Google

Archive for July, 2007

مکی کی مرمت

Tuesday, July 31st, 2007

گوگل کے اشتہار اردو یونی کوڈ ویب سائٹ اور بلاگ پر لگائیں

Tuesday, July 31st, 2007

بہت سے دوستوں کو ہمیشہ سے ہی یہ پریشانی لاحق تھی کہ ان کی تحریری اردو ( یونی کوڈ اردو ) کی ویب سائٹ یا بلاگ پر گوگل کے اشتہارات نظر نہیں آتے اور اسی سلسلہ میں میرے ایک محترم دوست نے تبصرہ میں بھی لکھا اور کچھ دوستوں نے برقی خط بھیج کر بھی […]

اشتہار و وضاحت: محترمہ کی

Monday, July 30th, 2007

ایک عدد فائل کور جس پر “میثاق جمہوریت“ کے لفظ لکھے تھیں دبئی کے محل میں گم ہو گئے ہیں۔ یہ ہم لندن سے ہمارے ساتھ ہی لائے تھیں۔ اس کے اندر میں بابا کا آخری خط بھی تھیں جو کال کوٹھڑی سے لکھے تھیں۔ اس کے علاوہ آئندہ کیلئے جمہوری قول قرار کی بچی (۔۔۔۔۔۔!! مزید پڑھیں! ابھی جاری ہے!!!!!!)

خصوصی رعایت!!!

Monday, July 30th, 2007

یوں تو وکلاء برادری میں مٹھائی کی تقسیم کا سلسلہ ختم ہوچکا! مگر بوریت پر موجود یہ بینرہفتہ بھرسےموجود ہے! اسے دیکھ کر ہر بار چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے!

بلااجازت بوریت و شارق شائع کیا جا رہا ہے

18ویں ترمیم کی تیاری

Monday, July 30th, 2007

17ویں ترمیم کا سب سے ذیادہ فائدہ مشرف کے حصہ میں آیا تھا۔نہ صرف آئندہ چند بعسوں کے لئے سیٹ پکی ہو گئی تھی بلکہ سابقہ اعمال بھی عین قانونی ٹہرے تھے!جس وعدہ پر جناب نے ایم ایم اے کی مدد سے یہ کام کیا جناب اُس سے بھی مُکر گئے! ایم ایم اے کو (۔۔۔۔۔۔!! مزید پڑھیں! ابھی جاری ہے!!!!!!)

فاتح ، اے عشق جنوں پیشہ اور میں

Saturday, July 28th, 2007

اس پوسٹ کو میں فاتح کے نام کرنا چاہوں گا جن کی بدولت اس کتاب ‘اے عشق جنوں پیشہ’ سے ایسی الفت ہوگئی ہے کہ شاید کم ہی کسی اور کتاب سے ہو سکے۔ قصہ کچھ یوں شروع ہوا کہ میں نے یہ کتاب خریدی اور پچھلے ہفتہ 21 تاریخ بروز ہفتہ گفٹ میں دے […]

ڈاکٹر عبدالقدیر کی نظر بندی کے1250 دن

Thursday, July 26th, 2007

باری تعالی : مخدوم و محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو صحتِ کاملہ عطا فرما
کینسر جیسے موذی مرض کے کراچی میں آپریشن کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان اب اسلام آباد میں اپنے گھر میں مسلسل نظر بندی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ وہ پوری طرح صحت یاب نہیں ہوئے اور ابھی تک مسائل سے دوچار […]

کارناموں کا دور

Friday, July 20th, 2007

بارہ اکتوبر 1999 کو جب جرنیلوں نے جنرل مشرف کی قیادت میں اقتدار پر قبضہ کیا تو اس  وقت میں اسلام آباد میں شاہراہ دستور سے تھوڑے سے فاصلے پر مقیم تھا ۔ ہمارے پڑوسی کے ڈرائیور نے بھاگ کر اطلاع دی کہ پی ٹی وی کی نشریات اچانک بند وگئی ہیں اور افواہ ہے […]

مساج سينٹر بمقابلہ ايم ايم اے

Friday, July 20th, 2007

لال مسجد آپريشن كے خلاف مجلس عمل كے مظاہرے، مساج سينٹرز بند كرانے كا اعلان۔ (خبر ايكسپريس)

