Google

Archive for April, 2007

آپریشن ب حجاب

Friday, April 27th, 2007
کل مدیحہ گوہر نے اپنے “آپریشن ب حجاب“ والے سٹیج کے ڈرامے پر پابندی کے خلاف کہا کہ اس ڈرامے میں کچھ ایسا نہیں کہ جس پر اسلام پسندوں کو گلہ اور گلہ تو انہیں ہے روشن خیال حکومت سے ، کہ جو ایک طرف تو روشن خیالی کے نعرہ لگا رہی ہے اور دوسری طرف روشن خیالی پر پابندی بھی  ۔ ۔ ۔مدیحہ کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی  ۔ ۔۔
ویسے اس ڈرامے کے کچھ کلپس بی بی سی کی مہربانی سے دیکھے ، تو پتہ چلا کہ واقعٰی ہی یہ کھیل کھیل میں بہت کچھ کہا جا رہا ہے ، ذرا سوچیے کہ اگر پردہ داری ہو گئی وطن عزیز میں تو کیا ہو گا ، برقعے میں سب کچھ  ۔۔ ۔ ہماری فیشن انڈسٹری تو تباہ ہو جائے گی ، اور پھر فلموں کا کیا ہو گا ؟ میرا ، ریما اور مدیحہ کدھر جائیں گیں ؟ ہماری یونیورسٹیوں میں جو محبت کی داستانیں رقم ہوتیں ہیں انکا کیا ہوگا ، اور ذرا سوچیں کہ من چلے دل والوں کا کیا ہو گا کہ انہیں کسی کو چھیڑنے کے لئے کتنی مشکل ہو گی ، ڈر یہ ہو گا کہ برقعے میں کہیں اپنا ہی خونی رشتہ نہ ہو جو خونی تصادم تک جا پہنچے  ۔ ۔ ۔
مدیحہ گوہر ، ایک گوہر نایاب ہیں ، اور بچپن سے ہی انہیں ایسے کام کرنے کا بہت شوق ہے ، جو روشن خیالی کو فروغ دیں ، جب گیارہ سال کی طویل ضیاء آمریت کے بعد دختر نیک اختر ، یعنی محترمہ بے نظیر نے تاج پاکستان پہنا تو ہمارے اکلوتے چینل نے گیارہ سالہ طویل ڈوپٹہ پالیسی کے خاتمے پر جشن منایا ، جس میں میوزک ٨٩ شاید بہت سارے دوستوں کو یاد ہو مگر جو بات اس وقت کے ڈراموں کی ہے وہ شاید کہیں نہ ملے انہیں ڈراموں میں ایک تھا “نیلے ہاتھ“  ÷ ÷  ÷ ÷ مدیحہ گوہر نے اس میں اپنے نیلے ہاتھ دکھائے تھے  ۔ ۔ ۔آج وہ ہی نیلے ہاتھ  ۔ ۔  سامنے آ گئے ہیں  ۔ ۔ ۔ شاید لوگوں کو اندازہ نہ ہو یہ نیلے ہاتھ اب زہریلے ہاتھ بن چکے ہیں  ۔ ۔ روشن خیالی کے یہ علمبردار اب ان زہریلے ہاتھوں سے سامنے آ گئے ہیں اب انکی پہچان آسان ہے  ۔ ۔ ۔
مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی کہ ہم ایلیٹ کلاس کے لوگوں کی باتوں کو کیوں نہیں سمجھتے ، مدیحہ ٹھیک کہتیں ہیں ، یہ ڈرامے عام لوگوں کے لیے نہیں ، کیونکہ انکے ٹھیٹر کے ٹکٹ ایک عام آدمی افورڈ نہیں کر سکتا  ۔ ۔ ۔ دس ہزار پانچ ہزار اور ڈھائی ہزار کے ٹکٹ کون لوگ لے سکتے ہیں اور کون لوگ رات کے دو تین بجے تک ڈرامہ دیکھ سکتے ہیں ، جنہیں صبح کام پر نہ جانا ہو جنہیں اسکول میں کوئی نہ پوچھتا ہو  ۔ ۔ ۔
مسلہ پردہ ہی ہے  ۔ ۔ ۔ جو ہماری عقلوں پر پڑ چکا ہے ، اب ہم کھل کر اسلام کے خلاف نہیں بول سکتے اسلئے ایسی باتیں کرتے ہیں ، مجھے یہ بتائیں کہ اسلام کے احکام کی خلاف ورزی کھلے عام کی جاتی ہے تو ہم اصل بات کیوں نہیں کہتے کیوں نہیں کہتے کہ ہمیں اسلام نہیں چاہیے  ۔۔ ۔ کم سے کم اس معاملے میں تو ہم سچ بولیں  ۔ ۔  کہ بھائی ہمیں اسلام نہیں چاہیے ۔۔ ۔ ۔  ہماری ترقی کی راہ کی سب سے بڑی رکاوٹ ہی اسلام ہے  ۔ ۔ ۔  ہم نیلے ہاتھوں والوں کو کیوں نہیں پہچانتے  ۔ ۔ ۔   ۔ ۔ ۔
اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں فیصلہ کرنا ہے ، کہ ہمیں کیا چاہیے اسلام یا روشن خیالی ، یہاں روشن خیالی سے مراد وہ مادر پدر آزادی ہے جو نیلے ہاتھ ہم سے چاہتے ہیں  ۔ ۔ ۔۔ اور اسلام سے مراد وہ اسلام ہے جو ریاست مدینہ کا اسلام تھا   ۔ ۔ نہ کہ وہ اسلام جو  ۔ ۔ ۔ طالبان جیسا ہو  ۔ ۔ یا مدرسہ حفصہ جیسا  ۔ ۔ ۔ جنکے دلوں اور دماغوں پر مہریں لگا دی گئیں ہیں ۔۔ ۔ ۔ اور صرف از صرف اپنی ڈفلی بجائی جا رہی ہے  ۔ ۔ ۔ ۔ کوئی کسی کی نہیں سنتا  ۔ ۔ ۔  مدرسہ حفصہ والیوں میں بھی ہمت نہیں کہ روز میڈیا کے سامنے مثالیں پیش کریں کیونکہ وہ خود جانتیں ہیں کہ انکے اپنے قول و فعل میں کتنا تضاد ہے  ۔ ۔ ۔میں کم سے کم روشن خیالوں کی اس بات کی داد ضرور دوں گا کہ وہ مصلحت سے کام نہیں لے رہے اور ڈنکے کی چوٹ پر چوٹ لگا رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور بنیاد پرست اس پر بلبلا رہے ہیں  ۔ ۔  اور کیونکہ وہ خود بے عمل ہیں (چاہے وہ مجلس کی شکل میں ہی کیوں نہ ہوں) اسلئے انکے پاس سوائے تلملانے کے کوئی جواب نہیں  ۔ ۔ ۔عوام خاموش تماشائی ہے اور جو جیتے گا اسی کے پیچھے چل پڑے گی  ۔ ۔ ۔ اسے غرض ہے روٹی کپڑا اور مکان سے  ۔۔ ۔ ۔ بنیاد پرستی اور روشن خیالی  ۔ ۔ ۔ ان مشکلات سے آزاد لوگوں کا کام ہے  ۔ ۔ ۔

ديكھنے ميں روشن خيال لگتے ہيں۔۔

Friday, April 27th, 2007

روشن خيالي كے دعويداروں كي روشن خيالي كي رنگے ہاتھوں پكڑائي۔ كہتے ہيں ايك تصوير ايك ہزار الفاظ پر بھاري ہوتي ہے ۔

