Google

Archive for June, 2007

درخت اگائیں ماحول بچائیں

Saturday, June 30th, 2007

آج کل اردو ویب پر ایک محترم دوست نظامی درخت اگانے کی مہم چلا رہے ہیں اور اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی رپورٹس پڑھ کر ڈرا بھی رہے ہیں کہ بے خبروں اب بھی درخت نہ لگائے تو کتنا نقصان ہو جائے گا اور کس پیمانے پر۔ وہ اس سلسلے میں اتنے پرجوش ہیں […]

کبھی بجلی یہ گرتی ہے ، کبھی پانی برستا ہے

Monday, June 25th, 2007
کبھی بجلی یہ گرتی ہے ، کبھی پانی برستا ہے
میرے شہر کا ہر باسی ، جلتا ہے تڑپتا ہے
 
کوئی مارا جاتا ہے ، کوئی آفت سے مرتا ہے
ہر دن کا سورج نئے دکھ دے کہ ڈھلتا ہے
 
آنسو آنکھوں سے نہیں عرش سے برستے ہیں
زمیں خوں سے رنگتی ہے ، جو لمحہ بدلتا ہے
 
پکے گھروں والے ، گھی کے دیپ جلاتے ہیں
کچی اینٹوں کا مکیں ،  اینٹوں میں ہی دبتا ہے
 
آباد اب ہیں قبریں ، برباد ہوا ہے شہر مرا
زندہ رہ جانے والا زندگی سے اب ڈرتا ہے
 
میں مجرم ، تم مجرم ، مجرم ہیں سارے ہم
گناہ اپنے بڑھتے ہیں جو معصوم کوئی مرتا ہے
 
اظہر کاش کوئی سمجھے ، کوئی جانے ، کوئی مانے
مٹ جاتا ہے ظلم سارا ، جب حد سے گذرتا ہے
 

کتے

Monday, June 25th, 2007

 
 
یہ گلیوں کے آوارہ بےکار کُتے
 
کہ بخشا گیا جن کو ذوقِ گدائی
 
زمانے کی پھٹکار سرمایہ اُن کا
 
جہاں بھر کی دھتکار ، ان کی کمائی
 
 
نہ آرام شب کو، نہ راحت سویرے
 
غلاظت میں گھر، نالیوں میں بسیرے
 
جو بِگڑیں تو اک دوسرے سے لڑا دو
 
ذرا ایک روٹی کا ٹکڑا دکھا دو
 
یہ ہر ایک کی ٹھوکریں کھانے […]

ثواب بھی اکیلے کمانا اب جرم ٹھرا

Sunday, June 24th, 2007

بہت سی باتیں ہیں اور انہیں میں سے اگر ایک ایک بات پر ہی لکھنے بیٹھوں تو ہوش و ہواس گم ہو جائیں ۔ خود بھی پاگل کہلاؤں اور زمانے کو بھی ہنسنے کا موقع دوں ۔
کراچی جو روشبیوں کا شہر تھا ، جانے کس کی نظر کھا گئی ہے اسے ، ہر طرف ہو […]

Microsoft Developers Conference اسلام آباد

Saturday, June 23rd, 2007

Microsoft Developers Conference
اسلام آباد کانفرنس
ہمیں ابھی ایک کولیگ کے توسط سے کانفرنس میں جانے کا موقع مل ہی گیا۔ انعقاد سیرینہ ہوٹل میں تھا جو اسلام آباد کا مہنگا ترین ہوٹل ہے اور ابھی تک جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا ، اس کانفرنس نے یہ موقع فراہم کر دیا۔
ماحول خوبصورت تھا اور ایک پریزنٹیشن […]

! گلے ، شکوے اور اپیل

Saturday, June 23rd, 2007

 معاشروں میں تبدیلی فطری بات ہے اور یہ ہو کر ہی رہتی ہے ۔ بعض لوگ اس کے آگے بند باندھنے کی ناکام کوششیں کرتے ہیں جو بالآخر ناکام ہو کر رہ جاتی ہیں اور معاشرے کسی دریا کی طرح اپنے رخ بدل دیتے ہیں ۔
ہمارے ایشیائی معاشرے بھی اس وقت تبدیلی کے مراحل سے […]

