہ فروری کو حاضر ہونے کا کہ کر چھوڑ دیا گیا۔ ایدھی صاحب نے یہ بھی بتایا کہ امریکی امیگریشن والے ان سے یہ بھی پوچھتے رہے کہ وہ اس طرح کیوں نظر آتے ہیں یعنی لمبی داڑھی، پاکستانی شلوار قمیض اور سر پر ٹوپی۔

مانا کہ گرین کارڈ کیلیے ضروری  ہے کہ گرین کارڈ ہولڈر سال میں چھ مہینے امریکہ میں رہے۔ مگر ایدھی صاحب کے پاس گرین کارڈ پچھلے آٹھ سال سے ہے۔ اس شرط کو لاگو کرنے کیلیے آٹھ سال تک کیوں انتظار کیا گیا یہ بات اپنی سمجھ میں نہیں آئی۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ایدھی صاحب کو گرین کارڈ ملا کیسے اور اگر گرین کارڈ سب کچھ جانتے ہوئے دے دیا گیا تو پھر اب واپس کیوں لیا جارہا ہے۔ دوسری بات یہ کہ ایدھی صاحب کو گرین کارڈ کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ کیا وہ پاکستانی پاسپورٹ پر دنیا کے سارے ملکوں میں سفر نہیں کرسکتے؟ اصولی طور پر دیکھا جائے تو ایدھی صاحب کے پاس گرین کارڈ نہیں ہونا چاہیے اور اگر امریکی روایات کو دیکھا جائے تو کئی بااثر لوگ ایسے ہوں گے جن کے پاس گرین کارڈ ہوں گے مگر وہ امریکہ میں نہیں رہ رہے ہوں گے۔ اس طرح ایدھی صاحب بھی گرین کارڈ رکھ سکتے ہیں اور انہوں نے آٹھ سال سے رکھا ہوا بھی ہے مگر اب پتہ نہیں کونسی پرابلم امریکی امیگریشن کے آڑے آئی ہے کہ انہوں نے گرین کارڈ واپس لینے کی کاروائی شروع کردی ہے۔

عبدالستار ایدھی جیسا جانا مانا سوشل ورکر اس طرح ائرپورٹس پر خوار ہو ساری دنیا کیلیے شرم کی بات ہے۔ ایسا آدمی تو نوبل پرائز کا حقدار ہے۔ اگر یہی شخص مدر ٹریسا کی طرح عیسائی ہوتا تو اب تک اسے نہ صرف نوبل پرائز مل چکا ہوتا بلکہ سینٹ بن چکا ہوتا۔ حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ عبدالستار ایدھی ایک سیکولر ذہن کے آدمی ہیں مگر ان کا نام اور ملک ان کیلیے بہت بڑی مصیبت بنا ہوا ہے۔ یہ ان کے نام اور ملک کی کرامت ہے کہ امیگریشن والے جانتے ہوئے بھی کہ وہ سوشل ورکر ہیں انہیں ضرور تنگ کرتے ہیں۔

 ہمارے صدر مشرف صاحب کو اتنی توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اپنے آقاؤں سے یہ منوا سکیں کہ وہ  دنیا کی سب سے بڑی یک شخصی چیرٹی کے مالک کیساتھ مدر ٹریسا اور نیلس منڈیلا جیسا سلوک کریں اور انہیں دنیا میں کہیں بھی جانے کیلیے ویزے سے مستثنٰی قرار دے دیں۔ صدر مشرف تو خود عبدالستار ایدھی کی داڑھی کی وجہ سے ان سے فاصلہ رکھتے ہوں گے تاکہ ان پر مذہبی انتہاپسندی کا لیبل نہ لگ جائے۔

عبدالستار ایدھی کو چاہیے اگر جو بھی ملک ان کیساتھ اس طرح کا سلوک جاری رکھے اس کا بائیکاٹ کردیں اور وہاں سے اپنا بوریا بستر گول کرلیں۔ جو کام ایدھی صاحب کر رہے ہیں اس کیلیے نہ مخیر حضرات کی دنیا میں کمی ہے اور نہ ضرورت مندوں کی۔

ہم امریکی حکومت سے بھی درخواست کریں گے کہ وہ پاکستان کی لامتناہی قربانیوں کے بدلے کم از کم دوسرے پاکستانیوں کی طرح عبدالستار ایدھی کو ڈی پورٹ نہ کریں اور ان  کو نہ صرف گرین کارڈ واپس لوٹا دیں بلکہ انہیں امریکی شہریت دے دیں تاکہ ان پر امریکہ میں سال میں چھ ماہ رہنے کی شرط بھی ختم ہوجائے۔