انقلاب کا بیج بویا جا چکا ہے

Sunday, April 22nd, 2007
آج ٹی وی ون پر جامعہ حفصہ کے مولانا عبدالرشید کی گفتگو سنی تو لگا کہ کہ معاملہ کچھ بگڑتا جا رہا ہے ، اور کچھ حکومتی خبریں بھی اچھی نہیں ہیں ، اور دوسری طرف آج کے جنگ میں ڈاکٹر اسرار کا کالم بھی بہت اچھا ہے مگر کیا اس سے کچھ اثر پڑ سکتا ہے ؟ میں نے بھی جامعہ حفصہ کو ای میل کی مگر میں سمجھ سکتا ہوں کہ وہ اس بات کا جواب کیوں نہیں دے رہے کہ انکا اگلا قدم کیا ہے ہو گا، کیونکہ ڈاکٹر اسرار کی یہ بات کسی حد تک صحیح ہے کہ تین چار ہزار لوگ اس طرح کے اقدام سے بدامنی تو پھیلا سکتے ہیں انقلاب نہیں لا سکتے ۔
اصل میں معاشرہ اتنا ڈوب چکا ہے برائیوں میں کہ اسے پاک کرنے کے لئے شاید ایک اور تحریک پاکستان کی ضرورت ہو، مجھے قائد اعظم کا یہ فرمان اکثر یاد آتا ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایک اسلامی نظام کی مثال دکھانے کے لئے بنایا تھا ، پاکستان تھیو کریسی کے لئے نہیں بنا تھا ، قائد کے ذھن میں بلکہ اس وقت کے عوام کے ذھن میں جو پاکستان تھا وہ اسلامی سلطنت تھا ، جو فلاحی ریاست تھی ، جہاں ہر قانون اسلامی ہونا تھا  ۔۔ ۔ میری نظر میں پاکستان کی تحریک کے آخری سترہ سال یعنی ١٩٣٠ سے لیکر ١٩٤٧ تک ہندوستان کی مسلمان قوم کا ایک نظریہ بن چکا تھا کہ نیا ملک اسلامی ہو گا اور مدینہ ثانی بنے گا ، اور ١٩٤٧ تک عوام اور رہنما ایک ہی تھے ، اسلئے عوام کو اپنے رہنماؤں پر یقین تھا اور ، عوام نے یہ یقین ١٩٦٥ کی جنگ تک رکھا  ۔ ۔ ۔  مگر ١٩٦٥ کی جنگ کے بعد عوام اور رہنماؤں کے نظریات الگ ہوتے چلے گئے ، رہنما اقتدار کے لئے عوام کو نچاتے رہے اور عوام رہنماؤں کو غلطیوں کے باوجود چڑھاتے اور اتارتے رہے ، عوام اور رہنماؤں کے اسی تضاد کی وجہ سے ہم نے آدھا پاکستان کھو دیا  ۔۔ ۔
جب حکمران اور عوام میں دوری ہو جائے تو انقلاب کے لئے دانش ور اور ادیب شعراء آگے آتے ہیں ، جیسا کہ تحریک پاکستان کا آغاز کرنے والے  حالی ، سرسید ، اقبال  نہ صرف سیاستدان تھے بلکہ دانش ور اور رہبر و رہنما تھے جنہوں نہ صرف اپنی تقریروں سے بلکہ اپنی تحریروں سے بھی عوام کی تربیت کی  ۔ ۔ ۔ عوام کو انکی باتوں کا یقین ہوتا ، کیونکہ وہ جو کہتے وہ کرتے ، آج حکمرانوں اور عوام میں دوری کا بنیادی سبب انکے قول و فعل کا تضاد ہے  ۔ ۔ ۔ حکمران جو عوام سے نہیں آ رہے بلکے خواص سے آ رہے ہیں ، بے شک ہمارے ہاں بادشاہت نہیں مگر ، ایک مخصوص طبقہ ہی حکمرانی کا حق جتاتا ہے اور رکھتا بھی ہے  ۔ ۔ ۔ عوام ہمیشہ ہی ایسے لوگوں کو نجات دہندہ سمجھتی ہے  ، اور انہیں بار بار لانے میں عوام کا بھی ہاتھ ہے  ۔ ۔ ۔ یہ عوام بھول جاتی ہے کہ پاکستان کیوں بنایا تھا ؟
اب ان سب کا علاج کیا ہے ؟ ہمیں ایک اور اقبال اور جناح کی ضرورت ہے  ۔ ۔ ۔ جو ہم میں سے ہی اٹھیں گے ، مگر یہ ہم عوام کو سمجھنا چاہیے کہ خونی انقلاب زیادہ پائیدار نہیں ہوتا  ۔ ۔  ۔ ۔ جبکہ مثال اسلامی انقلاب کی ہے ، جس میں پہلے تبلیغ اور ہجرت اور اپنے موقف پر ڈٹے رہنے کا سبق دیا گیا اور پھر جب تک طاقت حاصل نہیں کی گئی ، خود حملہ نہیں کیا ،اور جب طاقت مل گئی تو بنا خون خرابے کے مکہ کو فتح کر لیا  ۔ ۔ ۔ ۔
یہاں میں ڈاکٹر اسرار کی ایک بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ جنگ بدر میں فرق صرف تعداد کا تھا ، جبکہ فرق اسلحہ کا بھی تھا اور جذبوں کا بھی  ۔ ۔ ۔ اور ایمان کی طاقت بھی تھی  ۔ ۔ ۔ خیر یہ ایک طویل بحث ہے  ۔ ۔  مگر اس وقت میں جو دیکھ رہا ہوں کہ انقلاب کا آغاز ہے مگر یہ کیسا انقلاب ہو گا ، خاموش یا خونی  ۔ ۔  یہ ہمیں اسی وقت طے کرنا ہو گا  ۔ ۔  ورنہ بہت سارے دوسرے مسلمان ملک بھی اس عمل سے گذر رہے ہیں اور اس وقت جو بھی فہم و فراست کا مظاہرہ کرے گا وہ ہی اس انقلاب کا بانی بنے گا  ۔۔۔۔۔۔ میری نظر میں اس وقت انڈونیشیا اور ملائشیا کے مسلمان بہت فہم و فراست سے اسلام کی ترویج و ترقی میں معاون بن رہے ہیں ، جیسے اسلامی بینکنگ اور تبلیغی نیٹ ورکس وغیرہ اسکی مثالیں ہیں ، دوسری طرف ہمارے یورپ کے رہنے والے مسلمان ہیں جو اپنی بقا اور اپنے نظریے کو اچھی طرح پیش کر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ جس سے بہت زیادہ ایفکٹ آ رہا ہے ، جسکی مثال پچھلے دنوں کنیڈا ٹی وی کا نیا سوپ سیریل ، لٹل موسک آن پریری ہے  ۔ ۔  اسکے علاوہ انٹرنیٹ پر جہاں شدت پسند موجود ہیں وہیں اعتدال پسند اور دلائل سے بات کرنے والے بھی موجود ہیں  ۔ ۔ ۔جو بہت ساروں کو مکالمے سے زچ کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔اور زیر کرتے ہیں
میری نظر میں انقلاب کا بیج بویا جا چکا ہے ، اور اب اسے سیرابی کی ضرورت ہے ، اور اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے زندگی میں ہی انقلاب دکھائے (آمین) ۔ ۔ ۔  جنرل حمید گُل کی ایک بات بار بار یاد آتی ہے کہ آج ہم نبی کریم (ص) کے زمانے کے بعد پہلی دفعہ ویسے ہی حالات سے دوچار ہیں ، اور ہمارے سامنے حق کی مشکلیں ہیں اور باطل کی طاقت اور رنگینی بھی  ۔۔  اب ہمیں اختیار ہے  ۔ ۔  کہ ہم کونسا راستہ چُنتے ہیں  ۔ ۔ ۔

