Google

Archive for May, 2007

اے رھبرانِ ملت و قوم

Tuesday, May 29th, 2007

اے رھبرانِ ملت و قوم
اس دیس کے دھارے دیکھتے ییں
سب درد کے مارے پوچھتے ہیں

 
کیا اب بھی تم کو یاد ہیں دن جب لٹ کے لوگ یاں آتے تھے
آزاد فضا کی آس میں سب وہ اپنا سوگ مناتے تھے

 
کیا تم کو صدائیں یاد نہیں اٹھتی تھیں جو ہر زینے پر
وہ بوڑھے بچے […]

سندھ كے ہونہار سپوت اور وزير اعلي كے اعلي اقوال۔

Monday, May 28th, 2007

سندھ كے وزير اعلي كي بقائمي ہوش و حواس بي بي سي كي تبصرہ نگار سے بات چيت۔۔ ميں تو سائيں كا مريد ہوگيا ۔۔ آپ كا كيا خيال ہے ؟

دعا

Saturday, May 26th, 2007
اس دنیا کے خداؤں کو بہت زعم ہے خود پر
اے خدا تیرے ماننے والے کدھر جائیں  ۔ ۔
نہ تو آتا ہے زمیں پر
نہ یہ لوگ اترتے ہیں آسماں سے
انکی ہی حکومت ہے
جدھر سوچیں جدھر جائیں  ۔ ۔
اس قحط کے موسم میں بارش کی امید
سچ تو یہ ہے کہ اب امید بھی نہ رہی
حلق خشک ہیں ، اور بدن لاغر
شب کو کیسے گزاریں
کیسے ہم سحر لائیں  ۔ ۔ ۔
قانون زمیں پہ آسمانوں کا چلتا ہے
انسان پہ زور تو انسانوں کا چلتا ہے
ظلم تو اک چھوٹا سا لفظ ہے
جو خود رو سا بڑھتا ہے
ماتم کدے ہیں ، گھر اب سارے
جس راہ سے ہم گذر جائیں ۔ ۔ ۔
اے رب ۔ ۔
رحمت کا اپنی نزول کر
آج اس شب کو سحر کا حصول کر
جو مرجھانے لگی ہے کلی اسے پھول کر
ظلم کا یہ دور اب بھول کر
تو ہی سہارا ہے دکھتے دلوں کا
تو ہی مداوا ہے ٹوٹے حوصلوں کا
آ  ۔ ۔ ۔ اب گرتوں کو سنبھال
زمیں پہ اتر کر ۔ ۔ ۔
سرخ آندھیوں سے کہیں
دعائیں نہ ہی بکھر جائیں  ۔ ۔ ۔
دنیا کے خداؤں کے ہاتھوں  ۔ ۔ ۔
اے خدا تیرے ماننے والے  ۔ ۔
کہیں مر نہ جائیں  ۔ ۔ ۔

سورہ الاعرَاف ۔ ١٨١ تا ١٩٠

Tuesday, May 22nd, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اور ان لوگوں میں سےجنہیں ہم نے پیدا کیا ایک جماعت ہے جو سچی راہ بتاتی ہے اور اسی کے موافق انصاف کرتے ہیں ۔١٨١
اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا ہم انہیں آہستہ آہستہ پکڑیں گے ایسی جگہ سے جہاں انہیں خبر بھی نہ […]

