Archive for December, 2007
زنجیر
Saturday, December 29th, 2007بے نظیر بھٹو کی سیاست اور ان پر لگے ہوئے الزامات کے باوجود بھی اُن کی خوبیوں کو جھٹلایا نہیں جا سکتا ، بے نظیر بھٹو کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ سندھ میں وفاق کی سب سے بہترین نمائندہ تھی اور اگر آپ اس بات کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں کہ […]
بالآخر انٹرویو
Saturday, December 29th, 2007دسمبر 2005 کا انٹرویو تھا۔ ہم سے پہلے کسی کا انٹرویو اکتوبر میں ہوا تھا۔ ان کو ابو جب پوچھیں کہ ہاں کیا کیا پوچھا وہ یہی کہے کچھ بھی نہیں کچھ بھی نہیں۔ ایک دن وہ اپنے کچھ ڈاکیومنٹ لے کر آیا۔ ابو نے دیکھا تو ایک کو پڑھ کر پوچھا یہ کیا ہے۔ […]
? عوام کی شہید ملکہ?
Saturday, December 29th, 2007‘ عوام کی شہید ملکہ’
حسن مجتبیٰ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
اگلے جنم موہے بٹیا نہ کیجیو!
وہ چھوٹی سی بچي جس نے المرتضی لاڑکانہ میں اپنے باپ کے ہاتھوں بندوق سے فائر کرکے درخت پر سے ایک طوطے کو مارنے پر دو دن تک کھانا نہیں کھایا تھا وہ قتل ہوگئی۔ قاتلوں اور جرنیلوں، کرنیلوں […]
مسلمان حکمران ہزار سال بعد بھی نہیں بدلے
Saturday, December 29th, 2007بنو امیہ کی حکومت چار سو ہجری کے شروع میں کس طرح ختم ہوئی یہ مندرجہ ذیل اقتباسات سے اندازہ لگایے اور سوچیے کیا موجودہ دور کے مسلمان حکمران اب بھی ویسے کے ویسے ہی ہیں یا پھر ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل چکے ہیں۔ کیا اب بھی مسلمان حکمران غیروں کے ہاتھوں میں کھلونا نہیں بنے ہوئے؟ کیا اب بھی دشمان اسلام مسلمانوں کی ریشہ دوانیوں سے فائدہ اٹھا کر ان کے تیل کے ذخائر پر قابض نہیں ہوچکے؟ کیا اب بھی مسلمان غیروں کی مدد سے لیس ہوکر ایک دوسرے کا گلا نہیں کاٹ رہے؟ کیا تب سے ہم مختلف ملکوں میں بٹ کر اپنی اپنی حکمرانی کی خواہشات پوری نہیں کررہے؟
“سلیمان مستعین نے جب دیکھا کہ اس شہر کا فتح ہونا دشوار ہے اور فوج کے لیے سامان حسب ضرورت فراہم نہیں کرسکتا تو اس نے ابن اوفونش یعنی عیسائی بادشاہ کے پاس سفیر بھیج کر درخواست کی کہ تم ہماری مدد کرو اور حسب ضرورت سامان رسد اور فوج بھیجو تاکہ ہم قرطبہ پر حملہ آور ہو کر تخت خلافت حاصل کرلیں۔ اس پیام سلام کی خبر قرطبہ میں مہدی کے پاس پہنچی تو اس نے بھی عیسائی بادشاہ کے پاس پیغام بھیجا اور اپنی طرف مائل کرنے کے لیے وعدہ کیا کہ ہم تمام سرحدی قلعے اور شہر تمہارے سپرد کریں گے۔ دونوں کے پیغامات سن کر عیسائی بادشاہ نے مستعین کی امداد کرنی مناسب سمجھی اور ایک ہزار بیل، پندرہ بکرے اور ضروری سامان مستعین کے پاس بھیج دیا۔ اس کے بعد فوج بھی امداد کے لیے روانہ کی۔ سخت خون ریزی کے بعد مہدی کو شکست ہوئی بیس ہزار اہل قرطبہ میدان سراوق میں مقتول ہوئے۔ یہ فتح چونکہ عیسائیوں کی مدد سے مستعین کو حاصل ہوئی تھی لہذا عیسائیوں کی خوب خاطر مدارات ہوئی اور قرطبہ کے علما فضلا کا بہت بڑا حصہ ان عیسائی وحشیوں کے ہاتھوں شہید ہوا۔ خلیفہ مہدی نے طلیطلہ میں پہنچ کر عیسائی بادشاہ اوفونش سے پھر خط و کتابت کی اور اس کو اپنی مدد پر آمادہ کیا۔ عیسائی بادشاہ اس موقع کی اہمیت کو خوب پہچانتا تھا اور وہ اچھی طرح جانتا تھا کہ اس وقت مسلمانوں کو آپس میں لڑا کر کمزور کردینے کا نہایت ہی اچھا موقع حاصل ہے۔ چنانچہ اس نے مہدی سے فوراٌ عہدنامہ لکھا کر جس قدر فوج اس کی مدد کو بھیج سکتا تھا بھیج دی اور اس بات کی مطلق پرواہ نہیں کی کہ جو فوج مستعین کے ہمراہ گئ تھی وہ ابھی تک واپس نہیں آئی ہے۔
مہدی عیسائیوں کی امداد لے کر قرطبہ پر حملہ آور ہوا۔ مقام عقبۃالبقر میں نہایت خون ریزجنگ کے بعد مستعین کو شکست حاصل ہوئی اور مہدی دوبارہ فاتحانہ قرطبہ میں داخل ہو کر تخت خلافت پر متمکن ہوا۔ عیسائیوں کی وہ فوج جو مستعین کے ساتھ تھی مہدی کے لشکر میں شامل ہوگئی اور اس لڑائی میں بھی زیادہ تر مسلمان اور اہل قرطبہ ہی مارے گئے۔ مہدی قرطبہ میں داخل ہوتے ہی عیش و عشرت میں مصروف ہوگیا، اس طرح تمام ملک اندلس جو امن و امان کا گہوارہ تھا بدامنی کا گھر بن گیا اور ہر ایک وضیع و شریف کو اپنی جان و مال کا بچانا دشوار ہوگیا۔
واضح عامری مہدی کے ساتھ تھا اس نےجب ملک کو اس طرح تباہ اور حکومت اسلامیہ کوبربار ہوتے دیکھا تو شہر قرطبہ کے بااثر لوگوں سے مشورہ کر کے مہدی کے معزول اور خلیفہ ہشام ثانی کے دوبارہ تخت نشین کرنے کی تیاری کی۔ چنانچہ چار سو ہجری کو ہشام دوبارہ قیدخانہ سے نکال کر تخت خلافت پر بٹھایاگیا اور مہدی کو سردربار ہشام کے روبرو غیرنامی غلام نے قتل کیا۔
واضح نے مہدی کا سر مستعین کے پاس بھیج کر اسے خلیفہ ہشام کی اطاعت کا حکم دیا۔ چونکہ مستعین کیساتھ اس غارت گری میں ابن اوفونش عیسائی بادشاہ بھی شریک ہو گیا تھا لہٰذا واضح عامری کے اس پیغام کو حقارت سے ٹھکرا دیا گیا اور ابن اوفونش اور مستعین نے مل کر قرطبہ کے ارد گرد کا تمام علاقہ برباد کرکے قرطبہ کا محاصرہ کرلیا۔
آخر طویل محاصرے سے تنگ آکر عیسائی بادشاہ کو مستعین کی ہمراہی سے جدا کرنے کیلیے ہشام کی طرف سے سلام و پیام کا سلسلہ جاری ہوا اور عیسائی بادشاہ کی خواہش کے موافق ہشام نے دوسوقلعے مع چند بڑے بڑے شہروں کے جو شمال کی جانب اب اوفونش کی ریاست کے متصل تھے اس کو دیدیے اور اس طرح ابوفونش نے مستعین کا ساتھ چھوڑ دیا۔ مستعین اور اس کے ہمراہی بربری مصروف محاصرہ رہے مگر چونکہ محاصرہ کمزور ہوگیا تھا لہٰذا اب مقابلہ اور معرکہ کی یہ صورت ہوگئی کہ کبھی شہر والے بربریوں کو مارتے ہوئی دور تک پیچھے ہٹا دیتے اور کبھی بربری شہروالوںکو شکست دے کر شہر کے اندر گھس جاتے۔ یہ حالت بہت دنوں تک جاری رہی۔ اس عرصہ میں کئی عیسائی حکمرانوں نے اپنی بغاوت اور مستعین کی مدد کرنے کا دباؤ ڈال کر دربار قرطبہ سے ابن اوفونش کی طرح سرحدی صوبوں کی سندیں حاصل کیں اور بہت سا ملک عیسائیوں کے قبضے میں چلا گیا۔