ہائے بجلی ،ہائے ہائے بجلی ۔ ۔ ۔

Friday, April 20th, 2007
رات ایک طویل قوالی والا خواب دیکھا  ۔۔ ۔ جسکی کچھ جھلک ادھر پیش خدمت ہے
ہمارے کراچی کے بہت سارے لوگ بجلی آنے جانے پر کیا گا رہے ہیں ملاحذہ فرمائیے
آئے بجلی اور جائے بجلی
پاگل سب کو بنائے بجلی
روشنیوں کا شہر کراچی
اندھیروں سے سجائے بجلی
بولیں سارے مل جُل کے
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی
دیکھا تو اپنے مًنا پہلوان جی صرف لنگوٹ کًس کر بھنگڑا ڈال رہے تھے
او باری برسی کھٹن گیا تے
کھٹ کے لیاندا اے سی
اے سی کیا چل سی
جدوں بجلی نہ ہو سی
میں کوئی جھوٹ بولیا  ۔  ۔
(سب ملکر) کوئی ناں
میں کوئی کفر تولیا
(سب ملکر) کوئی نا
کوئی ناں بھئی کوئ ناں
ایک دم سے بجلی آ گئی جیسے سبکو چُپ لگ گئی صرف سانسوں کی اور پنکھوں کے چلنے کی آوازیں آ رہیں تھیں کہ پھر بجلی چلی گئی اور ایک شور سا اٹھا
بھوکے ننگوں کو نچائے بجلی
آئے بجلی جائے بجلی
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی
اپنے واجہ بھائی کو بہت غصہ آیا
اڑے اس بجلی کمپنی کو بم سے اڑا دو ڑے ، ہماڑا تو اب دم ختم ہو گیا ہے  ۔ ۔ پھر خود ہی گانا شروع کر دیا، اور سب انکے ساتھ ناچ رہے تھے
بجلی ہم کو دیو ڑے  ۔ ۔۔ وشملے
بجلی سے یہ کہو ڑے  ۔ ۔ ۔ وشملے
گرمی سے مر گیا ، سارا شہر ڈر گیا
گرمی سے مرو ڑے  ۔ ۔ ۔ وشملے  ۔ ۔
اب کیا تھا وشملے وشملے  ۔  ۔۔ ۔  پھر ایک دم سے جیسے بجلی کو ہچکہ لگی  ۔ ۔  بلب آن ہوئے  ۔ ۔ پنکھوں نے کھٹ کھٹ کی اور بجلی پھر غائب  ۔ ۔ ۔  ۔ مولوی صاحب جو آج گرمی کی وجہ سے اپنی جناح کیپ کے بغیر ہی تھے اٹھے اور کہنے لگے
اب اللہ سے ہی کہو برسائے بجلی
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی  ۔ ۔ ۔
سب کے چہرے پر جیسے اداسی چھا گئی  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اپنے سائیں مہربان علی  ۔ ۔ ۔ کھڑے ہوئے جو اپنی اجرک کو کندھوں پر ڈالا اور زور کا نعرہ لگا  ۔ ۔ ۔ ہے جمالو   ۔۔  ۔۔ اور بجلی آ گئی  ۔ ۔۔ سب خوشی سے جھوم اٹھے
بجلی آگئی ہے شہر میں   ۔ ۔  ہے جمالو
بجلی چھا گئی ہے شہر میں  ۔ ۔ ہے جمالو
ہے جمالو  ۔ ۔ واہ واہ جمالو ۔ ۔جمالو
بجلی آ گئی ہے شہر میں   ۔ ۔ ہے جمالو ۔  ۔
اور پھر بجلی چلی گئی  ۔ ۔ ۔۔  سائیں مہربان علی کو بہت غصہ آیا  ۔ ۔
گھوڑا ڑے  ۔ ۔ کیوں ہم کو تڑپائے بجلی
(سب لوگ سینے پر ہاتھ مار مار کر کہنے لگے)
ہائے بجلی ہائے ہائے بجلی  ۔ ۔ ۔
ایک شور سا تھا  ۔ ۔ اور پھر بجلی آ گئی  ۔ ۔ ۔اور پھر خاموشی چھا گئی ایسے جیسے کسی نے کچھ بولا تو پتہ نہیں کیا ہو جائے گا  ۔ ۔ ۔ فاروق بھائی کے گھر سے دادی اماں کی آواز آئی  ۔ ۔ ۔ ارے او مُنے  ۔ ۔ (وہ ابھی تک فاروق بھائی کو مُنا کہتیں ہیں ، جبکہ فاروق بھائی کے ماشااللہ سے اپنے پانچ مُنے اور مُنیاں ہو چکے ہیں ) ارے او مُنے  ۔ ۔ میرا سروتا کہاں ہے  ۔ ۔ ۔بجلی آئی ہے جلدی سے تلاش کر ۔ ۔ اور مسز فاروق کی آواز سنائی دی  ۔ ۔ ۔
سروتا کہاں بھول آئیں  ۔ ۔ ۔ مُنے کی اماں
سروتا کہاں بھول آئیں  ۔ ۔ مُنے کی اماں
اور پھر بجلی چلی گئ  ۔ ۔ ۔ دادی اماں کی آواز سنائی دی  ۔ ۔
چھالیا ہوتو ہر کوئی چبائے بجلی
ہائے بجلی  ۔ ۔۔ ہائے ہائے بجلی  ۔ ۔ ۔
اتنے میں گُل خان اپنی سائکل پر گلی میں داخل ہوا  ۔ ۔  اوے خوچہ بچو بچو  ۔ ۔  بچو بچو  ۔ ۔ اوے خانہ خراب امارا بریک نہیں ہ  ۔ ۔ فاروق بھائی کے مُنے نے کہا ۔۔ جسکا کل پیپر تھا اور وہ بجلی کی وجہ سے کچھ نہ پڑھ پا رہا تھا  ۔  ۔ ۔  گُل چاچا  ۔ ۔ آپ کا بریک نہیں تو سائیکل کا بریک لگاؤ    ۔ ۔ ۔ ۔ مگر گُل خان کی سائکل نہ رکی  ۔ ۔ اور حسب معمول کھمبے سے جا ٹکرائی اور بجلی آ گئی  ۔ ۔ ۔ اور گُل خان سب بھول کر کھڑا ہوا اور آواز لگائی  ۔ ۔
او یا قربان  ۔ ۔  ۔۔ بجلی خان   ۔ ۔۔امارا جانان
او تو آیا تو جانا ناں  ۔ ۔ وئی  ۔ ۔
مگر بجلی کس کی سنتی ہے  ۔ ۔ ۔ پھر چلی گئی  ۔ ۔
اور اس بار سب نے ملکر یہ گایا  ۔ ۔
لب پہ آتی ہے دعا بن کہ تمنا میری
ایک بار آئے تو نہ جاے کبھی بجلی
ہو مرا کام کے ایس سی سے شکایت کرنا
بجلی کے آنے جانے کی خرابی کی مرمت کرنا
میرا اللہ ہر گدائی سے بچانا مجھکو
بجلی جاتی نہ ہو جہاں دینا وہ ٹھکانہ مجھکو
پچھلے ایک گھنٹے سے بجلی موجود ہے   ۔۔ ۔   مگر پھر بھی سب جاگ رہے ہیں  ۔۔  کہ کب کس وقت چلی جائے  ۔ ۔۔ دادی اماں بھی دعا کر رہی ہیں  ۔ ۔
سوہنی بجلی ، اللہ رکھے ، قدم قدم آباد
قدم قدم آباد تجھے  ۔ ۔
قدم قدم آباد  ۔ ۔ ۔ ۔۔
اور منا پہلوان بھی لنگوٹ کو ڈھیلا کر کہ سوچ رہا ہے  ۔ ۔ ۔کہ شاعر نے سچ ہی کہا تھا
چاند میری زمیں ، پھول میرا وطن  ۔ ۔ ۔ ۔ کیونکہ چاند پر تو بجلی نہیں ہے نا ، اور پھول کو بھی بجلی کی ضرورت نہیں ہوتی
ادھر سائیں مہرباں مچھروں سے بچنے کے لئے اپنی رلی پر سونے کی کوشش کر رہا تھا اور پنے بچوں پر پڑی اجرک دیکھ رہا تھا جسکا نیلا اور سرخ رنگ جیسے  ۔ ۔  مکس ہو کر کہ رہا تھا
رنگ برنگے پھولوں کا گل دستہ  ۔ ۔  پاکستان  ۔ ۔ ۔ یہ گلدستہ  ۔ ۔ ۔ کتنا مرجھا جاتا ہے جب بجلی نہیں ہوتی  ۔ ۔ ۔
واجہ بھائی  ۔۔ ۔  کو دو دن بعد نیند آئی تھی  ۔ ۔ ۔ مگر خواب وہ بھی دیکھ رہے تھے  ۔ ۔۔۔
آؤ بچو سیر کرائیں تم کو پاکستان کی  ۔ ۔ ۔
بجلی کی ویرانی ہے حکومت فو جستان کی  ۔ ۔
بجلی آئے زندہ باد ، بجلی جائے زندہ باد   ۔ ۔ ۔
گُل خان نےدروازہ کھول کر چارپائی بچھائی تھی اور سوچ رہا تھا کہ کل وہ سائیکل کا بریک ضرور ٹھیک کروائے گا  ۔ ۔ کیونکہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے وہ کئی بار کھلے گٹروں سے ٹکرا چکا تھا  ۔ ۔ ۔ اسے اپنا گاؤں بہت یاد آ رہا تھا جہاں وہ آنکھیں بند کر کہ بھی چل سکتا تھا  ۔  ۔ مگر وہ سوچ رہا تھا
وہ  بھی پاکستان ہے ، یہ بھی پاکستان ہے
وہ بھی میری جان ہے ، یہ بھی میری جان ہے
مگر فرق صرف بجلی کا ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟
اور دور کہیں  ۔ ۔ ۔ بجلی کی تلخیوں سے آزاد اظہر یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔ اور دل سے دعا کر رہا تھا ، اپنے روشن روشن پاکستان کے لئے  ۔ ۔
جیوے جیوے ، جیوے پاکستان
پاکستان ، پاکستان  ۔ ۔ ۔ جیوے پاکستان  ۔ ۔ ۔
اور میری آنکھ  ۔ ۔ ۔ کُھل گئی  ۔۔  ۔۔
 