کیا یہ ہمارا اسلام ہے ؟

Sunday, June 17th, 2007

بہت دنوں بعد اپنے بلاگ پر حاضری دے رہا ہوں اس دوران بہت سے واقعات وقوع پذیر ہو چکے ۔مصروفیت کچھ ایسی بنی کہ یہاں آیا ہی نہیں گیا حالانکہ فاصلہ ہی کتنا تھا ، سوچو تو صرف ایک ہاتھ کا، مگر یہی ہاتھ ہی نہ چلا ، تو پھر ذہن کیا چلتا۔
ورلڈ کپ ہوا […]

گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست

Sunday, June 10th, 2007

گر مجھے اس کا یقین ھو مرے ھمدم ، مرے دوست
گر مجھے اس کا یقین ھو کہ ِترے دل کی تھکن
تیری آنکھوں کی اداسی ، ترے سینے کی جلن
میری دل جوئی ، مرے پیار سے مٹ جائے گی
گر مرا حرفِ تسلّی وہ دوا ھو جس سے
جی اٹھے پھر ترا اجڑا ھوا بے نور دماغ
تیری پیشانی […]

گدھے

Sunday, June 10th, 2007

كيونكہ ہر لكھاري اور اب بلاگر كو زندگي ميں كبھي نہ كبھي كسي جانور پر كچھ نہ كچھ لكھنا ہي پڑتا ہے۔ اب جبكہ سارے ہي جانوروں پر كچھ نہ كچھ لكھا ہي جا چكا ہے ہمارے پاس سوائے اپني قبيل كے جانور كے اور كچھ نہيں بچا۔ اس مضمون كو گدھوں كي نظروں سے بچا كر ہي ركھيے تو اچھا ہے ہاں اگر دو لات كھانے كا من كرتا ہو تو كوئي مضائقہ نہيں ۔

ویب پر ہزاروں روپے کمائیں

Sunday, June 10th, 2007

آجکل بہت سے دوستوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنی ویب سائٹ کے ہوتے ہوئے بھی ماہانہ یا سالانہ اپنی جیب سے ہزاروں روپیہ خرچ کرتے ہیں مگر ان کو حاصل کچھ بھی نہیں ہوتا۔کچھ دوستوں نے انٹرٹینمنٹ کی ویب سائٹ بنا ڈالیں اور کچھ نے فلاح و بہبود کی۔جنہوں نے فلاح و بہبود […]

گدھے

Sunday, June 10th, 2007

استاد احمد شاہ پطرس بخاري كا مضمون ’كتے‘ ہم نے غالباً اتني بار بلند آواز سے پڑھا كے آس پڑوس كے سارے كتوں نے باقاعدہ ہمارے خلاف محاذ گرم كر ركھا ہے مگر خدا گواہ ہے كہ ہماري نيت كسي صورت كسي كتے كي دل آزاري نہ تھي كہ ہمارے جيسا بے ضرر انسان كتوں […]

وقتِ رَواں

Thursday, June 7th, 2007

ڈاکٹر زواگو ۔ ۔ انقلاب کی کہانی

Wednesday, June 6th, 2007
دنیا کی تاریخ انقلابات سے بھری پڑی ہے ، وہ ہزاروں سال پہلے کے یونانی ، ایرانی یا پھر ہندوستانی انقلاب ہوں ، یا مذہبی انقلاب ، یا پھر جدید دور میں ، فرانسیسی، جرمن ، امریکن یا روسی انقلاب ۔ ۔۔ ہر انقلاب ایک نیا نظام لاتا ہے ، اور ہر نئے نظام کا دعویٰ ہوتا ہے کہ وہ انسانیت کی بقا اور سلامتی کے لئے بنا ہے ، مگر کچھ ہی عرصے کے بعد اس نظام میں درڑاڑیں پڑ جاتی ہیں ۔ ۔۔  ۔ یا پھر ڈال دی جاتیں ہیں ، اگر انسانی نظام ہو تو اسکا متبادل ڈھونڈ لیا جاتا ہے اور اگر آسمانی نظام ہو تو اسے تبدیل کیا جاتا ہے  ۔ ۔ ۔غرض ہر دور میں نظام انقلاب سے بدلا جاتا ہے ، اور ہر تبدیلی میں مزاحمت ہوتی ہے ، اور ہر مزاحمت میں خون بہتا ہے اور ہر بہتے خون سے ایک کہانی جنم لیتی ہے جسے دنیا یاد رکھتی ہے  ۔
 
