Google
Home | Blogistan | pardese blog | sheikho blog | Urdu News

Live With Khalid Butt 2nd July 2009

July 2nd, 2009

Live With Khalid Butt 2nd July 2009
Khalid Butt with Shazia Marri PPP in latest episode of Live With Khalid Butt.



| |

٭موسمی امراض سے بچاؤکیلئے برسات میں خصوصی احتیاط برتیں : حکیم خالد٭

July 2nd, 2009


٭…رہائشی کمروں میں گوگل اور حرمل کی دھونی دیں
٭…پانی ابال کر پیئں ٭…لیموں پانی کا بکثرت استعمال کریں
 ٭…سرکہ موسم برسات کی بیماریوں کا بہترین علاج ہے

لاہور۔۔۔اگر موثراحتیاطی تدابیر اختیار نہ کی جائیں تو موسم برسات بیشتر امراض کا باعث بنتا ہے اکثر وبائی امراض بھی اسی موسم میں پھوٹتے ہیں جسکا بنیادی سبب ‘ہمارے ہاں ناقص سیوریج سسٹم کی وجہ سے سیلابی اور بارشوں کے پانی کاعرصہ دراز تک جگہ جگہ کھڑا ہو جانا ہے جو متعفن ہوکر وبائی امراض کا باعث بنتا ہے ملیریا’ٹائیفایڈاور دیگر موسمی بخار’یرقان’ہیپا ٹائٹس ‘گیسٹرو’اسہال(دست)پیچش و پیٹ کے امراض ‘جسم میں کھچاؤٹ ‘دردیں ‘خون کی خرابی پھوڑے پھنسیاں اور گلے کی سوزش جیسے امراض برسات میں عام ہو جاتے ہے اس امر کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل کونسل آف ہربل فزیشنز پاکستان اور یونانی میدیکل آفیسر حکیم قاضی ایم اے خالد نے کونسل کے زیر اہتمام ہفتہ وار مجلس مذاکرہ میں کیا۔انہوں نے کہا کہ اس موسم میں رہائشی کمروں کو کھلا رکھنا چاہئے تاکہ تازہ ہوا اوردھوپ سے وہ خشک رہیں نیز ہر ہفتے ان میں گوگل اور حرمل کی دھونی دیں یا دیگر جراثیم کش ادویہ کا اسپرے کریں۔ گندے پانی اور کیچڑوغیرہ کی صفائی کا بھی فوری بندوبست ہونا چاہیئے موسم برسات میں اے سی یا روم کولرکے زیادہ استعمال سے اعصابی کھنچاؤ’دردیں اوربخارجیسی کیفیت پیدا ہو سکتی ہے اس موسم میں ہلکے سوتی ملبوسات زیادہ بہتر ہیں جسمانی صفائی کا خاص خیال رکھیں آجکل کے دور میں جو پانی ہمیں میسّرہے اسے ہمیشہ ابال کر ہی پیئں لیکن خاص طور پرموسم برسات میں تو ابالے بغیر پانی ہرگزنہیں پینا چاہیئے اس موسم میں بعض پھل مثلا امرود ‘خربوزہ’سردا’گرمااور کھیرا وغیرہ کھانے میں خاص احتیاط کریں پھل اور سبزیاں تازہ اور اچھی طرح دھو کر استعمال کریں گلے سڑے یا پہلے سے کٹے ہوئے پھل نہ کھائیں ۔زیادہ عرصے سے ریفریجریٹر میں رکھا ہوا گوشت اور دیگر باسی اشیاء ہرگز استعمال نہ کریں کھانا ہمیشہ بھوک رکھ کراور تازہ کھائیں ذرا سی بداحتیاطی آپ کو اسہال (دست) یا ڈائریا (پیچش)میں مبتلاء کر سکتی ہے ۔ اس موسم میں پسینے کی زیادتی اور دیگر وجوہات سے جسم میں نمکیات اور حیاتین کی کمی ہو جاتی ہے لہٰذا اس کے تدارک کیلئے لیموں کی نمک ملی سکنجبین بہت مفید ہے اسی طرح طب نبویۖ کے مطابق سرکہ موسم برسات کی بیشتر بیماریوں کا بہترین علاج ہے  ہیضہ سے بچنے کے لئے سرکے میں بھیگی ہوئی پیاز کا استعمال بہتر ہے سرکہ خون کو صاف کر تا ہے اور پھوڑے پھنسیوں سے بچاتا ہے پیاس کو تسکین دیتا ہے جسم کی حرارت کو اعتدال پر رکھتا ہے غذا کو جلد ہضم کرتا ہے نیز جسم سے فاسد اور غلیظ مادوں کو نکالنے میں معاون ہے ۔ برسات کے موسمی امراض سے بچاؤاور ان کے خلاف قوت مدافعت پیدا کرنے کیلئے لہسن ’ ادرک اور پیاز کا استعمال نہائت مفید ہے اگر صحیح غذائی احتیاط اور حفظ صحت کے اصولوںپر عمل کریںتو یقیناہم اس موسم کے عوارضات اور امراض سے بچ سکتے ہیں۔ 

