Google

Archive for November, 2007

چہرہ بدلا ہے نظام نہیں

Wednesday, November 28th, 2007

ایوان صدر وچ سجا چھڈی اے

شیروانی اندر لکا  چھڈی  اے

عوام  نوں  دھوکھا  دین   لئی

چاچے وردی  لاہ  چھڈی  اے

جنرل مشرف نے آج فوج کی کمانڈ جنرل اشفاق کیانی کے سپرد کرتے ہوئے پاکستانجنرل مشرف کمانڈ جنرل اشفاق کیانی کے حوالے کررہے ہیں۔ سے زیادہ فوج کے ادارے کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج ہے تو پاکستان ہے۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے یعنی عوام ہے تو پاکستان ہے اور پاکستان ہے تو فوج ہے۔ جنرل مشرف جو اب مسٹر مشرف بن چکے ہیں کی تقریر کا لب لبا یہی تھا کہ فوج پاکستان کا واحد ادارہ ہے جس میں یکجہتی اور ڈسپلن ہے۔ دوسرے اداروں میں  ڈسپلن کیوں نہیں ہے اس کی وجوہات انہوں نے نہیں بتائیں۔

ہمارے خیال میں عالمی طاقتوں نے جب کمزور اور چھوٹے چھوٹے ملکوں کو آزاد کیا تو انہوں نے سوچا کوئی ایسی طاقت ہونی چاہیے جو ان ملکوں میں ہروقت موجود رہے اور جسے کسی جمہوری طریقے سے ختم نہ کیا جاسکے۔ اس مقصد کیلیے انہوں نے فوج کو منتخب کیا کیونکہ ان ملکوں کی آزادی سے قبل اگر کسی ادارے کی مکمل تربیت عالمی طاقتوں کی زیر نگرانی ہوئی تھی تو وہ فوج تھی۔ تب سے نہ تو فوجی تربیت کے مغربی انداز بدلے ہیں اور نہ فوج میں قومیت پسندی کا بیج بونے دیا گیا ہے۔ ترقی پذیر ممالک کی افواج آج بھی عالمی طاقتوں کی زیرنگرانی تیارشدہ نصاب کے تحت تربیت حاصل کرتی ہیں۔  ان کی تربیت میں نہ مذہب کا عمل دخل ہوتا ہے اور نہ قومی وقار کا۔ یعہی وجہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک کے جنرل انتہاپسند روشن خیال ہوتے ہیں جو شراب کباب اور کماربازی کے نہ صرف دلدادہ ہوتے ہیں بلکہ فوج کے اندر بھی اسی روشن خیالی کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ تبھی تو فوجی آفیسرز زیادہ تر شراب پیتےہیں وہ بھی ولائتی اور ان کے آرمی کلبوں میں جوا کھیلنے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی۔

 انہیں صرف یہی سکھایا جاتا ہے کہ کس طرح عالمی طاقتوں کے مفادات کا خیال رکھنا ہے۔ یہی  وجہ ہے کہ جنرل کے عہدے پر ترقی پانے والوں کی آخری تربیت عالمی طاقتیں اپنے اداروں میں کرتی ہیں اور ان کو اس طرح برین واش کرتی ہیں کہ وہ عام آدمی کو بلڈی سویلین کہتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں اور ان کے سامنے ملکی مفاد سے زیادہ ذاتی مفاد مقدم ہوتا ہے۔ اسی لیے ترقی پذیر ممالک کے ریٹائرڈ جنرل دنیا کے امیر ترین جنرل ہوتے ہیں۔

جنرل اشفاق کیانی ایک صوبیدار کے بیٹے ہیں جنہوں نے جہلم ملٹری کالج سے ایف ایس سی کرنے کے بعد فوج میں کمیشن حاصل کیا۔  وہ کوئٹہ سٹاف کالج کیساتھ ساتھ امریکہ کے جنرل سٹاف کالج فورٹ لیونورتھ کے تربیت یافتہ ہیں۔ وہ جنرل مشرف کی طرح مغربی طرز زندگی کے دلدادہ ہیں اور چین سموکرہیں۔ ان کو عالمی طاقتوں کی پشت پناہی بھی حاصل ہے اور شاید اسی لیے وہ اگلی حکومت کے اندر ایک کلیدی کردار ہوں گے۔

جنرل مشرف نے وردی اتار کر کمانڈ جنرل اشفاق کیانی کے سپرد کر تو دی مگر ایمرجنسی پلس نہیں اٹھائی جسے اکثر لوگ مارشل لاء کا دوسرا نام کہتے ہیں۔ ابھی تک ملک میں میڈیا پر پابندیاں برقرار ہیں، سپریم کورٹ کےججز گھروں میں بند ہیں اور سول سوسائٹی اپنی آزادی کیلیے جگہ جگہ مظاہرے کررہی ہے۔ ابھی آج کے مظاہرے میں جب ہم نے صحافیوں کو سول سوسائٹی کیساتھ ملکر “آزادی” مانگتے سنا تو ہمیں 1947 کا زمانہ یاد آگیا جب مسلمان انگریزوں سے آزادی مانگ رہے تھے۔ لیکن انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے بعد عام پبلک اپنے آپ کو اب بھی آزاد نہیں سمجھتی کیونکہ اس کے بنیادی حقوق معطل ہیں،  اس کے ملک کا نظام بغیر آئین کے چلایا جارہا ہے اور وہ اب بھی آزادی مانگ رہی ہے۔