خصم

Tuesday, January 29th, 2008

تم شادی شدہ ہو؟
ایک سال میں مجھے عادت ہو چلی تھی۔ میری شکل کا قصور تھا سب سمجھتے تھے تین جوان بچوں کا باپ ہے۔ جبکہ حالات کچھ ایسے ہیں کہ نہ میری امی مانتی ہیں نہ کوئی لڑکی اور شکل پر پھٹکار سوا چند۔ خیر میں نے جواب دیا۔ نہیں
کوئی پیچھے پاکستان میں؟
میں […]

آٹا اور صدر مشرف

Tuesday, January 29th, 2008

حبیب جالب نے ایوب دور میں آٹے کی مہنگائی پر کچھ اس طرح طبع آزمائی کہ تھی۔ حبیب جالب سے معذرت کیساتھ  ھم نے ایوب کو مشرف سے بدل دیا ہے۔

بیس  روپیہ   من   آٹا

اس پر بھی ہے  سناٹا

بیس  گھرانے  ہیں  آباد

اور کروڑوں ہیں ناشاد

صدر مشرف زندہ  باد

اسلام اور مذہبی رواداری

Monday, January 28th, 2008

پہلا انٹرویو

Monday, January 28th, 2008

آن لائن اخبار دی پاکستانی سپیکٹیٹر اب تک بہت سے بلاگرز کے انٹرویو کر چکا ہے۔ کل ہماری باری تھی اور ہمارا انٹرویو بھی انہوں نے لے کر شائع دیا۔ ریکارڈ کیلیے اس انٹرویو کا اردو ترجمہ حاضر ہے۔ اس انٹرویو میں ویسے تو کوئی خاص بات ہے نہیں، بس موجودہ بلاگنگ اور حالات حاضرہ پر اپنے خیالات کا اظہار ہے ۔

کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ نے بلاگنگ کیوں شروع کی؟

ہم پاکستان کیلیے کچھ کرنا چاہتے تھے سو سوچا کیوں نہ اردو میں اپنے پاکستانی بھائیوں کیلیے کچھ لکھا جائے۔

آپ کا بلاگ دوسروں سے کس طرح مختلف ہے؟

میرا بلاگ اردو میں پاکستان کے بارے میں باتیں کرتا ہے۔ ہم اپنی زیادہ تر تحریروں میں پہلے مسئلہ بیان کرتے ہیں اور پھر اپنی سوچ کیمطابق اس کا حل پیش کردیتے ہیں۔

اگر آپ کو اپنی کامیابی کے پیچھے چھپی کسی ایک خوبی کو چننے کیلئے کہا جائے تو آپ کونسی خوبی کا نام لیں گے؟

مسلسل جدوجہد [ بغیر کسی ٹھراؤ کے] 

آپ کی زندگی کا مسحور ترین لمحہ؟

ویسے تو زندگی کے بہت سارے مسحور لمحے ہیں مگر مسحور ترین لمحے کا ابھی انتظار ہے۔ ہم جب بھی اپنی محنت سے منزل پاتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں۔  ہم اس دن بہت ہی خوش ہوں گے جس دن پاکستان کو ایک ایماندار اور باوفا حکمران نصیب ہوا۔

اردو بلاگ کا مستقبل روشن ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کب اردو بلاگز پاکستان میں بہت زیادہ مقبول ہوں گے؟

ہمارا خیال ہے کہ اردو بلاگز انگریزی بلاگز کی طرح کبھی بھی پاکستان میں مشہور ہوں گے۔ اس کی وجہ پاکستان میں اردو کے مقابلے میں انگریزی انتہائی تیزرفتاری سے مقبولیت ہے۔ حتی کہ ہماری اپنی حکومت انگریزی زبان کی ترویج کیلئے زور لگا رہی ہے۔ انٹرنیٹ پر انگریزی میں اس کی عالمی پذیرائی کی وجہ سے زیادہ مواد ہے۔ آجکل اردو کو جاہلوں کی زبان قرار دیا جارہا ہے اور انٹرنیٹ کی دنیا اور پروگرامر اردو کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے رہے۔ اردو بلاگز تبھی مشہور ہوں گے جب عام پاکستانیوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہوگئی لیکن اردو بلاگز کے سامنے ابھی بہت لمبی اور مشکل منزل ہے جسے انہوں نے  طےکرنا ہے۔

اگر آپ کو دنیا کے تین مقامات پر جانے کا موقع ملے اور جیب سے ایک پائی بھی خرچ نہ کرنی پڑے تو آپ کہاں کہاں جائیں گے؟

ہم ایک تو امریکن کانگریس لائبریری جائیں گے تاکہ ان تمام مسلمانوں کی سوانح عمریاں اکٹھی کرسکیں جنہوں نے اپنے ہی لوگوں کیساتہ غداری کی۔ دوسرے بنگلہ دیش جاکر بنگالیوں سے پوچھنا چاہیں گے کہ وہ کونسے عوامل تھے جن کی وجہ سے انہیں پاکستان سے جدا ہونا پڑا۔ تیسرے شمالی علاقوں میں جاکر پاکستانیوں سے پوچھنا چاہیں گے کہ وہ کیوں اپنی ہی فوج کیساتھ نبردآزما ہیں۔