| |

اِک تیرا پیار

July 2nd, 2009

| |

قائداعظم کی تصویر پھر غائب

July 2nd, 2009

جیو کی خبر کے بعد صدر زرداری کے مہمان خانے میں قائداعظم کی تصویر اس طرح آویزاں کی گئی کہ وہ مہمانوں کیساتھ ملاقات میں نظر آ سکے۔ zardarisalmanquaideazamاس کا ثبوت دو دن قبل ہونے والی صدر کی گورنر پنجاب سلمان تاثیر سے ملاقات میں نظر آنے والی قائداعظم کی رنگین تصویر ہے۔ مگر کل صدر کی وزیراعظم گیلانی اور چیف آف سٹاف کیانی سے ہونے والی ملاقات میں قائداعظم کی تصویر پھر نظر نہیں آ رہی۔zardairgeelanikianiquaideazam
تصویر ہٹائے جانے یا اس کی جگہ بدلے جانے تاکہ یہ تصاویر میں نظر نہ آئے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔
ایک – شاید تصویر ہٹوانے والوں نے تصویر دوبارہ دکھائے جانے پر برا منایا ہو اور ان کی حکم عدولی کرنے کی جرات نہ پڑی ہو اسلیے کرسی بچانے کیلیے تصویر کی قربانی دے دی گئی۔
دو – شاید ٹرائیکا کی یہ ملاقات اتنی خفیہ ہو کہ انہیں شک ہو کہیں تصویر کی شکل میں قائداعظم کی روح ان کی باتیں نہ سن لے۔ یا پھر اس ملاقات میں ایسی باتیں کرنی ہوں گی جو قائداعظم کی تصویر کے سامنے کرتے ہوئے انہیں شرم آتی ہو گی۔
اس کے علاوہ اگر کوئی تیسری وجہ ہے تو وہ قارئین بتائیں۔

| |

اجتماعی حب الوطنی ، قوم کو مرنے نہیں دیتی ‘‘ کالم ‘‘ زبیر احمد ظہیر

July 2nd, 2009
کیا پاکستان کا قائم رہنا یقینی ہے ؟جس ملک کی سلامتی کو خطرات لاحق ہوں ا س سے متعلق ایسے خدشات پیدا ہونا فطری سی بات لگتی ہے مگر کہتے ہیں کہ ناکامی کامیابی کی سیڑھی ہے اور ناکامی کامیابی کا سبب بنتی ہے اس تناظر میں دیکھا جائے تو ماضی میں ملک کی دو [...]


| |

ہیں تلخ بہت بندئہ مزدور کے اوقات ‘‘ کالم ‘‘ ممتاز بھٹی

July 2nd, 2009
دنیا میں دو طبقے موجود ہیں ایک سرمایہ دار اوردوسرا مزدور ، سرمایہ دار کا غذ کے ٹکڑوں کے بل بوتے پرکچھ نہ کرتے ہوئے دنیا کے تمام عیش و آرام حاصل کرتے ہیں اوران کی جائیداد روز بروز بڑھتی چلی جاتی ہے ۔ مزدورطبقہ کی محنت اور خون پیسنے سے سرمایہ داروں [...]