اس ساری تبدیلی سے تویہی لگتا ہے کہ صرف وردی والا چہرہ بدلا ہے وردی نہیں اتری۔ یہ اب جنرل اشفاق کیانی پر منحصر ہے کہ وہ کس طرح عام پاکستانی کو یقین دلاتے ہیں کہ جنرل مشرف کے مسٹر مشرف بننے کے بعد فوج سیاست اور حکومت سے عليحدہ ہوچکی ہے اور اب ملک میں فوجی نہیں سویلین حکومت ہے۔

اللّه کا پیغام

Tuesday, November 27th, 2007

ترنم

Tuesday, November 27th, 2007

 زی ٹی وی کے رئیلٹی شو سارےگاماپا 2007 میں اس دفعہ بہت اچھا گانے والا نیا ٹیلنٹ سامنے آیا۔ میں ویسے تو اتنی دیر ٹیلیویژن کے سامنے زیادہ دیر تک ٹک نہیں سکتی لیکن اس پروگرام میں جب پاکستان سے “امانت علی” اور انڈیا کی “پونم یادیو” کی پرفارمنس میں نے کبھی مس نہیں کی۔ […]

لو کر لو بات۔

Tuesday, November 27th, 2007

صورت حال یہ ہے کہ کھال اترنے والی ہے لیکن اس سے پہلے نئی کھال یعنی شیروانی تیار کرلی گئی ہے۔۔ عدلیہ کو شدت پسندوں سے پاک صاف کردیا گیا ہے اور عدلیہ نے ایک دفعہ پر تجدید عہد وفا کرلیا ہے ۔۔ کوئی لمحہ ہے جب صدر صاحب شیروانی میں جلوہ افروز ہونگے پھر […]

مڈل ایسٹ امن کانفرنس

Tuesday, November 27th, 2007

امریکہ کے کہنے پر امریکی شہر اناپولس میں مڈل ایسٹ کانفرنس آج منعقد ہو رہی ہے جس میں چالیس سے زائد ممالک اور مختلف تنظیمیں حصہ لے رہی ہیں اور ان میں پاکستان کے خارجہ سیکریٹری بھی شامل ہیں۔

عرب تجزیہ نگار اس کانفرنس سے کوئی زیادہ امیدیں نہیں رکھتے۔  بقول ان کے اس کانفرنس کا انعقاد ایک شو سے زیادہ کچھ نہیں اور اگر اسرائیل اور امریکہ فلسطینی مسئلے کے حل میں اتنے ہی سنجیدہ ہیں تو پھر صرف تین پارٹیوں یعنی اسرائیل، فلسطین اور امریکہ کے علاوہ کسی اور کی شرکت کی ضرورت نہیں تھی۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق بہت سارے عرب ممالک جانتے ہیں کہ یہ امن کانفرنس پہلے کی طرح بےسود ہی رہے گی مگر وہ صدر بش کی فون کال پر “نو” کہنے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اسی لیے انہوں نے کانفرنس میں شرکت کی حامی بھر لی۔

اب یہ کانفرنس ہوگی، لمبی چوڑی تقریریں ہوں گی اور پھر بعد میں ایک جنرل سی قرارداد پاس ہوگی جس میں اسرائیل اور فلسطین مزاکرات جاری رکھنے کی حامی بھریں گے اور بس۔

اگر امریکہ یا اسرائیل فلسطینیوں کو آزادی دینے کے حق میں ہیں تو پھر پتہ نہیں کونسی رکاوٹ ایسی ہے جو ان سے عبور نہیں ہو پا رہی۔ اس وقت امریکہ کی سو سے زیادہ ممالک میں افواج تعینات ہیں اور حیرانی اسی بات پر ہے کہ سپرپاور ہونے کے باوجود وہ دنیا کی دو چھوٹی سی ریاستوں کو صلح پر مجبور نہیں کرسکتا۔ امریکہ آج اگر اسرائیل کی امداد بند کرنے کی دھمکی دے ڈالے تو اسرائیل کا وجود خطرے ميں پڑ جائے گا اور وہ فلسطین کو آزاد کرنے پر مجبور ہوجائے گا۔ ہم یہ بھی جانتے ہیں اسرائیلی لابی امریکہ میں مضبوط ہے اور یہودی امریکی معیشت پر بھی چھائے ہوئے ہیں مگر امریکہ جیسی سپرپاور کو اب کسی بھی دھمکی سے ڈرانا آسان نہیں ہے۔ اگر یہودی امریکہ سے دولت نکالنے کی دھمکی دیں گے تو امریکہ ان کساتھ وہی سلوک کرسکتا ہے جو ہٹلر نے کیا تھا۔ عرب ممالک تو امریکہ کی بات ٹال ہی نہیں سکتے کیونکہ عربی حکمرانوں کی ساری کی ساری دولت امریکی بینکوں میں پڑی ہے اور وہ انکار کرکے کنگلے نہیں ہونا چاہتے۔