آپ کی پسندیدہ کتاب اور اس کی وجہ؟

ہمیں اقبال کی شاعری پسند ہے کیونکہ وہ ہمیشہ اپنی قوم کی بات کرتے ہیں اور انہیں اسلامی طریقے کیمطابق نصیحت کرتے ہیں۔ ان کی زیادہ تر شاعری قرآن کی عکاسی ہے۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

یہ شعر ہوبہو قرآنی آیت کا ترجہ ہے۔ انہیں اپنی قوم کا درد کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ ہے۔

آپ کسی بھی شخص کے بارے میں سب سے پہلے کس بات کا نوٹس لیں گے؟ [چاہے آپ اسے جانتے ہیں یا نہیں]۔

ہم اس آدمی کے لباس اور حرکات کو دیکھیں گے کیونکہ اکثر آدمی کا ظاہر ہی اس کے باطن کی نشاندہی کرتا ہے۔

آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ پاکستانی سیاستدان انٹرنیٹ یعنی ٹوٹر کی طرح کے سوشل نیٹ ورک سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

مستقبل قریب میں تو ایسا ہوتا نظر نہیں آتا مگر ہمیں اپنی اگلی نسل جو بہت ساری معلومات اور آگاہی کے سائے تلے پروان چڑھ رہی ہے سے بہت امید وابستہ ہے۔

پاکستان میں کس کا مستقبل تابناک ہے، اردو بلاگز یا انگریزی بلاگز؟

انگریزی بلاگز کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کا میڈیا اور حتی کہ پاکستانی حکومت بھی انگریزی کو پروموٹ کررہی ہے۔ ہم اردو بلاگز کے بارے میں کم ہی امید رکھتے ہیں۔ اردو بڑی تیزی سے پاکستان سے غائب ہورہی ہے۔ حتی کہ پاکستانیوں کی اکثریت اب انگریزی کو اردو پر ترجیح دینے لگی ہے تاکہ وہ ثابت کرسکیں وہ پڑھے لکھے ہیں۔

پاکستانی کیسے بلاگز سے مالی فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

ابھی تک تو نہیں کیونکہ پاکستانیوں کی بہت کم تعداد انٹرنیٹ تک رسائی رکھتی ہے۔ ہمیں بلاگز سے مالی فائدہ اٹھانے کیلئے ابھی پانچ سے دس تک انتظار کرنا ہو گا۔

آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی بلاگرز اپنے آپ تک محدود ہیں اور وہ اپنے ہسار سے باہر نکلنا نہیں چاہتے۔ کیا یہ ان کا سٹائل ہے یا پھر وہ ایسا کرنا ہی نہیں چاہتے؟

ہمارے خیال میں تو تمام بلاگرز اپنے آپ تک محدود رہتے ہیں سوائے ان کے جو کاروبار کیلیے بلاگنگ کرتے ہیں۔ ہمارے خیال میں تو ہمیں اپنے آپ تک ہی محدود رہنا چاہیے تاکہ ہم اپنی انفرادیت برقرار رکھ سکیں۔

کیا یہ سچ ہے کہ جو بھی کامیاب بلاگ کا مالک ہے اس کے پاس بلاگنگ کیلیے بہت سارا وقت ہوتا ہے؟

ہاں اور نہیں بھی۔ اگر آپ کے پاس معلومات ہیں تو پھر آپ کو زیادہ وقت نہیں چاہیے۔ ہاں بغیر معلومات کے آپ کو بہت سارا وقت چاہیے اپنی تحاریر کیلئے معلومات اکٹھی کرنے کیلئے۔

آپ کا کارباری بلاگز کے بارے میں کیا خیال ہے۔ ان کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں؟

کاروباری بلاگز صرف ان کے کاروبار کیلئے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا سب سے بڑا فائدہ صارف سے فیڈ بیک اکٹھی کرنا ہوتا ہے اور سب سے بڑا نقصان ان سے کاروباری فائدہ اٹھانا ہے۔

کیا یہ آپ کیلے اعزاز یا المیہ ہے کہ ہم نے یونیفارم جنرل کو صدر چن کر تاریخ رقم کی؟

ہمارے لئے تو یہ المیے سے کم نہیں اور ہم ہمیشہ سے یہی چاہتے ہیں فوج سیاست سے الگ رہے۔ جارج واشنگٹن نے فوج کیلئے کچھ اصول مقرر کئے تھے۔ ایک فوجیوں کا سیاسی خاندانوں میں شادیاں کرنا اور دوسرے فوجیوں کا کاروباری لوگوں کیساتھ تعلقات قائم کرنا۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پھر انہیں صرف ایک شے کو چننا ہوگا، سیاسی اور کاروباری لوگ یا فوج۔ ہمیں یہی اصول پاکستان میں بھی نافذ کرنے چاہییں۔

