Live With Khalid Butt 2nd July 2009
July 2nd, 2009Live With Khalid Butt 2nd July 2009
Khalid Butt with Shazia Marri PPP in latest episode of Live With Khalid Butt.
| |
Live With Khalid Butt 2nd July 2009
Khalid Butt with Shazia Marri PPP in latest episode of Live With Khalid Butt.
| |


| |
جیو کی خبر کے بعد صدر زرداری کے مہمان خانے میں قائداعظم کی تصویر اس طرح آویزاں کی گئی کہ وہ مہمانوں کیساتھ ملاقات میں نظر آ سکے۔
اس کا ثبوت دو دن قبل ہونے والی صدر کی گورنر پنجاب سلمان تاثیر سے ملاقات میں نظر آنے والی قائداعظم کی رنگین تصویر ہے۔ مگر کل صدر کی وزیراعظم گیلانی اور چیف آف سٹاف کیانی سے ہونے والی ملاقات میں قائداعظم کی تصویر پھر نظر نہیں آ رہی۔
تصویر ہٹائے جانے یا اس کی جگہ بدلے جانے تاکہ یہ تصاویر میں نظر نہ آئے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔
ایک – شاید تصویر ہٹوانے والوں نے تصویر دوبارہ دکھائے جانے پر برا منایا ہو اور ان کی حکم عدولی کرنے کی جرات نہ پڑی ہو اسلیے کرسی بچانے کیلیے تصویر کی قربانی دے دی گئی۔
دو – شاید ٹرائیکا کی یہ ملاقات اتنی خفیہ ہو کہ انہیں شک ہو کہیں تصویر کی شکل میں قائداعظم کی روح ان کی باتیں نہ سن لے۔ یا پھر اس ملاقات میں ایسی باتیں کرنی ہوں گی جو قائداعظم کی تصویر کے سامنے کرتے ہوئے انہیں شرم آتی ہو گی۔
اس کے علاوہ اگر کوئی تیسری وجہ ہے تو وہ قارئین بتائیں۔
| |
| |
| |
احسان کی قیمت حاصل کر لی جائے تو پھر احسان احسان نہیں رہتا۔
Similar Posts:
| |
پٹرول سمیت تیل کی قیمتیں بڑھانے کی مندرجہ ذیل وجوہات سمجھ میں آتی ہیں۔
چیف جسٹس کے حکم سے جو قیمتیں کم کی گئی تھیں ان کا بدلہ چکایا جائے۔ اب دیکھتے ہیں چیف جسٹس اس حکم عدولی پر کیا کرتے ہیں۔ وہ کر بھی کیا سکتے ہیں سوائے چپ رہنے کے۔
ابھی سرکاری ملازمین کی جو تنخواہیں بڑھائی گئی ہیں ان کی ادائیگی وزیراعظم یا صدر نے اپنی جیب سے تھوڑی کرنی تھی۔ اس رقم کا بندوبست تو کسی نہ کسی طرح کرنا ہی تھا۔
حکومت نے جو جنگ اپنوں کیخلاف چھیڑ رکھی ہے اس کے ایندھن کا بندوبست اب صرف اتحادیوں نے تو نہیں کرنا تھا۔ اس میں اپنا حصہ ڈالنے کیلیے تیل کی قیمتیں بڑھانا ضروری تھا۔
تیل کی غیرملکی کمپنیاں جتنی آسانی سے اور جتنا زیادہ منافع پاکستان سے کما رہی ہیں اتنا شاید بہت کم ملکوں سے کما رہی ہوں گی۔ ان کمپنیوں کو مزید نوازنے کیلیے بھی تیل کی قیمتیں بڑھانا ضروری تھا۔
جب حکومت نے دیکھا کہ لوڈشیڈنگ کیخلاف مظاہرے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے اور نہ ہی اس صورتحال سے حزب اختلاف نے کوئی فائدہ اٹھایا ہے تو پھر تیل کی قیمتیں بڑھانے میں کوئی مزائقہ نہیں تھا
حکومت نے جو سینکڑوں بلین کا قرضہ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے لے رکھا ہے اسے حکمرانوں نے تھوڑا ادا کرنا ہے۔ وہ عوام کے خون پسینے سے ہی ادا ہو گا جو تیل کی قیمتیں بڑھا کر بہایا جائے گا۔