 بات سیدھی سی ہے کہ ابھی ہم اس مسئلے کو حل کرنا ہی نہیں چاہتے کیونکہ اس مسئلے کے حل ہونے سے دنیا کی دوبڑی طاقتوں کے درمیان صلح ہوجائے گی جو دنیا کے بڑے بڑے اسلحہ ساز ملکوں کو منظور نہیں ہے۔ ہم نے یہودیوں اور مسلمانوں کو دوبڑی طاقتیں اس لیے کہا ہے کہ یہودی اس وقت مالی لحاظ سے سپر پاور ہیں اور مسلمان عددی لحاظ سے۔

فلسطینی ریاست کے قیام میں دو تین بڑے بڑے ایشو حائل ہیں۔ اسرائیل چاہتا ہے کہ فلسطین کے علاوہ تمام عرب ممالک اسے تسلیم کرلیں۔ فلسطینی چاہتے ہیں کہ فلسطینی ریاست میں یروشلم کا وہ حصہ شامل کیا جائے جس میں بیت المقدس ہے، فلسطینی مہاجرین کو واپس فلسطین آنے کی اجازت دی جائے اور مغربی کنارے سے یہودی بستیاں ہٹا دی جائیں۔ اسرائیل پتہ نہیں کیوں ان تین جائز مطالبات کو ماننے کیلیے تیار نہیں ہے۔ حالانکہ فلسطین اس کے بدلے اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلیے بھی تیار ہے۔ اسی طرح عرب ممالک بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کیلیے تیار ہیں اگر اسرائیل 1967 سے پہلے کی پوزیشنوں پر واپس چلا جائے اور فلسطینیوں کو آزاد کردے۔ اب کوئی عقل کا اندھا ہی ان جائز مطالبات کو ناجائز قرار دے گا۔ دراصل اسرائیل چاہتا ہے کہ عرب ممالک اسرائیل کیساتھ نہ صرف سفارتی تعلقات قائم کریں بلکہ اس کیساتھ تجارت بھی کریں۔ اب اسرائیل کو کون سمجھائے کہ یہ سب کچھ ہوجائے گا جب فلسطینی آزاد ہوں گے اور عرب ممالک اسرائیل کو تسلیم کرلیں گے۔

دراصل ہماری نظر میں آزاد فلسطین اسرائیلیوں کے حق میں بھی ہے کیونکہ اس طرح اس کو عرب ممالک کی پسماندہ ٹیکنالوجی والی منڈی تک رسائی حاصل ہوجائے گی اور وہ ان ممالک کو اپنی مصنوعات برآمد کرکے اپنے ملک کو ترقی یافتہ ممالک میں شامل کرلے گا۔ اسرائیلی بھی شاید یہ بات جانتے ہیں مگر کوئی ایسا خفیہ ہاتھ ایسا ہے جو اسرائیل کو ان جائز مطالبات کو ماننے سے روک رہا ہے۔

پاکستان نہ جانے کیوں اس کانفرنس میں شرکت کررہا ہے۔  نہ تو پاکستان کی وہاں کوئی بات سنے گا اور نہ کوئی مرعوب ہوگا۔ پاکستان کی شرکت صرف اور صرف اسرائیل کیساتھ ملاقات کا بہانہ ہے اور کچھ نہیں۔

خدا کرے ہمارے سمیت عرب تجزیہ نگاروں کے خدشات اس دفعہ غلط ثابت ہوں اور فلسطینی ریاست کے قیام پر اسرائیل نہ صرف راضی ہو جائے بلکہ فلسطینی ریاست کی آزادی کی تاریخ بھی مقرر کردے۔ وہ شام کے مقبوضہ علاقے خالی کرکے اس کے ساتھ بھی مصر کی طرح کا امن معاہدہ کرلے تاکہ دنیا چین کی نیند سوسکے۔ اسی میں اسرائیل کی بھلائی ہے مگر عالمی طاقتوں کی نہیں جنہوں نے اپنا اسلحہ ابھی مزید بیچنا ہے۔

ہم چلے جِم!

Tuesday, November 27th, 2007

اور ہم نے اپنے پھیلتے جسم کا آخر علاج سوچ ہی لیا۔۔۔۔ ایک مہینہ ہونے کو آیا ہے ہمیں جِم جاتے ہوئے۔۔۔ عموما لوگ باڈی بلڈنگ کرنے آتے ہیں جِم لیکن میں وہاں اپنا موٹاپا کم کرنے جاتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ دفتر سے واپسی پر شام/ رات کو جِم پہنچتا ہوں۔ آدھ/ پون گھنٹہ ورزش اور مختلف […]

اب قلم سے‘ اِزار بند ہی ڈال

Tuesday, November 27th, 2007

قوم کی بہتری کا‘ چھوڑ خیال
فکرِ تعمیرِ ملک‘ دل سے نکال
تیرا پرچم ہے‘ تیرا دستِ سوال
بے ضمیری کا اور کیا ہو مآل؟
اب قلم سے‘ اِزار بند ہی ڈال
……………
تنگ کردے غریب پر‘ یہ زمیں
خَم ہی رکھ‘ آستانِ زر پہ جبیں
عیب کا دَور ہے‘ ہنر کا نہیں
آج حسنِ کمال‘ کو ہے زوال
اب قلم سے ازار بند ہی […]