| |

احسان

July 2nd, 2009

احسان کی قیمت حاصل کر لی جائے تو پھر احسان احسان نہیں رہتا۔

Similar Posts:
    None Found

Random Posts

| |

پٹرول کیوں مہنگا کیا گیا؟

July 1st, 2009

پٹرول سمیت تیل کی قیمتیں بڑھانے کی مندرجہ ذیل وجوہات سمجھ میں آتی ہیں۔
چیف جسٹس کے حکم سے جو قیمتیں کم کی گئی تھیں ان کا بدلہ چکایا جائے۔ اب دیکھتے ہیں چیف جسٹس اس حکم عدولی پر کیا کرتے ہیں۔ وہ کر بھی کیا سکتے ہیں سوائے چپ رہنے کے۔
ابھی سرکاری ملازمین کی جو تنخواہیں بڑھائی گئی ہیں ان کی ادائیگی وزیراعظم یا صدر نے اپنی جیب سے تھوڑی کرنی تھی۔ اس رقم کا بندوبست تو کسی نہ کسی طرح کرنا ہی تھا۔
حکومت نے جو جنگ اپنوں کیخلاف چھیڑ رکھی ہے اس کے ایندھن کا بندوبست اب صرف اتحادیوں نے تو نہیں کرنا تھا۔ اس میں اپنا حصہ ڈالنے کیلیے تیل کی قیمتیں بڑھانا ضروری تھا۔
تیل کی غیرملکی کمپنیاں جتنی آسانی سے اور جتنا زیادہ منافع پاکستان سے کما رہی ہیں اتنا شاید بہت کم ملکوں سے کما رہی ہوں گی۔ ان کمپنیوں کو مزید نوازنے کیلیے بھی تیل کی قیمتیں بڑھانا ضروری تھا۔
جب حکومت نے دیکھا کہ لوڈشیڈنگ کیخلاف مظاہرے اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکے اور نہ ہی اس صورتحال سے حزب اختلاف نے کوئی فائدہ اٹھایا ہے تو پھر تیل کی قیمتیں بڑھانے میں کوئی مزائقہ نہیں تھا
حکومت نے جو سینکڑوں بلین کا قرضہ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے لے رکھا ہے اسے حکمرانوں نے تھوڑا ادا کرنا ہے۔ وہ عوام کے خون پسینے سے ہی ادا ہو گا جو تیل کی قیمتیں بڑھا کر بہایا جائے گا۔
ایک وقت تھا بجٹ کی تیاری بند کمروں میں ہوتی تھی اب بجٹ کی تیاری کھلے عام آئی ایم ایف کی نگرانی میں ہوتی ہے کیونکہ اصل فیصلے سالانہ بجٹ میں نہیں ہوتے بلکہ وقفے وقفے سے پورا سال ہوتے رہتے ہیں۔ اب اگر تیل کی قیمتیں بجٹ میں بڑھائی جاتیں تو بھونچال آ جاتا اب بجٹ اسمبلی سے پاس کرانے کے بعد ہلکا سا جھٹکا بھی نہیں لگے گا کیونکہ نہ کوئی اسمبلی میں احتجاج کرے گا اور نہ ہی کوئی جلوس نکالے گا۔
جیے ایم کیو ایم، جیے مسلم لیگ ن، جیے مسلم لیگ ق، جیے بھٹو، جیے ذرداری۔

| |

Islamabad Tonight 1st July 2009

July 1st, 2009

Islamabad Tonight 1st July 2009
Imran Khan Chairman PTI in fresh episode of Islamabad Tonight & discusses current issue with Nadeem Malik.



| |

اسلام آباد پر امریکی ایجنسیوں کی یلغار ‘‘ کالم ‘‘ صفدر دانش کا قصۂ مختصر

July 1st, 2009
پاک فوج کے سابق سپہ سالار جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ نے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اسلام آباد میں جاسوسی کا ایک بڑا مرکز قائم کر رہا ہے۔ ’’اسلام آباد کمپلیکس‘‘ نامی اس امریکی اڈے میں تین سو امریکی انٹیلی جینس کے افسران کے رہنے کی جگہ میسر ہو گی جوامریکہ کے بعد کسی [...]