ایسی ہی کچھ کہانیوں میں سے ایک کہانی ہے ڈاکٹر زاواگو کی ، جسے ایک روسی ادب کا شاہکار بھی کہا جاتا ہے ، مجھے روسی ادب میں دستووہسکی کا شاہکار ناول “ایڈیٹ“ بہت پسند ہے وجہ ہے اسکا کردار پرنس میشکن ، جو ایک سیدھا سادا سا جوان ہے اور سینٹ پیٹسبرگ میں جب آتا ہے تو اپنی سادہ لوحی سے نستاسیا فلی پوانا سے لیکر ایدلایا تک کو اپنا گرویدہ بنا لیتا ہے ، دستو وسکی کا یہ ناول زار کے دور کے اواخر کا بتاتا ہے مگر اس کی انتہا ہمیں “بورس پاسٹر نیک“ کے ناول ڈاکٹر زاواگو میں نظر آتی ہے  ۔ ۔ ۔ میں دونوں ناولوں کو سامنے رکھوں تو پرنس میشکن ڈاکٹر زواگو سے زیادہ خوش قسمت نظر آتا ہے  ۔ ۔ ۔ بے شک پرنس میشکن سب کچھ بھول جاتا ہے مگر اسکے پاس ادلایا رہتی ہے ، مگر زواگو ، سڑک پر بے بسی سے مر جاتا ہے  ۔ ۔ ۔
 
بورس پاسٹرنیک نے یہ کہانی روسی میں لینن کے انقلاب کے زمانے میں بیان کی ہے ،  اور انقلاب کو پنپتے ہوئے بھی بتایا ہے ، اس ناول پر جو شاہکار فلم بنائی گئی اسے ڈیوڈ لین نے ڈائریکٹ کیا تھا ، عمر شریف نے لازوال کردار کو اپنی اداکاری سے لازوال بنا دیا ۔ ۔ ۔  مجھے آج یہ فلم اپنے ملک کے حالات دیکھ کر یاد آئی اور اسکے کچھ ڈائلاگ بھی  ۔  ۔ ۔ یہ فلم ١٩٩٤ تک روس میں دکھائی نہیں جا سکی تھی ، اور اس ناول پر بھی پابندی تھی ، ١٩٥٨ میں بورس پاسٹرنیک کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا تھا اس ناول پر مگر روسی حکومت کے دباؤ پر اسنے یہ ایوارڈ قبول نہیں کیا تھا ، اور شاید وہ اسٹالن کی شان میں کچھ نظمیں نہ لکھتا تو شاید وہ زندہ بھی نہ رہتا  ۔ ۔ ۔ ۔ مگر اب ڈاکٹر زواگو کی شکل میں وہ رہتی دنیا تک زندہ رہے گا  ۔۔ ۔
 
ایک لکھنے والا جب قلم اٹھاتا ہے تو وہ بہت کرب سے گذرتا ہے ، پہلے وہ یہ کرب کتاب میں بیان کرتا تھا پھر موسیقی اور شاعری میں اور اب فلم کی شکل میں بھی یہ کرب بیان کیا جاتا ہے ، اور خاصکر جب کوئی قوم کسی انقلاب کی طرف پیش قدمی کر رہی ہو یا اسے دھکیلا جا رہا ہو ، تو اس قوم کے ادیب و شاعر اس قوم کی بہتری کا سوچتے ہیں لکھتے ہیں  ۔ ۔  اور گاتے ہیں ، اور تماثیلیں بیان کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ جس سے قوم کی رہنمائی ہوتی ہے  ۔ ۔ ۔ ہم سب اس دور سے گذر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ یہاں میں فلم ڈاکٹر زواگو کے کچھ ڈائلاگ لکھ رہا ہوں  ۔ ۔ اب آپ کا کام ہے کہ انہیں آپ کن معنیٰ میں لیتے ہیں  ۔ ۔  مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ الفاظ کسی کے بھی ہوں  ۔ ۔ حالات ہمارے ہی بیان کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
—————————————-