اس موقعے کو ضائع نہ کریں

Monday, May 21st, 2007
 
پچھلے ہفتے سے جو کچھ لال مسجد اور حکومت کی طرف سے ہو رہا ہے اس سے تو یہ لگتا ہے کہ یہ سب کچھ صرف توجہ بٹانے کے لئے ہے اور عوام کو اصل مسائل سے گمراہ کیا جا رہا ہے ، ایک حدیث کے مطابق مومن ایک سوراخ سے دوسری بار نہیں ڈسا جاتا مگر لال مسجد والے روز  لوگوں کو پکڑ کر چھوڑ دیتے ہیں اور دوسری طرف بار بار طلبہ کو پکڑا جا رہا ہے  ۔  ۔   ۔  اب عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ یہ چوہے بلی کا کھیل ہے  ۔ ۔ ۔ جیسا کہ اپوزیشن اور حکومت کھیل رہی ہے ، اور جیسے وکیل اور حکومت مل کر  صرف وقت زیاں کر رہے ہیں  ۔ ۔  اور عوام ہے کہ مہنگائی اور دھشت گردی کی شکار ہو کر مجسم ہو چکی ہے  ۔ ۔ ۔ زبانیں کنگ ہیں اور جسم لاغر  ۔ ۔ ۔ کچھ امید تھی کہ چلو کوئی بولا ہے اسلام لانے کے لئے مگر انکا خود کا عمل اتنا غیر مبہم ہوتا جا رہا ہے کہ بہت جلد لوگ اس سے متنفر ہو جائیں گے  ۔ ۔ 
اب ان سب باتوں کا حل کیا ہے ، حل وہ ہی ہے جو ہماری آقا و مولا نے ریاست مدینہ میں دیا تھا اور جو خلفہ راشدین نے اپنایا تھا  ۔ ۔  کاش جامعہ حفصہ اور لال مسجد والے صرف اتنا ہی سوچ لیں کہ وہ مثال بنیں  ۔ ۔ ۔  مولانا رشید صاحب یہ تو کہتے ہیں کہ ہمیں مظلوم بننا پسند ہے مگر  ۔ ۔ ۔ عملی طور وہ جانے کیوں خود کو ظالم ثابت کرنے پر تُلے ہیں  ۔ ۔ ۔ 
ایک ہماری فوج ہے جو اپنے ہی ملک کو بار بار فتح کر رہی ہے ، دوسری طرف ہمارے سیاست دان ہیں جو اپنی جیبیں بھر رہے ہیں ، تیسری طرف ہمارا مذہبی طبقہ ہے  ۔ ۔  جو زبانی جمع خرچ کے سوا کچھ نہیں کرتا  ۔ ۔ ۔ عملی طور پر کوئی بھی ہمیں ایسا نظر نہیں آتا جسکی ہم تقلید کریں  ۔ ۔ ۔ اور چوتھی جانب عوام ہیں جو بے بسی سے تماشہ دیکھ رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ جہاں کہیں امید کی کرن نظر آتی ہے عوام اسکا ساتھ دیتی ہے مگر تھوڑے ہی وقت میں وہ امید کی کرن اپنی قیمت وصول کر کہ بجھ جاتی ہے اور پھر وہ ہی گھٹا ٹوپ اندھیرا  ۔ ۔ ۔
لال مسجد والے کہتے ہیں ، ہم زمینی حقائق نہیں بلکہ آسمانی احکام مانتے ہیں  ۔ ۔ ۔ آج آسمانی احکام ہی مان لیں لال مسجد والے  ۔ ۔ ۔اور مظلوم بن جائیں  ۔ ۔ ۔ میری نظر میں اس وقت لال مسجد اور جامعہ حفصہ اگر یہ کام کر لیں  ۔ ۔ تو نہ صرف یہ ملک بلکہ ہم سب کی دنیا بدل جائے اور آخرت بھی  ۔ ۔
١ - پنڈی اور اسلام آباد میں صفائی کریں  ۔ ۔  جی ہاں خاکروب بنیں  ۔ ۔  شہر کا کوڑا اٹھائیں  ۔ ۔ اور اسے ٹھکانے لگا دیں ، کوڑا جو ہر گھر سے نکلتا ہے  ۔ ۔ ۔  یعنی پنڈی اور اسلام آباد کی کوئی نالی بند نہ ہو  ۔۔ ۔ اور بو نہ آئے  ۔ ۔ یقین کریں  ۔ ۔  جب آپ خود کو سب سے کمتر ثابت کریں گے ۔ ۔ ۔ تبھی آپ بڑی صفائی کر سکتے ہیں  ۔ ۔
٢- جامعہ حفصہ کی حواتین  ۔ ۔ صرف پنڈی اور اسلام آباد میں ، عورتوں کے مسائل حل کریں گھر گھر جائیں  ۔ ۔  پہلے انکے مسائل سنیں  ۔ ۔ خالی نماز روزے کی تلقین کرنے سے کوئی مسلہ حل نہیں ہوتا  ۔ ۔  کسی درد بھرے دل کی داستاں سننے سے بھی کچھ اثر ہوتا ہے  ۔ ۔ پنڈی اور اسلام آباد میں بہت سارے گھرانے ایسے ہیں جو اپنی بچیوں کے رشتوں کے لئے بیٹھے ہیں  ۔ ۔ آپ ان کے یہ مسلے حل کریں  ۔ ۔ ۔ اگر آپ خود کو پانی کا کنواں سمجھتیں ہیں تو پیاسوں کی پیاس بھجھائیں یاد رکھیں اس وقت ہم پیاس سے اتنے نڈھال ہیں کہ ہمیں کنویں کے آنے کا انتظار ہے  ۔ ۔ ہم خود کبھی کنوایں کے پاس نہیں جا سکیں گے  ۔ ۔ ۔