کیا آپ سجھتے ہیں کہ بلاگز اور جو کچھ انٹرنیٹ پر ہے اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انٹرنیٹ ایک بہت بڑی سوشل طاقت بننے جارہا ہے؟

ہاں، انٹرنیٹ نے ہماری زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں۔ اب کمپیوٹر باقی برقی آلات کی طرح گھر کی ضرورت بن چکا ہے۔ اگر انٹرنیٹ ڈاؤن ہوجائے تو ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ایک دن انٹرنیٹ بہت بڑی ناپذیر سوشل طاقت بن جائے گا اور اس سے پاکستانی بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ ہم انٹرنیٹ کو ایک بہت بڑے سوشل ٹول کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو تواتر سے ہماری زندگیوں میں استعمال ہونے لگے گا۔

آپ پاکستانی بلاگنگ کو اب کس مقام پر دیکھ رہے ہیں؟

ابھی ابتدا ہے اور ابھی ہم نے بہت سا راستہ طے کرنا ہے اسے عالمی سطح تک لانے کیلیے۔ یہ اچھا ہے مگر ابھی محدود ہے اور یہ تب مزید پاپولر ہوگا جب مزید پاکستانی انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کردیں گے۔

ہمارے صدر پاکستان کے دورے پر ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کی ساکھ مضبوط بنانے میں کامیاب ہوں گے؟

وہ پاکستان کی ساکھ ضبوط نہیں کررہے بلکہ اپنی ساکھ مضبوط کررہے ہیں۔ اپنے سارے دورے میں انہوں نے یورپ کو یہی قائل کرنے کی کوشش کی صرف وہی پاکستان کے نجات دہندہ ہیں۔ انہوں نے ہرخطاب یں پاکستان میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے بارے میں جھوٹ بولے۔ وہ یورپ کی پتلی ہیں جو اپنے آقاؤں کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں ناں کہ پاکستان کے مفادات کا۔ لیکن بری بات یہ ہے کہ ان کا متبادل بھی کوئی نظر نہیں آتا۔ اسی لیے ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کو ایماندار اور باوفا حکمران نصیب ہو جوکہ ابھی دور دور تک نطر نہیں آرہا کیونکہ اس وقت پاکستانیوں کی اکثریت اپنی زندگیوں میں تبدیلی کے موڈ میں نہیں ہے۔

آپ کے کونسے پانچ فیورٹ پاکستانی بلاگرز ہیں؟

پاکستانیات ڈاٹ کام

نعمان کی ڈائری

چپاتی مسٹری

افتخار اجمل

دھرتی پاکستان

پاکستانی بلاگنگ میں آپ کبھی کسی بلاگر سے متاثر ہوئے ہیں؟

چپاتی مسٹری جو کہ منفرد اور معلوماتی ہے۔

پاکستان میں بلاگنگ کا مستقبل کیا ہے؟

پاکستان میں بلاگنگ کا مستقبل تابناک ہے لیکن ہمیں تب تک انتظار کرنا پڑے گا جب تمام پاکستانیوں کی انٹرنیٹ تک رسائی ہو جائے گی۔

کیا ہم سیاسی طور پر کہ سکتے ہیں کہ بلاگز جمہوریت پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں؟

ہاں بلاگنگ ہے ہی اپنے خیالات دوسروں تک پھیلانے کا ذریعہ

اگر انتخابات ہوئے تو کیا پاکستانی بلاگنگ آنے والے انتخابات میں ایک واضح رول ادا کرے گی؟

ہاں مگر محدود پیمانے پر کیونکہ پاکستانیوں کی اکثریت ابھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔

آپ بھی بلاگر ہیں اور کیا بلاگنگ کی زندگی نے آپ کی ذاتی اور کاروباری زندگی متاثر کی ہے؟

ہاں، ہم بلاگنگ کیلیے اپنی ذاتی اور کاروباری زندگی کی قربانی دے رہے ہیں۔ اگر بلاگنگ نہ کررہے ہوتے تو ہم یہ وقت اپنی فیملی اور کاروبار کو دیتے۔

آپ کے مستقبل کے پلان کیا ہیں؟

ہم اپنی فیملی کا خیال رکھتے رہیں گے اور منازل کے حصول کیلے لوگوں کی مدد کرتے رہیں گے۔