تاریخ ساز فیصلہ

Friday, July 20th, 2007

آخرکار وہ تاریخی فیصلہ آہی گیا جس کا انتظار قوم کو کئی ماہ سے تھا اور جس کے لیے لوگوں نے خون کا نذرانہ بھی پیش کیا اور بے مثال اتحاد اور یگانگت کا ثبوت بھی دیا۔ کوئی لالچ ، کوئی دھوکہ ، کوئی چال رغنہ نہ ڈال سکی اس بے مثال تحریک اور اتحاد […]

میں ایک خود کش حملہ آور ہوں

Thursday, July 19th, 2007
میں ایک خود کش حملہ آور ہوں
جی ہاں میں ایک خود کش حملہ کرنے جا رہا ہوں ، مجھے نہیں پتہ کہ میرے ساتھ اور کتنے لوگ میرے جسم پر بندھے بارود کا نشانہ بنیں گے ، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ میں شہید ہونگا یا جاں بحق یا ہلاک  ۔۔ ۔  موت  ۔۔ ۔ جو ایک اٹل حقیقت ہے ۔  ۔ آج میں اس حقیقت کا سامنا کروں گا  ۔ ۔ ۔ ۔ میں نہیں جانتا کہ خدا مجھے جنت دے گا یا دوزخ کی آگ ۔ ۔ ۔  مگر شاید میں خدا کو بھی قائل نہ کر سکوں  ۔۔  ۔ جیسا کہ میں خود کو قائل نہیں کر پایا  ۔۔ ۔  ۔
مجھے آج اپنی ساری زندگی یاد آ رہی ہے  ۔ ۔ ۔۔ میری ماں نے چھوٹی عمر میں ہی مجھے مدرسے میں بھیج دیا تھا ۔ ۔ ۔ ہم سات بہن بھائی تھے  ۔۔ ۔ میرے والد ایک چھوٹی سی دوکان چلاتے تھے  ۔ ۔ ۔مگر اس سے گھر کا گذارا بہت مشکل تھا  ۔۔ ۔  سو مجھے اور بھائی کو مدرسے میں بھیج دیا گیا  ۔ ۔ ۔پھر ہم نے یہاں ہم نے تعلیم کا آغاز کیا  ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے بتایا گیا کہ ہمارا مذہب بہت آسان ہے  ۔ ۔ ۔ یہ دنیا کا واحد مذہب ہے جسکی بنیاد انسانیت ہے  ۔  ۔ ۔پھر مجھے پتہ چلا کہ ہمارے مذہب میں بہت سارے فرقے ہیں  ۔ ۔ ۔۔  مگر حق پر صرف ہمارا ہی فرقہ ہے  ۔ ۔ ۔ دوسرے لوگ جو ہمارے ہم مذہب ہیں وہ کافروں سے بھی بدتر ہیں  ۔ ۔ ۔ اور ہمارا مشن انکا حاتمہ ہونا چاہیے  ،۔  ۔  ،
میرے بڑے بھائی کو ایک دن کچھ لوگ لے گئے ۔۔ ۔ ۔ وہ کہتے تھے کہ وہ مخبر ہے  ، ۔ ۔ ۔ پتہ نہیں وہ کیسا مخبر تھا  ۔  ۔  جسکی خبر آج تک ہمیں نہیں ملی  ۔۔ ۔ ۔ میری دو بہنوں کی شادیاں ہو چکی ہیں  ۔ ۔ ۔ اور وہ بھی زندگی کو کاٹ رہیں ہیں  ۔ ۔ ۔۔  ایک کا شوہر شرابی اور جواری ہے دوسری کا شوہر  ۔ ۔ ۔ ایک مسجد میں پیش امام ہے  ،  ۔ ۔ ۔ جسکی کل کائنات مسجد ہے  ۔، ۔ ۔ ۔ ۔میں نے آج دن تک ان دونوں کو کبھی ہنستے نہیں دیکھا  ۔ ۔ ۔ ۔۔ جانے کیوں  ۔ ۔ ۔