٣- جدید دور کا ساتھ دیں  ۔ ۔  جس طرح ایک سادہ صفحے پر مغلظات یا پھر آیات لکھی جا سکتیں ہیں اسی طرح فلموں اور ڈراموں سے بھی یہ کام لیا جا سکتا ہے  ۔ ۔ ۔ ہم اس وقت برائی کو اپنی زندگی کا حصہ مان چکے ہیں  ۔ ۔ ۔  ہمیں اس وقت سیدھا کرنے کے لئے نرم کرنا ہو گا  ۔  ۔ اور نرمی ، سختی برتنے سے نہیں آتی  ۔ ۔۔  نرم خوئی ہی اسکا سبب بنتی ہے  ۔ ۔ ۔  آپ کو احساس دلانا ہو گا کہ غلط کیا ہے اور صحیح کیا ہے  ۔ ۔ ۔  اس وقت آپ فلموں اور ڈراموں کو عہد نبوی (ص) کے وقت میں کعبے میں رکھے بُت سمجھ لیں  ۔ ۔  جنہیں توڑنے کے لئے  ۔ ۔  مکہ بنا خون بہائے فتح کرنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ اور اسی کعبے کو اپنے انداز کے نت نئے ڈائزائنوں سے سجانا ہو گا کہ وہ بھلا بھی لگے  ۔ ۔۔  اگر اللہ قرآن میں قصے بیان کرتا ہے ہمیں سمجھانے کے لئے تو ہمیں بھی میڈیا کا ہر میڈیم استعمال کرنا ہو گا ، چاہے وہ موسیقی ہو ، شاعری ہو یا پھر تمثیل  ۔ ۔ ۔ ۔ 
٤ - ہمارے علماء کرام سارا وقت عوام کو عبادات سکھاتے ہیں  ۔ ۔ ۔ معملات سکھاتے ہیں ، مگر زندگی کے سکھ نہیں سکھاتے ، ہم اس وقت فرقوں میں اتنے بٹ چکے ہیں  ۔ ۔  کہ ہر آدمی اپنا فرقہ رکھتا ہے  ۔۔ ۔  ۔  بات اب مذاکرات کی نہیں ، بلکہ عمل کی ہے  ۔ ۔ ۔ ہم جو کہ رہے ہیں ہمیں کرنا بھی ہے  ۔  ۔ اختلاف کو ایک بنیادی حق تسلیم کرنا ہے  ۔ ۔۔ اور خود کو اس معاشرے میں ایلین نہیں بنانا بلکے اسی کا حصہ بنانا ہے  ۔ ۔  ۔ کیا ہم اس وقت اس گاؤں کی طرح نہیں ہو رہے جس کے چوہدری کے گھر میں تو کتوں کو بھی تازہ کھانا ملتا ہے اور اسی حویلی سے نیچے  غریب کسان بھوکا سوتا ہے   ۔۔  ۔ کام کرنے والوں کو گالیاں اور نام والوں کی قوالیاں  ۔  ۔۔
کہنے اور بہت کچھ ہے  ۔ ۔ مختصر یہ کہ  ۔۔۔  ۔ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے لوگ  ۔ ۔ ۔ قلعہ بند ہو کر نہ بیٹھیں عوام میں نکلیں  ۔۔ ۔ یقین کریں  ۔ ۔ ۔ پاکستان کی عوام اسلام سے بہت پیار کرتی ہے  ۔ ۔  اور اسکے لئے سب کچھ لٹا دے گی  ۔ ۔ ۔ آپ اگر اب سامنے آ ہی گئے ہیں  ۔ ۔۔  تو خداراہ باہر نکلیے  ۔۔ ۔  اس عوام میں آئیے  ۔ ۔ ۔ ہاں قربانی دینی پڑے گی  ۔  ۔ ۔ اسکے لئے آپکو  ۔ ۔ ۔ اپنے اوپر سے خود کو بہترین مسلمان کا خول اتارنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ آپ کو بتانا ہو گا کہ آپ بھی عوام جیسے ہیں  ۔ ۔ ۔ ایک بے نمازی مسلمان کو نمازی بنانے کے لئے اسکی زندگی کو بدلنا ہو گا  ۔ ۔ ۔ اسکے دکھ سن کر اسکی مدد کر کے  ۔۔ ۔ ۔ اللہ نے آپکو موقع دیا ہے اسے ضائع نہ کریں  ۔ ۔ ۔ ورنہ آپ اور حکومت تا قیامت چوہے بلی کا کھیل کھیلیں گے اور عوام اس میں پستی رہے گی  ۔   ۔ اور دین سے مزید متنفر ہوتی رہے گی  ۔ ۔
اللہ ہم سبکو نیک ہدایت دے (آمین)

ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں

Monday, May 21st, 2007

 
 
ہے دعا یاد مگر حرفِ دعا یاد نہیں
 
میرے نغمات کو اندازِ دعا یاد نہیں
 
 
ہم نے جن کے لئیے راہوں میں بچھایا تھا لہو
 
ہم سے کہتے ہیں وہی، عہدِ وفا یاد نہیں
 
 
زندگی جبرِ مسلسل کی طرح کاٹی ہے
 
جانے کس جرم کی پائی ہے سزا، یاد نہیں
 
 
میں نے پلکوں سے درِ یار پہ دستک دی ہے
 
میں وہ […]

چور ۔۔۔ چور ۔۔۔ چور ‫!

Monday, May 21st, 2007

مسائل ۔۔۔؟‫!

Sunday, May 20th, 2007

ناول ’شمیم‘ سے کچھ اقتباسات

Saturday, May 19th, 2007

بحث و مباحثہ

Friday, May 18th, 2007

آج میں اپنے آپ میں خود مر گیا ۔ ۔ ۔

Sunday, May 13th, 2007
آج پھر شہر میں آگ لگی
آج پھر شہر میں قتل ہوئے
آج پھر سیاست جیت گئی
آج پھر انسانیت رسوا ہوئی
آج جب انساں مر رہے تھے یہاں
تو دور کہیں ڈھول کی تھاپ پر
شیطاں رقصاں تھے ، ظالم ہنستے تھے
اک ہجوم انساں تھا، جو زندہ نہ تھا
آج پھر شور جیت گیا ، خاموشی سے
آج پھر طرب جیت گیا ، حزن سے
آج میں نے جانا کہ زندگی کچھ اور ہے
آج میں نے جانا کہ سیاست بھی کچھ اور ہے
آج میں نے طاقت کو سچ بناتے دیکھا
آج میں نے جھوٹ کو سجاتے دیکھا
آج میں نے جو دیکھا وہ اندھوں نے بھی دیکھا
نہ دیکھا تو طاقت والوں نے نہ دیکھا
آج میرے شہر میں کوئی نہیں مرا
آج میں اپنے آپ میں خود مر گیا  ۔ ۔ ۔