کوئی پیغام جو آپ پاکستانی سپیکٹیٹر کے قارئین کو دینا چاہیں۔

ہمیں کبھی بھی ہار نہیں ماننی چاہیے اور بہتری کیلے مسلسل جدوجہد کرتے رہنا چاہیے۔

پہلا انٹرویو

Monday, January 28th, 2008

آن لائن اخبار دی پاکستانی سپیکٹیٹر اب تک بہت سے بلاگرز کے انٹرویو کر چکا ہے۔ کل ہماری باری تھی اور ہمارا انٹرویو بھی انہوں نے لے کر شائع دیا۔ ریکارڈ کیلیے اس انٹرویو کا اردو ترجمہ حاضر ہے۔ اس انٹرویو میں ویسے تو کوئی خاص بات ہے نہیں، بس موجودہ بلاگنگ اور حالات حاضرہ پر اپنے خیالات کا اظہار ہے ۔

کیا آپ بتانا پسند کریں گے کہ آپ نے بلاگنگ کیوں شروع کی؟

ہم پاکستان کیلیے کچھ کرنا چاہتے تھے سو سوچا کیوں نہ اردو میں اپنے پاکستانی بھائیوں کیلیے کچھ لکھا جائے۔

آپ کا بلاگ دوسروں سے کس طرح مختلف ہے؟

میرا بلاگ اردو میں پاکستان کے بارے میں باتیں کرتا ہے۔ ہم اپنی زیادہ تر تحریروں میں پہلے مسئلہ بیان کرتے ہیں اور پھر اپنی سوچ کیمطابق اس کا حل پیش کردیتے ہیں۔

اگر آپ کو اپنی کامیابی کے پیچھے چھپی کسی ایک خوبی کو چننے کیلئے کہا جائے تو آپ کونسی خوبی کا نام لیں گے؟

مسلسل جدوجہد [ بغیر کسی ٹھراؤ کے] 

آپ کی زندگی کا مسحور ترین لمحہ؟

ویسے تو زندگی کے بہت سارے مسحور لمحے ہیں مگر مسحور ترین لمحے کا ابھی انتظار ہے۔ ہم جب بھی اپنی محنت سے منزل پاتے ہیں تو خوش ہوتے ہیں۔  ہم اس دن بہت ہی خوش ہوں گے جس دن پاکستان کو ایک ایماندار اور باوفا حکمران نصیب ہوا۔

اردو بلاگ کا مستقبل روشن ہے۔ آپ کا کیا خیال ہے کب اردو بلاگز پاکستان میں بہت زیادہ مقبول ہوں گے؟

ہمارا خیال ہے کہ اردو بلاگز انگریزی بلاگز کی طرح کبھی بھی پاکستان میں مشہور ہوں گے۔ اس کی وجہ پاکستان میں اردو کے مقابلے میں انگریزی انتہائی تیزرفتاری سے مقبولیت ہے۔ حتی کہ ہماری اپنی حکومت انگریزی زبان کی ترویج کیلئے زور لگا رہی ہے۔ انٹرنیٹ پر انگریزی میں اس کی عالمی پذیرائی کی وجہ سے زیادہ مواد ہے۔ آجکل اردو کو جاہلوں کی زبان قرار دیا جارہا ہے اور انٹرنیٹ کی دنیا اور پروگرامر اردو کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دے رہے۔ اردو بلاگز تبھی مشہور ہوں گے جب عام پاکستانیوں کو انٹرنیٹ تک رسائی حاصل ہوگئی لیکن اردو بلاگز کے سامنے ابھی بہت لمبی اور مشکل منزل ہے جسے انہوں نے  طےکرنا ہے۔

اگر آپ کو دنیا کے تین مقامات پر جانے کا موقع ملے اور جیب سے ایک پائی بھی خرچ نہ کرنی پڑے تو آپ کہاں کہاں جائیں گے؟

ہم ایک تو امریکن کانگریس لائبریری جائیں گے تاکہ ان تمام مسلمانوں کی سوانح عمریاں اکٹھی کرسکیں جنہوں نے اپنے ہی لوگوں کیساتہ غداری کی۔ دوسرے بنگلہ دیش جاکر بنگالیوں سے پوچھنا چاہیں گے کہ وہ کونسے عوامل تھے جن کی وجہ سے انہیں پاکستان سے جدا ہونا پڑا۔ تیسرے شمالی علاقوں میں جاکر پاکستانیوں سے پوچھنا چاہیں گے کہ وہ کیوں اپنی ہی فوج کیساتھ نبردآزما ہیں۔

آپ کی پسندیدہ کتاب اور اس کی وجہ؟

ہمیں اقبال کی شاعری پسند ہے کیونکہ وہ ہمیشہ اپنی قوم کی بات کرتے ہیں اور انہیں اسلامی طریقے کیمطابق نصیحت کرتے ہیں۔ ان کی زیادہ تر شاعری قرآن کی عکاسی ہے۔ مثال کے طور پر وہ کہتے ہیں

خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

یہ شعر ہوبہو قرآنی آیت کا ترجہ ہے۔ انہیں اپنی قوم کا درد کسی بھی دوسرے شخص سے زیادہ ہے۔