آخر تین شوال چار سو تین ہجری میں مستعین نے بزور تیغ قرطبہ پر قبضہ حاصل کیا، ہشام ثانی یا تو اس ہنگامہ میں قتل ہوگیا یا کہیں اس طرح غائب ہوا کہ پھر اس کا پتہ نہ چلا۔ واضح عامری اس سے چند روز پہلے قتل ہوچکا تھا مستعین نے قرطبہ میں داخل ہوکر تخت خلافت پر جلوس کیا۔
سلیمان بن حکم مستعین باللہ اب مستقل طور پر قرطبہ کا خلیفہ بن گیا مگر جابجا صوبوں کے حاکم خود مختار بادشاہ بن بیٹھے۔ ابن عباد نے اشبیلہ میں، ابن اقطس نے بطلیوس میں، اب ابی عامر نے بلنسیہ و مرسیہ میں، ابن ہود نے سرقسطہ میں اور مجاہد عامری نے رانیہ اور جزائر میں خود مختارانہ حکومتیں شروع کردیں۔ شمالی عیسائی سلاطین نے اس مناسب موقع اور موزوں وقت سے فائدہ اٹھانے میں کمی نہیں کی اور ہرعیسائی ریاست نے اپنی حددود کو وسیع کرکےاپنے قریبی علاقوں کو اپنی حکومت میں شامل کرلیا۔ غرض اندلس میں طوائف الملوکی کا زمانہ شروع ہوگیا اور حکومت اسلامیہ پارہ پارہ ہوکر بے حد کمزور وناتواں ہوگئی۔
محرم چار سو سات ہجری تک مستعین نے قرطبہ اور اس کے مضافات پر حکومت کی اور تین سال چند ماہ برائے نام خلافت کے بعد اشبیلیہ کے متصل مقام طالقہ کےمیدان میں علی بن حمود سے شکست کھا کر گرفتارومقتول ہوا اور اس طرح بنی امیہ کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔”
قاتل کون ؟
Saturday, December 29th, 2007ایک اچھا مشورہ
Saturday, December 29th, 2007سندھ میں مایوسی
Saturday, December 29th, 2007محترمہ کے جنازے میں مشتعل کارکنوں نے پنجاب اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کرنے کی کوشش کی جس پر آصف زرداری نے کارکنوں کو ایسے نعرے لگانے سے منع کیا۔
بی بی سی اردو پر: سندھ کیوں جل رہا ہے۔
سیاسی توازن بری طرح بگڑ گیا ہے اور یہ صورتحال سندھ میں پنجاب دشمن سوچ میں […]
The Bucket List (2007)
Saturday, December 29th, 2007Video: 《The Bucket List》預告
Related PostsDecember 27, 2007 — تارے زمیں پر (3)December 23, 2007 — one missed call 2008 (0)
jextr
Friday, December 28th, 2007What is jaxtr?
Jaxtr links your phone to the web, so you can hear from callers worldwide while keeping your existing phone number private.
Can I control who calls me?
Yes. Jaxtr’s PrivacyShield™ automatically routes calls to voicemail. You can then easily control which friends you want to ring through to your phone.
Do I need a headset?