شرافت کا زمانہ ہی نہیں

Tuesday, November 27th, 2007

ہم سب کا ہنس ہنس کر برا حال تھا۔ وہ بھی ہنس رہا تھا ساتھ ساتھ بار بار مڑ کر اس طرف دیکھ رہا تھا جہاں وہ بندہ غائب ہوا تھا۔ پھر کہتا ایرانی بالکل صحیح کرتے ہیں۔ gays کو پھانسی لٹکا دیتے ہیں۔ ان دنوں ایرانی صدر کو واپس گئے ایک ہی ہفتہ ہوا […]

حبیب جالب

Monday, November 26th, 2007

ایوب خان کے زمانے میں حبیب جالب نے اپنی ایک سیاسی پارٹی بنائی۔ اس کا نام یاد نہیں رہا۔ جب ان سے ممبر سازی پر سوال کیا جاتا یا دفتر کا پتہ پوچھا جاتا تو اس کا جواب وہ یہ دیتے …نہ دفتر نہ بندہ، نہ پرچی نہ چندہ ۔ اسی دور میں الیکشن آیا […]

ونڈوز میں اوبنٹو کے رنگ

Monday, November 26th, 2007

یہ تو ماننا ہی ہوگا کہ اوبنٹو لینکس کمال کی چیز ہے۔ اوبنٹو لینکس کی ایک خوبی یہ ہے کہ آپ اسے میک یا ونڈوز، کسی بھی رنگ میں رنگ لیں۔ ونڈوز اور میک(؟) اس معاملے میں زرا کنجوس واقع ہوئے ہیں۔ ونڈوز ایکس پی کو پیچ(Patch) کیے بغیر آپ صرف تھرڈ پارٹی سافٹ وئیر […]

ہمارا آئیڈیل حکمران

Monday, November 26th, 2007

آج کل انتخابات کا دور ہے اور ہر کوئی اگلی حکومت حاصل کرنے کی کوششوں میں لگا ہوا ہے۔ سیاست کا یہ کھیل بغیر کسی اصول و ضوابط کے کھیلا جارہا ہے اسلیے شاید اس کے نتائج سے ہم پاکستانیوں کو کوئی فائدہ نہ ہوسکے۔

بہرحال آئیں اس کڑے وقت میں صرف خیالی گھوڑے دوڑا کر اپنے آئیڈیل حکمران کا نقشہ کھینچیں اور پھر دیکھیں کہ ایسا حکمران موجودہ حالات میں ہم لوگوں کو نصیب ہو گا کہ نہیں۔

ہمارا آئیڈیل حکمران وہ ہوگا جس کی اپنی پارٹی میں جمہوریت ہوگی اور پارٹی کا شخصیت پرستی سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوگا۔

ہمارا آئیڈیل حکمران نہ تو امیر ہو گا اور نہ ہی امپورٹڈ بلکہ وہ مڈل کلاس کا نمائندہ ہوگا اور اس کا رہن سہن بھی ایک مڈل کلاس کی طرح کا ہوگا۔

وہ انتہائی ایماندار اور قوم پرست ہوگا، ناں کہ کاروباری معاملات میں گھپلے کرکے ملکی دولت بیرونی ممالک کے بینکوں میں جمع کرانے والا۔

اس کے پاس عوام کی طاقت ہوگی نہ کہ بیرونی آقاؤں کی پشت پناہی۔ وہ بلا جھجک ملکی مفاد کو ہر معاملے میں ترجیح دے گا۔

اس کی سیکیورٹی کے اخراجات زیرو ہوں گے کیونکہ عوام اس سے نفرت کی بجائے پیار کریں گے۔  

ہمارا حکمران قومی صنعت کو ایسٹ انڈین کمپنی ٹائپ بیرونی سرمایہ کاروں سے تحفظ فراہم کرے گا اور نج کاری کے چکر میں غیرملکی سرمایہ کاروں کے ہاتھوں میں پاکستانی معیشت کی باگ ڈور تھمانے سے اجتناب کرے گا۔

وہ اپنے پڑوسی ممالک کیساتھ تمام جھگڑے ختم کرکے فوجی بجٹ کو آدھا کردے گا اور اس طرح بچ جانے والا بجٹ تعلیم اور صحت کے شعبوں پر خرچ کرکے ملک کو حقیقی ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔

ہمارا حکمران اپنے خرچ پر حج اور عمرے کرے گا

وہ سپریم کورٹ کو آزاد کرکے غریبوں کو عدالتوں تک آسان رسائی مہیا کرے گا۔

وہ تھانوں کا کلچر بدل دے گا اور تھانوں میں انتہائی ایماندار اور مہذب آفیسرز تعینات کرے گا۔

وہ بیرونی قرضوں سے نجات دلانے کیلیے منصوبہ بندی کرے گا اور پھر اس پر عمل کرتے ہوئے ہرسال قوم کو بتائے گا کہ قرضے کتنے کم ہوئے۔