ایک وقت تھا بجٹ کی تیاری بند کمروں میں ہوتی تھی اب بجٹ کی تیاری کھلے عام آئی ایم ایف کی نگرانی میں ہوتی ہے کیونکہ اصل فیصلے سالانہ بجٹ میں نہیں ہوتے بلکہ وقفے وقفے سے پورا سال ہوتے رہتے ہیں۔ اب اگر تیل کی قیمتیں بجٹ میں بڑھائی جاتیں تو بھونچال آ جاتا اب بجٹ اسمبلی سے پاس کرانے کے بعد ہلکا سا جھٹکا بھی نہیں لگے گا کیونکہ نہ کوئی اسمبلی میں احتجاج کرے گا اور نہ ہی کوئی جلوس نکالے گا۔
جیے ایم کیو ایم، جیے مسلم لیگ ن، جیے مسلم لیگ ق، جیے بھٹو، جیے ذرداری۔
| |
Islamabad Tonight 1st July 2009
Imran Khan Chairman PTI in fresh episode of Islamabad Tonight & discusses current issue with Nadeem Malik.
| |
| |
| |
ہماری جمہوری حکومت اگر واقعی ملک میں آمریت کا راستہ روکنا چاہتی ہے تو اسے تعلیمی اداروں میں جمہوریت کا مضمون متعارف کرانا چاہیے جو چھٹی جماعت سے شروع ہو اور ایف ایس سی تک پڑھایا جائے۔ اس مضمون میں مندرجہ ذیل ابواب شامل کئے جائیں۔
جمہوریت کی خوبیاں بیان کی جائیں۔
اچھے امیدوار میں کیا خوبیاں ہونی چاہییں۔
ووٹوں اور اسمبلی ارکان کی اہمیت کیا ہے۔
جمہوری نظام میں ایک ووٹ کتنا قیمتی ہوتا ہے
کس طرح ووٹ قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے
جمہوریت میں جھرلو کیسے پھرتے ہیں
کس طرح نتائج بدلے جاتے ہیں
کس طرح غدار سیاستدان عوام کے کندھے پر بیٹھ کر اسمبلی میں پہینچ کر ملک کا بیڑہ غرق کرتے ہیں
ہم تو بلکہ یہاں تک کہیں گے کہ جمہوریت کا مضمون یونیورسٹیوں میں بھی پڑھایا جائے اور کسی بھی سیاستدان کیلیے اس مضمون میں امتیازی نمبروں سے پاس ہونا لازمی قرار دیا جائے۔ آرمی کے سٹاف کالج کی طرح سیاستدانوں کا بھی کالج ہونا چاہیے جہاں ان کا کورس پاس کرنا لازمی ہو۔ لیکن کوشش کی جائے کہ اس مضمون کی تیاری اور سٹاف کالج کے کورسز کی تیاری میں کسی غیرملکی کو شامل نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کی مدد لی جائے بلکہ مقامی پروفیسروں، ادیبوں، ایڈیٹروں اور محققین کو مضامین کی تیاری کا کام سونپا جائے۔
یہ دس سالہ جمہوری منصوبہ ہونا چاہیے جس پر عمل کرنے سے ملک جمہوری راستے پر بھی چل پڑے گا اور آمریت کا راستہ بھی روکا جا سکے گا۔
مگر سوال یہ ہے کیا موجودہ سیاسی خاندان اس تجویز کی حمایت کر کے خودغرضی کی بجائے وطن شناسی کا ثبوت دے پائیں گے؟ کیا ہمارے موجودہ حکمرانوں میں اتنی بڑی قربانی دینے کا جگرہ ہے؟ کیا وہ اتنے آزاد ہیں کہ جمہوریت کے روشن مستقبل کیلیے یہ قربانی دے سکیں؟ کیا وہ اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر ملکی مفادات کیلیے کچھ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں؟ کیا وہ نوجوان نسل کیلیے میدان خالی چھوڑنے پر راضی ہو پائیں گے؟
| |
Capital Talk 30th June 2009
Sumsam Ali Bukhari, Munir Orakzai and Sajid Hussain Turi in fresh episode of Capital Talk and discusses with Hamid Mir.