No, […]
بینظیر کی شہادت
Friday, December 28th, 2007بینظیر کی شہادت کا سن کا دلی صدمہ پہنچا۔ ہم چھٹیوں پر ہونے کی وجہ سے مزید نہیںلکھ پارہے۔ ابھی تک جو تحاریر چھپ رہی ہیں وہ چھٹیوں سے پہلے کی تحریر شدہ ہیں۔
میں ممنون ہوں
Friday, December 28th, 2007تاحیات چئر پرسن
Friday, December 28th, 2007bibi
Friday, December 28th, 2007مار دیا ظالموں نے۔ میری امی
میٹھائی؟ شرم کرو ایسے کسی کے مرنے پر نہیں کہتے۔ بھائی۔
خس کم جہاں پاک۔ بدتمیز
پال ژان سانترے نے اپنے کسی حریف کے مرنے پر کہا تھا۔
وہ ایک اچھا انسان اور اچھا آدمی تھا۔
وہ ایک اچھا بیٹا اور ایک اچھا باپ تھا۔
اگر وہ حرامی واقعی مر گیا […]
Friday, December 28th, 2007
امریکہ میں صدارتی امیدوار بے نظیر کے قتل کو اپنی انتخابی مہم میں استعمال کررہے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ پر بھی۔
تحقیقات
Friday, December 28th, 2007انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے سانحے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے:
تنظیم کے مطابق ایسی تفتیش کی اہمیت اس لیے بڑھ گئی ہے کہ محترمہ بھٹو نے اپنی ہلاکت سے پہلے کھلے عام حکومت پر الزام لگائے تھے کہ انہیں سیکیورٹی فراہم نہیں کی جارہی۔
اس کے علاوہ تنظیم کے […]
راولپنڈی سے آخری تصاویر
Friday, December 28th, 2007بے نظیر بھٹو کا قتل
نیویارک ٹائمز پر گیٹی امیجز کے فوٹوگرافر جان مور کی جائے واردات پر کھینچی گئی تصاویر۔ جان مور محترمہ کی انتخابی مہم کور کررہے تھے۔
کیا اب بھی کچھ بچا ہے؟
Friday, December 28th, 2007اب کہنے کو کیا بچ گیا ہے؟؟؟
اب بھی لوگ برداشت اور حوصلے کی بات کرتے ہیں!
کیا بو رہے ہو؟
یہ سب کون کاٹے گا؟
ہاں تم اور تمہاری نسلیں تو اس Dirty Country سے کوچ کر جائیں گی
ان کے لیے Safe Heaven موجود ہیں!
تمہاری بلا سے
بوم بسے یا ہُما رہے
تم اور تمہارے لے پالک طالبان تو بغلیں […]
حبیب جالب
Friday, December 28th, 2007موجودہ انتخابات جو فوجی حکومت کے نو سالہ اقتدار کے بعد ہورہے ہیں میں ووٹ دینے کا فیصلہ کرنے سے پہلے اگر ووٹر شاعر حبیب جالب کی دو چار انقلابی نظمیں پڑھ لے تو اسے اپنا امیدوار چننے میں آسانی رہے گی۔ ووٹر کی رہنمائی کیلیے آج ہم حبیب جالب کی مختصر سوانح عمری ان کی شاعری کے شاہکار نمونوں کیساتھ چھاپ رہے ہیں۔
حبیب جالب 1928-1993اپنے وقت کا انقلابی شاعر تھا اور پاکستان کے جوں کے توں حالات نے اس کی شاعری کو اب بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔ جوانی میں ہی جالب معاشرے کی غلط رسموں کیخلاف اٹھ کھڑا ہوا اور اس کی ساری عمر انقلاب کی آس میں جیلیں کاٹتے اور پولیس سے مار کھاتے گزری۔ وہ معراج خالد اور ڈاکٹر مبشر حسن کی طرح کا ترقی پسند تھا جس نے نہ گھر کی پرواہ اور نہ شان و شوکت سے مرعوب ہوا۔ اس کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ معاشرہ وڈیروں، جاگیرداروں اور کارخانہ داروں کی اجارہ داری سے پاک ہوجائے تاکہ غریبوں کو بھی جینے کا حق ملے۔
کھیت وڈیروں سے لے لو
ملیں لٹیروں سے لے لو