خبروں كے صارف۔۔

Friday, April 20th, 2007

اب وہ وقت آيا كے “صحافت” مقدس پيشے سے منافع بخش كاروبار بن گيا۔۔كاروبار ميں منافع ہوتا ہے۔۔ كاروبار ميں كاروبار كا مفاد ہوتا ہے۔۔ كاروبار ميں ايك جنس ہوتي ہے۔۔ كاروبار ميں خريد ہوتي ہے۔۔ كاروبار ميں فروخت ہوتي ہے۔۔ مقدس پيشے ميں سچ ہوتا ہے۔۔ كاروبار ميں خبر ہوتي ہے۔۔ سچ بولا جاتا ہے۔۔ خبر بيچي جاتي ہے۔۔ سچ بك نہيں سكتا۔۔ سچ خريدا نہيں جاسكتا۔۔ خبر بيچي جاتي ہے۔۔ خبر خريدي جاتي ہے۔۔ تو خبر كيا ہے؟ خبر جو بھي ہے۔۔ خبر سچ نہيں كہ سچ بيچا نہيں جاسكتا۔۔ سچ خريدا نہيں جاسكتا۔۔

مینڈکوں کا بادشاہ

Friday, April 20th, 2007

 
 
ایک بار مینڈکوں نے خدا سے دعا کی کہ ہا پروردگار ہمارے لئے کوئی بادشاہ بھیج۔ باقی سب مخلوقات کے بادشاہ ہیں، ہمارا کوئی بھی نہیں ہے۔
 
خداوند نے انکی سادہ لوحی پر نظر کرتے ہوئے لکڑی کا ایک کندہ جوہڑ میں پھینکا۔ بڑے زوروں کے چھینٹے اڑے، پہلے تو سب ڈر گئے، تھوڑی دیر بعد […]

کراچی ریلی

Wednesday, April 18th, 2007

دبئی میں ڈاکا ۔ ۔ ۔

Sunday, April 15th, 2007
عام طور پر امارات کو پُر امن ملک سمجھا جاتا ہے ، کیونکہ یہاں جرائم کی شرح دوسرے ممالک کی بنسبت کم ہے ، مگر پچھلے کچھ سالوں سے یہاں جرائم تیزی سے پنپ رہے ہیں ، اور اس سال تو یہ شرح بہت زیادہ بڑھ گئی ہے ، چوری ، عصمت دری، ٹھگنا اور قتل روز کا معمول ہو گئے ہیں ، مگر ابھی بھی حکومت کا اتنا کنٹرول ہے کہ میڈیا پر یہ خبریں نہیں آنے دیں جاتیں ، مگر کل رات کو یہاں کے ایک پرتعیش شاپنگ مال وافی سنٹر میں جو ڈاکا پڑا اسنے سب کو سہما دیا ہے ، اصل میں یہ سب بڑھنے کی کچھ وجوہات ہیں
١۔ پہلے یہاں تنخواہ اور معمولات زندگی میں توازن تھا ، اب مہنگائی تو بڑھ رہی ہے مگر تنخواہیں اتنی ہی ہیں ، اور چونکہ یہاں احتجاج کا جواب صرف ایک ہے اور وہ ہے ڈی پورٹ کرنا ، جو اب بہت ہو رہا ہے
٢- عربوں میں پہلے کچھ روایات ہوتیں تھیں ، اب وہ ختم ہو رہیں ہیں ، عربوں میں زمانہ جاہلیت والی باتیں آ رہیں ہیں ، وہ اپنے آپ کو برتر اور دوسروں کو کمتر سمجھ رہے ہیں
٣- ہر کونے میں مسجد تو موجود ہے مگر ، یہاں بھی لوکل (یعنی عربی) کوشش کرتا ہے کہ اسکے ملازمین میں مسلمان کم سے کم ہوں کیونکہ مسلمان پھر مسلمان ہوتا ہے ، اور غیر مسلم جتنا کھلا ڈھلا ہوتا ہے وہ ایک مسلمان نہیں ہو سکتا
٤- جب سے امارات اپنی زمین بیچ رہا ہے ، تو اسے خریدنے والے کون ہیں اسکی کسی کو پرواہ نہیں ، ایک کمرے کا فلیٹ بھی ملین ڈالرز کا ملتا ہے ، اور ظاہر ہے ایسی پراپرٹی میں جو لوگ سرمایہ کاری کر رہے ہیں وہ اپنے کالے دھن کو سفید کر رہے ہیں اور اس وقت دبئی دنیا کے بڑے بڑے گنگسٹر کا حب بن چکا ہے ، جہاں سے بیٹھ کر دنیا کا نظام کنٹرول کیا جاتا ہے ، ایک چھوٹی سی مثال بھارتی بھائی لوگ اور ہمارے سیاستدان ہیں
٥- آزادی ، مادر پدر آزادی ، دبئی اور ابوظہبی میں جس طرح کی آزادی ہے ایسی دنیا کے کسی بھی مسلمان ملک میں نہیں ، اور اسلام اور ایسی آزادی کا تضاد ہی جرائم کو جنم دے رہا ہے  ۔ ۔ ۔
میرے محلے کی ایک عرب خاتون کہتی ہیں ، کہ ہم پر بہت جلد اللہ کا عذاب آنے والا ہے کیونکہ ہم اب برائیوں کی دلدل میں ایسے دھنس چکے ہیں کہ ہمیں اب عذاب کے سوا کچھ اور نہیں ملنے والا
اللہ ہم پر رحم کرے (آمین)