وہ قانون میں ایسی تبدیلیاں کرے گا جن کی مدد سے فوج کی حکومت میں مداخلت ہمیشہ کیلیے ختم ہوجائے گی اور فوج صرف اور صرف سرحدوں کی حفاظت کیا کرے گی۔ وہ فوج کے تمام صنعتی اداروں یعنی فاؤنڈیشنوں، ٹرسٹوں اور تعلیمی اداروں کو قومی تحویل میں لے لے گا۔

وہ عدلیہ اور انتظامیہ کو رشوت سے پاک کرنے کیلیے اینٹي کرپشن کا فول پروف نظام متعارف کرائے گا۔

وہ میڈیا کو آزاد کرے گا اور حکومت میں شامل وزراء کی سکروٹنی کی حوصلہ افزائی کرے گا۔

وہ اپنے اخراجات کا ایک ایک پائی کا ٹی وی پر سالانہ حساب دے گا اورکسی بھی قسم کے آڈٹ کا سامنا کرنے سے نہیں ہچکچائے گا۔

وہ ایک باعمل انسان کی چلتی پھرتی مثال ہوگا جو وہی کہے گا جو خود کررہا ہوگا۔

کیا ایسا حکمران ہمیں نصیب ہوسکتا ہے؟ ہاں نصیب ہوسکتا ہے مگر تبھی جب ہم خود ایک باعمل انسان بنیں گے اور ایک ایماندار اور پاکستان سے مخلص ہونے کا ثبوت دیں گے۔ یا پھر کوئی معجزہ ہم پر ایسا حکمران مسلط کردے جو چودہ کروڑ کے جم غفیر کو اپنے عمل اور سچائی سے سیدھی راہ پر ڈال دے۔

@live.com.pk

Monday, November 26th, 2007

Hotmail officially allowed the registration of @live.com addresses a few days ago. I have this address for over a year. how? lets not talk abt that
you can always go to Create LIVE.COM address this should automatically take you to your country’s domain page. however if it doesnt take you you can use the links […]

crazy

Sunday, November 25th, 2007

 
فلو، ساری رات کھانسی کے بعد آپ کا کیا حال ہو سکتا ہے؟ بہت برا۔ بس اسی برے کے ساتھ ساتھ میں سوچ رہا تھا کہ ricky hatton یا floyd mayweather کو اگر کھانسی ہو جائے تو وہ کیا کریں گیں؟ فائیٹ کینسل ہو تو سکتی نہیں تو پھر تو بندہ بہتر ہو کر بھی […]

خواب ادھورے سہی خواب سہارے تو ہیں

Sunday, November 25th, 2007

ظلم کے دوزخوں سے بھی پُھکتے نہیں
روشنی اور نوا اور ہوا کے علم
مقتلوں میں پہنچ کر بھی جھکتے نہیں
خواب تو حرف ہیں
خواب تو نُور ہیں
خواب سُقراط ہیں
خواب منصور ہیں

 
خواب ادھورے سہی
خواب سہارے تو ہیں
خواب میری راہیں روکتیں ہیں
یادیں تیری دامن کھینچتی ہیں
بھول چکے جو ہیں یاد آتے تو ہیں
خواب ادھورے سہی خواب سہارے تو ہیں
صدیوں […]

پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست

Saturday, November 24th, 2007

2007 کا سال پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ٹونٹی 20 کرکٹ کے نئے فارمیٹ کی طرح بہت ہیجان خیز رہا۔ اس سال سیاست کے تمام کرداروں نے اتنے اتار چڑھاؤ دیکھے کہ ایسے لگتا ہے جیسے ہم کوئی فلم دیکھ رہے ہوں اور فلم بھی ایسی جس کے اینڈ کا کسی کو پتہ نہ ہو۔

اگر فلمساز چاہے تو اس سال پر ایک فلم بنا سکتا ہے جس کا آغاز وہ چیف جسٹس کے خلاف ریفرینس سے کرے اور پھر اس فلم میں جتنے چاہے موڑ ڈال دے۔

چیف جسٹس کے ریفرینس میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وکلا ان کے حق میں اٹھ کھڑے ہوں گے اور پھر سپریم کورٹ کے ان ججوں کو جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف اٹھا رکھا تھا اپنے ہاتھوں سے چیف جسٹس کوبحال کرنا پڑے گا۔

پھر نواز شریف کا سپریم کورٹ کی اجازت سے واپس آنا اور آخر تک کسی کو معلوم نہ پڑنا کہ ان کیساتھ کیسا سلوک کیا جائے گا۔ اس کلائمیکس کو نواز شریف کو سعودی عرب والوں کی مدد سے واپس بھیج کر پورا کیا گیا۔ اس کے بعد کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ پاکستانی سعودی عرب کو لعن طعن کرنا شروع کردیں گے۔

پھر جنرل مشرف کا صدارت کا انتخاب لڑنا اور بعد میں ان کیخلاف سپریم کورٹ کا سٹے آرڈر دینا فلم کے ایک اور کلائمیکس کو شروع کرتا ہے۔ اس کلائمیکس کو ایمرجنسی لگا کر توڑنا خلاف توقع تو نہ تھا مگر حیران کن ضرور تھا۔

