ٹوٹ پھوٹ
Wednesday, August 1st, 2007بھیڑ میں زمانے کی ہاتھ چھوڑ جاتے ہیں
دوست دار لہجوں میں سلوٹیں سی پڑتی ہیں
اک ذرا سی رنجش سے شک کی زرد ٹہنی پر
بھول بد گمانی کے
اس طرح سے کھلتے ہیں
زندگی سے پیارے لوگ اجنبی
سے لگتے ہیں
غیر بن کے ملتے ہیں
عمر بھر کی چاہت کو
آسرا نہیں ملتا
دشتِ بے یقینی میں
راستہ نہیں ملتا
خاموشی کے وقفوں میں
بات (۔۔۔۔۔۔!! مزید پڑھیں! ابھی جاری ہے!!!!!!)