| |

سمارٹ پاور اور سافٹ پاور کے نئے شوشے ‘‘ کالم ‘‘ روف عامر پپا بریار

July 1st, 2009
امریکن پالیسی ساز دنیا بھر میں تبدیل ہونے والی سیاسی انتظامی صورتحال پر گہری نظر رکھتے ہیں اور وہ ہر خطے میں امریکی مفادات کے حصول و تحفظ کے لئے نت نئی پالیسیاں مرتب کرتے رہتے ہیں۔یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ یورپ ہو یا جنوبی ایشیا لاطینی امریکہ ہو یا خطہ عرب [...]


| |

جمہوریت کی خاطر

June 30th, 2009

ہماری جمہوری حکومت اگر واقعی ملک میں آمریت کا راستہ روکنا چاہتی ہے تو اسے تعلیمی اداروں میں جمہوریت کا مضمون متعارف کرانا چاہیے جو چھٹی جماعت سے شروع ہو اور ایف ایس سی تک پڑھایا جائے۔ اس مضمون میں مندرجہ ذیل ابواب شامل کئے جائیں۔
جمہوریت کی خوبیاں بیان کی جائیں۔
اچھے امیدوار میں کیا خوبیاں ہونی چاہییں۔
ووٹوں اور اسمبلی ارکان کی اہمیت کیا ہے۔
جمہوری نظام میں ایک ووٹ کتنا قیمتی ہوتا ہے
کس طرح ووٹ قوم کی تقدیر بدل سکتا ہے
جمہوریت میں جھرلو کیسے پھرتے ہیں
کس طرح نتائج بدلے جاتے ہیں
کس طرح غدار سیاستدان عوام کے کندھے پر بیٹھ کر اسمبلی میں پہینچ کر ملک کا بیڑہ غرق کرتے ہیں
ہم تو بلکہ یہاں تک کہیں گے کہ جمہوریت کا مضمون یونیورسٹیوں میں بھی پڑھایا جائے اور کسی بھی سیاستدان کیلیے اس مضمون میں امتیازی نمبروں سے پاس ہونا لازمی قرار دیا جائے۔ آرمی کے سٹاف کالج کی طرح سیاستدانوں کا بھی کالج ہونا چاہیے جہاں ان کا کورس پاس کرنا لازمی ہو۔ لیکن کوشش کی جائے کہ اس مضمون کی تیاری اور سٹاف کالج کے کورسز کی تیاری میں کسی غیرملکی کو شامل نہ کیا جائے اور نہ ہی ان کی مدد لی جائے بلکہ مقامی پروفیسروں، ادیبوں، ایڈیٹروں اور محققین کو مضامین کی تیاری کا کام سونپا جائے۔
یہ دس سالہ جمہوری منصوبہ ہونا چاہیے جس پر عمل کرنے سے ملک جمہوری راستے پر بھی چل پڑے گا اور آمریت کا راستہ بھی روکا جا سکے گا۔
مگر سوال یہ ہے کیا موجودہ سیاسی خاندان اس تجویز کی حمایت کر کے خودغرضی کی بجائے وطن شناسی کا ثبوت دے پائیں گے؟ کیا ہمارے موجودہ حکمرانوں میں اتنی بڑی قربانی دینے کا جگرہ ہے؟ کیا وہ اتنے آزاد ہیں کہ جمہوریت کے روشن مستقبل کیلیے یہ قربانی دے سکیں؟ کیا وہ اپنے مفادات کو پس پشت ڈال کر ملکی مفادات کیلیے کچھ کرنے کی ہمت رکھتے ہیں؟ کیا وہ نوجوان نسل کیلیے میدان خالی چھوڑنے پر راضی ہو پائیں گے؟

| |

Capital Talk 30th June 2009

June 30th, 2009

Capital Talk 30th June 2009
Sumsam Ali Bukhari, Munir Orakzai and Sajid Hussain Turi in fresh episode of Capital Talk and discusses with Hamid Mir.