ایمر جنسی میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے ججوں کا ریکارڈ تعداد میں پی سی او کے تحت دوبارہ حلف سے انکار فلم میں انہیں ہیرو بنا دیتا ہے۔

اسی دوران حکومت کا بینظیر کے ساتھ مک مکا بھی کہانی کو ایک خوبصورت موڑ دیتا ہے جس میں جنرل مشرف جو آٹھ سال سے بینظیر کی کرپشن کو برا بھلا کہتے رہے اور انہیں اپنی زندگی میں پاکستان واپس نہ آنے کا اعلان کرتے رہے اچانک اپنے آقاؤں کی منشا کے مطابق بینظیر کو ملنے دوبئی جاتے ہیں۔  اس کے بعد بینظیر کے حق میں ایک مفاہمتی آڑڈینینس پاس ہوتا ہے اور بینظیر پاکستان واپس آجاتی ہے۔ کہانی کا یہ حصہ کلائمیکس پر پہنچ جاتا ہے جب بینظیر کے استقبالی جلوس میں دہشت گردی ہوتی ہے اور دو سو افراد لقمہ اجل بن جاتے ہیں۔

پھر ایمرجنسی سے ایک روز پہلے بینظیر کا دبئی واپس چلے جانا اور اگلے ہی دن پاکستان آجانا ایک اور سسپنس پیدا کرتا ہے۔ اس کے بعد بینظیر جو جنرل مشرف کیخلاف اچانک بیان دینا شروع کردیتی ہے اور اس کی وجہ سے کہانی کا یہ حصہ سب کی سمجھ میں نہیں آتا کہ بینظیر جنرل مشرف کی ٹیم میں ہیں یا ان کے مخالف گروپ میں۔

ایمرجنسی کیخلاف عمران خان کی زیرزمین مزاحمت اور پھر اچانک پنجاب یونیورسٹی میں نمودار ہو کر جمیعت کے ہاتھوں پٹنے کے بعد گرفتاری دینا اس کہانی میں ایک اور سین کے اضافے کا سبب بنتا ہے۔ اس فلم میں جنرل مشرف جو ویلن کاکردار ادا کررہے ہیں انہیں جمیعت کی شکل میں اپنا جوٹی دار مل جاتا ہے۔ جمیعت کی یہ غلطی اس کی ساٹھ سالہ کارکردگی پر ایسا بٹا لگاتی ہے جو وہ مدتوں نہ بھول سکے گی۔

کہانی آگے بڑھتی ہے اور حلف زدہ سپریم کورٹ ایمرجنسی کو جائز قرار دینے کیساتھ ساتھ جنرل مشرف کو صدارت کا سرٹیفکیٹ دے دیتی ہے اور ساتھ ہی اپنے ساتھی ججز جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں لیا ہوتا کو برطرف کرکے بیوفائی کا مسالہ فلم میں شامل کردیتی ہے۔

چند روز قبل جنرل مشرف اچانک مختصر دورے پر سعودی عرب چلے جاتے ہیں اور اس کے بعد نواز شریف کی واپسی کا اعلان کردیا جاتا ہے۔

اپوزیشن انتخابات کے بائیکاٹ اور کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا کھیل ساتھ ساتھ کھیل کر فلم بنیوں کو سکتے میں ڈالے رکھتی ہے۔

اسی دوران ملک کے  درآمد شدہ سابق وزیر اعظم شوکت عزیز اگلے انتخابات میں حصہ نہ لینے کا اعلان کرکے کہانی میں ایک اور سسپنس پیدا کردیتے ہیں۔

ابھی انتخابات ہونے ہیں، جنرل مشرف نے وردی اتارنی ہے اور صدارت کا حلف اٹھانا ہے، نواز شریف کو واپس آکر کہانی کو نیا موڑ دینا ہے، اپوزیشن کو انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کا فیصلہ کرنا ہے۔ یعنی اداکار شاہ رخ کے ایک تازہ ڈائیلاگ کے مطابق “پکچر ابھی باقی ہے میرے دوست”

یونی کوڈ اردو میں ویب سائٹ بنانے کے ٹمپلیٹ

Saturday, November 24th, 2007

یہ تمام ٹمپلیٹ پہلے سے بنائے گئے ٹمپلیٹ ہیں ان پر یونی کوڈ اردو ( تحریری اردو ) میں ویب سائٹ بنانے کی ہدایات موجود ہیں آپ ان میں اپنی یونی کوڈ اردو کی ویب سائٹ بڑی آسانی سے بنا سکتے ہیں۔انشااللہ اب جلد ہی ساتھ ساتھ نئے ٹمپلیٹ بھی اپلوڈ کئے جاتے رہیں گے۔یہ […]

فاضل مصنف

Saturday, November 24th, 2007

مجھے آپ سب کو یہ بتاتے ہوئے بہت خوشی محسوس ہورہی ہے، کہ اب میں صرف بلاگر یا مضمون نگار نہیں رہا بلکہ باقاعدہ ایوارڈ یافتہ مصنف ہوگیا ہوں۔ میری لکھی ہوئی کتاب “دادی جان مصر میں” کو نیشنل بک فاؤنڈیشن نے تیرہ سے سولہ سال کی عمر کے بچوں کے لئے لکھی کتابوں میں […]