کراچی - کچھ یادیں کچھ باتیں ۔ ۔ ۔

Saturday, April 14th, 2007
میرا بچپن بیماری میں گذرا اور پھر نوجوانی اس بیماری کی ریکوری میں ، اور جوانی اپنا کئریئر بنانے میں  ۔ ۔ اس دوران مجھے بہت سخت قسم کی محنت کرنی پڑی ، جسمانی کمزوری اور معزوری کو روند کر آگے بڑھا ، مجھے یاد ہے جب لیاقت ہسپتال کے ڈاکٹروں نے میری فیملی کو کہا تھا کہ اب میں ہمیشہ کے لئے معذور ہو سکتا ہوں تو میری ماں ساری رات میرے سرہانے بیٹھی روتی رہیں  ۔ ۔ میں نے بے بسی کی انتہا دیکھی ہے ، میں اپنی انگلی تک خود نہیں ہلا سکتا تھا اور اب اللہ کے فضل و کرم سے اپنے ہی ہاتھوں یہ لکھ رہا ہوں  ۔۔ ۔ میرے کچھ دوست خاصکر ویب والے مجھے “بے وقوف“ اور “بچکانہ“ اور بعض اوقات تو بہت ہی نازیبا الفاظ سے یاد کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ تو میرے سامنے میرا ماضی گھوم جاتا ہے ، جب میں نے ایک بار پھر نئی زندگی شروع کی تھی ، میں کالج جاتے ہوئے اکثر اوقات گر جاتا تھا ، کیونکہ ہر بار دیوار کا یا کسی دوست کا سہارا نہیں ہوتا تھا اور میں لاٹھی کا سہارا لینا نہیں چاہتا تھا ، مجھے ریل کی پٹریاں کراس کر کے کالج جانا ہوتا تھا ، اور کئی بار انہیں پٹریوں پر گرا ، اور ریل کو آتے دیکھا اور  موت کو اتنا قریب دیکھا کہ کیا کہوں  ۔۔ ۔ پھر  شاہ فیصل کالونی میں ائیرپورٹ ریلوے اسٹیشن پر ایم کیو ایم والوں کے ہاتھوں مرتے مرتے بچا کہ میرے دوست کا بھائی یونٹ انچارج تھا  ۔ ۔ ۔  اور مجھے اچھی طرح جانتا تھا  ۔ ۔ ۔پھر جب مجھے پتہ چلا کہ میں بہت زیادہ مختلف ہوں دوسروں سے کہ میں تو چل بھی نہیں سکتا اور لوگ تو بھاگتے ہیں ، تو میں نے بھی اس ریس میں شامل ہونے کی ٹھانی ، میں نے سائنس اور ٹیکنالوجی کو اپنی تعلیم کے لئے منتخب کیا ، لکھنا میرا شوق تھا ، موسیقی سیکھنا شروع کی  ۔۔۔  ۔ میں نے ان آوازوں پر جو مجھے “لنگڑا“ ، “ڈانسر“ ، “بلڈوزر“ اور “بریک فیل“ جیسے خطابات سے نوازتی تھیں میں نے سننا ہی چھوڑ دیا ، اپنے کان بند کر لئے  ۔ ۔  اور دن سے لے کر رات تک اپنے آپ کو اتنا مصروف کیا کہ مجھے ان سب باتوں کی پرواہ ہی نہ رہی  ۔ ۔ ۔  اور پھر قدرت نے مجھے ایسے لوگوں سے ملوانا شروع کیا جنہیں لوگ وی آئی پیز کہتے ہیں ، جن سے ملنے کے لئے وقت لینا پڑتا ہے ، شاید میری محنت تھی ، آواز اخبار سے وابستگی ہوئی ، پاکستان قومی موومنٹ کے آفس میں آنا جانا ہوا ، آزاد صاحب سے سلام دعا ہوئی تو سیاست دانوں سے بھی لنک بنے ، اور پھر میں نے جب گلبرگ میں پڑھانا شروع کیا تو کتنے ہی لوگ ملتے چلے گئے ، اردو سپینکنگ ، سندھی ، بلوچی ، براھوی ، پٹھان اور پھر جب کچھ کام گلبرگ کے پولیس اسٹیشن میں کیا تو کتنے ہی راز کھل کہ سامنے آئے ، یہ وہ زمانہ تھا جب عزیز آباد نو گو ایریا میں آتا تھا ، جب لانڈھی کورنگی میں جانا موت کے منہ میں جانے کے برابر تھا ، مجھے یاد ہے جب میں اور موبین لانڈھی میں ایک کارخانے کے پروگرام کی ابتدائی سٹڈی کے لئے پہنچے تو ہمیں بندوقوں برداروں کے سائے میں کارخانے تک لایا گیا  ۔ ۔  ۔ اور پھر انہیں دنوں جب لانڈھی کے کمیونٹی سنٹر میں ہم نے ایک ڈرامہ اسٹیج کیا (اس وقت تک میں ایک اسٹیج فنکار بن چکا تھا ) تو  ۔ ۔  آزاد کے کردار نے مجھے بہت پہچان دی  ۔  ۔ ۔ بلکے کتنے ہی عرصے تک لوگ مجھے آزاد کے نام سے ہی جانتے رہے  ۔ ۔ ۔ پھر ائیر وار کالج میں ایک لیکچرار کے ساتھ ملکر کچھ کام کیا تو پتہ چلا کہ ہماری آرمی نے کتنا اچھا نیٹ ورک ڈائزائن کیا تھا ، تینوں فورسز کو ملانے کا  ۔  ۔ پی این ایس رہبر پر اے ایس فور ہنڈرڈ پر جب سی لینگویج کے بارے میں (یونکس ورژن) کچھ کہنے کا موقعہ بھی ملا  ۔ ۔ ۔اور پھر اسی طرح اپنے دیس کے بارے میں پتہ چلتا چلا گیا  ۔ ۔ ۔ وہ اظہر جو اخبارات میں اے ہاشمی تھا اور دوستوں اور طالب علموں میں سر اظہر اور میڈیا میں اظہر بھائی تھا ایک جانے جانے والا انسان بن گیا  ۔ ۔  اب کوئی مجھے دوسرے ناموں سے نہیں بلاتا تھا  ۔۔  ۔ میں بس میں آتا جاتا تھا ، مگر ایک عام انسان جیسا ہی تھا  ۔ ۔ ۔ اسلئے عام انسان کی بات ہی سمجھتا تھا ، مجھے بڑے لوگوں کی باتیں سمجھ نہیں آتیں تھیں ، وہ فائیو اسٹار ہوٹل میں بھاشن دیتے تھے مگر عملی طور پر صفر تھے اور جو انسان کو انسان سمجھتے تھے انہیں کوئی گھاس نہیں ڈالتا تھا  ۔ ۔ ۔ایسے ہی انسانوں میں ایک ایدھی تھا ، انصار برنی تھا جن سے ملکر ایسا لگا کہ نہیں ابھی انسانیت باقی ہے  ۔ ۔ ۔۔  ایک اور انسان کا ذکر نہ کروں تو زیادتی ہو گی ، وہ بلوچی تھے ، مگر سب لوگ انہیں اردو سپیکنگ سمجھتے تھے ، کہ وہ کالا بورڈ ملیر میں زندگی گزارتے تھے ، شاید بہت سارے لوگوں کو معلوم ہو کہ ملیر میں بھی ایک لال مسجد ہے  ۔  ۔ اسی کے پاس وہ رہتے تھے ، وہ میرے کیمبرج انسٹیوٹ کی بلڈنگ کے مالک تھے ، پیتے بہت تھے ، مگر پابند صلوات بھی تھے  ۔ ۔ ۔ ذرا کسی کی تکلیف دیکھی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر اس کی مدد کو پہنچے  ۔ ۔ ۔ جب ملیر کے حالات بہت خراب ہوئے ، اور گلی گلی میں جوان ٹی ٹی پستول لے کر گھوم رہے ہوتے تو  ۔ ۔ ۔ وہ کالا بورڈ سے عورتوں اور بچیوں کو اپنی حفاظت میں اندر لاتے  ۔ ۔ ۔  مجھے یاد ہے اس دن میں کلاس لے رہا تھا جب ایک گولی ہماری کھڑی کا شیشہ توڑتی ہوئی دیوار میں پیوست ہو گئی  ۔۔  اور لڑکوں میں سے ایک نے پستول نکال کر کھڑکی کے پاس پوزیشن لی اور  ۔ ۔ ۔ ہم نے لڑکیوں کو ان کے حوالے کیا اور وہ اپنے گھر تک پہنچ گئیں  ۔ ۔ ۔مجھے شاہ فیصل کالونی جانا تھا  ۔ ۔۔ مگر جب تک میرا ایک اسٹوڈنٹ بھی وہاں موجود تھا میرے لئے ممکن نہیں تھا  ۔ ۔  پھر ہمارے انسٹیوٹ کا گیٹ توڑنے کی کوشش کی گئی  ۔ ۔ ۔  رات کے دس بجے تک جب تک ہمارے ایک اسٹوڈنٹ نے اپنے کسی جاننے والے کے توسط سے ہمیں سیف پیسج نہیں دیا ہم باہر نہیں نکل پائے  ۔ ۔ ۔  اور جب ہم لوگ باہر جا رہے تھے تو ایک جوان نے آ کر کہا کہ آپ جئے الطاف کا نعرہ لگائیں  ۔  ۔ تو میں نے انکار کیا اور کہا میں ایک استاد ہوں ، میں کوئی ایسی بات نہیں کر سکتا  ۔ ۔ ۔ تو میری کنپٹی پر اسنے ٹی ٹی رکھ دی  ۔ ۔  اور پھر مطالبہ کیا  ۔ ۔  مجھ سے میرے ساتھیوں نے کہا کہ کہ دو کہنے میں کیا حرج ہے مگر میں نے کہا نہیں  ۔ ۔  یہ روز کا معاملہ ہے  ۔ ۔ ۔ اسنے بہت دھمکایا مگر میں نہیں مانا  ۔ ۔ ۔ اسنے کہا کہ تم پھر کبھی ملیر میں قدم نہیں رکھ سکو گے  ۔۔ ۔  میں نے کہا کہ اگر اللہ نے چاہا تو ایسا ہی ہو گا اگر نہیں تو میں اللہ سے نہیں لڑ سکتا  ۔ ۔ ۔  اتنے میں لال مسجد والے  ۔ ۔ ۔ آ گئے اور مجھے سر کہ کہ مخاطب کیا تو انہیں پتہ چلا کہ میں واقعٰی پڑھاتا ہوں  ۔ ۔  تو اسنے معذرت کی  ۔ ۔   میں نے کہا اللہ  تمہیں معاف کرے  ۔ ۔ ۔  آج یہ سارے واقعیات میری آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل رہے ہیں  ۔ ۔ ۔۔ میں نے اسکے بعد بھی وہاں پڑھایا  ۔ ۔ ہمارا انسٹیٹیوٹ ملیر کا پہلا سندھ بورڈ کا امتحان دینے والا انسٹیٹیوٹ بنا  ۔ ۔ ۔  جاوید ، ثروت ، فرح ، اقبال اور بہت سارے میرے اسٹوڈنٹ جنہوں نے بورڈ کے لوگوں کو حیران کیا ، کیونکہ ملیر کو کمپیوٹر کے حوالے سے بہت پسماندہ گردانا جاتا تھا  ۔ ۔ ۔ مگر ملیر  کے بچوں نے اسے غلظ ثابت کیا  ۔۔ ۔ اور آج ملیر میں بہت کچھ ہو رہا ہے دوکانیں ہیں انسٹیٹوٹ ہیں  ۔ ۔ ۔ مگر وہ پندرہ سولہ سال پہلے والی چیز شاید بہت کم لوگوں کو یاد ہو  ۔ ۔ ۔ کہ ٹوکن کے اسٹاپ پر ایک انسٹیٹیوٹ ہوتا تھا میرے خیال میں اب وہاں ایک اسکول ہے  ۔ ۔ ۔  پھر مدینہ میڈیکل کالا بورڈ کا پروگرام جب بنایا تو  ۔ ۔  اتنے اچھے انسان سے ملا جو بہت کم لوگ ہوتے ہیں ایسے  ۔ ۔  جو لوگ کچھ جاننا چاہیں کہ کیا زندگی ہوتی ہے ان سے ملیں  ۔ ۔ ۔  یادوں کی کتاب بہت بڑی ہے  ۔ ۔ ۔ میں نے بتایا نا کہ وہ دس سال میں نے بھاگتے ہوئے گذارے  ۔ ۔ ۔ ہر طرح کے لوگوں سے ملا  ۔ ۔ ۔ ہر طرح کے لوگوں نے مجھے عزت دی ، کیا میں گلبرگ کے رضوان کو بھول جاؤں ؟ جس نے مجھے بھائیوں جیسا پیار دیا ، کیا میں آئی سی ٹی گلشن اور کیمبرج ملیر کے اسٹوڈنٹس کو بھلا دوں جو مجھے اتنی عزت دیتے تھے کہ بعض دفعہ مجھے خود شرمندگی ہوتی تھی  ۔ ۔ ۔کہ شاید میں خود کو اتنا قابل نہیں سمجھتا  ۔ ۔ ۔ مگر اللہ نے مجھے بہت عزت دی  ۔ ۔ ۔اور شہرت بھی  ۔ ۔  کہ ایک وقت میں گلبرگ میں اسٹوڈنٹ سر اظہر کے لئے آیا کرتے تھے  ۔ ۔ اور وہ علاقہ سارے کا سارا اردو اسپیکنگ کا ہے  ۔ ۔ ۔  اور سب کو معلوم تھا کہ سر اظہر اردو اسپیکنگ نہیں ہیں  ۔ ۔ ۔ مگر پھر بھی کبھی کسی نے یہ احساس نہیں دلایا  ۔ ۔ تو میں کسی اردو اسپیکنگ کو کیسے برا کہ دوں  ۔ ۔  میرے آج بھی جو بہترین دوست ہیں وہ کراچی سے ہیں  ۔ ۔ ۔ کیوں  ۔ ۔ اسلئے کہ یہ شہر محبتوں کا شہر ہے ، ہر ایک کے لئے بازو کھولے رکھتا ہے  ۔۔  ۔ میں نے اس شہر کو سجتے دیکھا ہے ،  میں نے جب پہلی بار دبئی دیکھا تھا تو مجھے کراچی اور دبئی میں کوئی فرق نظر نہیں آیا تھا اور ابھی تک نہیں آتا سوائے ان نعروں کے جو دیواروں پر لکھے ہوتے ہیں  ۔ ۔ ۔ جیسے دبئی میں آپکو ہر نسل ہر قوم کے لوگ نظر آتے ہیں اور ملکر رہتے ہیں کراچی بھی ایسا ہی شہر ہے  ۔ ۔ ۔ کبھی کبھی جب آنکھیں موند کر میں ستر کی دہائی میں جاتا ہوں جب میرے والد مرحوم کراچی میں آئ سی پی میں ملازمت کرتے تھے ، تو میں ڈبل ڈیکر بس میں جایا کرتا تھا اور ضد کر کہ اوپر والے حصے میں بیٹھتا تھا  ۔ ۔  کیونکہ اس سے گاڑیاں چلتی اچھی لگتیں تھیں ، بلڈنگ اچھی لگتی تھی اور خاصکر فرئیر ہال اور سٹی کورٹ کی بلڈنگ خالق دینا ہال  ۔ ۔  اور کیا کیا  ۔۔  ۔ لکھوں  ۔ ۔ ۔ اور جب آج سے سات سال پہلے میں کراچی ائیر پورٹ پر لینڈ کر رہا تھا تو دبئی اور کراچی کی لائٹس ایک جیسی لگیں  ۔۔ ۔  اور بے اختیار احمد رشدی کا یہ گیت زباں پر آ گیا
شہر کا نام ہے کراچی
شہر کا نام ہے کراچی
بابو جی ذرا ہٹ کہ بچ کہ
ہم کراچی والے ، گورے ہوں یا کالے
بچ کہ رہنا مسٹر ، ہیں بڑے متوالے
کہ ذرا ہٹ کہ بچ کہ  ۔۔ ۔
کبھی سنیے گا مزہ آئے گا  ۔ ۔
یادیں تو بہت ہیں  ۔ ۔ جو وقتاً فوقتاً لکھتا رہوں گا  ۔۔  مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ میری آنکھوں سے اس رکشہ ڈرائیور کی موت نہیں ہٹتی جسے شاہراہ پاکستان پر روکا گیا اور کہا گیا کہ جئے الطاف بولو اور جب وہ اکڑ گیا تو اسے کتنے ہی لوگوں کی موجودگی میں گولی مار دی گئیں  ۔ ۔  اور مجھے یاد ہے کہ میرے منہ سے دو دن تک صحیح طرح سے الفاظ نہیں نکلتے تھے  ۔ ۔ ۔ مگر شاید اب وقت بدل گیا ہے  ۔ ۔ ۔ کاش بدل جائے  ۔۔  اور بندر روڈ سے کیماڑی تک چلنے والی گھوڑا گاڑی  ۔ ۔ ۔ ویسے ہی گاتی جائے جیسے آج سے کچھ سال پہلے جاتی تھی  ۔ ۔  اور واجہ بھائی  ۔ ۔  پتھروں والے ڈبے سے گدھے کو دوڑاتے تھے  ۔ ۔ ۔ جب ریڈیو پاکستان کراچی سے مجھے ارشاد حسین کاظمی کی آواز آتی تھی تو ریڈیو بند کرنے کا دل نہیں کرتا تھا   ۔۔  ۔ ۔۔  مگر شاید اب سب کچھ بدل گیا ہے ، کل ہی ارشاد حسین بھی چلے گئے  ۔ ۔ ۔ رئیس امروہی تو کب کے گئے  ۔ ۔ ۔ اب عالی جی ہیں  ۔  ۔ اور فرمان فتح پوری ، جمیل جالبی جیسے لوگ ہیں  ۔ ۔  جو ہمارے استاد ہی نہیں رہبر بھی رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ اللہ کراچی کو وہ بیتے دن لوٹا دے ، جس سے یہ شہر عروس البلاد کہلاتا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔(آمین)