ماں تو بچپن میں ہی چھوڑ گئی تھی    ۔ ۔۔   ابا کی چھوٹی سی دوکان ہے جسمیں  وہ پرچون کی چیزیں رکھتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ ہمارا گھرانہ بہت مذہبی مانا جاتا ہے  ۔ ۔۔ ۔ مگر میرے گھر میں ہر طرح کے لوگ ملتے ہیں  ۔۔ ۔۔ دو بھائی ہیں  ۔ ۔ ۔ ایک کا کام ہے سڑکوں کی خاک چھاننا اور دوسرے کا کام ہے  ۔ ۔ ۔ٹھگنا  ۔۔۔ ۔  دو بہنیں ابھی تک کنوری ہیں  ۔ ۔۔  رشتے ملتے ہی نہیں  ۔ ۔ ۔
آج مجھے میرے دوست بہت یاد آ رہے ہیں  ۔   ، ، ،  ، ایک شرف الدین ہے جو  ،،، ،  میرے ساتھ ہی جوان ہوا  ۔   ۔۔ اب خلیجی ریاست میں رہتا ہے کبھی فون کرتا ہے کبھی خط بھی ڈال دیتا ہے جس میں باہر کے ملکوں کی قصیدہ گوئی ہی ہوتی ہے اور جب وہ وطن واپس آتا ہے تو  ۔ ۔ ۔  اسے اپنی مٹی بہت بری لگتئ  ہے  ۔ ۔ ۔
ہاں تو آپ کہیں گے کہ میں خود کش حملہ کیوں کر رہا ہون  ۔ ۔ ۔۔ رٹا ہوا جواب ہے کہ ہمارے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اسلئے کر رہا ہوں  ۔ ۔ ۔اور دل کی آواز ہے کہ بس بھائی سے ایک دفعہ مل لوں  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر شاید اب اسکا موقعہ نہ ملے  ۔۔ ۔۔  میں نے اپنے آپ کو مرنے کے لئے تیار تو کر لیا ہے مگر میں خود نہیں جانتا کہ اس سے ہو گا کیا ؟ کیا میرے بعد زندہ رہنے والوں کو انصاف ملے گا ؟ میرے خیال میں تو کبھی نہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ جیسے مجھے خود پر اعتبار نہیں کہ میری موت رائگاں جائے گی  ۔ ۔ ۔ اسی طرح مجھے اپنے ساتھیوں پر یقین ہے کہ وہ کسی دن ضرور مارے جائیں گے یا مار دئیے جائیں گے  ۔ ۔ ۔ ۔۔
میری خواہش ہے کہ مجھے اس حملے پر معاف کر دیا جائے   ۔۔ ۔ ۔ میں شاید بہت ہی مجبور تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ میرے ساتھ مرنے والے تو شاید روز جنت میں جائیں مگر  ۔ ۔ ۔ میں  ۔۔ ۔ ۔  مرنے والوں کو لاکھوں روپے ملیں گے  ۔۔۔ ۔ عینی شاہدوں کا مار دیا جائے گا  ۔ ۔ ۔ مگر پتہ نہیں میرے دل میں یہ خیال کیوں آتا ہے کہ اگر یہ ہی پیسہ انہیں لوگوں پر خرچ کیا جاتا تو شیاد اس تصادم کی نوبت ہی نہ آتی  ۔ ۔ ۔
میں اپنا وجود ختم کر رہا ہوں ۔۔ ۔ ۔۔  میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے دنیا کو دینے کے لئے  ۔۔ ۔ سوائے موت کے  ۔ ۔  سو وہ دے رہا ہوں  ۔ ۔ ۔ میں نے رب کو یاد نہیں کیا اس وقت کیونکہ  ۔۔ ۔ میرا رب میرے ساتھ ہی رہتا ہے  ۔ ۔ ۔ اور اب میں اسی کے پاس مستقل جا رہا ہوں  ۔ ۔ ۔ بے بسی مجبوری ہی اس حملے کی وجہ ہیں  ،   ، ، ، شاید کوئی یہ مجبوری سمجھے  ۔۔ ۔۔  مگر  ، ، ،،  اب ایسا نہیں ہو سکتا  ۔۔۔ ۔ ۔، ،،  مرنا تو ہے نا ایک دن  ۔۔۔  تو آج ہی کیوں نہیں ؟؟؟