آپ کسی بھی شخص کے بارے میں سب سے پہلے کس بات کا نوٹس لیں گے؟ [چاہے آپ اسے جانتے ہیں یا نہیں]۔

ہم اس آدمی کے لباس اور حرکات کو دیکھیں گے کیونکہ اکثر آدمی کا ظاہر ہی اس کے باطن کی نشاندہی کرتا ہے۔

آپ سمجھتے ہیں کہ موجودہ پاکستانی سیاستدان انٹرنیٹ یعنی ٹوٹر کی طرح کے سوشل نیٹ ورک سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

مستقبل قریب میں تو ایسا ہوتا نظر نہیں آتا مگر ہمیں اپنی اگلی نسل جو بہت ساری معلومات اور آگاہی کے سائے تلے پروان چڑھ رہی ہے سے بہت امید وابستہ ہے۔

پاکستان میں کس کا مستقبل تابناک ہے، اردو بلاگز یا انگریزی بلاگز؟

انگریزی بلاگز کیونکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کا میڈیا اور حتی کہ پاکستانی حکومت بھی انگریزی کو پروموٹ کررہی ہے۔ ہم اردو بلاگز کے بارے میں کم ہی امید رکھتے ہیں۔ اردو بڑی تیزی سے پاکستان سے غائب ہورہی ہے۔ حتی کہ پاکستانیوں کی اکثریت اب انگریزی کو اردو پر ترجیح دینے لگی ہے تاکہ وہ ثابت کرسکیں وہ پڑھے لکھے ہیں۔

پاکستانی کیسے بلاگز سے مالی فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟

ابھی تک تو نہیں کیونکہ پاکستانیوں کی بہت کم تعداد انٹرنیٹ تک رسائی رکھتی ہے۔ ہمیں بلاگز سے مالی فائدہ اٹھانے کیلئے ابھی پانچ سے دس تک انتظار کرنا ہو گا۔

آپ سمجھتے ہیں کہ پاکستانی بلاگرز اپنے آپ تک محدود ہیں اور وہ اپنے ہسار سے باہر نکلنا نہیں چاہتے۔ کیا یہ ان کا سٹائل ہے یا پھر وہ ایسا کرنا ہی نہیں چاہتے؟

ہمارے خیال میں تو تمام بلاگرز اپنے آپ تک محدود رہتے ہیں سوائے ان کے جو کاروبار کیلیے بلاگنگ کرتے ہیں۔ ہمارے خیال میں تو ہمیں اپنے آپ تک ہی محدود رہنا چاہیے تاکہ ہم اپنی انفرادیت برقرار رکھ سکیں۔

کیا یہ سچ ہے کہ جو بھی کامیاب بلاگ کا مالک ہے اس کے پاس بلاگنگ کیلیے بہت سارا وقت ہوتا ہے؟

ہاں اور نہیں بھی۔ اگر آپ کے پاس معلومات ہیں تو پھر آپ کو زیادہ وقت نہیں چاہیے۔ ہاں بغیر معلومات کے آپ کو بہت سارا وقت چاہیے اپنی تحاریر کیلئے معلومات اکٹھی کرنے کیلئے۔

آپ کا کارباری بلاگز کے بارے میں کیا خیال ہے۔ ان کے فوائد اور نقصانات کیا ہیں؟

کاروباری بلاگز صرف ان کے کاروبار کیلئے ہوتے ہیں۔ لیکن ان کا سب سے بڑا فائدہ صارف سے فیڈ بیک اکٹھی کرنا ہوتا ہے اور سب سے بڑا نقصان ان سے کاروباری فائدہ اٹھانا ہے۔

کیا یہ آپ کیلے اعزاز یا المیہ ہے کہ ہم نے یونیفارم جنرل کو صدر چن کر تاریخ رقم کی؟

ہمارے لئے تو یہ المیے سے کم نہیں اور ہم ہمیشہ سے یہی چاہتے ہیں فوج سیاست سے الگ رہے۔ جارج واشنگٹن نے فوج کیلئے کچھ اصول مقرر کئے تھے۔ ایک فوجیوں کا سیاسی خاندانوں میں شادیاں کرنا اور دوسرے فوجیوں کا کاروباری لوگوں کیساتھ تعلقات قائم کرنا۔ اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو پھر انہیں صرف ایک شے کو چننا ہوگا، سیاسی اور کاروباری لوگ یا فوج۔ ہمیں یہی اصول پاکستان میں بھی نافذ کرنے چاہییں۔

کیا آپ سجھتے ہیں کہ بلاگز اور جو کچھ انٹرنیٹ پر ہے اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ انٹرنیٹ ایک بہت بڑی سوشل طاقت بننے جارہا ہے؟