سورہ الاعرَاف ۔ ١٧١ تا ١٨٠

Tuesday, April 10th, 2007

اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے
اورجب ہم نے ان پر پہاڑ اٹھایا گویا کہ وہ سائبان ہے اور وہ ڈرے کہ ان پر گرے گا ہم نے کہا جو ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور جو اس میں ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم پرہیزگار […]

Installing Urdu SMF forum on Urdu Web Server

Monday, April 9th, 2007

السلام علیکم،
اردو ایس ایم ایف فورم سپورٹ ریلیز کرنے کے بعد کچھ دوستوں نے فرمائش کی تھی کہ اسے اردو ویب سرور پر انسٹال کرنے کی ہدایات فراہم کر دی جائیں تاکہ اس کی ٹیسٹنگ آسان ہوجائے۔اس سلسلے میں میں نے ایک ٹیوٹوریل مرتب کیا ہے جسے ذیل کے ربط پر دیکھا جا سکتا […]

جب ، ہم بھی پاکستانی تھے ۔ ۔

Monday, April 9th, 2007
اسلام پاکستان میں اس وقت تھا
جب ، پاکستان کا مطلب ،لاالہ الااللہ تھا
جب ، شاہنامہ اسلام لکھا گیا
جب ، شکوہ ، جواب شکوہ لکھا گیا
جب ، غازی علم دین تھا
جب ، بی اماں تھیں
جب ، اقبال تھا ، جناح تھا
جب ، محرم کے جلوسوں میں سب لوگ سبیلیں لگاتے تھے
جب ، عید میلاد نبی(ص) سب مل کہ مناتے تھے
جب، مسلمان جھوٹ نہیں بولتا تھا
جب ، مسلماں کم نہیں تولتا تھا
جب ، فلسطین پر ہم بے قرار رہتے تھے
جب ، کشمیر کے لئے ہم تیار رہتے تھے
جب ، ہمیں خدا کے سوا کسی کا ڈر نہ تھا
جب ، ہمارا نعرا صرف اللہ اکبر تھا
جب ، توحید کا پرچم لہرایا ، جیسے ترانے فلموں میں تھے
جب ، شاہ مدینہ (ص) جیسی نعتیں ، دلوں میں محبت جگاتیں تھیں
جب ، زمیں یہ بھی مقدس تھی
جب ، آسماں بھی بھر پور تھا  ۔ ۔۔
جب ، ہمیں آزادی کی قدر تھی
جب ، ہم بھی پاکستانی تھے  ۔ ۔

اور اب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تفصیل کے ساتھ ۔

Sunday, April 8th, 2007

ہماری ایک رشتہ دار ہیں جو اپنی باتوں کے لئے خاندان بھر میں خاصی شہرت رکھتی ہیں ۔ نہیں صاحب ! وہ ہرگر باتونی نہیں ؛ بس وہ ہر بات نہایت تفصیل اور شرح و بسط کے ساتھ بیان کرتی ہیں ۔ یہ ان کی اچھی یا بری عادت ہے ۔ اس لئے وہ خاندان […]

انقلاب میرے یار یوں آیا نہیں کرتے!!!