| |
Islamabad Tonight 30th June 2009
Senator Ishaq Dar PML-N and Mian Manzoor Ahmed Wattoo in fresh episode of Islamabad Tonight & discusses current issues with Nadeem Malik.
| |
Siyaasi Log 30th June 2009
Tehmina Daultana PML-N and Senator Syed Nayyar Hussain Bukhari in fresh episode of Siyasi Log discussing with Qatreena Hussain.
| |
مانچسٹر کی عدالت پروگرام میں پی پی پی کے دو متحارب گروپوں کے لیڈر ٹی وی پر ہی مارکٹائی پر اتر آئے۔ اللہ کرے یہ حقیقت نہ ہو بلکہ یہ امریکی پروگرام جیری سپرنگر کا چربہ ہو۔ کیونکہ ایسا ہوتا ہم نے حقیقی زندگی میں کبھی دیکھا نہیں۔ اس سے ہمیں خیال آیا ہمارے میڈیا کو اسمبلی ارکان کی لڑائی کے ویڈیو کلپس کی بجائے ان کی لڑائی کی تفصیلی رپورٹ دکھانی چاہیے تا کہ عوام اپنے لیڈروں کا یہ رخ بھی دیکھ سکیں۔
| |
تم کو بھی ہے خبر
مجھ کو بھی ہے پتہ
ہو رہا ہے جدا دونوں کا راستہ
دور جا کے بھی مجھ سے
تم میری یادوں میں رہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
تم کو بھی ہے خبر
مجھ کو بھی ہے پتہ
ہو رہا ہے جدا دونوں کا راستہ
دور جا کے بھی مجھ سے
تم میری یادوں میں رہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
جتنی تھی خوشیاں
سب کھو چکی ہیں
بس ایک غم ہے کہ جاتا نہیں
سمجھا کے دیکھا
بہلا کے دیکھا
دل ہے کہ چین اس کو آتا نہیں
آتا نہیں
آنسو ہیں کہ ہیں انگاریں
آگ ہے اب آنکھوں سے بہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
رت آ رہی ہے رت جا رہی ہے
درد کا موسم بدلا نہیں
رنگ یہ غم کا اتنا ہے گہرا
صدیوں بھی ہوگا ہلکا نہیں
ہلکا نہیں
کون جانے کیا ہونا ہے
ہم کو ہے اب کیا کیا سہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
تم کو بھی ہے خبر
مجھ کو بھی ہے پتہ
ہو رہا ہے جدا دونوں کا راستہ
دور جا کے بھی مجھ سے
تم میری یادوں میں رہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
| |
آج کے اخبارات میں ایک سے زیادہ دلچسپ خبریں ہیں جن پر تبصرہ کئے بغیر رہا نہیں جا رہا۔
پہلی خبر پنجاب اسمبلی میں دھینگا مشتی کی ہے۔ بھلا کوئی خاتون رکن اسمبلی سے پوچھے کہ ایوان میں بینر لہرانا کہاں کی جمہوریت ہے۔ بی بی کو چاہیے تھا کہ نکتہ اعتراض پر بولتیں اور دل کی بھڑاس نکالتیں۔ اس پر طرہ یہ کہ چوہدری کہلوانے والے ایک خاتون سے الجھ پڑے۔ ہم نے تو سن رکھا تھا کہ مرد عورتوں سے لڑنا اپنی توہین سمجھتے ہیں شاید چوہدری حضرات کو اس بات کا علم نہ ہو۔