اہنسا کے پجاری

Sunday, May 13th, 2007

دیوتا بن کہ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس

Saturday, May 12th, 2007
کل جو وطن میں ہوا ، اس پر بہت کچھ کہا جائے گا اور کہتے رہے گے ہم  ۔ ۔ ۔ مگر اس وقت صرف یہ ہی ذہن میں گونج رہا ہے
 
بن ٹھگ بازی اس دنیا میں بنا ہے کون رئیس
دیوتا بن کہ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس
 
انسانوں کا خون بہا کر رقص کریں فرعون
لمبے ہاتھ ستمگاروں کے ، مجبوروں کا کون
راتوں کے پردے میں کھیلیں کیا کیا کھیل خبیث
دیوتا بن کہ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس
 
سارے شہروں پر چھائی ہے اک دھشت بن رین
کس سے پوچھیں اس دھرتی کا لوٹا کس نے چین
حال وطن کا دیکھ کہ دل میں میرے اٹھے اک ٹیس
دیوتا بن کہ یہاں پھریں اب بڑے بڑے ابلیس
 

دلِ‌ من مسافرِ من

Saturday, May 12th, 2007

دلِ‌ من مسافرِ من
ہوا پھر سے حکم صادر
دیں گلی گلی صدائیں
کریں رخ نگر نگر کا
کہ سراغ کوئی پائیں
کسی یار نامہ بر کا
ہر اک اجنبی سے پوچھیں
جو پتا تھا اپنے گھر کا
سر کوئے ناشنایاں
ہمیں دن سے رات کرنا
کبھی اِس سے بات کرنا
کبھی اُس سے بات کرنا
تمہیں کیا کہوں کہ کیا ہے
شبِ […]

! ایمرجنسی “کایا پلٹ“ ثابت ہوگی

Tuesday, May 8th, 2007

عوام جب لوڈشیڈنگ کی شکل میں بجلی کے جھٹکے سہنے پر بھی عدلیہ کی آزادی اور فوجی آمریت سے نجات کے تحریک سے دستبردار نہیں ہوئے تو بقول نوائے وقت کے “ایمرجنسی وزیراعظم“ نے ایمرجنسی لگانے کی دھکمی دے ڈالی !
میں کہتا ہوں کہ حکومت ذرا ہمت سے کام لے اور ایمرجنسی ملک میں نافذ […]

انتظار

Monday, May 7th, 2007

 
 
کچھ قسمیں تم بھی بھول گئے
 
کچھ وعدے ہم بھی توڑ گئے
 
یوں ساتھ بھی کب تک چلتے تم
 
اک موڑ پہ آکے چھوڑ گئے
 
سب رستے دھندلے رستے ہیں
 
پر اب بھی ہم اس موڑ پہ کھڑے
 
خالی دل خالی جان لئے
 
ہم آج بھی تم کو تکتے ہیں
 
 
 
۔۔۔ ضیاء عثمانی کی “کھو نہ جانا“ سے ۔۔۔
 
 

Web-based Urdu WYSIWYG Editors

Wednesday, May 2nd, 2007

AssalamOAlaikum,
Finally I have released web-based Urdu wysiwyg editors. Actually I have added Urdu key mapping on top of exisiting web-based wysiwyg editors TinyMCE and FCKEditor, both of which are free and open-source
software. This Urdu support is working well inside Internet Explorer whereas there are still bugs when this is used with gecko-based browsers such […]