Saturday, April 7th, 2007
تنہا پرندے سفر پہ جایا نہیں کرتے
سیر شکم  درندے تو ستایا نہیں کرتے

حاکموں کا قصیدہ کوئی تو پڑھے گا
جُھک جائے جو سر وہ ، کٹایا نہیں کرتے

 

خود سر ہو رہبر اور بے راہ  ہو کارواں
ہر اک لگا  رہا ہو بس اپنی ہی دوکاں
بکھرے ہوئے تنکوں سا جب ہو آشیاں
ایسے میں گیت طرب کے گایا نہیں کرتے
 
ایماں میں حرارت نہیں ، عقائد میں ہے جنوں
دل درد سے خالی ہے اور آنکھوں میں ہے خوں
اپنے ہی دشمن ہیں ، غیروں سے کیا  کہوں
گرد اپنے ہی سروں میں یوں اڑایا نہیں کرتے
 
میں تیری نہیں مانوں ، تو میری نہیں مانے
میں تجھے نہیں جانوں ، نہ تو مجھے جانے
پھر بھی ہم اک دوسرے پے تلوار ہیں تانے
انقلاب میرے یار یوں  آیا نہیں کرتے!!!
 

پاکستان کرکٹ ٹیم کی ناکامی کی اصل وجہ

Saturday, April 7th, 2007
کرکٹ ٹیم کے میڈیا منیجر کا فرمانا ہے کہ پاکستان کی ٹیم اسلئے ورلڈ کپ میں ہاری کہ اس میں اسلامی شدت پسندی ہے ، اور تبلیغی عنصر زیادہ ہے ، آسان لفظوں میں ، اسلام پر عمل آپ کو دنیا میں رسوا کر سکتا ہے  ۔ ۔ ۔  اسلئے ذرا سنبھل کہ ، اکبر الہ آبادی نے شاید اسی موقعے کے لئے کہا تھا  ۔ ۔ ۔ ۔
 
 
رقیبوں نے جا کر لکھائی ہے رپٹ تھانے میں
کہ اکبر نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں 
 

ہم آخر چاہتے کیا ہیں ؟

Friday, April 6th, 2007
ہم آخر چاہتے کیا ہیں ؟ پہلے ہم ڈرتے تھے غیروں سے اب اپنوں سے ہی ڈر رہے ہیں کیوں ؟ پچھلے کچھ دنوں سے جب جامعہ حفصہ اور لال مسجد کے اعلانات و محرکات سامنے آ رہے ہیں اور اسکے جواب میں جیسے ایک زلزلہ سا آیا ہوا ہے ، صدر وزیر اعظم سے لے کر ایک عام آدمی تک انہیں کوس رہا ہے ، کچھ لوگ اسے سیاسی چال قرار دے رہے ہیں ، کچھ لوگ اسے امریکا کی سازش قرار دیتے ہیں اور کچھ لوگ اسے صرف مذہبی انتہاپسندی ۔ ۔ ۔ مگر ہم اصل بات سے جانے کیوں نظریں پھیر رہے ہیں ، اگر ذرا سا غور کریں تو جامعہ حفصہ والے کیا کہ رہے ہیں جس سے ہم ڈر رہے ہیں  ۔ ۔ ۔ اسلام کے نفاذ کی بات کر رہے ہیں ، ایک طرف ہم اسلام کے گُن گاتے ہیں کہ ہمارا مذہب ہر مسلئے کا حل ہے اور جب ہمیں اس کے کہنے پر عمل کرنے کو کہا جائے تو ہم ہزار بہانے سے اس عمل سے جان چھڑانے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔ اس وقت اگر ہم ذرا غور کریں تو ایسا لگتا ہے کہ اگر پاکستان میں اسلامی شریعیت نافظ ہو گئی تو جیسے ہم ختم ہو جائیں گے  ۔ ۔ ۔ ہماری زندگیاں تباہ ہو جائیں گیں  ۔ ۔ ۔ یعنی دوسرے الفاظ میں ہم اسلام کے پیغام کی خود ہی نفی کر رہے ہیں کہ اسلام زندگی گزارنے کا بہترین راستہ ہے  ۔ ۔ ۔
آئیے ذرا غور کرتے ہیں کہ ہم کن چیزوں سے خائف ہیں
١۔ زنا کاری ، ہم اس بات کی مخالفت کر رہے ہیں کہ ہمیں زناکاری سے روکا جائے ، چلیں ہم اس کام میں شامل نہیں مگر جو دوسرے ہیں ہم انہیں تحفظ دینے کا عزم ضرور رکھتے ہیں  ۔ ۔ ۔ کیوں ؟ شاید اسلئے کہ یہ آزادی ہی ہمیں ترقی یافتہ بننے میں مدد دے گی
٢۔ آزاد خیال فلموں کا پرچار ، یہ بھی ہماری ضرورت بن گئی ہے ، ہماری نئی نسل میں جس تہذیب و تمدن کا زہر گھولا جا رہا ہے ، اسکی چکا چوند تو بہت ہے مگر یہ میٹھا زہر ہمارے معاشرے کو گھن کی طرح کھا رہا ہے ، پورنو گرافی کو تو چھوڑیں ، ہندو تہذیب ہمارے گھر گھر میں گھس چکی ہے کہ بچے مرنے پر اپنے دادا کو جلانے کی سوچتے ہیں اور شادی پر پھیرے لینے کی بات کرتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ہمارے گھروں میں اللہ کا اتنا نام نہیں لیا جاتا جتنا رام رام ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ ۔  میں نے اردو محفل میں ایک پوسٹ کی تھی ، گون ود دا ونڈ فلم کے ڈائلاگ پر ، مگر میرے ذھین دوست اسے شاید سمجھ نہیں پائے ، کہ ایک تہذیب جو ہوا کے جھونکوں کے ساتھ ختم ہوئی  ۔۔ ۔۔  مگر شاید ابھی وقت ہے ، مگر کیا ان چیزوں کے خلاف بولنے والوں کو ہم کیا دے رہے ہیں ، گالیاں ، کوسنے ، مگر کیا کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ہم کس چیز کی مخالفت اتنے شد و مد سے کر رہے ہیں ۔ اور اب تو یہ آگ ہمارے گھروں تک پہنچ چکی ہے  ۔۔ ۔ ۔
٣- ایک اور چیز جو بار بار ہم کہتے ہیں کہ مذہب میرا ذاتی مسلہ ہے ۔ مگر یہ ذاتی مسلہ کتنوں کے لئے مسائل پیدا کر رہا ہے کیا کبھی ہم نے سوچا ، چلیں جو انتہا پسند ہیں وہ تو ظالم ٹہرے مگر ہم جو خود کو ہر چیز سے لاتعلق کر لیتے ہیں مذہب کو ذاتی مسلہ کہ کر ہم کتنے ظالم ہے کبھی سوچا ہم نے ؟ ہمارے پڑوس میں بھوک ننگ افلاس پرورش پا رہے ہوتے ہیں اور ہم عیش و نشاط کی محفلیں سجا رہے ہوتے ہیں ۔ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ کوئی کیوں خود کُشی کر رہا ہے ، ہمارے لئے صرف ہماری ذات آخر کیوں مقدم ہے کیوں کیوں کیوں  ۔ ۔ ۔
اور بھی بہت کچھ ہے کہنے کو مگر کیا کروں ، سمجھتا ہی کوئی نہیں  ۔۔ ۔ مگر شاید سب سمجھتے ہیں ، ہمیں اسلام کے نفاذ سے اسلئے نفرت ہے کہ ہم اپنی آزادی کو نہیں چھوڑنا چاہتے ، اسلام کی اچھائیاں ہمارے لئے برائیاں بن کہ سامنے آ جاتیں ہیں  ۔ ۔ ۔ ذرا سوچیں تو سہی  ۔ ۔ ۔ کہ اسلام کیا کہتا ہے اور ہم کیا چاہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔
٠ ۔ عورتوں کو پردہ پسند نہیں ، کہ اس سے وہ دکھاوا ختم ہو جائے گا جو ہماری زندگیوں کا حصہ بن چکا ہے
۔ مردوں کو زکات میں کمائی کا نقصان نظر آتا ہے
- جھوٹ نہ بولنے سے ہمیں ہمارا مستقبل تاریک نظر آتا ہے
- خود غرضی ، اور دکھاوے کی زندگی ، ہم کھونا نہیں چاہتے  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
اور بھی بہت کچھ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مگر کیا لکھوں ۔ شاید میں خود بھی اسلام کا نفاذ نہیں چاہتا ، اور اسلام کے نفاذ کی باتیں کرنے والے مجھے بھی زہر لگتے ہیں  ۔ ۔۔  ۔ کیونکہ وہ لوگ دقیانوسی ہیں ، ترقی پسند نہیں  ۔۔ ۔ اپنی جانوں پر ایک فضول مقصد میں کھپا رہے ہیں کوئی کری ایٹیو کام نہیں کر رہے  ۔۔ ۔   میں اب جب بھی اپنے رب کے سامنے جھکتا ہوں تو خود کو سب سے بڑا منافق سمجھتا ہوں ، کیا کوئی ایسا سوچتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ جب  نماز میں اللہ کی حمد بیان کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں ؟ ہم اسکے سامنے اسکی برتری کا اظہار کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ اللہ اکبر ۔ ۔ ۔ مگر کیا واقعٰی ہی ہم اللہ کو اکبر مانتے ہیں ؟ اور پھر الحمد شریف میں کیا پڑھتے ہیں ، شکر ادا کرتے ہیں ۔ کہ ہماری تمام برائیوں کے باوجود اس نے ہمیں اتنا کچھ دیا  ۔ ۔ ۔ اسکی رحمانیت کا اقرار کرتے ہیں ، اور پھر اسے مالک مانتے ہیں یوم الدین کا  ۔ ۔ ۔ اور کہتے ہیں کہ ہم اسی کی عبادت کرتے ہیں ۔ ۔ ۔  اور اسی سے مدد مانگتے ہیں یعنی ہمارا بھروسہ صرف اللہ ہی ہے  ۔ ۔ ۔ مگر اصل میں کیا کر رہے ہیں کیا سمجھ رہے ہیں  ۔  ۔ ۔۔ ہم صراط مستقیم کا کہتے ہیں مگر جو صراط مستقیم اللہ بتاتا ہے اس پر نہیں چلے  ۔۔ ۔  نہ چلنا چاہتے ہیں  ۔ ۔ ۔ اور پھر اسی کے آگے جھک کر مزید منافقت کا ثبوت دیتے ہیں اصل سجدہ تو ہمارا کسی اور کے آگے ہوتا ہے  ۔ ۔ ۔ میں نہیں کہتا کہ ہم میں کوئی بھی سچا مسلمان نہیں ، ہو گا ضرور ہوگا ، مگر شاید آپکو یاد ہو کہ اللہ نے ایک بستی باوجود ایک سچے عبادت گذار کے الٹ دی تھی  ۔ ۔ ۔ کہ اسکی عبادت کا کوئی اثر نہ تھا  ۔۔ ۔ شاید یہ جواب ہے کہ جو مذہب کو صرف ذاتی معاملہ کہتے ہیں  ۔۔ ۔
میں اسلام کو ٹھونسنے کے خلاف ہوں ، مگر کیا ہم صرف کسی کو یوں نہیں کہ سکتے کہ ہم کچھ با عمل مسلمان بنیں گے ، یا اسکی کوشش ضرور کریں گے  ۔۔ ۔  بلکے ہم تو الٹا انہیں برا کہتے جو ہمیں اللہ کا پیغام سناتے ہیں  ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے جنرل حمید گل کی ایک بات بہت اچھی لگی کہ ہم دور نبوی (ص) کے بعد پہلی دفع ایسے دور میں ہیں جس میں ہمارے لئے چوائس ہے حق و باطل کی ۔ اور باطل کو سیلکٹ کرنا بہت آسان ہے اور حق کو اپنانا اتنا ہی مشکل  ۔ ۔ ۔ اب ہمارے لئے موقعہ ہے کہ ہم حق کا ساتھ دیں  ۔ ۔ ۔ اور اس وقت کا غلط فیصلہ ہو سکتا ہے ہمیں دنیاوی فائدہ تو دے دے مگر ، شاید آخرت میں اللہ کے سامنے سرخرو نہ کرا سکے  ۔ ۔ ۔ اللہ ہمیں ہدایت دے (آمین)