| |

Islamabad Tonight 30th June 2009

June 30th, 2009

Islamabad Tonight 30th June 2009
Senator Ishaq Dar PML-N and Mian Manzoor Ahmed Wattoo in fresh episode of Islamabad Tonight & discusses current issues with Nadeem Malik.



| |

Siyaasi Log 30th June 2009

June 30th, 2009

Siyaasi Log 30th June 2009
Tehmina Daultana PML-N and Senator Syed Nayyar Hussain Bukhari in fresh episode of Siyasi Log discussing with Qatreena Hussain.



| |

یہ ہے ہمارا حال

June 30th, 2009

مانچسٹر کی عدالت پروگرام میں پی پی پی کے دو متحارب گروپوں کے لیڈر ٹی وی پر ہی مارکٹائی پر اتر آئے۔ اللہ کرے یہ حقیقت نہ ہو بلکہ یہ امریکی پروگرام جیری سپرنگر کا چربہ ہو۔ کیونکہ ایسا ہوتا ہم نے حقیقی زندگی میں کبھی دیکھا نہیں۔ اس سے ہمیں خیال آیا ہمارے میڈیا کو اسمبلی ارکان کی لڑائی کے ویڈیو کلپس کی بجائے ان کی لڑائی کی تفصیلی رپورٹ دکھانی چاہیے تا کہ عوام اپنے لیڈروں کا یہ رخ بھی دیکھ سکیں۔

| |

کبھی الوداع نہ کہنا

June 30th, 2009


تم کو بھی ہے خبر
مجھ کو بھی ہے پتہ
ہو رہا ہے جدا دونوں کا راستہ
دور جا کے بھی مجھ سے
تم میری یادوں میں رہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا

تم کو بھی ہے خبر
مجھ کو بھی ہے پتہ
ہو رہا ہے جدا دونوں کا راستہ
دور جا کے بھی مجھ سے
تم میری یادوں میں رہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا

جتنی تھی خوشیاں
سب کھو چکی ہیں
بس ایک غم ہے کہ جاتا نہیں
سمجھا کے دیکھا
بہلا کے دیکھا
دل ہے کہ چین اس کو آتا نہیں
آتا نہیں
آنسو ہیں کہ ہیں انگاریں
آگ ہے اب آنکھوں سے بہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
رت آ رہی ہے رت جا رہی ہے
درد کا موسم بدلا نہیں
رنگ یہ غم کا اتنا ہے گہرا
صدیوں بھی ہوگا ہلکا نہیں
ہلکا نہیں
کون جانے کیا ہونا ہے
ہم کو ہے اب کیا کیا سہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا

تم کو بھی ہے خبر
مجھ کو بھی ہے پتہ
ہو رہا ہے جدا دونوں کا راستہ
دور جا کے بھی مجھ سے
تم میری یادوں میں رہنا
کبھی الوداع نہ کہنا
کبھی الوداع نہ کہنا