- ایک شخص کا ایندھن کے لئیے ترسنا ، دکھ دیتا ہے ، مگر کچھ لاکھ افراد کی ضرورت شہر کو آگ لگا دیتی ہے

 

-جب ایندھن ختم ہو گیا تو اسنے وسائل کی تقسیم کرنے والوں سے پوچھا
کیا اب ہم اسی طرح سے سردیوں میں رہا کریں گے ؟
 
-اور جب کوئی امن کا سبق دیتا ہے تو انقلابی کہتا ہے
انہوں نے بچوں اور عورتوں کو جانوروں کی طرح بٹھا دیا جو روٹی مانگ رہے تھے ، اب کوئی بھی پُر امن احتجاج نہیں کرے گا
-
 
 اور ایک نیک دل دشمن یوں کہتا ہے  ۔ ۔
یہ جو لوگ آج میرے ساتھ میرے ساتھی بن کر آئے ہیں ، کل یہ ہی لوگ فائرنگ اسکواڈ کے ساتھ آئیں گے تمہارے اور تہمارے گھر والوں کے لئے ، بولو کیا میں تمہارا دشمن ہوں جو تم میرے ساتھ نہیں چلتے
 
(یہ مجھے بہت پسند ہے)
- اور جب زواگو کو زبردستی اپنے ساتھ لے جایا جاتا ہے ، تو وہ پوچھتا ہے
مجھے کہاں لے جا رہے ہو
سرحد پر
مگر سرحد تو بہت دور ہے
جہاں سے ہمارا حکم نہیں مانا جاتا ، وہیں سے سرحد شروع ہو جاتی ہے
-
 
اور جب وہ اپنے قدموں پر کھڑے رہنے کے قابل نہیں رہتے تو وہ وہ ہی کرتے ہیں جسکا خواب کوئی فوج سوچا کرتی ہے
یعنی وہ اپنے گھر واپس جاتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور وہی انقلاب کی شروعات ہوتی ہے
 
اور ان الفاظ کا مزہ شاید انگلش میں زیادہ ہی ہے
In bourgeois terms, it was a war between the Allies and Germany. In Bolshevik terms, it was a war between the Allied and German upper classes - and which of them won was of total indifference. My task was to organize defeat, so as to hasten the onset of revolution. I enlisted under the name of Petrov. The party looked to the peasant conscript soldiers - many of whom were wearing their first real pair of boots. When the boots had worn out, they’d be ready to listen. When the time came, I was able to take three whole battalions out of the front lines with me - the best day’s work I ever did. But for now, there was nothing to be done. There were too many volunteers. Most of it was mere hysteria.
 
- مجھے تہماری شاعری بہت پسند ہے
شکریہ
کیا تم یہ نہیں سمجھتے کہ یہ جذباتیت وغیرہ فضول ہیں اب ، کیونکہ روس میں نجی زندگی مر چکی ہے ، تاریخ نے اسے مار دیا ہے ،  اور شاید اسی لئے تم ہم سے (اشتراکیت سے) نفرت کرتے ہو
میں اس سب سے نفرت کرتا ہوں جو تم نے کہا مگر اتنی نہیں کہ تمہیں قتل کر دوں
 
- اور جب ایک شخص کہتا ہے ، کہ ایک بری خبر ہے ، 
کیا ہمارے کھیت جلا دئیے
نہیں اس سے بھی بری ہے
کیا اب چائے پر بھی پابندی ہے
انہوں نے زار (روسی بادشاہ ) کو خاندان سمیت قتل کر دیا ہے
یہ تو ہونا تھا  ۔ ۔ ۔ مگر ایسے ؟؟؟؟
 
 
اور شاید یہ پنچ لائین ہے  ۔ ۔۔ 
In the hour of victory, the military will have served its purpose - and all men will be judged POLITICALLY - regardless of their military record! Meanwhile, there are still White units in this area - the Doctor stays