ملک اندھیروں سے لے لو
رہے نہ کوئی عالیجاہ
پاکستان کا مطلب کی کیا
لا الہ الل اللہ
ایوب خان کی آمریت کی مخالفت سے بینظیر کے جمہوری دور کی لوٹ کھسوٹ تک کا جالب کا سفر ایسا ہے جو مصائب سے بھرپور ہے اور اس راہ پر جالب جیسا سر پھرا ہی چل سکتا ہے محلوں میں رہنے والا لیڈر نہیں۔
ایوب کے آئین کیخلاف اس نے ایک نظم لکھی جو بہت مشہور ہوئی۔
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں جانتا، میں نہیں مانتا
اور بینظیر کے دور کا قطعہ اس کے آخری کلام میں سے ایک تھا جس میں اس نے بینظیر کی لوٹ کھسوٹ کو اسی کے خاندان کے ناموں کو استعارے میں استعمال کرکے کمال کردیا۔
حال اب تک وہی ہیں غریبوں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
مقروض ہے دیس کا ہر بلاول
پاؤں ننگے ہیں بینظیروں کے
کہتے ہیں مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالاباغ کی دعوت میں جب نیلو پر بیرون ممالک کے مہمانوں کے سامنے ناچنے سے انکار پر سختی کی گئی تو اس نے خود کشی کی کوشش کی۔ اس موقع پر جالب کی شاعری کو نیلو کے خاوند نے اپنی فلم زرقا میں فلمایا جو بہت مشہور ہوئی۔
تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
ضیا دور میں بھی جالب کا قلم آمریت کے مظالم کے باوجود چلتا رہا اور اس نے بہت سارے فن پارے تخلیق کیے۔ جالب کی نظم کا یہ شعر بہت مشہور ہوا جس میں اس نے جنرل ضیا کے نام کو زو معنی بنایا۔
سر سر کو صبا، ظلمت کو ضیا
بندے کو خدا کیا لکھنا
جالب کے بعد انقلابی شاعری میں جو خلا پیدا ہوا وہ اب تک پر نہیں ہو سکا۔ نثر لکھنے والے تو آمریت کیخلاف جدوجہد کر ہی رہے ہیں مگر جالب کی طرح کے ایک اور انقلابی شاعر کی کمی موجود ہے۔
جالب کے فلم زرقا کے گانے اور اس کے مشاعروں میں پڑھے گئے کلام کو مندرجہ ذیل ویڈیوز میں دیکھیے اور اس کی آمریت کیخلاف جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیجئے۔
حبیب جالب
Friday, December 28th, 2007موجودہ انتخابات جو فوجی حکومت کے نو سالہ اقتدار کے بعد ہورہے ہیں میں ووٹ دینے کا فیصلہ کرنے سے پہلے اگر ووٹر شاعر حبیب جالب کی دو چار انقلابی نظمیں پڑھ لے تو اسے اپنا امیدوار چننے میں آسانی رہے گی۔ ووٹر کی رہنمائی کیلیے آج ہم حبیب جالب کی مختصر سوانح عمری ان کی شاعری کے شاہکار نمونوں کیساتھ چھاپ رہے ہیں۔
حبیب جالب 1928-1993اپنے وقت کا انقلابی شاعر تھا اور پاکستان کے جوں کے توں حالات نے اس کی شاعری کو اب بھی زندہ رکھا ہوا ہے۔ جوانی میں ہی جالب معاشرے کی غلط رسموں کیخلاف اٹھ کھڑا ہوا اور اس کی ساری عمر انقلاب کی آس میں جیلیں کاٹتے اور پولیس سے مار کھاتے گزری۔ وہ معراج خالد اور ڈاکٹر مبشر حسن کی طرح کا ترقی پسند تھا جس نے نہ گھر کی پرواہ اور نہ شان و شوکت سے مرعوب ہوا۔ اس کا صرف ایک ہی مقصد تھا کہ معاشرہ وڈیروں، جاگیرداروں اور کارخانہ داروں کی اجارہ داری سے پاک ہوجائے تاکہ غریبوں کو بھی جینے کا حق ملے۔
کھیت وڈیروں سے لے لو
ملیں لٹیروں سے لے لو
ملک اندھیروں سے لے لو
رہے نہ کوئی عالیجاہ
پاکستان کا مطلب کی کیا
لا الہ الل اللہ