Bookmark and Share

| |

خبروں پر تبصرے

June 29th, 2009

آج کے اخبارات میں ایک سے زیادہ دلچسپ خبریں ہیں جن پر تبصرہ کئے بغیر رہا نہیں جا رہا۔
پہلی خبر پنجاب اسمبلی میں دھینگا مشتی کی ہے۔ بھلا کوئی خاتون رکن اسمبلی سے پوچھے کہ ایوان میں بینر لہرانا کہاں کی جمہوریت ہے۔ بی بی کو چاہیے تھا کہ نکتہ اعتراض پر بولتیں اور دل کی بھڑاس نکالتیں۔ اس پر طرہ یہ کہ چوہدری کہلوانے والے ایک خاتون سے الجھ پڑے۔ ہم نے تو سن رکھا تھا کہ مرد عورتوں سے لڑنا اپنی توہین سمجھتے ہیں شاید چوہدری حضرات کو اس بات کا علم نہ ہو۔
دوسری خبر بابراعوان کی ہے جو ڈاکٹر بھی کہلواتے ہیں اور پارلیمانی وزیر قانون بھی ہیں مگر وہ یہ کہ کر کہ قانون میں ترامیم کرنا وقت ضائع کرنے والی بات ہے اپنی ہی بے حرمتی کر دی ہے۔ انہوں نے یہ بھی جھوٹ کہا کہ قانون میں ترامیم کیلیے دو تہائی اکثریت نہیں ہے۔ یہ مانا کہ تمام ترامیم کو ایک پیکج میں منظور کروانا ناممکن ہو گا مگر تمام ترامیم کو ایک ساتھ منظور کرانا ضروری نہیں ہے۔ جن ترامیم پر تمام پارٹیوں کا اتفاق ہے وہ تو آسانی سے پاس کی جا سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر سترہویں ترمیم کا خاتمہ، آمریت کا راستہ روکنا اور پی سی او کے تحت ججوں کا حلف اٹھانا۔
تیسری خبر زیادہ بچوں پر ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔ خاتون رکن اسمبلی فردوس عاشق ایوان نے کہا کہ اس کا آغاز ارکان پارلیمنٹ سے ہونا چاہیے۔ شکر ہے فردوس اعوان نے پارلیمنٹ میں سروے نہیں کرایا۔ ورنہ ہر ممبر کے سات آٹھ بچے تو ضرور ہوتے۔ معزز ممبر اسمبلی کو یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان مسلمان ملک ہے اور یہاں کوئی بھی حکومت ایسا قانون پاس کرنے کی جرات نہیں کر سکتی کیونکہ تمام مولوی حکومت کیخلاف ہو جائیں گے اور پھر اسے پاسپورٹ کے خانے میں مذہب کا خانہ بحال کرنے کی طرح یہ تجویز بھی واپس لینا پڑتی۔

| |

Capital Talk 29th June 2009

June 29th, 2009

Capital Talk 29th June 2009
Marvi Memon PMl-Q, Rana Sanaullah PMl-N, Fouzia Wahab PPPP and Jehangir Tareen in fresh episode of Capital Talk and discusses with Hamid Mir.



| |

Islamabad Tonight 29th June 2009

June 29th, 2009

Islamabad Tonight 29th June 2009
Masood Sharif Khan, Ijaz ul Haq PML-Q and Kamran Bukhari in fresh episode of Islamabad Tonight & discusses current issues with Nadeem Malik



| |

Hasb-e-Haal 28th June 2009

June 29th, 2009

Hasb-e-Haal 28th June 2009

Aftab Iqbal with Sohail Ahmed and Najia in a latest and hilarious episode of Hasb-e-Haal from Dunya TV.



| |

تھیلیز، ماؤزے تنگ، گاندھی اور گو امریکا گو ‘‘ کالم ‘‘ ڈاکٹر منیب احمد ساحل

June 29th, 2009
تھیلیز ایشیائے کوچک بحیرہ روم کے ساحل پر ایک یونانی نوآبادی آئیونیا کے شہر مائیلٹس میں 546 سال قبل از مسیح پیدا ہوا تھا ،تھیلیز کو متفقہ طور پر دنیا کا پہلا فلسفی مانا جاتا ہے اس کے زمانے میں امیر و غریب طبقے کی کشمکش عروج پر تھی ، حالات کو مدنظر رکھتے [...]


| |

اردو کے ادبی موضوعاتی بلاگز

June 29th, 2009

| |

اردو کے ادبی موضوعاتی بلاگز

June 29th, 2009

| |

انور مسعود کی سیاسی شاعری

June 29th, 2009

اداسی دور کرنے کیلیے کل یوٹیوب پر مزاحیہ شاعری سن رہے تھے کہ سیاستدانوں پر مزاحیہ اشعار سن کر دل مزید اداس ہو گیا۔ آپ بھی سنیے اور پڑھیے۔ انور مسعود فرماتے ہیں۔

ٹھیک ہے جیسا الیکشن ہو گیا ہے
ہاں مگر تشویش لاحق ہے ذرا اس بات میں
مجھ کو لگتا ہے یہ خاصا غیر فطری فاصلہ
مولوی سرحد میں ہے لوٹے مگر پنجاب میں