ہاں، انٹرنیٹ نے ہماری زندگیاں بدل کر رکھ دی ہیں۔ اب کمپیوٹر باقی برقی آلات کی طرح گھر کی ضرورت بن چکا ہے۔ اگر انٹرنیٹ ڈاؤن ہوجائے تو ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے۔ ایک دن انٹرنیٹ بہت بڑی ناپذیر سوشل طاقت بن جائے گا اور اس سے پاکستانی بھی محفوظ نہیں رہ سکیں گے۔ ہم انٹرنیٹ کو ایک بہت بڑے سوشل ٹول کے طور پر دیکھ رہے ہیں جو تواتر سے ہماری زندگیوں میں استعمال ہونے لگے گا۔

آپ پاکستانی بلاگنگ کو اب کس مقام پر دیکھ رہے ہیں؟

ابھی ابتدا ہے اور ابھی ہم نے بہت سا راستہ طے کرنا ہے اسے عالمی سطح تک لانے کیلیے۔ یہ اچھا ہے مگر ابھی محدود ہے اور یہ تب مزید پاپولر ہوگا جب مزید پاکستانی انٹرنیٹ استعمال کرنا شروع کردیں گے۔

ہمارے صدر پاکستان کے دورے پر ہیں۔ آپ سمجھتے ہیں کہ وہ پاکستان کی ساکھ مضبوط بنانے میں کامیاب ہوں گے؟

وہ پاکستان کی ساکھ ضبوط نہیں کررہے بلکہ اپنی ساکھ مضبوط کررہے ہیں۔ اپنے سارے دورے میں انہوں نے یورپ کو یہی قائل کرنے کی کوشش کی صرف وہی پاکستان کے نجات دہندہ ہیں۔ انہوں نے ہرخطاب یں پاکستان میں انسانی حقوق اور جمہوریت کے بارے میں جھوٹ بولے۔ وہ یورپ کی پتلی ہیں جو اپنے آقاؤں کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں ناں کہ پاکستان کے مفادات کا۔ لیکن بری بات یہ ہے کہ ان کا متبادل بھی کوئی نظر نہیں آتا۔ اسی لیے ہماری خواہش ہے کہ پاکستان کو ایماندار اور باوفا حکمران نصیب ہو جوکہ ابھی دور دور تک نطر نہیں آرہا کیونکہ اس وقت پاکستانیوں کی اکثریت اپنی زندگیوں میں تبدیلی کے موڈ میں نہیں ہے۔

آپ کے کونسے پانچ فیورٹ پاکستانی بلاگرز ہیں؟

پاکستانیات ڈاٹ کام

نعمان کی ڈائری

چپاتی مسٹری

افتخار اجمل

دھرتی پاکستان

پاکستانی بلاگنگ میں آپ کبھی کسی بلاگر سے متاثر ہوئے ہیں؟

چپاتی مسٹری جو کہ منفرد اور معلوماتی ہے۔

پاکستان میں بلاگنگ کا مستقبل کیا ہے؟

پاکستان میں بلاگنگ کا مستقبل تابناک ہے لیکن ہمیں تب تک انتظار کرنا پڑے گا جب تمام پاکستانیوں کی انٹرنیٹ تک رسائی ہو جائے گی۔

کیا ہم سیاسی طور پر کہ سکتے ہیں کہ بلاگز جمہوریت پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں؟

ہاں بلاگنگ ہے ہی اپنے خیالات دوسروں تک پھیلانے کا ذریعہ

اگر انتخابات ہوئے تو کیا پاکستانی بلاگنگ آنے والے انتخابات میں ایک واضح رول ادا کرے گی؟

ہاں مگر محدود پیمانے پر کیونکہ پاکستانیوں کی اکثریت ابھی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔

آپ بھی بلاگر ہیں اور کیا بلاگنگ کی زندگی نے آپ کی ذاتی اور کاروباری زندگی متاثر کی ہے؟

ہاں، ہم بلاگنگ کیلیے اپنی ذاتی اور کاروباری زندگی کی قربانی دے رہے ہیں۔ اگر بلاگنگ نہ کررہے ہوتے تو ہم یہ وقت اپنی فیملی اور کاروبار کو دیتے۔

آپ کے مستقبل کے پلان کیا ہیں؟

ہم اپنی فیملی کا خیال رکھتے رہیں گے اور منازل کے حصول کیلے لوگوں کی مدد کرتے رہیں گے۔

کوئی پیغام جو آپ پاکستانی سپیکٹیٹر کے قارئین کو دینا چاہیں۔

ہمیں کبھی بھی ہار نہیں ماننی چاہیے اور بہتری کیلے مسلسل جدوجہد کرتے رہنا چاہیے۔

طوطا فال

Monday, January 28th, 2008

کافی عرصہ سے مجھے شوق چڑھا تھا کہ تجربہ تو کروں، یہ طوطا فال والے کیا بے وقوف بناتے ہیں دنیا کو۔۔۔ ان پرچوں میں آخر لکھا کیا ہوتا ہے۔ پر مجھے تو طوطا فال والوں کے پاس بیٹھنے کا سوچ کر ہی عجیب سا محسوس ہوتا جیسے پتا نہیں کیا ہو۔
خیر، آج پیدل چلتے […]