آج کا منظرنامہ

Tuesday, July 17th, 2007

لال مسجد میں آپریشن کے خاتمے کے ساتھ ہی مشرف سرکار کے ایک اور انہونی کا خاتمہ ہوگیا ہے ۔ لیکن یہ کہنا ابھی قبل از وقت ہوگا کہ لال مسجد کے مولویوں اور پاکستان کے حکمرانوں کے درمیان جو تصادم ، صحیح الفاظ میں مسلح تصادم ، شروع ہوا ہے وہ آپریشن سائلنس کے […]

عبدالرشید غازی جاں بحق

Wednesday, July 11th, 2007

یہ پوسٹ غازی صاحب کے جاں بحق ہونے کی خبر کے فورا بعد لکھی گئی۔ ١٠ جولائی ، سات بج کر کچھ منٹ پر
معاف کیجیے مگر یہ پوسٹ میں دلیل اور منطق کے اصولوں کی روشنی میں نہیں لکھ سکوں گا ، شاید بہت زیادہ جذباتی ہوں اس لیے بہت سی غلط باتیں جذبات […]

لال آنسو!!

Tuesday, July 10th, 2007
باخبر ہونا بھی ایک عذاب سے کم نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ اور وہ شخص کیا کرے جو سب جانے اور بے بس بھی ہو  ۔۔ ۔ جذباتی بھی ہو اور حساس بھی ۔ ۔ ۔ شاعر بھی ہو اور لکھاری بھی  ۔ ۔ ۔
کبھی کبھی مستقبل آپکے سامنے کھڑا ہوتا ہے ، کبھی کسی حسین دوشیزہ کی شکل میں اور کبھی ایک بھیانک حقیقت کی شکل میں  ۔ ۔ ۔ ۔ مستقبل جو ایک فرد کا نہیں ہوتا سب کا ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ مگر یہ کیا ہوا کہ ہم سب کے سامنے ہمارا مستقبل اپنی بھیانک شکل لے کر کھڑا ہو گیا  ۔ ۔ ۔۔
میں کبھی اچھا مسلمان نہیں رہا  ۔۔ ۔۔ اللہ کے احکام کو مانتا ضرور ہوں مگر بے عمل بہت ہوں  ۔ ۔ ۔ ۔ ایک چیز جو مجھ میں بہت ہی غلط ہے وہ جھوٹ سے بچنے کی عادت  ۔ ۔ ۔مگر اب  ۔ ۔ ۔ کیا سچ ہے کیا جھوٹ ۔ ۔ ۔  اسکا کوئی مطلب نہیں ۔ ۔۔ ۔
آج جو کچھ ہوا ، وہ اسلام کے نام پر ہوا  ۔ ۔ ۔  ۔ مسلمان مارے گئے  ۔۔  ۔ اسلام کے نام پر  ۔ ۔۔  مسلمانوں نے مارا  ۔ ۔ ۔ اسلام کے نام پر  ۔ ۔ ۔  ۔۔ اس ملک میں مارا جو اسلام کے نام پر بنا  ۔ ۔ ۔ ۔ اور اس شہر میں جسکا نام ہی اسلام کے نام پر رکھا گیا  ۔ ۔ ۔ اور اس جگہ پر مارا گیا جہاں اسلام کی تعلیم دی جاتی تھی جہاں اسلام  ۔ ۔ ۔ کی “پریکٹس“ کی جا رہی تھی  ۔ ۔ ۔ ۔
جو مارے گئے  ۔۔ ۔ تاریک راہوں میں  ۔۔ ۔تاریک گوشوں میں  ۔ ۔ ۔ ۔ اور شاید تاریکی ۔ ۔ ۔۔ ۔ میں ۔ ۔ ۔  وہ کوئی اور نہیں ہم تھے  ۔  ۔ مجھے اسلام کی کوئی فکر نہیں ۔ ۔۔  ۔ ۔ کیونکہ اسکی حفاظت اور تبلیغ کا “ٹھیکہ“ اس کو پسند کرنے والے رب نے لے رکھا ہے  ۔۔  ۔ مجھے فکر ہے  ۔ ۔ ۔ اپنے مسلمانوں کی  ۔۔  ۔ یہ وطن کہیں  ۔۔  ۔ ۔ سربیا یا چیچینیا نہ بن جائے  ۔۔۔  ۔ جہاں لوگوں کے نام تو مسلمانوں جیسے ہوں اور  ۔ ۔۔۔  “کرتوت“  ۔۔ ۔ ۔ ملحدوں جیسے  ۔ ۔  ۔ ۔