وفا کا کعبہ

Friday, April 6th, 2007


یہ کتاب میں نے تین سال پہلے پڑھی تھی ، اور میرے پاس ہے اور اب بھی پڑھتا ہوں، تو بہت اطمنان ہوتا ہے ،  اسے حسن محمود نے بہت تحقیق سے لکھا ہے، اسکے تین حصے ہیں
١۔ پاکستان کی روحانی نمود
٢- پاکستان کی جسمانی نمود
٣- مثالی اسلامی ریاست

اس وقت میں اسکا ایک باب ہی اسکین کر پایا ہوں ، امید ہے آج کے حالات کے مطابق آپ اسے ضرور دیکھ پائیں گے  ۔ ۔ ۔ کوشش کروں گا کہ مستقبل میں اسکی اور تفصیل دے سکوں

فوج اور گولی

Thursday, April 5th, 2007

حکمران جماعت کے صدر اور نرم دل و نرم خو ، وسیع النظر و وسیع القلب اور نہایت دھیمے اور ٹھنڈے مزاج کی شہرت رکھنے والے سیاستدان چودھری شجاعت حسین نے کہا ہے کہ فوج کے خلاف نعرے لگانے والوں کو گولی مارنی چاہیئے ۔
روزنامہ ایکسپریس میں ان سے منسوب بیان ان الفاظ پر مبنی […]

نیوز اردو کی تازہ خبریں اپنی ویب سائٹ یا بلاگ میں لگائیں

Wednesday, April 4th, 2007

اب آپ ہمارے اخبار نیوز اردو ڈاٹ نیٹ کی تازہ خبریں اپنی ویب سائٹ یا بلاگ پر بڑی آسانی سے دے سکتے ہیں۔آپ اپنی ویب سائٹ یا بلاگ میں کسی بھی جگہ ان تازہ خبروں کے کوڈ کو استمال کرسکتے ہیں۔جونہی ہمارے اخبار میں نئی خبر شائع ہوگی ساتھ ہی آپ کی ویب سائٹ یا […]

پشاور کے باسیوں پر ٹرانسپورٹ مافیا کے مظالم

Wednesday, April 4th, 2007

مافیا کا لفظ پہلے فلموں تک محدود تھا اور اب ہمارے معاشرے اور زندگی کا جزو لاینفک بن چکا ہے ۔ کوئی شعبہ زندگی اور معاشرے کا کوئی حصہ اس لعنت سے آزاد نہیں رہا ہے ، جدھر نگاہ ڈالیں کوئی نہ کوئی مافیا ضرور نظر آئے گا ۔ مثلا ٹرانسپورٹ مافیا ، شوگر انڈسٹری […]

بھگوان داس کی تعیناتی چلینج

Tuesday, April 3rd, 2007

ایس ایم ایف فورم میں اردو سپورٹ بیٹا ورژن

Monday, April 2nd, 2007

السلام علیکم،
اردو ویب پر اردو پی ایچ پی بی پیکج ریلیز ہونے کے بعد سے اس پر مبنی متعدد اردو ویب سائٹس منظر عام پر آ چکی ہیں۔ فورم سوفٹویر کمیونٹی ویب سائٹس تشکیل دینے کے لیے بہترین پلیٹ فارم مہیا کرتے ہیں۔ اس کو دیکھتے ہوئے میں نے ایس ایم ایف فورم کے […]

اردو ویب پیڈ کا بگ فکس ریلیز

Monday, April 2nd, 2007

السلام علیکم،
گزشتہ روز ریلیز کردہ ویب پیڈ کی اپڈیٹ میں چند مسائل سامنے آئے تھے۔ ان بگز کو فکس کرنے کے بعد میں نے اس ڈاؤنلوڈ کو اپڈیٹ کر دیا ہے۔ ویب پیڈ کو استعمال کرنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اس تبدیلی کو نوٹ فرمائیں۔
اردو ویب پیڈ ڈاؤنلوڈ کریں
اردو ویب پیڈ کا ڈیمو […]

Urdu WebPad Update

Sunday, April 1st, 2007

Urdu WebPad’s update is finally there after a long wait. I had finished work on this update a few weeks ago and I was about to release it but I experienced some problems during its testing. Therefore I fixed these problems and now it is time to release it. The highlights of this release are […]

اردو ویب پیڈ اپڈیٹ

Sunday, April 1st, 2007

السلام علیکم،
ایک طویل انتظار کے بعد اردو ویب پیڈ کی اپڈیٹ حاضر ہے۔ حسب وعدہ اس میں ویب اپلیکیشنز کے ساتھ انٹگریشن کو آسان بنا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اردو ویب پیڈ کسی حد تک اوپیرا کمپیٹبل بھی ہے۔
دراصل میں نے کئی دنوں پہلے ہی اس اپڈیٹ پر کام مکمل کر لیا تھا […]