اس قوم کے مجرم ہو تم

Saturday, November 24th, 2007

 اس قوم کے مجرم ہو گناہ گار بھی تم ہو
تاریخ بتائے گی خطا کار بھی تم ہو
 
جو اپنے جوانوں کا بدن کاٹ رہی ہے
وہ آج کے فرعون کی تلوار بھی تم ہو
 
تم روکنے والے ہو سحر میرے وطن کی
تم شب کے محافظ ہو سیاہ کار بھی تم ہو
 
مٹی میں میری قوم کی عظمت کو ملا […]

سرچ انجن لسٹ

Saturday, November 24th, 2007

مجھے سرچ انجن کی ایک لسٹ ملی ہے جس میں سرچ انجن کے لنک بھی ساتھ دیئے گئےہیں جن پر کلک کر کے آپ اپنی سائٹ کو ان کے ڈیٹا بیس میں شامل کرا کے اپنی ویب یا بلاگ کی ٹریفک میں بے پناہ اضافہ کر سکتے ہیں۔

 
7Search -Pay for position SE.
Acclaim Search -by ValueCom.
AOL -Lousy […]

سر پھرے طالب علم

Friday, November 23rd, 2007

اوپر کی تصویر کو غور سے دیکھیئے، اس میں ایک طالب علم ایک فوجی افسر کو لات رسید کر رہا ہے اور فوجی بچنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ تصویر بنگلہ دیش کے انگریزی روزنامے ڈیلی سٹار میں شائع ہوئی جس کے بعد پورے بنگلہ دیش کھلبلی مچ گئی۔ عوام نے اس تصویر کو […]

مضرصحت خوراک کا ذمہ دار کون، دوکاندار یا مرغیاں؟

Friday, November 23rd, 2007

مرغیوں کی عید

جرنیل مشاعرہ

Friday, November 23rd, 2007

ایک کُل پاکستان مشاعرے میں ایک فوجی جرنیل صدر بنا دیئے گئے۔ اُن کے رعب اور طنطنے کا کچھ ایسا عالم تھا کہ دس پندرہ منٹ تک سامعین کو کھل کر داد دینے کی ہمت نہ پڑی۔ اتفاق سے ایک شاعر نے بہت ہی اچھا شعر سنایا ۔۔۔۔ سامعین کے درمیان میں سے ایک نوجوان […]

کمزور مقابل ہو تو فولاد ہے جرنیل

Friday, November 23rd, 2007

اقبال اور مجید لاہوری کی روح سے معذرت کے ساتھ

 
کمزور مقابل ہو تو فولاد ہے جرنیل
امریکی ہوں سرکار تو اولاد ہے جرنیل
قماری و غفاری و قدوسی و جبروت
اس قسم کی ہر قید سے آزاد ہے جرنیل
جرنیل کی آنکھوں میں کھٹکتی ہے عدالت
ہوں جج جو آزاد تو برباد ہے جرنیل
ہر وقت وہ پہنے ہے صدارت میں […]

کرکٹ کے لئے کچھ بھی کرے گا۔

Friday, November 23rd, 2007

 
مزید فنی پکچر، وڈیو وغیرہ کے لئے یہاں کلک کیجیئے۔
Share This

حلف زدہ سپریم کورٹ کے کارنامے

Friday, November 23rd, 2007

ایک روز قبل حلف زدہ سپریم کورٹ نے حق نمک ادا کرتے ہوئے جنرل  کو صدارتی انتخاب کیلیے اہل قراد دے دیا اور آج جنرل کی لگائی ہوئی ایمرجنسی کو جائز قرار دے کر ان کے احسانوں کا بدلہ بھی چکا دیا۔مظاہرہ

جیسا کہ ہم پہلے لکھ چکے ہیں جنرل صاحب کا آخری مکہ وہ نہیں تھا جسے استعمال کرکے ججوں کو گھر بھیجا گیا بلکہ آخری مکہ وہ ہوگا جسے لہرا کر صدارت کا حلف اٹھائیں گے اور بعد میں بینظیر کے ساتھ ملکر حکومت بنائیں گے۔

رہی بات سپریم کورٹ کی تو جب منصف اپنی مرضی سے چنے جائیں تو پھر انصاف بھی اپنی مرضی کا ہی ہو گا۔ معزول ججوں کی اکثریت کو غلط کہ کر صرف ایک شخص کی بات کو سچ مان لیا گیا۔ ہرکوئی جانتا ہے کہ پچاس لوگ جھوٹے نہیں ہو سکتے ہاں ان کے مقابلے میں ایک شخص جھوٹا ہوسکتا ہے مگر جب جنگل کا قانون نافذ ہو تو پھر جس کا جسم بڑا ہوگا وہی بادشاہ ہوگا چاہے وہ بھینسا ہی کیوں نہ ہو۔