ایوب خان کی آمریت کی مخالفت سے بینظیر کے جمہوری دور کی لوٹ کھسوٹ تک کا جالب کا سفر ایسا ہے جو مصائب سے بھرپور ہے اور اس راہ پر جالب جیسا سر پھرا ہی چل سکتا ہے محلوں میں رہنے والا لیڈر نہیں۔
ایوب کے آئین کیخلاف اس نے ایک نظم لکھی جو بہت مشہور ہوئی۔
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں جانتا، میں نہیں مانتا
اور بینظیر کے دور کا قطعہ اس کے آخری کلام میں سے ایک تھا جس میں اس نے بینظیر کی لوٹ کھسوٹ کو اسی کے خاندان کے ناموں کو استعارے میں استعمال کرکے کمال کردیا۔
حال اب تک وہی ہیں غریبوں کے
دن پھرے ہیں فقط وزیروں کے
مقروض ہے دیس کا ہر بلاول
پاؤں ننگے ہیں بینظیروں کے
کہتے ہیں مغربی پاکستان کے گورنر نواب آف کالاباغ کی دعوت میں جب نیلو پر بیرون ممالک کے مہمانوں کے سامنے ناچنے سے انکار پر سختی کی گئی تو اس نے خود کشی کی کوشش کی۔ اس موقع پر جالب کی شاعری کو نیلو کے خاوند نے اپنی فلم زرقا میں فلمایا جو بہت مشہور ہوئی۔
تو کہ ناواقف آداب غلامی ہے ابھی
رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے
ضیا دور میں بھی جالب کا قلم آمریت کے مظالم کے باوجود چلتا رہا اور اس نے بہت سارے فن پارے تخلیق کیے۔ جالب کی نظم کا یہ شعر بہت مشہور ہوا جس میں اس نے جنرل ضیا کے نام کو زو معنی بنایا۔
سر سر کو صبا، ظلمت کو ضیا
بندے کو خدا کیا لکھنا
جالب کے بعد انقلابی شاعری میں جو خلا پیدا ہوا وہ اب تک پر نہیں ہو سکا۔ نثر لکھنے والے تو آمریت کیخلاف جدوجہد کر ہی رہے ہیں مگر جالب کی طرح کے ایک اور انقلابی شاعر کی کمی موجود ہے۔
جالب کے فلم زرقا کے گانے اور اس کے مشاعروں میں پڑھے گئے کلام کو مندرجہ ذیل ویڈیوز میں دیکھیے اور اس کی آمریت کیخلاف جدوجہد کو خراج تحسین پیش کیجئے۔
شہید ملکہ کو خراج تحسین
Friday, December 28th, 2007رو میرے دیس رو کہ تیری ایک اچھی بیٹی قتل ہوئی۔
کیسی قوم ہیں ہم؟
Friday, December 28th, 2007راولپنڈی کا تاریخی لیاقت باغ کل ایک مرتبہ پھر خون میں نہلا دیا گیا، ملک کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے قتل کے بعد کل بروز جمعرات کو اسلامی دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم کو بینظیر بھٹو بھی ایک قاتلانہ خودکش حملے میں جاں بحق ہو گئیں۔
انا للہ و انا الیہ راجعون
آج ساری مخالفتیں، […]
الوداع
Thursday, December 27th, 2007ہر خاندان میں لڑائیاں ہوتی ہیں۔ ہمارے خاندان میں قبل مسیح کی ایک زمین پر جھگڑا تھا۔ اس زمین پر جھگڑنے والے سبھی فوت ہو گئے سوائے 3 کے۔ اب ان سبھی کے بچے اس زمین کے پیچھے جانا نہیں چاہتے اور جس کے جانا چاہتے ہیں ان کو کوئی جانے نہیں دیتا :d تو […]
Thursday, December 27th, 2007
ہماری شہزادی کو قتل کردیا گیا. آخر ظالم، درندے، دہشت کے متوالے کامیاب ہیوگئے. انہوں نے جمہوریت کی ہماری امید کو قتل کردیا. اللہ تو میری والدہ کو صبر دے، اللہ تو پاکستانی قوم کو صبر دے، اللہ تو ہماری شہزادی کے بچوں کو صبر عطا فرما انہیں حوصلہ عطا فرما. یاللہ اس مشکل گھڑی […]
سکیورٹی