پھر بچ گیا

Sunday, January 27th, 2008

آپ نے اکثر سنا ہو گا فلاں نے بس مس کر دی اور دوسری بس لے کر گیا تو آگے اسی بس کا ایکسیڈنٹ ہوا ہوتا ہے جو مس کر دی تھی۔ میرا ایک جاننے والا Louisiana جا رہا تھا۔ میرا موڈ بنا کہ میں بھی چلا جاؤں پھر مجھے کچھ کام پڑ گیا اور […]

کیا 101 فیصد حاصل کیا جا سکتا ہے ؟

Sunday, January 27th, 2008

?????

Sunday, January 27th, 2008

????? ???? ??? ???? ??? ??? ???? ? ????? ???? ??? ????? ????? ??? ???? ?? ?????? ??? ?? ???? ??? ???? ?????? ??????? ?????? ???? ??? ??? ?? ???? ??? ???? ??? ????? ???? ??? ?? ?????? ????? ?? ??? ??? ???? ????? ??? ???? ????? ?? ???? ??? ???? ?? ????? ?? ??? […]

life after people

Sunday, January 27th, 2008

آپ نے اکثر ایسے مضمون پڑھے ہونگے جس میں بتایا گیا ہو گا کہ کچھ تہذیبیں انتہائی ترقہ یافتہ تھیں۔ کچھ ایک تو اس قدر ترقی یافتہ تھیں کہ انسان آج تک اس ترقی کو پہنچ نہیں پایا۔ کچھ دور کی کوڑی لائے کہ اہرام مصر یا اس جیسی دوسری عظیم تہذیبوں کی انتہائی مظبوط […]

موازنہ

Sunday, January 27th, 2008

  آج کے خودغرض سیاستدانوں اور بکاؤ حکمرانوں کے نام ایس ایم ایس:۔

ارے او برائی کے رس گلے

گناہ کی برفی

بیوفائی کے لڈو

مطلبی جلیبی

بدمعاشی کے پیڑے

جھوٹ کے قلاقند

تو بڑا ہی سویٹ ہے رے

Urdu OpenPad Plugin for WordPress

Sunday, January 27th, 2008

آخری تھیم؟

Saturday, January 26th, 2008

بہت مشکل سے مجھے ایک تھیم پسند آئی ہے۔ جس کے بہت نخرے اٹھانے پڑے ہیں۔ اس کے بعد بلاگ پر اپلائی کرنے کے قابل ہوئی ہے۔ میرا ارادہ ہے کہ اس پر تھیمز کی تلاش ختم کر دوں۔ اب آگے کیا ہوتا ہے۔ مجھے علم نہیں۔ لیکن خاص مواقعوں پر تھیم میں ضرور بدلوں […]

غیر ملک

Saturday, January 26th, 2008

غیر ملک میں رہنا جتنا آسان سمجھا جاتا ہے، حقیقت میں اتنا آسان ہوتا نہیں ہے۔ شروع سے لے کر آخر تک کچھ نہ کچھ مسائل کا سامنا رہتا ہی ہے۔ شروع میں جب آپ آتے ہیں تو سب سے بڑا مسئلہ زبان کا ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے جب ہم نئے نئے آئے تھے تو […]

تصویریں

Saturday, January 26th, 2008

رشتہ دار ۔ ہمدرد یا دُشمن ؟

Saturday, January 26th, 2008

وراثتی رازوں کا حل

Saturday, January 26th, 2008

ٹائم میگزین کی کہانی
 
ٹائم (20 مارچ 1989 ) کی کور کہانی ڈی این اے (DNA) کے بارے میں تھی جس کا عنوان تھا ۔ وراثتی رازوں کا حل کرنے کی کوشش۔
 
Solving the mysteries of heredity
 

 
مضمون سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈی این اے کے بارے میں تحقیقات ہوئ ہیں وہ ارتقائے حیات کے قدیم تصور […]

صوفی نعیم بابا

Saturday, January 26th, 2008

کہتے ہیں کہ موٹے لوگ بہت خوش مزاج ہوتے ہیں۔ یہ کہاوت نعیم صاحب کو دیکھ کر سچ لگتی ہے۔ یہ میرے ساتھ کام کرتے ہیں۔ انگریزی میں بولے تو کولیگ۔ اسلامی نظریات میں انتہا پسندوں سے کم اور مجھ سے کچھ زیادہ شدت ہے۔ موڈ میں ہوں تو خود کو اہلِ علم اور […]