دھائی خدا کی اتنی بڑی زیادتی کیخلاف دنیا کی بڑی بڑی جمہوریتیں صرف اپنے مفادات کی خاطر خاموش بیٹھی ہیں اور ایک آمر کی جمہوریت کو ہی سچی جمہوریت کہ رہی ہیں۔ جس طرح ایک بانجھ عورت بچہ پیدا نہیں کرسکتی اسی طرح ایک جنرل جمہوریت نافذ نہیں کرسکتا۔ رہی بات ججوں کی تو انہوں نے جن کا نمک کھایا ہے وہ ان کیخلاف فیصلہ کبھی نہیں دیں گے کیونکہ معزول ججوں کی مثال ان کے سامنے ہے۔ پتہ نہیں ان لوگوں کے ضمیر کس طرح انہیں رات کو سونے دیتے ہوں گے اور یہ لوگ اپنی اولادوں کیلیے کس طرح کی مثالیں چھوڑ کر جائیں گے۔

 ہم اکثر سوچتے ہیں ظالم ڈاکٹر اور ظالم جج دنیا کے پتھر دل انسان ہوتے ہیں جو ایک انسانی جان سے کھیلتے ہیں۔ ڈاکٹر صرف روپے کی خاطر ایک اچھے بھلے انسان کا آپریشن کرکے جیب تو بھر لیتا ہے مگر ایک انسان برباد کر کے رکھ دیتا ہے۔ اب تو پاکستان میں پتے کے آپریشن کے بحانے گردے تک نکالے جانے لگے ہیں۔ انسانی اعضا کی اس چوری پر کیا چور ڈاکٹر رات کو آرام کی نیند سوپاتا ہوگا۔ ایک جج جب معصوم اور بیگناہ مجرم کو رشوت لیکر کر پھانسی کی سزا سناتا ہوگا تو کیا اس کی راتوں کی نیندیں حرام نہیں ہوتی ہوں گی۔

 ایک حاکم جب صرف ذاتی مفاد کی خاطر دوسرے لوگوں کا حق چھینتا ہے تو وہ لازمی مردہ دل ہوتا ہے اور جب وہ ہجر اسود کو چومنے کی تصویر اترواتا ہے تو دل میں لازمی اپنے اپنے آپ کو کوس رہا ہوتا ہے کہ میں کس عذاب میں پھنس گیا ہوں۔ وہ ہجر اسود کو صرف ایک پتھر سمجھتا ہوگا اس سے زیادہ کچھ نہیں۔

پتہ نہیں کب ہمارے حاکم اور قاضی القضاۃ ذاتی مفاد سے اوپر اٹھ کر قوم کی بھلائی کیلیے اقدامات کریں گے اور کب ان کے فیصلے خود غرضی کے بندھنوں سے آزاد  ہوں گے؟؟؟؟

پاکستانی ٹی وی

Friday, November 23rd, 2007

اب آپ انٹرنیٹ پر بھی مفت میں پاکستانی اور بہت سے ٹی وی چینل دیکھ سکتے ہیں، لسٹ اور لنک نیچےموجود ہیں۔
 

Geo News

Geo News - Audio

Geo Super

ARY One World

[…]

موبائل فونز کی چوری

Friday, November 23rd, 2007

موبائل فون کا استعمال جیسے جیسے بڑھا ہے، نت نئے سیٹ آنے لگے ہیں۔۔۔ ساتھ ہی ساتھ موبائل فون کی چوری اور چھینے جانے کی وارداتیں بھی بہت عام ہوگئی ہیں۔
اوہ۔۔۔! یہ تو میں ایسے بتارہا ہوں، جیسے کوئی نئی بات ہو۔ نہیں جی! نئی بات نہیں ہے۔۔۔ بہت عرصہ سے یہ سلسلہ جاری ہے۔۔۔ […]

صحافیوں پر وحشیانہ پولیس تشدد قابل مذمت ہے

Friday, November 23rd, 2007

 

 

بہت جلد میڈیا کی آزادی کا سورج
طلوع ہوگا
صحافیوں کی آواز کو دبا کر حکومت اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتی ہے جو موجودہ دور میں ناممکن ہے
حکومت جیو اور دیگرآزاد ٹی وی چینلز کی نشریات فوری بحال کرے : پاکستان طبی جرنلسٹس کونسل
لاہور(نمائندگان الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا ) صحافیوں پر وحشیانہ پولیس تشدد قابل […]

میڈیا سرکس

Thursday, November 22nd, 2007

16 نومبر کو جیو کی لائیو کوریج اور نیوز ٹرانسمیشن بند کر دی گئی۔ حکومتی موقف اس سلسلے میں سامنے نہیں آیا اور آئے بھی تو عوام اس قدر حکومت بیزار ہیں کہ سنے ہی نہ۔
جیو کہتا ہے کہ اس کے سامنے چند مطالبات رکھے گئے تھے جن میں حکومی سینسر شپ قبول کرنے، […]

پاکستان کا صدام حسین

Thursday, November 22nd, 2007

صدر پاکستان نوازشریف سے ملنے کے لئے خود چل کر سعودی عرب گئے۔ اگر حجر اسود بول سکتا تو وہ تو اللہ سے اچھی خاصی جنگ کر لیتا۔ انسان اور باقی مخلوق میں یہی فرق ہے۔ اللہ سے لڑائی انسان ہی کر سکتا ہے۔
بےنظیر زرداری مجھے تو پکی پکی صدر پاکستان کے کیمپ کی لگتی […]