آج روشن خیال بہت خوش ہونگے  ۔ ۔ ۔ ۔ اب کُھل کر کھیلیں گے  ۔۔۔ ۔ ۔ نہ کوئی پابندی  ۔ ۔ ۔ ۔ نہ کسی ملا کا ڈر  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب تو عورتیں برقعہ نہیں پہنیں گیں  ۔۔ ۔ ۔کہ وہ اب مسلمان علماء کا “کیمو فلاج“ ہے  ۔ ۔۔  ۔اب کوئی بچہ  ۔ ۔ ۔۔ ۔ بچپن میں مسجد نہیں جائے گا  ۔۔ ۔ ۔۔ کہ کہیں اسے “طالب“  نہ بنا دیا جائے  ۔۔  ۔ ۔
آج رات  ۔ ۔ ۔ ۔ ہم سب سکون سے سوئیں گے  ۔ ۔ ۔ ۔ کہ اب کوئی ملا نہیں  ۔ ۔۔ کچھ دن تک شاید کچھ سرپھرے  ۔ ۔ ۔ ۔ “اوچھی“ حرکتیں کریں  ۔۔ ۔  ۔ اور کچھ مزید مسلمانوں کو “شہید“ کے رتبے پر فائز کریں   ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر  ۔ ۔ ۔  یہ یقین ضرور ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ کہ مستقبل کی جو بھیانک شکل سامنے کھڑی ہے  ۔ ۔ ۔  اسکے پیچھے شاید ایک امن کی دوشیزہ بھی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر  ۔ ۔ ۔ ۔ میں جانتا ہوں کہ امید کا سورج اگر کبھی ڈھل بھی جائے تو  ۔ ۔ ۔ ۔ بھی اسکی کرنیں اگلی صبح تک  ۔ ۔ ۔ ایک ننھے سے چراغ کی شکل میں روشن رہتیں ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر  ۔ ۔  ۔
مگر یہ باخبر ہونا بھی عذاب ہے  ۔۔۔  ۔۔شاید بہت بڑا عذاب  ۔ ۔ ۔ ۔ جو حقیقت کی شکل میں ہم پر نازل ہو رہا ہے  ۔ ۔۔ ۔
٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠٠
یارب  ۔۔ ۔۔
یہ خوں کی بارش میں ۔ ۔ ۔ ۔
ہمارے سفید کپڑے  ۔۔ ۔  ۔
ہمارے سنہرے جسم ۔ ۔ ۔ ۔
داغدار ہو گئے ہیں  ۔ ۔   ۔
اے رب  ۔ ۔ ۔
اب برسا ۔ ۔  ۔ ۔
وہ پانی  ۔ ۔ ۔ ۔ آنکھوں سے  ۔ ۔ ۔
جس سے دھل جائیں  ۔۔  ۔ ۔
جسم ہمارے  ۔  ۔ ۔
تاکہ یہ کفن  ۔ ۔ ۔ ۔ صاف ہوں  ۔ ۔ ۔ ۔
اور ہم  ۔۔ ۔  مٹی میں جا بسیں  ۔ ۔ ۔
———————————————————————————————————
درد کے لمحوں میں ، جو آنکھیں بھیگ جاتیں ہیں
ان آنسوؤں کا رنگ  ۔ ۔  نہ جانے کیوں لال ہوتا ہے

غازی عبدالرشید جاں بحق

Tuesday, July 10th, 2007

لال مسجد آپریشن کا آغاز

Wednesday, July 4th, 2007

یہ پوسٹ کل لکھی گئی تھی لال مسجد کے ڈرامے کا ڈراپ سین ہونے سے پہلے تین جولائی کو
کل سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کے خلاف پیش کیے پٹیشن پر حکومت کی بے عزتی کی انتہا ہوئی اور رمدے کے الفاظ تھے کہ ایسی گھٹیا پٹیشن آج تک دائر نہیں ہوئی اتنی گھٹیا زبان آج […]