دوسری خبر بابراعوان کی ہے جو ڈاکٹر بھی کہلواتے ہیں اور پارلیمانی وزیر قانون بھی ہیں مگر وہ یہ کہ کر کہ قانون میں ترامیم کرنا وقت ضائع کرنے والی بات ہے اپنی ہی بے حرمتی کر دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی جھوٹ کہا کہ قانون میں ترامیم کیلیے دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ یہ مانا کہ تمام ترامیم کو ایک پیکج میں منظور کروانا ناممکن ہو گا مگر تمام ترامیم کو ایک ساتھ منظور کرانا ضروری نہیں ہے۔ جن ترامیم پر تمام پارٹیوں کا اتفاق ہے وہ تو آسانی سے پاس کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر سترہویں ترمیم کا خاتمہ، آمریت کا راستہ روکنا اور پی سی او کے تحت ججوں کا حلف اٹھانا۔
تیسری خبر زیادہ بچوں پر ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ خاتون رکن اسمبلی فردوس عاشق ایوان نے کہا کہ اس کا آغاز ارکان پارلیمنٹ سے ہونا چاہیے۔ شکر ہے فردوس اعوان نے پارلیمنٹ میں سروے نہیں کرایا۔ ورنہ ہر ممبر کے سات آٹھ بچے تو ضرور ہوتے۔ معزز ممبر اسمبلی کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان مسلمان ملک ہے اور یہاں کوئی بھی حکومت ایسا قانون پاس کرنے کی جرات نہیں کر سکتی کیونکہ تمام مولوی حکومت کیخلاف ہو جائیں گے اور پھر اسے پاسپورٹ کے خانے میں مذہب کا خانہ بحال کرنے کی طرح یہ تجویز بھی واپس لینا پڑتی۔
| |
Capital Talk 29th June 2009
Marvi Memon PMl-Q, Rana Sanaullah PMl-N, Fouzia Wahab PPPP and Jehangir Tareen in fresh episode of Capital Talk and discusses with Hamid Mir.
| |
Islamabad Tonight 29th June 2009
Masood Sharif Khan, Ijaz ul Haq PML-Q and Kamran Bukhari in fresh episode of Islamabad Tonight & discusses current issues with Nadeem Malik
| |
Hasb-e-Haal 28th June 2009
Aftab Iqbal with Sohail Ahmed and Najia in a latest and hilarious episode of Hasb-e-Haal from Dunya TV.
| |
| |
اداسی دور کرنے کیلیے کل یوٹیوب پر مزاحیہ شاعری سن رہے تھے کہ سیاستدانوں پر مزاحیہ اشعار سن کر دل مزید اداس ہو گیا۔ آپ بھی سنیے اور پڑھیے۔ انور مسعود فرماتے ہیں۔
ٹھیک ہے جیسا الیکشن ہو گیا ہے
ہاں مگر تشویش لاحق ہے ذرا اس بات میں
مجھ کو لگتا ہے یہ خاصا غیر فطری فاصلہ
مولوی سرحد میں ہے لوٹے مگر پنجاب میں
شاعرانہ اور ظریفانہ ہو گر ذوق نظر
زندگی میں جا بجا دلچسپ تشبیہیں بھی ہیں
ریل گاڑی اور الیکشن میں ہے ایک شہ مشترک
لوگ بے ٹکٹے کئی اس میں بھی ہیں اس میں بھی ہیں
مجھے گر منتخب کر لو گے بھائی
پنپنے کی نہیں کوئی برائی
مجھے کہنا کہ ناقص ہے صفائی
گٹر سے بھی اگر خوشبو نہ آئی
رہا کچھ بھی نہیں باقی وطن میں
مگر اک خستہ حالی رہ گئی ہے
ترستی ہیں نگاہیں روشنی کو
فقط روشن خیالی رہ گئی ہے
ترقی اس قدر برپا ہوئی ہے
کسی صورت کوئی گھاٹا نہیں ہے