شاعرانہ اور ظریفانہ ہو گر ذوق نظر
زندگی میں جا بجا دلچسپ تشبیہیں بھی ہیں
ریل گاڑی اور الیکشن میں ہے ایک شہ مشترک
لوگ بے ٹکٹے کئی اس میں بھی ہیں اس میں بھی ہیں

مجھے گر منتخب کر لو گے بھائی
پنپنے کی نہیں کوئی برائی

مجھے کہنا کہ ناقص ہے صفائی
گٹر سے بھی اگر خوشبو نہ آئی

رہا کچھ بھی نہیں باقی وطن میں
مگر اک خستہ حالی رہ گئی ہے
ترستی ہیں نگاہیں روشنی کو
فقط روشن خیالی رہ گئی ہے

ترقی اس قدر برپا ہوئی ہے
کسی صورت کوئی گھاٹا نہیں ہے
بس اتنی سی پریشانی ہے انور
الیکشن سر پہ ہے آٹا نہیں ہے

کیونکر نہ انتخاب میں وہ ہو گا کامیاب
جس کی بھی دسترس میں ہے یہ حسن انتظام
جھرلو عجیب شے ہے کہ ووٹوں کی پرچیاں
ڈالو کسی کے نام نکالو کسی کے نام

مریض کتنے تڑپتے ہیں ایمبولینسوں میں
ان کا حال ہے ایسا کہ مرنے والے ہیں
مگر پولیس نے ٹریفک کو روک رکھا ہے
یہاں سے قوم کے خادم گزرنے والے ہیں

| |

پاکستان فلاحی یا سیکو ٹری ریاست ‘‘ کالم ‘‘ اعجاز احمد

June 28th, 2009
دنیا کی ترقی یا فتہ صنعتی یو رپی ممالک کی کامیابی اور کا مرانی کا را ز یہ نہیں کہ وہ دفاع اور سیکوٹری پر اربوں ڈالرز خرچ کر رہے ہیں ،بلکہ اُنکی کا میابی کا راز یہ ہے کہ اُنہوں نے انسانی وسائل کے فروع ، ٹیکنیکل اور ووکیشنل ایجوکیشن ،سائنس اور ٹیکنالوجی [...]


| |

کوئی ایسا کر کے بھی دیکھے ‘‘ کالم ‘‘ عباس ملک

June 28th, 2009
سبز ہلالی پرچموں کی بہار اوروہ بھی آقاؤں کے دیس میں اس پر پاکستان زندہ باد اور پاکستان فاتح ہے کے نعرے سن کر دل کو سکون آگیا۔ تمناتو یہی تھی کہ کاش وقت یہیں ٹھہر جاتا اور پاکستان کا سبز ہلالی پرچم اسی شان سے لہراتا رہتا۔کرکٹ ہو یا کوئی بھی کھیل سبز [...]