Thursday, December 27th, 2007خبروں کے مطابق بے نظیر بھٹو خود کُش حملے سے بچ گئی تھیں، لیکن حملے کے بعد کلاشنکوف یا اے کے سیون کے حملے میں گردن میں گولی لگنے سے جانبر نہ ہو سکی۔ میرا سوال یہ ہے کہ ایک شخص کلاشنکوف سمیت جلسہ گاہ کے اتنا قریب کیسے پہنچ گیا تھا؟ جبکہ راولپنڈی پاکستانی […]
کیسے کیسے لوگ - انمول جوڑی
Thursday, December 27th, 2007کسرتی جسم اور بہت ہی ذہین آدمی گاؤں میں بچپن گزار کر جوانی میں جب زرعی یونیورسٹی میں داخل ہوا تو اس کی ذہانت کے چرچے پہلے سال سے ہی عام ہوگئے۔ حافظ صاحب نے اپنی کلاس میں ٹاپ کیا اور اسی یونیورسٹی میں پڑھانا شروع کردیا۔ اسی دوران ان کی ایک عام سی اور ان پڑھ لڑکی سے شادی ہوگئی۔ حافظ صاحب پی ایچ ڈی کرنے یورپ چلے گئے اور پڑھائی مکمل کرنے کے بعد بہت ساری نوکریوں کی آفرز ٹھکرا کر اسلیے پاکستان واپس آگئے کہ انہیں پاکستان کی محبت کیساتھ ساتھ اپنی بیوی کا خیال بھی تھا جو اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر یورپ میں بسنا نہیں چاہتی تھی۔ بیوی کی جدائی میں حافظ صاحب نے شاعری بھی شروع کردی۔ وہ اکثر اپنا یہ شعر اب بھی اپنی بیوی کو سنایا کرتے ہیں۔
حافظ نہ جانے یہ ان کی اداؤں کا اثر تھا
کہ جلوے نہ بھا سکے مجھے مغرب کی اداؤں کے
وقت پر لگا کے اڑتا گیا، اس دوران حافظ صاحب کی اولاد نے اپنے اپنے گھر بسا لیے اور خود حافظ صاحب نے ریٹائر ہو کر کاروبار شروع کردیا۔ حافظ صاحب کا ایک بیٹا نالائق نکلا جسے انہوں نے مالی طور پر سہارا دینا شروع کردیا۔ دوسرا بیٹا جو کیڈٹ کالج کے بعد میڈیکل کالج میں پہلے سال میں جب ٹاپ کررہا تھا تو بھٹک گیا اور اس نے تعلیم ادھوری چھوڑ دی۔ حافظ صاحب کی کوششوں سے اس نے دوبارہ میڈیکل کالج میں پڑھائی شروع کردی اور اب وہ بھی ایک جیل میں ڈاکٹرلگا ہوا ہے۔
زندگی بڑے سکون سے گزر رہی تھی کہ دس سال قبل ایک دن اچانک حافظ صاحب کی نورِ نظر بیمار پڑگئی۔ حافظ صاحب نے علاج کرایا مگرآفاقہ نہ ہوا۔ ایک دن اچانک ان کی بیوی قومے میں چلی گئی اور حافظ صاحب کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ حافظ صاحب جو پہلے ہی پانچ وقت کے نمازی تھے انہوں نے اپنے رب سے گڑگڑا کر دعائیں مانگنا شروع کردیں۔ جب بیگم صاحبہ کو قومے میں گئے ایک ہفتہ ہوگیا تو ڈاکٹروں نے انہیں لاعلاج قرار دے دیا اورلواحقین سے کہا کہ وہ بیگم صاحبہ کی پرسکون موت کی دعائیں مانگنا شروع کردیں۔
ایک طرف حافظ صاحب نے دعاؤں کیساتھ ساتھ اپنی بیگم کے سرہانے بیٹھ کر روزانہ ایک قرآن پاک ختم کرنا شروع کردیا تاکہ ان کی بیگم ٹھیک ہوجائے تو دوسری طرف ان کی اولاد نے اپنے عزیزواقارب سے اپنی ماں کے گناہوں کی معافی مانگنا شروع کردی تاکہ ان کی ماں کو اس تکلیف سے جلد سے جلد نجات مل سکے۔
ایک بیٹا جب اپنی ماں کے گناہوں کی معافی مانگنے اپنے سسراور ساس کے پاس گیا تو انہوں نےکہا کہ بیگم صاحبہ نے جیسے ان کی بیٹي کو ستایا ہے انہیں معاف کرنے کو دل تو نہیں چاہتا مگر پھر بھی اللہ واسطے معاف کیا۔
ڈاکٹرز کی وارننگ کے بعد اولاد نے اپنی ماں کی قبر بھی تیار کرادی تاکہ گرمی کے موسم میں ان کی میت زیادہ خراب نہ ہو اور سارا خاندان بیگم صاحبہ کی موت کا انتظار کرنے لگا۔