بس اتنی سی پریشانی ہے انور
الیکشن سر پہ ہے آٹا نہیں ہے
کیونکر نہ انتخاب میں وہ ہو گا کامیاب
جس کی بھی دسترس میں ہے یہ حسن انتظام
جھرلو عجیب شے ہے کہ ووٹوں کی پرچیاں
ڈالو کسی کے نام نکالو کسی کے نام
مریض کتنے تڑپتے ہیں ایمبولینسوں میں
ان کا حال ہے ایسا کہ مرنے والے ہیں
مگر پولیس نے ٹریفک کو روک رکھا ہے
یہاں سے قوم کے خادم گزرنے والے ہیں
| |
| |
| |
اسلام میں شراب پینا اور شراب کا کاروبار کرنا حرام ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ تصویر میں پولیس چھاپوں میں پکڑی گئی شراب کی بوتلیں بلڈوزر سے تلف کی جا رہی ہیں۔ اس کاروائی کو اگر موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو کئی سوالات ذہن میں اٹھتے ہیں۔ اگر شراپ کا کاروبار اسلام میں حرام ہے تو پھر غیرمسلموں کے نام پر پورے پاکستان میں شراب کا کاروبار مسلمان کیوں کرتے ہیں؟ شراب بڑے بڑے فائیو سٹار ہوٹلوں میں کیوں فروخت ہوتی ہے؟ شراب کی دکانیں ملک کے بڑے بڑے شہروں میں کیوں کھلی ہوئی ہیں؟ اگر یہ سب جائز ہے تو پھر سمگل شدہ شراب کی بوتلوں کو تلف کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس
شراب کو بھی شراب خانوں کے ٹھیکیداروں کے ہاتھ بیچ کر رقم اکٹھی کر لی جاتی یا پھر اسے کسی غیر مسلم ملک کو برآمد کر کے ذرمبادلہ اکٹھا کر لیا جاتا۔
جب سے ملک کی آبادی بڑھی ہے، ملک میں امیروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کا ثبوت ملک کی سڑکوں پر چلنے والی ہر قسم کی قیمتی گاڑیاں ہیں۔ یہ امیر لوگ اپنی دولت کے بل بوتے پر اسلام میں حرام قرار دی گئی شراب، جوئے جیسی لعنت کا شکار ہو چکے ہیں۔ بہت کم امیر گھرانے ہوں گے جو پابند صوم و صلوۃ ہوں گے۔ جب سے دہشت گردی کی آڑ میں ہر داڑھی والے شخص کو طالبان سمجھا جانے لگا ہے پابند صوم و صلوۃ امیر زیرمین چلے گئے ہیں یہی وجہ ہے ملک میں ہر طرف روشن خیالی نظر آتی ہے۔ یہ اسی روشن خیالی کا شاخسانہ ہے کہ پرانے زمانوں میں جس طرح افیون تلف کی جاتی تھی اس طرح اب شراب تلف کی جاتی ہے۔
ہمارے خیال میں ان دکھاوے کے کاموں کا وقت اب گزر چکا ہے۔ لوگ جانتے ہیں حکومت کتنی اسلام پسند ہے کیونکہ ٹی وی کے چینل، سٹیج ڈرامے، جوئے خانے وغیرہ اب ہر آدمی کی پہنچ میں ہیں۔ ان حالات میں شراب کی اس طرح تلفی کوئی معنی نہیں رکھتی۔
| |

| |
سویرے نیویارک سٹی چے گے تے لیزبین پریڈ ایہے۔ جدھے چے کپڑے لان دی اجازت تے ہے جتی لان دی وی اجازت ہے پر جتی لان دی اجازت نئیں۔
صبح نیویارک سٹی میں گے اور لیزبین پریڈ ہے۔ جس میں کپڑے اتارنے کی اجازت ہے جوتے اتارنے کی اجازت ہے لیکن جوتے لگانے کی اجازت نہیں۔
Similar Posts:
| |