| |

شراب کا کاروبار حرام ہے

June 28th, 2009

اسلام میں شراب پینا اور شراب کا کاروبار کرنا حرام ہے یہی وجہ ہے کہ موجودہ تصویر میں پولیس چھاپوں میں پکڑی گئی شراب کی بوتلیں بلڈوزر سے تلف کی جا رہی ہیں۔ اس کاروائی کو اگر موجودہ حالات کے تناظر میں دیکھا جائے تو کئی سوالات ذہن میں اٹھتے ہیں۔ اگر شراپ کا کاروبار اسلام میں حرام ہے تو پھر غیرمسلموں کے نام پر پورے پاکستان میں شراب کا کاروبار مسلمان کیوں کرتے ہیں؟ شراب بڑے بڑے فائیو سٹار ہوٹلوں میں کیوں فروخت ہوتی ہے؟ شراب کی دکانیں ملک کے بڑے بڑے شہروں میں کیوں کھلی ہوئی ہیں؟ اگر یہ سب جائز ہے تو پھر سمگل شدہ شراب کی بوتلوں کو تلف کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ اس alcoholbuldozedشراب کو بھی شراب خانوں کے ٹھیکیداروں کے ہاتھ بیچ کر رقم اکٹھی کر لی جاتی یا پھر اسے کسی غیر مسلم ملک کو برآمد کر کے ذرمبادلہ اکٹھا کر لیا جاتا۔
جب سے ملک کی آبادی بڑھی ہے، ملک میں امیروں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ اس کا ثبوت ملک کی سڑکوں پر چلنے والی ہر قسم کی قیمتی گاڑیاں ہیں۔ یہ امیر لوگ اپنی دولت کے بل بوتے پر اسلام میں حرام قرار دی گئی شراب، جوئے جیسی لعنت کا شکار ہو چکے ہیں۔ بہت کم امیر گھرانے ہوں گے جو پابند صوم و صلوۃ ہوں گے۔ جب سے دہشت گردی کی آڑ میں ہر داڑھی والے شخص کو طالبان سمجھا جانے لگا ہے پابند صوم و صلوۃ امیر زیرمین چلے گئے ہیں یہی وجہ ہے ملک میں ہر طرف روشن خیالی نظر آتی ہے۔ یہ اسی روشن خیالی کا شاخسانہ ہے کہ پرانے زمانوں میں جس طرح افیون تلف کی جاتی تھی اس طرح اب شراب تلف کی جاتی ہے۔
ہمارے خیال میں ان دکھاوے کے کاموں کا وقت اب گزر چکا ہے۔ لوگ جانتے ہیں حکومت کتنی اسلام پسند ہے کیونکہ ٹی وی کے چینل، سٹیج ڈرامے، جوئے خانے وغیرہ اب ہر آدمی کی پہنچ میں ہیں۔ ان حالات میں شراب کی اس طرح تلفی کوئی معنی نہیں رکھتی۔

| |

احمق حکمرانوں کی ایک اور احمقانہ حرکت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

June 28th, 2009

بانی پاکستان کو پس پشت ڈالنے والے حکمرانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پوری پاکستانی قوم کا اس بات پر اتفاق اور اتحاد ہے کہ قائد اعظم پاکستان کے سب سے بڑے لیڈر ہیں اور تاقیامت رہیں گے۔باقی سب ثانوی حیثیت رکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہاں روشن خیال اور قدامت پسندوں کی تقسیم نہیں کی جاسکتی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔حرمت قائداعظم کے حوالے سے سب کی رائے یکساں ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
قائداعظم کو پس منظرمیں رکھنے والے انشاءاللہ بہت جلد خود پس منظر میں چلے جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔ایوان صدر اور ایوان وزیراعظم کے ترجمان کی طرف سے غلطی تسلیم کرنے کی بجائے تردیدی بیان شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتا۔۔۔۔۔۔۔۔۔انہیں اس بات کی سمجھ ہونی چاہیے کہ اس تقریب کی کوریج دنیا بھر کے میڈیا پر ہونا لازمی امر تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور پاکستانی قوانین کے مطابق صدر ،وزیراعظم کے دفاتر سمیت تمام سرکاری دفاتر میں قائد اعظم کی تصویر لگانا اور اس تصویر کا پروٹوکول انتہائی اہم و لازم ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ غلطی نہیں اغیار کے غلاموں کا مخصوص ایجنڈا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔جس کی ابتدا گورنر ہاؤس لاہور سے کی گئی۔۔۔۔۔۔۔۔لیکن احمق حکمرانوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جاہ و جلال دَام و دِرَم اَور کتنی دیر؟
ریگ رواں پر نقش قَدَم اَور کتنی دیر؟

| |

Gay & Lesbian Prade

June 28th, 2009

سویرے نیویارک سٹی چے گے تے لیزبین پریڈ ایہے۔ جدھے چے کپڑے لان دی اجازت تے ہے جتی لان دی وی اجازت ہے پر جتی لان دی اجازت نئیں۔

صبح نیویارک سٹی میں گے اور لیزبین پریڈ ہے۔ جس میں کپڑے اتارنے کی اجازت ہے جوتے اتارنے کی اجازت ہے لیکن جوتے لگانے کی اجازت نہیں۔

Similar Posts:
    None Found

Random Posts

| |