دوسری طرف حافظ صاحب نے آس کا دامن تھامے رکھا اور اپنی بیگم کی سانس اور خوراک کیلیے لگی نالیوں کو ہٹانے سے انکار کردیا۔ انہوں نے دعاؤں کیساتھ ساتھ قرآن پڑھنے کا وقت بھی بڑھا دیا۔ پورے دو ہفتے بعد ایک دن اچانک حافظ صاحب نے کیا دیکھا کہ ان کی بیگم نے آنکھیں کھول لی ہیں۔ انہوں نے فوراً ڈاکٹر کو بلایا جس نے بتایا کہ مریض قومے سے باہر آرہا ہے اور اگلے چند گھنٹوں میں صورتحال پوری طرح واضح ہوجائے گی۔ چند گھنٹے کیا بلکہ چند منٹ میں حافظ صاحب کی شریک حیات نارمل حالت میں واپس آگئیں اور چند دن بعد مکمل صحت یاب ہوکر گھر چلی گئیں۔
اس وقت حافظ صاحب کی عمر اسی سال سے تجاوز کرچکی ہے اور وہ اپنی بیگم کیساتھ صحت مند بھرپور زندگی گزار رہے ہیں۔ دونوں میاں بیوی ابھی بھی صبح مکھن اور لسی کیساتھ ناشتہ کرتے ہیں اور دوپہر کو صرف فروٹ کھاتے ہیں۔ ان کی اولاد سمیت ان کے سارے رشتے دار اس بات پر اب بھی حیران ہوتے ہیں کہ یہ معجزہ کیسے ظہور پذیر ہوا۔
بیگم صاحبہ کے معمولات زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی وہ اب بھی سخت مزاج ہیں اور اپنی بہوؤں کیساتھ ساتھ اپنے مجازی خدا کو ڈانٹ پلاتی رہتی ہیں۔ لیکن اب چونکہ بیٹے اپنے اپنے گھروں میں رہ رہے ہیں اس اسلیے ان کی بیویاں کبھی کبھار کی ڈانٹ کا برا نہیں مناتیں۔ حافظ صاحب اب بھی اپنی بیوی کا بھرپور خیال رکھتےہیں اور اس کو خوش کرنے کیلیے یہ شعر کبھی کبھار گنگنا دیتے ہیں۔
حافظ نہ جانے یہ ان کی اداؤں کا اثر تھا
کہ جلوے نہ بھا سکے مجھے مغرب کی اداؤں کے
انا للہ و انا الیہ راجعون
Thursday, December 27th, 2007راولپنڈی میں ایک خود کش حملے میں بے نظیر بھٹو شہید ہو گئی ہیں، چلو لوگوں کا ایک اعتراض تو ختم ہوا کہ عوام ہی کیوں مرتے ہیں لیڈر کیوں نہیں مرتے۔
میرے پاس اس وقت ایسے الفاظ نہیں ہیں کہ میں اپنے جذبات کا اظہار کر سکوں، اللہ پاک پاکستان کو اپنے حفظ و امان […]
سال گزشتہ کی بلاگنگ کا جائزہ
Thursday, December 27th, 2007سال نو کا آغاز قریب ہے۔ بدتمیز کی تجویز پر اس سال کے اپنے بلاگنگ تجربے کے بارے میں لکھ رہا ہوں۔
اس سال قریبا ایک سو بیس پوسٹس لکھیں جن میں سے چوالیس پوسٹس “کڑیاں” کے زمرے میں شامل کی گئیں یہ زمرہ مختصر تبصرے اور فوری لنک شئیرنگ کے لئے مخصوص ہے۔
قریبا چھ سو […]
سال ٢٠٠٧ء اور میری بلاگنگ
Thursday, December 27th, 2007سال ٢٠٠٧ء کا اختتام آن پہنچا ہے۔ اسی سال کے اوائل میں، میں نے اردو محفل میں شمولیت اختیار کی اور یوں انٹرنیٹ پر موجود ایک نئے جہان سے متعارف ہوا۔ وہیں سے بلاگز وغیرہ کی معلومات ہوئیں اور شاکر بھائی کے بلاگ پر اس بارے میں کافی تحاریر پڑھنے کو ملیں، ساتھ ہی ورڈ […]
تارے زمیں پر
Thursday, December 27th, 2007اگر آپ کو ابھی تک میرے بارے میں یہ نہیں پتہ چلا کہ مجھے بچے بہت پسند ہیں تو آپ کچھ بھی نہیں جانتے۔ بچوں سے سخت روئیہ رکھنے والے مجھے سخت زہر لگتے ہیں۔ ہم بچے خود ہی بگاڑ کر الزام بھی انہی کو دیتے ہیں۔ بچے بہت معصوم ہوتے ہیں۔ ہم ان کو […]